خودی کے عارفوں کا ہے مقام بادشاہی ،تحریر: شازیہ یاسین
نقطہ نظر
یہ پیام دے گئی ہے مجھے باد صبا گاہی
کہ خودی کے عارفوں کا ہے مقام بادشاہی
خودی کے اصطلاحی مفہوم تو غرور، انا پرستی اور خود پسندی کے ہیں لیکن اقبال نے ان معنوں سے بالکل ہٹ کر فلسفہ خودی کو پیش کیا ہے۔ ان کی نظم اسرار خودی میں انہوں نے جو فلسفہ پیش کیا ہے اگر ہم اس میں پوشیدہ راز حیات پا لیں تو شاید ہم خودی کی اہمیت کو جان سکیں سورہ الحشر میں ارشاد ربانی ہے کہ!
"جس نے خود کو پہچان لیا اس نے اپنے رب کو پہچان لیا".
خودی سے خود آگاہی کا سفر بہت مختصر ہے جیسا کہ اقبال نے خودی کو احساس نفس اور تعین ذات سے تشبیہ دی ہےیعنی انسان خود اپنے آپ کو پہچانے اور اقبال کے فلسفے خودی کے مطابق اپنے مقام کا تعین کرے۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم خود سے یہ سوال کریں کہ!
کیا ہم اقبال کے اس نظریے کے پیش نظر اپنی خودی سے واقف ہیں؟
ہماری حقیقت کیا ہے؟
کیا ہم اپنی صلاحیتوں اور خود اعتمادی کو اپنے مقصد کے لیے بروئے کار لا رہے ہیں؟
کیا ہم نے کبھی یہ سوچا ہے کہ اپنی عادات اپنے مقاصد کے حصول کے لیے ہم کیا کر سکتے ہیں؟
خدائے واحد نے ہمیں کتنی عظمت دی ہے؟
کیا ہم مسجود ملائک نہیں ہیں؟
ایسے ہی ان گنت سوالات ہیں جن کے جوابات تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔
خودی کی جلوتوں میں مصطفائی
خودی کی خلوتوں میں کبریائی
زمین و آسماں کرسی و عرش
خودی کی زد میں ہے ساری خدائی
حکیم الامت حضرت محمد علامہ اقبال نے خودی کو نہ صرف بطور نظریہ پیش کیا بلکہ اسے ہر عمر کے لیے لازم بھی قرار دیا تاکہ ہم اپنی صلاحیتوں کے ساتھ اپنی خودی کو پہچاننے اور خود آگاہی کا سفر طے کرتے ہوئے اپنی منازل اور اس دنیا کو تسخیر کر سکے۔
میرا طریق غریبی ہے امیری نہیں
خودی نہ بیچ فقیری میں نام پیدا کر
حکیم الامت نے خودی میں امیری غریبی کے فرق کو بالکل مٹا دیا ہے۔ ان کے مطابق خودی وہ دولت ہے جو ہر انسان کا قیمتی سرمایہ ہے چاہے وہ امیر ہو یا غریب۔ انہوں نے اپنے کلام میں نوجوانوں کو مخاطب کیا ہے کیونکہ نوجوانوں نے ہی ملک کی بھاگ دوڑ سنبھالنی ہوتی ہے۔ انہوں نے بارہا اپنے کلام میں اس بات کی یاد دہانی کروائی ہے کہ مسلمانوں سے چھن جانے والی حرمت عصمت اور ان کی قوت ایمانی نوجوانوں سے ہی منسلک ہے اور ضرورت صرف خود آگہی کی ہے۔ انہوں نے تو جوانوں کے لیے واضح طور پہ لکھا ہے کہ!
