Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

خودی کے پار ،تحریر:زین سلیم

نقطہ نظر

رات کافی گزر چکی تھی۔ کمرے میں صرف ایک مدھم بلب جل رہا تھا۔ میز پر کچھ کاغذ بکھرے تھے اور میری انگلیاں بے دھیانی میں ان پر چل رہی تھیں۔ سامنے امرتا بیٹھی تھی۔ ہم دونوں خاموش تھے مگر میرے اندر بہت کچھ چل رہا تھا۔ امرتا نے مجھے غور سے دیکھا اور کہا زین تم پھر کھو گئے ہو۔ میں نے اس کی طرف دیکھا۔ اس کی آواز میں نرمی بھی تھی اور تشویش بھی شامل تھی۔ کہیں پھر سوسائیڈ نوٹ لکھنے تو نہیں بیٹھ گئے۔ کیا ڈھونڈ رہے ہو اس بار میں نے کاغذوں کو انگلیوں سے چھوا۔ مجھے کسی جواب کی تلاش نہیں تھی۔ شاید میں صرف کاغذ اور پرانی لکڑی کا لمس محسوس کرنا چاہتا تھا۔ میں نے آہستہ سے کہا میں سوچ رہا ہوں کہ انسان واقعی خدا کے بغیر مکمل ہو سکتا ہے یا ہم اپنی تنہائی کو چھپانے کے لیے خدا کا تصور بناتے ہیں۔

امرتا خاموش رہی میں نے بات جاری رکھی میں جانتا ہوں کہ خدا ہے پھر بھی وہ میرے اندر اتنا خاموش کیوں ہے۔ یہ بےنام سی پیاس کہاں سے آتی ہے۔ کیا یہی پیاس مجھے اس کی طرف لے جاتی ہے یا اس تک پہنچنے سے روکتی ہے۔ امرتا نے کہا یہ جو تم اسے تلاش کرنے کی جستجو کہتے ہو کہ وہ کہاں سے آتی ہے کیا کبھی سوچا ہے کہ شاید تم خدا کو نہیں اپنے آپ کو تلاش کر رہے ہو۔ میں نے اس کی طرف دیکھا تو پھر اس کائنات کے راز کیا ہیں۔ شاید سوال کا ہونا بھی کسی جواب کی طرف اشارہ ہو۔

میں کچھ کہنے ہی والا تھا کہ مجھے اپنے سامنے دو وجود محسوس ہوئے۔ میں جانتا تھا کہ وہ حقیقت میں وہاں نہیں تھے۔ وہ میرے تخیل کے کردار تھے۔ مگر اس رات میرے تخیل نے انہیں اس طرح میرے سامنے لا کھڑا کیا تھا جیسے میں اپنے ہی ذہن کے اندر ایک عدالت میں بیٹھا ہوں۔ ایک وجود میں خاموش وقار تھا۔ چہرے پر ایسی سنجیدگی جیسے وہ کسی اندرونی یقین سے آتا ہو۔ اقبال۔ دوسرا بے چین تھا۔ اس کی آنکھوں میں سوال تھا اور لہجے میں چیلنج۔ نطشے۔

نطشے نے مجھے دیکھا “انسان یا خدا۔ میں نے کوئی جواب نہیں دیا۔ وہ مسکرایا۔ تم بھی اسی سوال میں گرفتار ہو یہی تو انسان کی کمزوری ہے۔ وہ ہمیشہ کسی سہارے کی تلاش میں رہتا ہے۔میں نے کہا لیکن انسان خود بھی تو کچھ ہے۔ وہ اپنی دنیا بناتا ہے اپنی تقدیر بدلتا ہے۔ بالکل نطشے نے کہا پھر اسے ہر قدم پر کسی آسمانی سہارے کی ضرورت کیوں ہو۔ انسان کو اپنے لیے اپنی قدریں خود بنانی چاہییں۔ میں نے فوراً کہا نہیں۔ انسان خود کچھ تخلیق نہیں کر سکتا۔ وہ مخلوق ہے۔ اس کی اپنی کوئی خودمختار ابتدا نہیں۔ نطشے نے میری طرف دیکھا۔ تم کہتے ہو انسان خود ہی کچھ نہیں۔ ہاں تو پھر تمہاری خودی کہاں گئی میں خاموش ہوگیا۔

وہ بولا میں کہتا ہوں انسان کو اپنی زندگی کا مقصد خود طے کرنا چاہیے۔ ‘God is dead’ کا مطلب یہ نہیں کہ میں کسی دیوتا کے قتل کی خبر دے رہا ہوں۔ میں اس تہذیب کی بات کر رہا ہوں جس کے لیے خدا کبھی حتمی معنی کا مرکز تھا اور اب اس یقین کی بنیادیں خود انسان کی عقل اور علم ہلا چکے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اس کے بعد انسان کرے کیا میں نے کہا اور تمہارا جواب ہے کہ وہ خود اپنا خالق بن جائے اپنی قدریں خود بنائے۔ اپنی زندگی کا بوجھ خود اٹھائے۔ اپنی حدود کو چیلنج کرے۔فوق البشر ہاں۔ وہ انسان جو اپنی زندگی کا معنی کسی باہر سے ملنے والے حکم کا محتاج نہ ہو۔

