Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

انسانی شخصیت کے داؤ پیچ ۔تحریر: کلثوم افتخار

نقطہ نظر

انسانی شخصیت کے بارے میں جانچنے اور پرکھنے سے پہلے صرف یہ سمجھ لیا جائے کہ انسان عقل اور احساسات رکھنے والی مخلوق ہے اور شخصیت کا لفظ کسی ایک مخصوص اور ایک الگ وجود رکھنے والے انسان کے لیے بولا جاتا ہے جب ہم یہ کہتے ہیں کہ یہ فلاں شخص کی بات ہے یا وہ شخص ایسا ہے تو ہم اسے کرداری خصوصیات کے پیمانے پر تول دیتے ہیں انسانی شخصیت ایک بڑا مشکل اور پیچیدہ موضوع ہے اس کے پرتیں بالکل ایسے ہی ہیں جیسے کہ پیاز کے پرت الگ کرتے جاؤ اور ایک نیا انداز دیکھتے جاؤ شخصیت کو ایک خاص پیمانے پر جانچنا یا پر رکھنا بڑا ہی دلچسپ عنوان ہے اور صدیاں گزر گئیں ہر دور میں حضرت انسان نے ۔ ماہر نفسیات نے۔ ماہر سماجیات نے اس موضوع پر قلم بھی اٹھایا اور اس کی تحقیق بھی کی کیونکہ انسانی شخصیت اس قدر جلد بدل جانے والی چیز ہے کہ کئی مرتبہ ہم حیران رہ جاتے ہیں ایک شخص جو بے حد سست اور کاہل معنی اور جانا جاتا ہے اچانک کوئی بہت ہی موثر اور مفید بات کہہ کر اور اس پر عمل کر کے اچانک سب کو حیرت زدہ کر دیتا ہے اور پھر ہم یہ کہنے پر مجبور ہو جاتے ہیں

ہوتا ہے شب و روز تماشہ میرے اگے

اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا یہ صرف تماشہ ہے یا

روز مرہ کے معمولات کا حصہ یا اس کا تعلق صرف انسان کی بنیادی خصوصیات اور عوامل سے ہے کھانا پینا سونا جاگنا ضروری امور کو انجام دینا ہر انسان کی فطرت میں شامل ہے اور یہ بھی طے ہے کہ انسانی فطرت کو جتنا سمجھتے جائیں اتنے ہی اس کے داؤ پیچ سامنے اتے چلے جاتے ہیں بعض اوقات یہ بھی کہا جاتا ہے کہ فطرت کبھی نہیں بدلتی جس کی فطرت میں ڈنگ مارنا ہے یا جس کی فطرت میں ہمدردی اور پیار ہے وہ ہمیشہ ویسے ہی فطرت کا مظاہرہ کرے گا لیکن مسئلہ جوں کا توں برقرار رہتا ہے اخر یہ انسانی شخصیت ہے کیا ؟ یہ تو ہم جانتے ہیں کہ انسان کا ظاہر اور باطن دو مختلف کیفیات ہیں ظاہری طور پر ہم جیسے نظر اتے ہیں ظاہری طور پر ہمارے خد و خال جیسے دوسروں کو دکھائی دیتے ہیں یا خود کو دکھائی دیتے ہیں وہ باطن سے الگ ہے کسی کو یہ کہنا کہ وہ ظاہری طور پر بہت ہی خوبصورت اور طاقتور ہے بہت خوبصورت ڈیل ڈول کا مالک ہے رنگت کیسی ہے انداز کیسا ہے لیکن اس ظاہری کو سامنے رکھتے ہوئے اس کے باطن کے متعلق بھی کوئی رائے قائم کر دینا اور اور اس پر ایک مہر ثبت کر دینا کہ چونکہ یہ دکھنے میں بہت خوبصورت ہے تو باطنی