پیر، 2 نومبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

​خلوت کی برکت ، تحریر: مرزا اورنگزیب

نقطہ نظر

​آج کے اس مادہ پرستانہ دور میں، جہاں سوشل میڈیا نے پوری دنیا کو ایک چھوٹی سی سکرین میں سمیٹ دیا ہے، انسان ہر وقت لوگوں کے ہجوم میں گھرا رہتا ہے۔ فیس بک، انسٹاگرام، واٹس ایپ اور نت نئی ڈیجیٹل ایپس نے ہمیں جسمانی طور پر الگ تھلگ جبکہ ذہنی طور پر ایک نہ ختم ہونے والے شور میں مبتلا کر رکھا ہے۔ اس بے دریغ میل جول، بے مقصد اٹھ بیٹھ اور سوشل لائف کی دوڑ نے ہماری انفرادی اور اجتماعی زندگی کو شدید متاثر کیا ہے۔ قدیم مفکرین، صوفیائے کرام اور بالخصوص اسلامی تعلیمات اس بات پر زور دیتی ہیں کہ بلاوجہ لوگوں سے میل جول اور دفتری یا سماجی تعلقات کی کثرت دونوں جہانوں کے خسارے کا باعث بنتی ہے۔ ایک باشعور انسان اور مومن کا شیوہ یہ ہونا چاہیے کہ وہ لوگوں سے تعلقات میں اعتدال رکھے اور صرف اتنی ہی میل ملاقات رکھے جتنی شرعاً یا عقلاً ضرورت ہو۔اسلامی تعلیمات میں تنہائی (خلوت) کو ایک خاص مقام حاصل ہے۔ اس کا مقصد دنیا سے بیکاگانہ ہونا نہیں، بلکہ نفس کا محاسبہ اور خالق حقیقی کے ساتھ تعلق کو مضبوط کرنا ہے۔ جب انسان بلاوجہ لوگوں میں اٹھنا بیٹھنا شروع کرتا ہے، تو وہ غیبت، چغل خوری، ریاکاری اور لایعنی بحثوں میں الجھ جاتا ہے۔ بزرگانِ دین نے ہمیشہ اس بات سے خبردار کیا ہے کہ زیادہ میل جول دل کو سخت اور غافل کر دیتا ہے۔حدیث مبارکہ کا مفہوم ہے کہ مومن وہ ہے جو لوگوں کے ساتھ میل جول رکھے اور ان کی تکلیفوں پر صبر کرے، اس مومن سے بہتر ہے جو لوگوں سے میل جول ہی نہ رکھے اور ان کی ایذاءرسانی سے محفوظ رہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بلاوجہ کا سماجی اختلاط انسان کے قیمتی اوقات کو ضائع کرنے کے ساتھ ساتھ اسے اخلاقی اور روحانی زوال کی طرف لے جاتا ہے۔دنیاوی اعتبار سے دیکھا جائے تو بے مقصد سوشل لائف انسان کی صلاحیتوں کو دیمک کی طرح چاٹ جاتی ہے۔ وقت سب سے قیمتی سرمایہ ہے، لیکن آج کل لوگ گھنٹوں سوشل میڈیا یا گپ شپ کی محفلوں میں برباد کر دیتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ: انسان اپنے ذاتی اہداف، کیریئر اور تعلیمی مقاصد سے ہٹ جاتا ہے۔غیر ضروری میل جول موازنہ کرنے کی عادت کو جنم دیتا ہے، جس سے حسد، احساسِ کمتری اور ڈپریشن جیسی بیماریاں جنم لیتی ہیں۔

​ہر ایک سے بے تکلفی انسان کی عزتِ نفس اور وقار کو مجروح کرتی ہے، کیونکہ ہر شخص آپ کے رازوں اور کمزوریوں کا امین نہیں ہو سکتا۔عبادات میں خلل اور گناہوں کی کثرت آخرت کے نقصان کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ انسان کی زبان سے نکلنے والے ہر لفظ کا حساب ہونا ہے۔ جب محفلیں سجتی ہیں، تو وہاں باتوں باتوں میں کسی کی غیبت، بہتان یا دل آزاری ہو جانا عام بات ہے۔ اس کے علاوہ، عبادات میں خشوع و خضوع ختم ہو جاتا ہے۔ جو شخص ہمہ وقت دنیا اور لوگوں میں الجھا رہے، اس کا دل نماز اور ذکرِ الٰہی سے اچاٹ ہو جاتا ہے۔ آخرت میں کامیابی کا دارومدار اعمالِ صالحہ پر ہے، اور اعمالِ صالحہ کے لیے یکسوئی اور طہارتِ قلب شرط ہے۔اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ انسان دنیا سے بالکل لاتعلق ہو جائے یا رہبانیت اختیار کر لے۔ اسلام رہبانیت کی نفی کرتا ہے۔ ایک مومن کو معاشرے میں رہنا ہے، تجارت کرنی ہے، اور رشتہ داروں کے حقوق بھی ادا کرنے ہیں۔ اسلامی نقطئہ نظر اور عقلِ سلیم کا تقاضا یہ ہے کہ "بقدرِ ضرورت" تعلق رکھا جائے۔

​بقدرِ ضرورت تعلق کا مطلب یہ ہے کہ:سلام دعا اور اخلاقی حدود تک محدود رہا جائے۔

​رشتہ داروں سے صلہ رحمی کی جائے مگر بے تکلفی سے گریز کیا جائے۔کاروباری اور سماجی معاملات میں دیانت داری اور خوش اخلاقی برتی جائے، لیکن اپنی ذاتی زندگی کو تماشا نہ بنایا جائے۔اپنے فارغ اوقات کو کتاب بینی، عبادت، اور اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے میں صرف کیا جائے۔عقل مندی کا تقاضا یہ ہے کہ انسان اپنے دائرہ کار کو محدود کرے۔ جس طرح خوراک میں اعتدال جسم کو صحت مند رکھتا ہے، اسی طرح میل جول میں اعتدال روح اور ذہنی سکون کو برقرار رکھتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اپنی ترجیحات کا از سر نو جائزہ لیں، بے مقصد محفلوں اور ڈیجیٹل شور سے کنارہ کش ہوں، اور اپنی توانائیاں ان کاموں میں صرف کریں جو دنیا و آخرت میں کامیابی کی ضمانت بنیں۔ یاد رکھیے، تنہائی کا خوف دراصل اپنے آپ سے فرار کا نام ہے، اور جو شخص خود سے مل لیتا ہے، اسے دنیا کے ہجوم کی ضرورت نہیں رہتی۔