Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

کھوکھلے رشتے،تحریر : سدرہ قیوم

نقطہ نظر

آج کے دور میں ہم پہلے سے کہیں زیادہ جڑے ہوئے ہیں، مگر شاید پہلے سے کہیں زیادہ تنہا بھی۔ موبائل کی اسکرین پر سینکڑوں نام جگمگاتے ہیں، فہرستِ دوستاں طویل ہے، خاندان کے واٹس ایپ گروپ میں صبح و شام پیغامات کا تانتا بندھا رہتا ہے، لیکن دل کے آنگن میں ایک عجیب سا سناٹا ہے۔ یہی سناٹا دراصل کھوکھلے رشتوں کی علامت ہے۔

کھوکھلا رشتہ وہ ہوتا ہے جس کا ڈھانچہ تو موجود ہو مگر روح غائب ہو۔ نام کا تعلق، رسمی سلام دعا، تہواروں پر بھیجے گئے نقل شدہ پیغامات اور تصویروں پر دی گئی بے دلی کی "لائک"۔ ہم ایک ہی چھت تلے رہتے ہیں مگر ایک دوسرے کے دکھ سے ناواقف ہوتے ہیں۔ باپ کے چہرے پر تھکن کی لکیریں کب گہری ہوئیں، ماں کی آنکھوں میں کون سی فکر بسیرا کر گئی، بھائی کس الجھن میں مبتلا ہے، ہمیں خبر ہی نہیں ہوتی، کیونکہ ہماری نظریں ہاتھ میں پکڑی اسکرین سے اٹھتی ہی نہیں۔

اس کھوکھلے پن کی ایک بڑی وجہ وقت کی کمی نہیں، توجہ کی کمی ہے۔ ہمارے پاس وقت سب کے لیے ہے، سوائے ان کے جو ہمارے اپنے ہیں۔ ہم گھنٹوں سوشل میڈیا پر اجنبیوں کی زندگیوں میں جھانکتے ہیں، مگر اپنے پیاروں کے ساتھ دس منٹ دل کھول کر بات کرنے کو بوجھ سمجھتے ہیں۔ رشتے وقت، توجہ اور احساس کی کھاد مانگتے ہیں۔ جس پودے کو پانی نہ ملے وہ سوکھ جاتا ہے، اور جس تعلق کو توجہ نہ ملے وہ کھوکھلا ہو جاتا ہے۔

دوسری وجہ مفاد پرستی ہے۔ آج بہت سے تعلق ضرورت کی بنیاد پر قائم ہوتے ہیں۔ جب تک کام نکلتا رہے، محبت کے دعوے زبان پر رہتے ہیں، اور جونہی ضرورت ختم ہوئی، فون نمبر بھی اجنبی لگنے لگتا ہے۔ ہم لوگوں کو ان کی حیثیت، عہدے اور فائدے کے ترازو میں تولتے ہیں۔ جو کام آ سکتا ہے وہ عزیز ہے، اور جو کچھ نہیں دے سکتا وہ غیر اہم۔ ایسے رشتے کاروباری معاہدے تو ہو سکتے ہیں، تعلق نہیں۔

تیسری وجہ دکھاوا ہے۔ ہم نے رشتوں کو بھی نمائش کی چیز بنا دیا ہے۔ سالگرہ پر تصویر لگانا، سالگرہ کی مبارک باد عوامی طور پر دینا، مگر نجی زندگی میں ایک دوسرے سے شکوے اور دوری پالنا۔ باہر کی دنیا کو دکھانے کے لیے مسکراتے چہرے اور اندر ہی اندر خاموش فاصلے۔ یہ منافقت رشتوں کی بنیاد کو دیمک کی طرح چاٹ جاتی ہے۔

سوال یہ ہے کہ اس کا علاج کیا ہے؟ علاج کوئی پیچیدہ نسخہ نہیں۔ سب سے پہلے ہمیں سننا سیکھنا ہوگا۔ آج ہر شخص بولنا چاہتا ہے، سننے والا کوئی نہیں۔ جب کوئی اپنا دکھ بیان کر رہا ہو تو اسے نصیحت کے بجائے توجہ دیجیے۔ بعض اوقات صرف خاموشی سے سن لینا ہی سب سے بڑی دلداری ہوتی ہے۔

دوسرا قدم معافی اور درگزر ہے۔ رشتے وہی پائیدار ہوتے ہیں جن میں انا کی دیوار نہ ہو۔ پہل کرنا کمزوری نہیں، بڑے پن کی نشانی ہے۔ ایک "معاف کر دو" اور ایک "کوئی بات نہیں" برسوں کی تلخی دھو سکتا ہے۔

تیسرا قدم موجودگی ہے، یعنی جسمانی بھی اور ذہنی بھی۔ کھانے کی میز پر موبائل رکھ دیجیے، بزرگوں کے پاس بیٹھیے، دوستوں سے ملاقات کیجیے، بلا وجہ کسی کا حال پوچھ لیجیے۔ یہ چھوٹی چھوٹی باتیں ہی رشتوں میں جان ڈالتی ہیں۔

آخر میں یہ حقیقت یاد رکھیے کہ زندگی کے آخری لمحوں میں انسان کو اپنی دولت، شہرت یا عہدے یاد نہیں آتے، وہ چہرے یاد آتے ہیں جو اس کے ساتھ ہنسے اور روئے۔ اگر ہم نے رشتوں کو کھوکھلا رہنے دیا تو بڑھاپے میں ہمارے پاس سب کچھ ہوگا، سوائے اپنوں کے۔

۔آئیے آج ہی فیصلہ کریں کہ ہم رشتوں کو محض نبھائیں گے نہیں، جئیں گے بھی۔ کیونکہ جو رشتہ دل سے خالی ہو، وہ دیوار پر لگی اس تصویر کی طرح ہے جو فریم میں تو سجی ہے مگر اس میں سانس نہیں