کراچی کی سڑکوں پر عورت کا سفر، تحریر:انعم عباسی
نقطہ نظرمنزل سے پہلے ایک امتحان

کراچی کی سڑکوں پر دوڑتی بسیں صرف مسافروں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ نہیں پہنچاتیں، بلکہ ان میں ہزاروں خواب، مجبوریاں، ذمہ داریاں اور تھکے ہوئے وجود بھی سفر کرتے ہیں۔ ان مسافروں میں ایک بڑی تعداد ان خواتین کی بھی ہے جو ہر صبح اپنے گھروں سے نکلتی ہیں۔ کوئی دفتر جانے کے لیے، کوئی اسکول میں پڑھانے کے لیے، کوئی اپنے بچوں کی ضروریات پوری کرنے کے لیے اور کوئی محض اس لیے کہ گھر کا چولہا جلتا رہے۔ مگر افسوس کہ ان خواتین کے لیے سفر اکثر منزل تک پہنچنے کا راستہ نہیں، بلکہ منزل سے پہلے ایک طویل امتحان بن جاتا ہے۔
مہنگائی نے متوسط اور نچلے متوسط طبقے کی زندگی کا نقشہ بدل کر رکھ دیا ہے۔ گھر کا کرایہ، بجلی کے بل، بچوں کی فیس، راشن اور روزمرہ کی ضروریات پوری کرنے کے لیے اب گھر کے ایک فرد کی آمدنی اکثر ناکافی ثابت ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خواتین کی ایک بڑی تعداد ملازمت اور معاشی سرگرمیوں کی طرف آ رہی ہے۔ یہ تبدیلی خوش آئند ہے، کیونکہ ایک عورت کا معاشی طور پر خودمختار ہونا نہ صرف اس کے اپنے لیے بلکہ اس کے پورے خاندان کے لیے اہمیت رکھتا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہمارے شہری نظام نے اس بدلتی ہوئی حقیقت کو قبول بھی کیا ہے؟
عورت گھر سے نکل تو رہی ہے، مگر کیا شہر نے اس کے سفر کو محفوظ، باعزت اور آسان بنانے کی ذمہ داری بھی قبول کی ہے؟
کراچی کی پبلک ٹرانسپورٹ کا حال کسی سے پوشیدہ نہیں۔ بسوں میں گنجائش سے زیادہ مسافر، جگہ جگہ ٹریفک کا اژدحام، بے ہنگم رکنے اور چلنے کا انداز، اور مسافروں کو سوار یا سوار ہونے کے بعد اترنے کے لیے مناسب سہولتوں کی کمی؛ یہ سب روزمرہ کے مناظر ہیں۔ مرد بھی ان مشکلات کا سامنا کرتے ہیں، اس میں کوئی دو رائے نہیں۔ مگر خواتین کے لیے اس صورتِ حال کی نوعیت مزید پیچیدہ ہو جاتی ہے، کیونکہ انہیں سفر کی دشواری کے ساتھ اپنی ذاتی حدود، تحفظ اور عزتِ نفس کا خیال بھی رکھنا پڑتا ہے۔
بس میں داخل ہونا ہو تو پہلے ہی ایک معرکہ درپیش ہوتا ہے۔ رش اتنا کہ قدم رکھنے کی جگہ نہیں، مگر مسافر مزید سوار کیے جا رہے ہیں۔ بعض بسوں میں خواتین کے لیے مختص حصے میں بھی مرد مسافروں کو جگہ دے دی جاتی ہے۔ یوں خواتین کے لیے مختص جگہ محض ایک نام رہ جاتی ہے اور عملی صورتِ حال اس کے برعکس دکھائی دیتی ہے۔
سوال یہ ہے کہ اگر خواتین کے لیے مختص جگہ پر بھی انہیں مناسب تحفظ اور گنجائش میسر نہیں، تو پھر اس سہولت کا مقصد کیا ہے؟ کیا کسی حصے کو خواتین کے لیے مختص قرار دے دینا کافی ہے، یا اس انتظام پر عمل درآمد بھی ضروری ہے؟
پھر آتا ہے ہجوم کا وہ مرحلہ جہاں انسان کو اپنی جگہ سے زیادہ اپنے وجود کا خیال رکھنا پڑتا ہے۔ گنجان بس میں ہر شخص ایک دوسرے کے قریب کھڑا ہوتا ہے۔ کبھی اچانک بریک لگنے سے جسمانی قربت پیدا ہوتی ہے، کبھی بس کے اندر حرکت کرنا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔ ایسی صورتِ حال میں ہر واقعے کو جان بوجھ کر کی گئی حرکت قرار دینا درست نہیں، لیکن اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ اسی بے ترتیبی میں بعض خواتین نامناسب لمس اور ہراسانی کا سامنا کرتی ہیں۔