طور پر بھی بہت خوبصورت ہوگا یہ ایک الگ پیمائش کا انداز ہے اور نہ ہی اس کو کوئی پیمائشی پیمانہ قرار دیا جا سکتا ہے اور اگر کوئی باطنی طور پر بہت خوبصورت بہت اعلی خصوصیات کا مالک دیانت دار سچ کا بول بالا کرنے والا لوگوں کی مدد کرنے والا ہمدرد خیر خواہ مثبت انداز فکر معاشرے میں اجاگر کرنے والا ہو تو ہم یہ کہہ دیں گے کہ اس کا باطن بہت خوبصورت ہے لیکن اختلاف رائے ہمیشہ خیر مقدمی کیفیت میں رہتی ہے اور اختلاف رائے سے انکار کرنا ممکن ہی نہیں مکمل طور پر کوئی بھی شخصیت کامل نہیں

سوائے انبیاء کی شخصیات کے۔

انسان خطا کا پتلا ہے اور رہے گا اور انسانوں کی شخصیات ایک دوسرے سے فرق بھی ہوں گی بظاہر کوئی بہت خوبصورت ڈیل ڈول رکھنے والا انسان باطنی طور پر کرخت بھی ہو سکتا ہے اور بظاہر معمولی سی شکل و صورت رکھنے والا انسان جسے عام لوگ یہ کہہ کر مسترد کر دیتے ہوں کہ اس کی ظاہر میں تو کوئی متاثر کن نہیں ہے لیکن باطنی طور پر خوبصورت ہو ہمارا مسئلہ اصل میں یہی ہے کہ ہم صرف ظاہری شخصیت کے رکھ رکاؤ پر ہی توجہ دیتے ہیں باطن کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیا جاتا ہے حضرت انسان کی انکھ جو دیکھتی ہے اور اس کو قبول کر لیتی ہے باطن کو پرکھنے کا موقع بہت بعد میں ملتا ہے اور یہ وقت حالات اور تجربات طے کرتے ہیں کہ ظاہری اور باطنی شخصیت میں کتنا اختلاف پایا گیا اور کتنا انتزاج پایا گیا کوئی بھی مکمل شخصیت نہیں ہے اور نہ ہی کوئی مکمل طور پر مثبت تاثر ہمارے ذہن پر چھوڑ سکتا ہے لیکن اس کے باوجود ہم ایک دوسرے کی شخصیات کو جو ہے جیسے کی بنیاد پر قبول کرنے پر مجبور ہوتے ہیں بعض اوقات شدید اختلاف رائے رکھنے کے باوجود بھی ہم دوسرے کی شخصیت کو اپنے دل و دماغ میں جگہ دینے پر مجبور ہو جاتے ہیں یا مجبور کر دیے جاتے ہیں اور یہ مجبوریاں ہی انسانی معاشرے کا حسن بن جاتی ہیں کہ جس کی وجہ سے ہم ایک دوسرے کو برداشت کر جاتے ہیں اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ خاندانوں میں میاں بیوی کی شخصیات میں زمین اسمان کا فرق ہونے کے باوجود بھی کامیاب ازدواجی زندگی گزار دی گئی اب یہاں پر شخصیات کا عدم توازن تو سامنے اتا ہے کہ شوہر بہت غصے والا تند مزاج حاکم طبیعت کا مالک تھا لیکن زوجہ نرم مزاج عاجز مزاج رکھنے والی تھی اس بات سے ہم یہ اندازہ نہیں لگا سکتے کہ واقعی زوجہ نرم مزاج اور عاجز مزاج رکھنے والی خاتون تھی نہ ہے بلکہ ہو سکتا ہے دامے درمے سخنے کسی مجبوری کے تحت یا نباہ کرنے کے لیے یا