میں نے فوراً اعتراض کیا لیکن تمہارے فوق البشر کے تصور میں انسان کہاں جا کر رکے گا اگر وہ اپنی قدریں خود بنائے تو صحیح اور غلط کا معیار کیا ہوگا۔ اس بار دوسری آواز آئی۔ پہلے یہ بتاؤ کہ کیا انسان خود کو بنا سکتا ہے۔ میں نے اقبال کی طرف دیکھا۔ وہ پرسکون تھا۔ یہ شعور یہ میں یہ احساس کہ میں سوال کر رہا ہوں یہ کہاں سے آیا۔ نطشے نے جواب دیاانسان نے خود کو بنایا ہے۔اقبال نے کہاانسان نے خود کو پیدا نہیں کیا۔پیدا کرنا ہی سب کچھ نہیں نطشے نے کہا انسان اپنے آپ کو بناتا ہے۔

اقبال نے میری طرف دیکھا۔ زین تم اس بحث میں ایک بات بھول رہے ہو۔ انسان کی عظمت اس بات میں نہیں کہ وہ اپنے خالق ہونے کا دعویٰ کرے۔ اس کی عظمت یہ ہے کہ وہ اپنی حقیقت کو پہچانے اور پھر اپنے امکانات کو بروئے کار لائے۔ نطشے نے بات کاٹی پہچان یا پھر کسی دی ہوئی حقیقت کے سامنے سر جھکا دینا۔ اقبال نے جواب دیا سر جھکانا اور شکست مان لینا ایک چیز نہیں۔ میں نے پوچھا تو کیا خودی صرف جھکنے کا نام ہے اقبال نے میری طرف دیکھا نہیں۔ خودی جھکتی نہیں نکھرتی ہے۔ لیکن جب خودی اپنی اصل سے کٹ جائے تو وہ طاقت نہیں رہتی صرف انا بن جاتی ہے۔

نطشے ہنسا۔ خدا کا تصور انسان کو کمزور کرتا ہے۔ وہ اپنی خواہشات سے ڈرتا ہے اور پھر ان پر پابندیاں لگا کر انہیں اخلاق کا نام دیتا ہے۔ میں نے پوچھا اگر انسان اپنی خواہشات پر قابو پا لے تو کیا یہ بھی کمزوری ہے اگر یہ اس کی اپنی قوت سے ہوا ہے تو نہیں نطشے نے کہا۔ میں انسان سے اس کی قوت چھیننے کے خلاف ہوں۔ اقبال نے آہستہ سے کہا اور میں انسان کی قوت چھیننے کے خلاف نہیں اسے صحیح سمت دینے کے حق میں ہوں۔نطشے نے اسے دیکھا۔ فرق کیا ہے اقبال نے جواب دیا تم انسان کو خدا سے آزاد کر کے اسے اپنی حدیں توڑنے کو کہتے ہو۔ میں اسے خدا سے جوڑ کر اپنی حدیں پہچاننے اور پھر انہیں عبور کرنے کو کہتا ہوں۔

میں نے دونوں کو دیکھا۔ اور معنی کیا ہے ۔ نطشے نے کہا معنی دیا نہیں جاتا۔ تخلیق کیا جاتا ہے۔اقبال نے جواب دیا معنی صرف تخلیق نہیں کیا جاتا دریافت بھی کیا جاتا ہے اور اگر کوئی حتمی معنی نہ ہو تو تب بھی انسان کا سوال ختم نہیں ہوتا۔ میں خاموش ہوگیا۔ اب بحث خدا کے وجود سے کہیں آگے نکل چکی تھی۔ سوال یہ نہیں رہا تھا کہ خدا ہے یا نہیں۔ سوال یہ تھا کہ انسان اپنی آخری حد خود ہے یا اس کی ذات کسی ایسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہے جسے وہ ابھی پوری طرح سمجھ نہیں پایا۔ اسی وقت امرتا نے میری طرف دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں پہلے جیسی نرمی نہیں تھی۔ تمہیں پتا ہے زین میں بھی کبھی تمہاری طرح سوال کرتی تھی۔ میں چونکا۔ تم۔۔ وہ کچھ دیر خاموش رہی۔ جب میری ماں مر گئی تھی نا میں نے پہلی بار خدا سے شکایت کی تھی۔ میں نے بہت دعائیں کی تھیں۔ مجھے یقین تھا کچھ بدل جائے گا۔ کچھ نہیں بدلا۔ میں خاموش رہا۔ وہ بولتی رہی تب مجھے لگا شاید نطشے ٹھیک کہتا ہے۔ شاید انسان اپنے خوف اور تنہائی سے بچنے کے لیے خدا کا تصور بناتا ہے۔پھر پھر ایک دن مجھے احساس ہوا کہ میں خدا سے نہیں اپنے ٹوٹنے سے بھاگ رہی تھی۔