یہاں مسئلہ صرف کسی ایک فرد کے رویّے کا نہیں، بلکہ ایسے ماحول کا بھی ہے جہاں شکایت کرنے کی گنجائش کم، نگرانی ناکافی اور خواتین کے لیے خود کو محفوظ محسوس کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ کسی عورت کا خاموش رہ جانا اس بات کا ثبوت نہیں کہ اسے کوئی تکلیف نہیں ہوئی۔ کبھی وہ اپنی منزل تک پہنچنے کی جلدی میں ہوتی ہے، کبھی اسے اگلے ردِعمل کا خوف ہوتا ہے اور کبھی وہ یہ سوچ کر خاموش رہ جاتی ہے کہ اس ہجوم میں اس کی آواز آخر سنے گا کون؟
لیکن کراچی کی بسوں کا مسئلہ صرف رش یا ہراسانی تک محدود نہیں۔ ایک اور خطرہ ہے جو ہر روز مسافروں کے سامنے آتا ہے: چلتی بس میں سوار ہونا اور چلتی بس سے اترنا۔
حال ہی میں مجھے ملازمت کے سلسلے میں ملیر جانا تھا۔ میں نے بس کو رکنے کا اشارہ کیا تو وہ اسٹاپ پر رکنے کے بجائے سڑک کے درمیان جا کر رکی۔ جب میں نیچے اتری تو ایک گاڑی میرے اس قدر قریب سے گزری کہ حادثہ ہوتے ہوتے رہ گیا۔ بس مجھے سڑک کے عین درمیان چھوڑ کر آگے نکل چکی تھی اور میں تیز رفتار گاڑیوں کے درمیان کھڑی سوچ رہی تھی کہ اب اس سڑک کو پار کیسے کروں۔
چند لمحوں کے لیے صورتِ حال ایسی تھی کہ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کس طرف قدم بڑھاؤں۔ اردگرد سے گاڑیاں گزر رہی تھیں اور جس بس سے میں اتری تھی، وہ اپنی منزل کی طرف رواں ہو چکی تھی۔ اس کے لیے شاید میں محض ایک مسافر تھی جو اتر کر پیچھے رہ گئی، لیکن میرے لیے وہ چند لمحے ایک خوف ناک تجربہ بن چکے تھے۔
اس واقعے کے بعد میرے ذہن میں ایک سوال بار بار آیا: کیا مسافر کو بس سے اتار دینا ہی ذمہ داری پوری کر دینا ہے؟ کیا یہ ضروری نہیں کہ اسے کسی محفوظ مقام پر اتارا جائے، جہاں وہ اطمینان سے سڑک پار کر سکے؟
بس کا کام صرف مسافروں کو ایک مقام سے دوسرے مقام تک پہنچانا نہیں، بلکہ انہیں محفوظ طریقے سے سوار اور سوار ہونے کے بعد اتارنا بھی ہے۔ ایک بس اگر مسافر کو ایسی جگہ چھوڑ دے جہاں اس کی جان خطرے میں پڑ جائے، تو اسے محض معمول کی بات سمجھ کر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
اور ذرا اس عورت کے بارے میں سوچیے جو روزانہ یہ سفر کرتی ہے۔ اسے معلوم ہے کہ بس میں جگہ ملنا مشکل ہے، راستے میں دھکے بھی کھانے پڑ سکتے ہیں، دفتر پہنچنے میں تاخیر بھی ہو سکتی ہے اور واپسی پر بھی یہی صورتِ حال اس کی منتظر ہوگی۔ اس کے باوجود وہ گھر سے نکلتی ہے، کیونکہ اس کے پیچھے ذمہ داریوں کا ایک پورا جہان کھڑا ہوتا ہے۔
وہ صرف اپنی ذات کے لیے ملازمت نہیں کر رہی ہوتی۔ ممکن ہے اس کی تنخواہ سے بچوں کی فیس ادا ہوتی ہو، گھر کا راشن آتا ہو، والدین کی دوا خریدی جاتی ہو یا گھر کے اخراجات میں کسی دوسرے فرد کا بوجھ ہلکا ہوتا ہو۔ ایسے میں اسے یہ مشورہ دینا کہ بسوں میں سفر مشکل ہے تو رکشہ کر لیا کرے، مسئلے کا حل نہیں۔ ہر شخص کے پاس اتنے وسائل نہیں ہوتے کہ روزانہ رکشے، ٹیکسی یا نجی پک اینڈ ڈراپ پر رقم خرچ کر سکے۔