بچوں کی خاطر یا معاشی اور معاشرتی دباؤ کی وجہ سے اس کو عاجز بننے یا عاجز ہونے کا کردار اختیار کرنا پڑ گیا ہو اس لیے ماہرین نفسیات نے جو شخصیات کا مطالعہ کرنے کے بعد ایک ایسا تجزیہ پیش کیا ہے کہ جس کو سمجھ کر پرکھ کر اور پڑھ کر اپنی شخصیت کا مطالعہ بھی کیا جا سکتا ہے اور ارد گرد رہنے والے لوگوں کی زندگیوں کو بھی اسان بنایا جا سکتا ہے ایک مشہور قول تو یہ ہے کہ جو ہے جیسے کی بنیاد پر قبول کرو زندگی اسان گزر جائے گی یعنی کہ دوسرے کی شخصیت کو جیسی شخصیت ہے بطور انسان ویسے قبول کر لیں لیکن اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہے کہ اگر اپ کے گھر میں رہنے والا کوئی شخص کوئی بہن بھائی بہت ہی مددگاری ذہن رکھنے والا ہے تو باقی اہل خانہ اس سے ہر وقت مدد ہی لیتے رہے اور اس کو اسی عہدے یا درجے پر پہنچا دیا جائے کہ یہ تو مددگاری قسم کی شخصیت ہے اس کا تو کام ہی دینا ہے کیونکہ لین دین زندگی کا حصہ ہے اگر اپ کسی کی ہمدردی بٹوڑتے ہیں تو بدلے میں اپ کو ہمدردی دینی بھی پڑتی ہے یا ہمدرد بن کے اپنا کردار نبھانا بھی پڑتا ہے لیکن کسی پر یہ ٹھپہ لگا دینا کہ بس ان کا کام ہی عبدالستار ایدھی کی طرح خلق خدا کی مدد کرنا ہے اسی طرح جو مثال اوپر بیان کی گئی ہے شوہر کو برداشت کرنے والی بیوی ہمیشہ عاجز اور صابر ہی ہوتی ہے لیکن بعض اوقات عین ممکن ہے کہ حالات و واقعات نے اس کو صابر بننے پر مجبور کر دیا ہو اور موقع ملنے پر اس کا غصہ کسی اتش وشا کی طرح دبے ہوئے لاوے کو اٹھا کر باہر پھینک دے اور تباہی کا موجب بن جائے ماہر نفسیات کے بقول اس کے پیچھے کار فرما وجوہات کو تلاش کرنا بہت ضروری ہے صابرہ خاتون یعنی صبر کرنے والی خاتون کہ والدین کے باہمی تعلقات بہن بھائیوں کے باہمی تعلقات معاشی مجبوریاں سماجی مسائل یہ سب جب تک سامنے نہیں ا جاتے تب تک یہ نہیں سوچا جا سکتا کہ اس کی شخصیت کے کون کون سے عناصر کمزور تھے کہ جس کی وجہ سے وہ ایک دبوں قسم کی شخصیت بننے پر مجبور ہو گئی ماں باپ کی اپس کی لڑائیاں ان کے باہمی تعلقات سسرال والوں کا نازیبہ رویہ شوہر کا حاکمانہ انداز اور پھر اس پر یہ کہ معاشی مسائل سے بھرپور زندگی کسی بھی انسان کو شدید غصے کی کیفیت یا شدید قسم کے صبر کی کیفیت سے دوچار کر سکتی ہے شدید غصے کی کیفیت سے انسان نہ صرف اپنا نقصان کر دیتا ہے بلکہ اپنے ارد گرد رہنے والے دوسرے انسانوں کے لیے بھی اذیت کا باعث بن جاتا ہے ایک کہاوت ہے ایک دن مہمان دوسرے دن مہمان تیسرے دن بلائے جان یعنی کہ ایک