خواتین کو ہراساں کرنے کے واقعات، معاشرتی ذمہ داری اور تدارک،تحریر: پروفیسر عامرزریں
نقطہ نظر
پاکستانی معاشرے میں خواتین اور کم سن بچیوں کے اغوا، جنسی زیادتی، قتل، چھیڑ چھاڑ اور ہراسانی کے واقعات ایک سنگین سماجی مسئلے کی صورت اختیار کر چکے ہیں۔ یہ واقعات نہ صرف متاثرہ خواتین کی جسمانی و ذہنی سلامتی کو نقصان پہنچا رہے ہیں ہیں بلکہ پورے معاشرے میں خوف، عدم تحفظ اور بے اعتمادی کو بھی جنم دیتے ہیں۔ ایسے حالات میں ضروری ہے کہ ہم ان واقعات کے بنیادی محرکات کا سنجیدگی سے جائزہ لیں اور مؤثر تدارک کے لیے ریاستی اداروں، تعلیمی نظام، خاندان اور معاشرے کی ذمہ داریوں کا تعین کریں۔
ہراسانی کے پسِ پردہ محرکات کو جاننا بہت ضروری ہے۔
پدر سری سوچ اور عورت کو کم تر سمجھنا:خواتین کو ہراساں کرنے کی ایک بنیادی وجہ وہ پدر سری ذہنیت ہے جس میں مرد کو فطری طور پر برتر اور عورت کو کمزور یا تابع سمجھا جاتا ہے۔ بعض افراد عورت کی آزادی، تعلیم، ملازمت اور عوامی زندگی میں شرکت کو قبول نہیں کرتے۔ یہ سوچ عورت کے بنیادی انسانی حقوق اور اس کی آزادانہ شخصیت کو محدود کرتی ہے۔تاہم یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ہراسانی کا ذمہ دار صرف کوئی مخصوص طبقہ یا تعلیمی پس منظر رکھنے والا فرد نہیں ہوتا۔ مختلف معاشرتی طبقات میں یہ رویے پائے جا سکتے ہیں۔ اصل مسئلہ طاقت کے غلط استعمال، اخلاقی تربیت کی کمی اور قانون سے بے خوفی ہے۔
اخلاقی تربیت اور احترامِ انسانیت کا فقدان:خاندان اور تعلیمی ادارے اگر بچوں کو احترام، رضامندی، ذاتی حدود اور ذمہ دارانہ رویے کی تربیت نہ دیں تو بعض افراد بڑے ہو کر دوسروں کی عزت اور آزادی کا خیال نہیں رکھتے۔ خواتین کو ہراساں کرنا محض ایک غیر مہذب حرکت نہیں بلکہ ان کے وقار، تحفظ اور بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ضروری ہے کہ لڑکوں اور لڑکیوں دونوں کو بچپن ہی سے یہ سکھایا جائے کہ کسی کی مرضی کے خلاف اسے چھونا، نازیبا گفتگو کرنا، راستہ روکنا یا مسلسل پیغامات کے ذریعے پریشان کرنا ناقابل قبول رویہ ہے۔
قانون پر عمل درآمد کی کمزوری:قوانین موجود ہونے کے باوجود ان کا مؤثر نفاذ ایک اہم چیلنج ہے۔ اقوام متحدہ کی پاکستان سے متعلق رپورٹ میں اس امر کی نشاندہی کی گئی ہے کہ خواتین کو ہراسانی کے خلاف قانونی تحفظ اور شکایتی نظام کے بارے میں آگاہی کی کمی ہے۔ بعض متاثرہ خواتین سماجی دباؤ، بدنامی کے خوف اور اداروں پر عدم اعتماد کے باعث شکایت درج نہیں کراتیں۔ اورجب مجرم کو یہ تاثر ملے کہ شکایت کے باوجود اسے سزا نہیں ملے گی تو قانون کا خوف کمزور پڑ جاتا ہے۔ اسی طرح شکایت کرنے والی خاتون کو موردِ الزام ٹھہرانا بھی انصاف کی راہ میں رکاوٹ بنتا ہے۔
سماجی خاموشی اور متاثرہ فرد کو الزام دینا:ہراسانی کے واقعات میں بعض اوقات معاشرہ مجرم کے بجائے متاثرہ خاتون کے لباس، نقل و حرکت یا طرزِ زندگی پر سوال اٹھاتا ہے۔ یہ رویہ نہ صرف ناانصافی ہے بلکہ مجرم کو بالواسطہ تحفظ فراہم کرتا ہے۔کسی بھی قسم کی ہراسانی یا جنسی زیادتی کی ذمہ داری متاثرہ فرد پر عائد نہیں کی جا سکتی۔ ذمہ داری اس شخص کی ہے جو دوسرے کی رضامندی اور حدود کی خلاف ورزی کرتا ہے۔
