جمعرات، 15 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

جہیز ایک خود ساختہ جاہلانہ رسم،تحریر: شازیہ یاسین

نقطہ نظر

معاشرے میں کئی ایسی رسومات رائج ہو چکی ہیں جنہیں لوگ دین کا حصہ سمجھنے لگتے ہیں، حالانکہ حقیقت میں ان کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ انہی غلط رسومات میں سے ایک خطرناک رسم “جہیز” بھی ہے۔ آج جہیز کو شادی کا لازمی جزو بنا دیا گیا ہے۔ بیٹی کی پیدائش پر خوشی کے بجائے فکر اور پریشانی محسوس کی جاتی ہے کیونکہ والدین کو مستقبل میں جہیز کے بوجھ کا خوف لاحق ہو جاتا ہے۔ یہ رسم نہ صرف معاشی تباہی کا سبب بنتی ہے بلکہ کئی گھروں کی خوشیاں بھی نگل جاتی ہے۔ اسلام نے نکاح کو آسان بنایا مگر انسان نے اپنی جھوٹی انا، دکھاوے اور معاشرتی دباؤ کی وجہ سے اسے مشکل ترین بنا دیا۔


جہیز دراصل وہ سامان ہے جو لڑکی کے والدین اپنی بیٹی کو شادی کے وقت دیتے ہیں۔ اگر یہ سب کچھ خوشی اور محبت سے ہو تو اس میں کوئی قباحت نہیں، مگر جب اسے لازمی تقاضا، شرط یا معاشرتی دباؤ بنا دیا جائے تو یہ ظلم بن جاتا ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ آج بہت سے لوگ جہیز نہ ملنے پر لڑکی کو طعنے دیتے ہیں، اسے ذہنی اذیت کا نشانہ بناتے ہیں، حتیٰ کہ بعض اوقات تشدد اور قتل جیسے واقعات بھی سامنے آتے ہیں۔


اسلامی تعلیمات کا مطالعہ کیا جائے تو کہیں بھی جہیز کو فرض یا سنت قرار نہیں دیا گیا۔ اسلام نے مرد پر نان و نفقہ اور مہر کی ذمہ داری عائد کی ہے، نہ کہ عورت یا اس کے والدین پر۔ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:


"اور عورتوں کو ان کے مہر خوش دلی سے ادا کرو۔"

(سورۃ النساء: 4)


اس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ شادی میں مالی ذمہ داری مرد پر ہے۔ اسلام نے عورت کو عزت، تحفظ اور حقوق دیے ہیں، جبکہ جہیز کی رسم عورت کے خاندان کو مالی دباؤ میں مبتلا کر دیتی ہے۔


رسول اکرم ﷺ نے نکاح کو آسان بنانے کی تلقین فرمائی۔ حدیث مبارکہ ہے:


"سب سے بابرکت نکاح وہ ہے جس میں کم خرچ ہو۔"

(مسند احمد)


اس حدیث کا اردو مفہوم یہ ہے کہ جس شادی میں فضول خرچی، نمود و نمائش اور بوجھ کم ہو، وہی نکاح زیادہ بابرکت ہوتا ہے۔ مگر ہمارے معاشرے نے اس تعلیم کے برعکس شادیوں کو مقابلہ بازی اور دکھاوے کا میدان بنا دیا ہے۔


آج غریب باپ اپنی بیٹی کی شادی کے لیے قرض لیتا ہے، زمین بیچتا ہے، زیور گروی رکھتا ہے، مگر پھر بھی معاشرے کی زبانیں بند نہیں ہوتیں۔ کسی کو فرنیچر کم لگتا ہے، کسی کو گاڑی چاہیے، کسی کو قیمتی الیکٹرانکس درکار ہوتے ہیں۔ یہ لالچ دراصل انسانیت کی توہین ہے۔ بیٹی کوئی سودا نہیں جس کے ساتھ سامان کی شرط لگائی جائے۔ وہ ایک انسان ہے، عزت اور محبت کی حق دار ہے۔


