کیا لائبہ کی موت ہمیں جگا سکے گی؟تحریر: یاسمین اختر طوبیٰ
نقطہ نظر
کیا کبھی کسی نے سوچا ہے کہ جس باپ نے اپنی بیٹی کے خواب پورے کرنے کے لیے اپنے سر کی چھت فروخت کر دی ہو، اس پر بیٹی کی موت کی خبر نے کیا قیامت ڈھاتی ہوگی؟ جس ماں نے اولاد کے روشن مستقبل کی خاطر اپنے زیورات گروی رکھے ہوں، اس کے لیے اپنی بیٹی کو کھو دینے کا دکھ کس قدر ناقابلِ برداشت ہوگا؟ اور وہ بیٹی، جس کے سینے پر کبھی کامیابی کا تمغہ سجایا گیا ہو، آخر کن حالات سے گزرتی ہے کہ زندگی کی تمام روشنیاں اسے مدھم دکھائی دینے لگتی ہیں؟
لائبہ اعجاز کی المناک کہانی محض ایک نوجوان کی موت کا واقعہ نہیں بلکہ ہمارے معاشرتی رویوں، اداروں کی کارکردگی اور نوجوانوں کو درپیش مسائل پر ایک سنجیدہ سوال ہے۔ سوال یہ نہیں کہ اس کی امید کیوں ٹوٹی، سوال یہ ہے کہ جب وہ مشکل میں گھری تو اس کے گرد مدد کے کتنے دروازے کھلے تھے؟
لائبہ اعجاز انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی کی بی ایس گولڈ میڈلسٹ اور بائیس سالہ نوجوان طالبہ تھی۔ اس کی کامیابی صرف ایک ڈگری یا گولڈ میڈل نہیں بلکہ ایک غریب خاندان کی برسوں کی محنت، دعاؤں اور قربانیوں کا ثمر تھی۔ اس کے والد موٹر سائیکل پر گھر گھر دودھ پہنچاتے تھے۔ ان کی زندگی محنت اور محدود وسائل کے درمیان گزرتی تھی لیکن بیٹی کی کامیابی میں انہیں ایک بہتر مستقبل کی امید دکھائی دیتی تھی۔
اطلاعات کے مطابق، لائبہ کے والد نے تقریباً اکیس لاکھ روپے مالیت کا گھر فروخت کر دیا جبکہ اس کی والدہ نے بھی اپنے زیورات گروی رکھوا دیے۔ یہ محض مالی قربانی نہیں تھی، یہ ان خوابوں پر اعتماد تھا جن کے ذریعے والدین اپنی اولاد کو اپنے سے بہتر زندگی دینا چاہتے ہیں۔ انہیں امید تھی کہ بیٹی بیرونِ ملک تعلیم حاصل کرکے اپنے پیروں پر کھڑی ہوگی اور خاندان کی محرومیوں میں کمی لائے گی
لیکن زندگی کے بعض المیے اس وقت جنم لیتے ہیں جب انسان کی نیک نیتی کسی دوسرے کی مبینہ بددیانتی سے ٹکرا جاتی ہے۔
دستیاب اطلاعات کے مطابق، لائبہ نے امریکہ میں تعلیم حاصل کرنے کا ارادہ کیا۔ مبینہ طور پر ایک ایجنٹ نے ابتدا میں داخلے، ویزا اور دیگر اخراجات کے لیے ستر لاکھ روپے طلب کیے، تاہم بعدازاں باون لاکھ روپے میں معاملہ طے ہوا۔ تقریباً ایک سال کی کوششوں کے بعد اسے ایسے کاغذات فراہم کیے گئے جنہیں وہ اپنے خوابوں کی تکمیل کا پروانہ سمجھ رہی تھی۔
تاہم آن لائن تصدیق کے دوران مبینہ طور پر ان دستاویزات کی حقیقت سامنے آئی اور اسے دھوکا دہی کا شبہ ہوا۔ اس صورتِ حال میں نقصان صرف رقم کا نہیں تھا؛ اس کے ساتھ ایک خاندان کی جمع پونجی، والدین کی امیدیں اور مستقبل کے منصوبے بھی خطرے میں پڑ گئے تھے۔