پلٹنا جھپٹنا جھپٹ کر پلٹنا ہے لہو گرم رکھنے کا اک بہانہ پرندوں کی دنیا کا درویش ہوں میں
کہ شاہیں بناتا نہیں اشیانہ اج کے جدید دور میں جب دنیا سائنس اور ٹیکنالوجی کے دور میں آگے سے آگے بڑھنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ایسی مشینیں ایجاد ہو چکی ہیں کہ جس کو دیکھ کر انسانی عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ اس دور میں بھی ہم اتنے پیچھے کیوں ہیں؟ یہ تمام علوم مسلمانوں ہی کی میراث ہیں۔ ان کے بانی مسلمان سائنسدان ہی ہیں لیکن آج ہم بہت پیچھے رہ گئے ہیں اور وجہ سستی کاہلی کے ساتھ ساتھ یہ بھی ہے کہ ہم اپنی ہی طاقت کو بھول چکے ہیں ہمارے ہی اصولوں کو اپنا کر مغربی اقوام دنیا پر قابض ہوتی جا رہی ہے اور مسلمانوں اور ان کے علاقوں کو اپنی جاگیر سمجھنے لگی ہے۔ کشمیر اور فلسطین اس کی زندگی اس زندگی کی زندہ جاوید مثالیں ہیں ہم اج بھی ترقی پذیر ممالک کی صف میں کھڑے ہیں اور اج بھی ہمارا شمار تیسری دنیا کے اقوام میں ہوتا ہے۔ ہمارے نوجوانوں میں نہ تو صلاحیتوں کی کمی ہے اور نہ ہی خودی اعتمادی کی کمی ہے تو اپنی صلاحیتوں کو پہچاننے اور صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے کام کریں۔ ہم اکثر مسائل کا حل تلاش کرنے کے بجائے اس کا رونا روتے رہتے ہیں بلکہ اس بات کو لے کر بیٹھ جاتے ہیں کہ اب ان مسائل کا کیا کیا جائے بجائے اس کے کہ ہم ایک بہترین حکمت عملی اختیار کرتے ہوئے اس کا حل نکالیں۔ ہم اس بات پر اندھا اعتماد کیے بیٹھے ہیں کہ تنزلی کی وجہ مسائل کا فقدان ہی ہے جو کہ سراسر خود کو دھوکہ دینے کے مترادف ہے۔ ہم میں کمی ہے تو عمل کی ہم باتیں تو کر لیتے ہیں مگر عمل کرنے میں ابھی بھی بہت پیچھے ہیں اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنی سوچ کو تبدیل کریں اسے وسیع تر کریں اپنی صلاحیتوں کو اپنا کر، ہتھیار بنا کر محدود وسائل کے ہوتے ہوئے بھی دنیا کے سامنے اپنے آپ کو منوانا سیکھ لیں۔ عمل کو زندگی کا لازمی جزو بنا کر اپنی اور اپنی قوم کی حالت کو بدلیں۔ ہم اگر تاریخ کے عراق پر نظر ڈالیں تو ہم اس بات متفق ہوں گے کہ عمل سے ہی شخصیات تعریفوں اور دلوں میں زندہ رہتی ہیں۔ عمل سے ہی ہماری بہت شخصیات نے بہت سے القابات انگریزوں سے اپنے نام کروائے ہیں۔ محمد علی جناح قائدا اعظم کہلائے علامہ محمد اقبال کو ہم شاعر مشرق حکیم الامت اور انگریز سر کے نام سے یاد کرتے ہیں اور وجہ ان کا عمل ہی ہے یہ خود آگہی کی طاقت ہی تھی جس نے طارق بن زیاد کو فاتح اندلس بنایا اور محمد بن قاسم نے سندھ کو باب الاسلام کہلوایا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام خلیل اللہ بنے، حضرت اسماعیل علیہ السلام ذبیح اللہ کہلائے، حضرت موسیٰ علیہ السلام کلیم اللہ اور حضرت علی حیدر کرار، شیر خدا کہلائے، حضرت عیسی علیہ السلام روح اللہ اور ہمارے پیارے نبی محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم حبیب اللہ اور حضرت امام حسین سید الشہداء کے القابات سے یاد کیے جاتے ہیں۔
عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی
یہ خاکی اپنی فطرت میں نوری ہے نہ ناری ہے
حیات دنیا کے اس مسلسل سفر میں بہت سے ایسے لوگ ہیں جو علم کے سمندر میں غوطہ زن ہو کر گوہر نایاب کو تلاش کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں اور پھر اپ اسی علم کو پھیلا کر اور اس پر عمل کر کے خود کو تاریخ کے اوراق اور انسانوں کے قلب و ذہن میں ہمیشہ کے لیے امر کر لیتے ہیں۔ خودی کی ہماری زندگی میں بہت زیادہ اہمیت ہے یہی وجہ ہے کہ اقبال نے اس پر بہت زور دیا ہے کہ ہم اپنے خودی کو پہچانے اور خود کو اس قابل بنائے کہ اپنی تمام کوشش صرف کر کے حالات اس قابل لے ائے کہ آپ کی اور اللہ کی رضا ایک ہی ہو جائے
خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے
اقبال کے شاہین بنیے، خود کو پہچانیے اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے وہ کام کر جائیں جس کی توقع ہم سے ہماری قوم اور وطن کرتا ہے۔ پوری دنیا میں نا صرف اپنے وطن بلکہ مسلمانوں کا نام بھی خوب روشن کریں تاکہ پوری دنیا کے سامنے ہم خود کو منوا سکے جس طرح ہمارے آباؤ اجداد اور بزرگوں نے علم کے میدان میں جھنڈے گاڑے ہیں ہم بھی اپنے اپ کو اس کے قابل بنائے۔ اس خودی کی تکمیل سے انسان کی زندگی ایسی روشن شمع بن جاتی ہے جسے باد حوادث کا کوئی جھونکا نہیں بجھا سکتا۔
فرشتہ موت کا چھوتا ہے گو بدن تیرا
تیرے وجود کے مرکز سے دور رہتا ہے۔
مزید پڑھیں