اسلام میں نکاح دو خاندانوں کے درمیان محبت، سکون اور رحمت کا رشتہ ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآنِ پاک میں فرماتا ہے:


"اور اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ اس نے تمہارے لیے تم ہی میں سے جوڑے پیدا کیے تاکہ تم ان کے پاس سکون حاصل کرو اور تمہارے درمیان محبت اور رحمت پیدا کر دی۔"

(سورۃ الروم: 21)


اس آیت میں کہیں بھی جہیز، نمود و نمائش یا مال و دولت کی شرط کا ذکر نہیں ملتا۔ اصل بنیاد اخلاق، کردار اور تقویٰ ہے۔


جہیز کی لعنت نے معاشرے میں بے شمار برائیاں پیدا کر دی ہیں۔ کئی غریب والدین اپنی بیٹیوں کی شادی میں تاخیر کرتے رہتے ہیں کیونکہ وہ جہیز مکمل نہیں کر پاتے۔ بعض لڑکیاں صرف اس وجہ سے سسرال میں ذلیل ہوتی ہیں کہ وہ “کم جہیز” لائی ہیں۔ کتنی ہی بیٹیاں ظلم برداشت کرتے کرتے اپنی جان تک دے دیتی ہیں۔ یہ سب اس ظالمانہ رسم کے نتائج ہیں۔


افسوس کی بات یہ ہے کہ بعض لوگ جہیز کو “رسم” یا “روایت” کہہ کر اس کا دفاع کرتے ہیں، حالانکہ ہر رسم درست نہیں ہوتی۔ اگر کوئی رسم ظلم، تکلیف اور احساسِ کمتری پیدا کرے تو اسے ختم کرنا ضروری ہوتا ہے۔ اسلام نے جاہلیت کی بے شمار رسومات کو ختم کیا تھا کیونکہ وہ انسانیت کے خلاف تھیں۔ اسی طرح جہیز کی رسم بھی ایک معاشرتی ناسور ہے جسے ختم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔


ضرورت اس امر کی ہے کہ نوجوان خود اس رسم کے خلاف آواز بلند کریں۔ لڑکے اگر یہ اعلان کر دیں کہ انہیں جہیز نہیں چاہیے تو کئی غریب باپوں کے چہرے خوشی سے کھل سکتے ہیں۔ والدین کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے بیٹوں کی تربیت اس انداز میں کریں کہ وہ دولت کے بجائے اچھے اخلاق اور نیک کردار کو ترجیح دیں۔ علماء، اساتذہ، میڈیا اور معاشرتی رہنما بھی اس حوالے سے مثبت کردار ادا کریں تاکہ لوگوں کی سوچ بدلی جا سکے۔


ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ جہیز عزت نہیں بلکہ ایک بوجھ ہے۔ اصل عزت انسان کے کردار، تربیت اور اخلاق میں ہوتی ہے۔ جو لوگ جہیز کی بنیاد پر رشتے قائم کرتے ہیں، وہ دراصل محبت اور انسانیت کی روح کو پامال کرتے ہیں۔ اسلام سادگی، آسانی اور عدل کا دین ہے، جبکہ جہیز کی رسم ظلم، تفاخر اور لالچ کو فروغ دیتی ہے۔


آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی بیٹیوں کو جہیز کے صندوقوں کے بجائے تعلیم، اعتماد اور اچھے اخلاق کا سرمایہ دیں۔ یہی ان کی اصل طاقت ہے۔ جس دن معاشرہ یہ حقیقت سمجھ لے گا کہ بیٹی رحمت ہے، بوجھ نہیں، اس دن جہیز جیسی لعنت خود بخود ختم ہو جائے گی۔


اللہ تعالیٰ ہمیں اسلامی تعلیمات کو سمجھنے اور ان پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے، تاکہ ہمارا معاشرہ آسان نکاح، پاکیزہ رشتوں اور حقیقی اسلامی اقدار کی طرف واپس لوٹ سکے۔ آمین