جس عورت کی ماہانہ آمدنی کا بڑا حصہ گھر کے اخراجات میں صرف ہو جاتا ہو، اس کے لیے روزانہ مہنگی سواری اختیار کرنا آسان فیصلہ نہیں۔ وہ اپنے بجٹ میں حساب لگاتی ہے، اخراجات کم کرتی ہے اور پھر اسی بس کا انتظار کرتی ہے جس کے سفر میں اسے سہولت سے زیادہ آزمائش کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
یہاں ایک اہم سوال ہمارے ٹرانسپورٹ کے نظام سے بھی ہے۔ جب خواتین کی بڑی تعداد ملازمتوں اور دیگر ضروری کاموں کے لیے گھروں سے نکلتی ہے، تو ان کی آمدورفت کے لیے مناسب انتظامات کیوں نہیں کیے جاتے؟ خواتین کے لیے مختص حصے کی پابندی، بس اسٹاپ پر درست طریقے سے رکنا، محفوظ چڑھنے اور اترنے کی جگہ، گنجائش کے مطابق مسافروں کو سوار کرنا اور ہراسانی کی شکایات پر مؤثر کارروائی؛ کیا یہ سب بنیادی شہری سہولتوں میں شامل نہیں ہونے چاہییں؟
یہ مطالبات کسی خصوصی رعایت کے نہیں، بلکہ بنیادی تحفظ اور شہری حقوق کے ہیں۔
ہم اکثر عورت کی ترقی، خودمختاری اور معاشی کردار کی بات کرتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ وہ تعلیم حاصل کرے، ملازمت کرے، اپنے پیروں پر کھڑی ہو اور معاشرے کی تعمیر میں حصہ لے۔ لیکن جب وہ ان مقاصد کے حصول کے لیے گھر سے نکلتی ہے تو کیا اسے ایک ایسا راستہ فراہم کرنا ہماری ذمہ داری نہیں جہاں وہ کم از کم بحفاظت اپنی منزل تک پہنچ سکے؟
عورت کو خودمختار ہونے کا مشورہ دینا آسان ہے، مگر اس خودمختاری تک پہنچنے کے راستے آسان بنانا زیادہ ضروری ہے۔
اور آخر میں ایک بات ان مسافروں کے لیے بھی جو بسوں میں سفر کرتے ہیں۔ خواتین کے لیے مختص جگہ کا احترام، رش میں دوسروں کی ذاتی حدود کا خیال، کسی خاتون کو ہراساں کیے جانے کی صورت میں ذمہ داری کے ساتھ مدد کرنا اور ڈرائیور یا کنڈکٹر کی جانب سے غیر محفوظ رویّے پر آواز اٹھانا ہم سب کی سماجی ذمہ داری ہے۔ ہر مسئلے کا حل صرف قانون یا انتظامیہ کے پاس نہیں ہوتا؛ بعض تبدیلیاں ہمارے اپنے رویّوں سے بھی شروع ہوتی ہیں۔
تاہم شہریوں کے اچھے رویّے حکومتی اور انتظامی ذمہ داریوں کا متبادل نہیں ہو سکتے۔ محفوظ ٹرانسپورٹ کا باقاعدہ انتظام، قوانین پر عمل درآمد اور جواب دہی متعلقہ اداروں ہی کی ذمہ داری ہے۔
کراچی کی سڑکیں پہلے ہی بے شمار مسائل کا بوجھ اٹھا رہی ہیں۔ ایسے میں ان سڑکوں پر سفر کرنے والی عورت سے یہ توقع رکھنا کہ وہ ہر خطرے سے خود ہی نمٹ لے گی، ناانصافی ہے۔ وہ گھر سے نکلتے ہوئے کسی خصوصی پروٹوکول کی طلب گار نہیں ہوتی؛ اسے صرف اتنی سہولت درکار ہوتی ہے کہ وہ وقت پر اپنی منزل تک پہنچے، اپنے کام سے واپس لوٹے اور اس کے گھر والے اس کی واپسی کے انتظار میں ہر روز کسی اندیشے کا شکار نہ رہیں۔
میرا سوال آج بھی وہی ہے: جب ایک عورت گھر سے اپنے خاندان کے لیے روزی کمانے نکلتی ہے، تو کیا اس شہر پر اتنا حق بھی نہیں کہ اسے بحفاظت اس کی منزل تک پہنچا سکے؟
کیونکہ بس تو رک جاتی ہے، مگر اس کے ساتھ جڑا خطرہ اکثر نہیں رکتا۔ اور جب تک اس خطرے کو کم کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات نہیں کیے جاتے، کراچی کی بہت سی خواتین کے لیے ہر نیا دن، ہر نیا سفر اور ہر نئی منزل ایک نئے امتحان کی صورت میں سامنے آتی رہے گی۔
مزید پڑھیں