آن لائن ہراسانی اور ٹیکنالوجی کا غلط استعمال:سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز نے رابطوں کو آسان بنایا ہے، مگر ان کا غلط استعمال خواتین کے خلاف دھمکیوں، جعلی اکاؤنٹس، نجی تصاویر کے غیر قانونی پھیلاؤ اور بلیک میلنگ کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے۔پاکستان کی وزارتِ انسانی حقوق اور اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام نے مارچ 2026 ء میں ٹیکنالوجی کے ذریعے ہونے والے صنفی تشدد سے نمٹنے کے لیے قومی حکمتِ عملی کا آغاز کیا۔ اس اقدام سے ظاہر ہوتا ہے کہ خواتین کے تحفظ کے لیے ڈیجیٹل سلامتی بھی پالیسی کا اہم حصہ بن چکی ہے۔
ہراسانی کا تدارک کیسے ممکن ہے؟ قانون کی مؤثر عمل داری:پولیس، عدلیہ اور متعلقہ اداروں کو ہراسانی اور جنسی جرائم کی شکایات پر فوری، غیر جانب دار اور قانون کے مطابق کارروائی کرنی چاہیے۔ متاثرہ خواتین کے لیے آسان شکایتی نظام، رازداری اور قانونی معاونت ضروری ہے۔
کام کی جگہ پر ہراسانی کے خلاف وفاقی محتسب کا ادارہ (FOSPAH) موجود ہے۔ اگست 2026 میں جاری سرکاری معلومات کے مطابق ادارے کو 2024-25 کے دوران 1,119 ہراسانی کی شکایات موصول ہوئیں اور 1,047 پر فیصلے کیے گئے۔ یہ اعداد و شمار شکایات کے اندراج اور ادارہ جاتی کارروائی کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں، تاہم انہیں ملک بھر میں ہراسانی کے مجموعی واقعات کا نمائندہ نہیں سمجھنا چاہیے۔
تعلیمی اداروں میں کردار سازی:اسکولوں، کالجوں اور جامعات میں اخلاقی تربیت، صنفی احترام، رضامندی اور قانونی آگاہی کو تعلیمی سرگرمیوں کا حصہ بنایا جائے۔ طلبہ کو یہ بھی بتایا جائے کہ کسی کو ہراساں کرنا مذاق یا مردانگی کی علامت نہیں بلکہ نقصان دہ اور قابلِ گرفت عمل ہے۔
محفوظ عوامی مقامات:سڑکوں، بازاروں، تعلیمی اداروں، دفاتر اور پبلک ٹرانسپورٹ میں مناسب روشنی، نگرانی، شکایتی مراکز اور فوری امدادی نظام قائم کیے جائیں۔ خواتین کو محفوظ ماحول فراہم کرنا ان کی نقل و حرکت محدود کرنے کے بجائے ریاست اور معاشرے کی ذمہ داری ہے۔
خاندان اور معاشرے کا مثبت کردار:والدین اپنی بیٹیوں اور بیٹوں دونوں سے کھل کر گفتگو کریں۔ بچیوں کو اپنی حفاظت، حدود اور شکایت کے طریقوں سے آگاہ کیا جائے، جبکہ لڑکوں کو احترام اور ذمہ داری کا شعور دیا جائے۔ متاثرہ خواتین کو خاموش کرانے کے بجائے ان کی بات سنی جائے اور مدد فراہم کی جائے۔
میڈیا اور مذہبی و سماجی رہنماؤں کی ذمہ داری:میڈیا کو ایسے واقعات کی رپورٹنگ میں متاثرہ افراد کی شناخت اور عزت کا تحفظ کرنا چاہیے۔ مذہبی علما، اساتذہ اور سماجی رہنما عورت کے احترام، انسانی وقار اور ظلم کے خلاف واضح پیغام عام کر سکتے ہیں۔
خواتین کو ہراساں کرنا کسی ایک فرد کا مسئلہ نہیں بلکہ قانون، معاشرتی رویوں، تربیت اور ادارہ جاتی نظام سے جڑا ہوا چیلنج ہے۔ اس کا حل خواتین کی آزادی محدود کرنے میں نہیں بلکہ مجرموں کے احتساب، قانون کے نفاذ، اخلاقی تربیت اور محفوظ عوامی ماحول کی تشکیل میں ہے۔ایک مہذب معاشرہ وہ ہے جہاں عورت، بچی اور ہر شہری اپنی عزت، آزادی اور سلامتی کے ساتھ زندگی گزار سکے۔ اس مقصد کے لیے ریاستی اداروں کی مؤثر کارروائی، خاندان کی تربیت اور معاشرے کی اجتماعی ذمہ داری ناگزیر ہے
مزید پڑھیں