دن تو اپ مہمانی کر سکتے ہیں دوسرے دن برداشت کر سکتے ہیں تیسرے دن اپ اللہ حافظ بول سکتے ہیں تو اسی طرح ایک دن کوئی غصہ کرے گا تو اپ برداشت کر لیں گے کہ چلیں اج خیر ہے کوئی مسئلہ ہوا ہوگا تو ان کو غصہ اگیا صاحب بہادر کو غصہ اگیا دفتر میں کام کرنے والے قریبی ساتھی یا ملازمین اپنے افسر کا غصہ نہ چاہتے ہوئے بھی برداشت کرنے پر مجبور ہوتے ہیں لیکن اگر وہ نک چڑھا افسر کبھی یہ سوچ لے کہ اس غصے کے پیچھے کار فرما عوامل جو اس کے قابو میں نہیں رہے اور پھر ان کے نتیجے کے طور پر اس کی شخصیت کس قدر ناپسندیدہ بنتی جا رہی ہے تو شاید وہ اپنا مزید نقصان نہ کرے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ہم اپنی اپنی شخصیت کے دائرے میں چلنے کے اس قدر عادی ہو چکے ہیں کہ ہم اس بھنور میں چلتے جا رہے ہیں اور ہمیں باہر نکلنے کا کوئی کنارہ کوئی رسی کوئی ہاتھ نہیں مل رہا اگر کوئی خدا نخواستہ کبھی کبھار یہ جرآت کر بھی لے ہمیں ائینہ دکھا بھی دیجیے آئینہ دکھانے کی جسارت کر لے تو ہم اس کی ہی شخصیت کے پرخچے اڑانے میں ماہر ہیں انسانی شخصیت اسرار و رموز سے بھری ہوئی ہے کہ اس کے ان اسرار و رموز کو ڈھونڈتے ڈھونڈتے بڑا لمبا سفر طے کرنا پڑ سکتا ہے انسانی شخصیت کو سمجھنا اور پھر اس کو مختلف پیرائے میں لے کر چلنا اور اس کے گرد الجھی ہوئی ڈور کے سرے تک پہنچنا بہت بڑا فن ہے اور یہ فن جب کسی کو حاصل ہو جاتا ہے تو سمجھیں اس کی زندگی کافی حد تک اسان ہو گئی لیکن یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم جو ہر انسان پر ایک ٹھپہ لگا دیتے ہیں کیا یہ عمل درست ہے یا کسی کے بچے کو یہ کہہ دینا کہ یہ تو ہے ہی نالائق اس نے کچھ نہیں کرنا یہ تو ہے ہی نکما یہ تو ہے یہ غصیلہ اس کا تو کام ہی لڑنا جھگڑنا ہے اور اگر کوئی نرم مزاج ہو تو ہم اس کو یہ کہہ دیں یہ تو میٹھی چھری ہے کیا ایسے القابات سے نوازنا جائز ہے یا کیا ہم ایسے القابات سے نوازنے کے لیے کوئی مضبوط وجہ دلیل ڈھونڈ سکتے ہیں یہ کون سا عمل ہے جس کے ذریعے ہم دوسروں کی شخصیات کو کنگھالتے رہتے ہیں اور نہ چاہتے ہوئے بھی کسی نہ کسی شخصیت کا کوئی نہ کوئی نام بھی رکھ دیتے ہیں چاہے وہ نام ناپسندیدگی کی انتہا درجے کو چھو رہا ہو ارد گرد معاشرے میں نظر دوڑائیں تو بہت سی شخصیات ٹوٹ پھوٹ کا شکار نظر اتی ہیں ایک دوسرے کو برداشت نہ کرنا ایک دوسرے کے وجود کی نفی کرنا ظاہری اور باطنی دونوں انداز میں بہت ہی شدید قسم کا المیہ پیدا کرنے کی کیفیت کا نام ہے معاشرتی مسائل کی