اس نے نظریں جھکا لیں۔ درد ختم نہیں ہوا تھا۔ بس میں اسے دیکھنے کے قابل ہوگئی تھی۔ میں نے پہلی بار مانا کہ میں کمزور ہوں۔ عجیب بات ہے اسی اعتراف کے بعد میں نے اپنے اندر کچھ طاقت محسوس کی۔ میں نے پوچھا تو تم مانتی ہو کہ انسان کو سہارا چاہیے۔ وہ فوراً بولی نہیں۔ انسان کو سچ چاہیے۔ چاہے وہ سچ اسے توڑ دے یا جوڑ دے۔نطشے نے کہا دیکھا اس نے بھی اپنا سچ خود تلاش کیا۔ کسی خدا نے اسے ہاتھ پکڑ کر نہیں دیا۔ امرتا نے پہلی بار براہ راست اس کی طرف دیکھا۔ نہیں۔ میں نے سچ بنایا نہیں۔ میں اس سے ٹکرائی ہوں۔ اور ہر بار ہاری ہوں۔نطشے کچھ نہ بولا۔ امرتا نے کہا تم کہتے ہو انسان اپنی قدریں خود بناتا ہے۔ تو پھر بتاؤ محبت انسان کو اپنے اختیار سے باہر کیوں لے جاتی ہے۔ درد آدمی کو اندر سے کیوں بدل دیتا ہے اور کچھ رشتے ایسے کیوں ہوتے ہیں جن کے سامنے انسان اپنی ساری طاقت بھول جاتا ہے۔نطشے خاموش رہا۔ میں نے پہلی بار امرتا کو غور سے دیکھا۔ وہ میرے لیے صرف سکون نہیں تھی۔ وہ خود ایک سوال تھی۔ اور شاید ایک ایسی جنگ بھی جس کا فیصلہ ابھی باقی تھا۔کمرے میں پھر خاموشی اتر آئی۔ مدھم بلب کی روشنی میں میز پر بکھرے کاغذ اب پہلے جیسے بے معنی نہیں لگ رہے تھے۔ میں نے ایک کاغذ اٹھایا جس پر کچھ دیر پہلے میرے ہاتھ نے بے دھیانی میں چند لفظ لکھے تھے۔ میں نے انہیں دیکھا اور پھر آہستہ سے قلم میز پر رکھ دیا۔ شاید میں خدا کو کسی دلیل میں تلاش کرتا رہا تھا شاید اپنے سوالوں کے جواب میں مگر اس رات مجھے محسوس ہوا کہ خدا شاید کسی جواب کا نام نہیں بلکہ اس سفر کا نام ہے جس میں انسان اپنے آپ سے گزرتا ہوا اس حقیقت تک پہنچنے کی کوشش کرتا ہے جو اس سے بڑی ہے۔ نطشے میری طرف دیکھ رہا تھا اقبال خاموش کھڑا تھا اور امرتا کی آنکھوں میں ایک عجیب سا سکون تھا۔ میں نے دونوں سے کچھ کہنا چاہا مگر الفاظ نہیں ملے۔ شاید اس لیے کہ کچھ سوالوں کا جواب زبان نہیں دیتی زندگی دیتی ہے۔ میں نے کھڑکی کھولی تو رات کی ٹھنڈی ہوا اندر آئی۔ آسمان پر بے شمار ستارے تھے اور ان کے درمیان ایک ایسی خاموشی تھی جس میں مجھے پہلی بار کوئی خلا محسوس نہیں ہوا۔ میں نے خود سے پوچھا اگر خودی کی آخری حد بھی میں نہیں تو پھر میں کہاں ختم ہوتا ہوں کوئی جواب نہیں آیا۔ مگر اس بار مجھے جواب نہ ملنے کا دکھ بھی نہیں ہوا۔ میں مسکرایا کاغذ تہہ کیا اور میز پر رکھ دیا۔ شاید انسان کی سب سے بڑی جستجو خدا کو پانا نہیں بلکہ اس قابل ہونا ہے کہ جب وہ اپنے اندر جھانکے تو اسے خدا سے دور لے جانے والی کوئی ایسی دیوار باقی نہ رہے۔ امرتا نے آہستہ سے میرا ہاتھ تھام لیا مگر اس بار میں نے اس کا لمس محسوس نہ کر سکا وہ تینوں وجود تخلیل ہو رہئ تھے میں نے اس کی طرف دیکھا۔ وہ کچھ نہیں بولی۔ اس لمحے مجھے محسوس ہوا کہ شاید محبت بھی ایک سوال ہے جس کا جواب لفظوں میں نہیں وجود میں ملتا ہے۔ اور شاید خودی کا سفر بھی یہی ہے اپنے آپ کو پاتے پاتے اس مقام تک پہنچ جانا جہاں “میں اور وہ کے درمیان فاصلے کا احساس باقی نہ رہے۔ میں نے آخری بار کمرے کی طرف دیکھا۔ بلب اب بھی مدھم تھا رات اب بھی گہری تھی سوال اب بھی زندہ تھے مگر میرے اندر پہلی بار ایک خاموش یقین جنم لے چکا تھا۔ میں نے کاغذ پر صرف ایک جملہ لکھا خودی کے پار شاید وہی ہے جسے میں ابتدا سے اپنے اندر تلاش کر رہا تھا۔