ایک بنیادی وجہ انسانی شخصیت کو نہ سمجھنا بھی ہے کون کیسا ہے یا کون کیسا لگ رہا ہے دو الگ الگ باتیں ہیں بعض اوقات ہم اچھے کپڑے اس لیے بھی پہنتے ہیں کہ ہم دوسروں کو اچھے دکھائی دیں ہم نے کبھی یہ سوچا ہی نہیں ہے کہ ہم اچھے کپڑے پہننے کا حق رکھتے ہیں یعنی کہ اگر اپ کے مالی وسائل اجازت دیں تو اپ اچھا کپڑا زیب تن کر سکتے ہییں دونوں رویوں میں انتہا کی شدت پسندی بھی نظر اتی ہے جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو ہم اسے گوشت کا ایک لوتھڑا سمجھ کر ایک طرف لٹا دیتے ہیں ہماری نظر میں وہ ایک جیتا جاگتا وجود تو ہوتا ہے لیکن سوچتا سمجھتا وجود نہیں ہوتا ہم صرف یہ تو محسوس کرتے ہیں کہ اس کو اللہ عباس کہنا اگیا لیکن ہم نے یہ نہیں سوچا کہ اگر اس نے مختصر دورانیے میں یہ الفاظ سیکھ لیے ہیں تو انسانی رویے جو اس کے ارد گرد روزانہ کی بنیاد پر ہوتے چلے جا رہے ہیں ان کا اس کی شخصیت کے بننے اور بگڑنے پر کیا کیا اثرات ہو رہے ہیں وہ اپنے عمل سے تو صرف کلکلاریاں مار کر ہنس کر رو کر چیخ کر اظہار کر دیتا ہے لیکن ہمارا رد عمل دیکھ کر وہ اپنا پسندیدہ عمل تواتر کے ساتھ دہراتا رہتا ہے اور پھر زندگی بھر وہ عمل دہرانے کا عادی بن جاتا ہے بچے کو اگر یہ پتہ چل جاتا ہے کہ اس کے مسکرانے سے سب خوش ہوتے ہیں تو وہ بغیر اپ کے کہے بغیر اپنے والدین کے کہے بغیر اپنے ارد گرد بڑوں کے کہے مسکراتا رہتا ہے اور اگر اس کو یہ سمجھ میں اگئی ہے کہ اس کے رونے سے ارد گرد کے لوگ کس قدر پریشان ہونے لگ جاتے ہیں تو پھر وہ اپنی ہر بات رو دھو کر بیان کرنے کا عادی ہو جاتا ہے اور پھر زندگی بھر اس کے رونے ختم ہی نہیں ہوتے اس کی زندگی گلو شکوؤں سے بھری رہتی ہے وہ ہر ائے گئے کہ سامنے ہر اجنبی انجان شخص کے سامنے بھی اپنی زندگی کے المیوں کی کہانیاں بڑھا چڑھا کر بیان کرنے کا عادی ہو جاتا ہے اور اگر اس کی ہر بات پر چیخنے پکارنے کے اثرات کی وجہ سے امنا و صدق نہ ہوتا رہا یا حاضر جناب ہی ہوتا رہا تو اس کی زندگی کا اختتام بھی چیخنے چلانے تک ہی رہتا ہے یہ اس کا پسندیدہ عمل بن جاتا ہے کہ جب جو چیز نہ مل رہی ہو چیخنا چنگھاڑنا شروع کر دو جب لوگ بات مان نہ رہے ہو جب کچھ فوائد حاصل کرنے ہوں تو وہ اپنا پسندیدہ عمل نہ چاہتے ہوئے بھی دہرانے لگ جاتا ہے شخصیت کے اصرار میں یہ بات بھی یاد رکھنی ضروری ہے کہ ضروری نہیں کہ ایک روتا روتا شخص ساری زندگی روتا دھوتا ہی رہے ہاں رونے دھونے کا عنصر اس کی زندگی میں موجود ضرور رہ سکتا ہے لیکن کبھی کبھار حالات و واقعات تبدیل ہونے سے انداز میں تبدیلی بھی ممکن ہے لیکن رونے دھونے کا عنصر پھر بھی موجود ہی رہتا ہے مثلا بیماری یا مصیبت میں اپنے ارد گرد لوگوں کے ہجوم کو دعوت دے دینا اور گلے شپے کرتے رہنا کہ میں بیمار تھا آپ نہیں اثئے اور اپنی بیماری کو اپنی چھوٹی سی چھوٹی بیماری یا خوشی کو بھی بڑھا چڑھا کر بیان کرنا کچھ شخصیات کی عادت ہوتی ہے کہ خوشی کے موقع پر بھی ر ونا شروع کر دیتے ہیں ان کے گلے شکوے ختم ہونے کو اتے ہی نہیں جیسے کہ یہ گلہ اور شکوہ آج کل بڑا عام ہے بھائی ہم جییں یا ہمارے ہیں آپ کو کیا آپ کو تو کوئی فرق ہی نہیں پڑتا ہمارے جینے مرنے سے ہماری خوشی سے اپ کو کیا آپ تو بس خانہ پری کو آئے ہیں یا تعزیت پر انے والے افراد سے یہ کہنا کہ جی اپ کون سا دل سے ہمارے دکھ میں شرکت کے لیے ائے ہیں دنیا دکھاوے کو تو سبھی آتے جاتے ہیں یا یہ کہ ہو نہ ہو وہ ہمارے دکھوں کا تماشہ دیکھنے کے لیے ائے ہیں یا یہ جملہ بہت زیادہ زبان زد عام ہے وہ دکھ میں شرکت کرنے تھوڑی ائے تھے وہ تو یہ دیکھنے ائے تھے کہ ہم کتنے پریشان ہیں اور کیسے لگ رہے ہیں یا ٹھنڈ پڑ گئی ہے اپ کے دل میں ہماری مشکل کو دیکھ کر یہ جملے وہ ہیں جو اکثر ہماری اور ہمارے ارد گرد رہنے والے لوگوں کی زبانوں پر بار بار اتے ہیں اور نہ چاہتے ہوئے بھی ہم اپنی روتی دھوتی المیہتی شخصیت کو پیش کرتے جا رہے ہوتے ہیں اور ایسے لوگوں کو ہمیشہ اپنی زندگی ایک المیہ ہی دکھائی دیتی ہے اٹھ لاکھ کی گاڑی میں بیٹھا ہوا شخص بھی ان کو بہت برا دکھائی دے رہا ہوتا ہے جب کہ وہ اپنی 50 لاکھ کی گاڑی میں بیٹھ کر بھی مطمئن نہیں ہوتے اور کئی لوگ آٹھ لاکھ کی گاڑی میں بیٹھ کر بھی خوشی منا رہے ہوتے ہیں جس خوشی سے 50 لاکھ کی گاڑی میں بیٹھنے والا شخص محروم ہوتا ہے اپ کو اج کل بے تحاشہ ایسے مرد و عورت نظر اتے ہیں جو ہر وقت گلے شکوے کرتے نظر ارہے ہوتے ہیں انہوں نے ہمارے ساتھ یہ کر دیا انہوں نے ہمارے ساتھ یہ کہہ دیا انہوں نے ہمیں یہ سنا دیا کبھی انہوں نے یہ نہیں سوچا کہ دراصل میں نے ان کو کیا سنا دیا میں نے ان کو کیا کہہ دیا یا میں بھی کچھ کہہ سکتا ہوں یہ سوچنا کہ میں بھی کچھ کہہ سکتا ہوں یا سن سکتا ہوں یا سنا سکتا ہوں کہ جملے ان کی ڈکشنری میں یا ان کی لغت میں ملتے ہی نہیں ہیں یہ لوگ بڑے ہی اداس کر دینے والی المیہ سے بھرپور زندگی گزار رہے ہوتے ہیں اور اس میں قصور صرف اور صرف ان کی اپنی سوچ کا ہوتا ہے

شاعر نے کہا

زندگی زندہ دلی کا نام ہے مردہ دل کیا خاک جیا کرتے ہیں