باون لاکھ روپے ایک غریب خاندان کے لیے معمولی رقم نہیں۔ یہ برسوں کی محنت، معاشی تحفظ اور بہتر زندگی کی امید کا سرمایہ ہو سکتا ہے۔ ایسے نقصان کے بعد پریشانی، خوف اور پشیمانی محسوس کرنا فطری ہے لیکن مالی نقصان کسی انسان کی قابلیت، عزت یا زندگی کی قدر کا فیصلہ نہیں کرتا۔
یہاں ہمیں اپنے معاشرتی رویوں پر غور کرنا ہوگا۔ ہم بچوں کو بچپن سے سکھاتے ہیں کہ والدین کا نام روشن کرنا، خاندان کا سہارا بننا اور زندگی میں کامیاب ہونا ان کی ذمہ داری ہے مگر کیا ہم انہیں یہ یقین بھی دلاتے ہیں کہ اگر وہ ناکام ہو جائیں، کسی کے دھوکے کا شکار ہو جائیں یا ان کی برسوں کی محنت ضائع ہو جائے، تب بھی وہ ہمارے لیے اتنے ہی عزیز رہیں گے؟
ہم اولاد کو کامیابی کے خواب تو دکھاتے ہیں مگر اکثر انہیں یہ نہیں بتاتے کہ ناکامی زندگی کا اختتام نہیں۔ جب کامیابی کو عزت اور ناکامی کو شرمندگی سے جوڑ دیا جائے تو مشکلات کا سامنا کرنے والا نوجوان اپنے مسئلے کو حل کرنے کے بجائے خود کو ہی قصوروار سمجھنے لگ جاتا ہے۔ والدین کی قربانیوں کو اولاد کے لیے محبت اور حوصلے کا ذریعہ ہونا چاہیے، ایسا قرض نہیں جس کے بوجھ تلے وہ اپنی ذات کو بے قدر سمجھنے لگے۔
اطلاعات کے مطابق، لائبہ نے اپنی موت سے پہلے اپنے ماموں کو ایک پیغام بھیجا جس میں مبینہ فراڈ کا ذکر اور اپنے والد کو اس بارے میں نہ بتانے کی بات شامل تھی۔ اس کے ہاسٹل سے نکلنے اور ایک غیر آباد پولیس چوکی کے قریب درخت کے نیچے بیٹھنے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔ ان تفصیلات اور واقعے کے تمام پہلوؤں کی تصدیق متعلقہ تحقیقات ہی سے ہونی چاہیے۔ ہمیں اس کے ذہن میں گزرنے والے خیالات یا اس کی موت کے اسباب کے بارے میں حتمی دعوے کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔
تاہم یہ سانحہ ہمیں ایک اہم حقیقت ضرور سمجھاتا ہے: شدید ذہنی دباؤ میں مبتلا انسان کو محض نصیحت، تنقید یا الزام کی نہیں بلکہ توجہ، ہمدردی اور عملی مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔ جو مسئلہ کسی دوسرے کو معمولی دکھائی دیتا ہے، وہ بحران سے گزرنے والے شخص کے لیے ناقابلِ برداشت محسوس ہو سکتا ہے۔ ایسے وقت میں کسی کی بات سننا، اسے تنہا نہ چھوڑنا اور مناسب پیشہ ورانہ مدد تک پہنچانا انتہائی اہم ہے۔
ذرا سوچیے، اگر گھر فروخت ہو جائے تو دوبارہ خریدا جا سکتا ہے، زیورات گروی رکھے جائیں تو حالات بہتر ہونے پر واپس حاصل کیے جا سکتے ہیں اور مالی نقصان کی تلافی کے لیے دوبارہ محنت کی جا سکتی ہے، تو پھر کسی مالی نقصان کو انسانی زندگی سے بڑا کیسے سمجھا جا سکتا ہے؟ زندگی میں تعلیم، روزگار اور کامیابی کے راستے بدل سکتے ہیں۔ ایک ناکام کوشش کے بعد دوسری کوشش ممکن ہوتی ہے لیکن زندگی ختم ہو جائے تو تمام امکانات بھی ختم ہو جاتے ہیں۔
اس سانحے کے بعد یہ کہنا آسان ہے کہ لائبہ کو پولیس سے رجوع کرنا چاہیے تھا یا قانونی کارروائی کرنی چاہیے تھی۔ یقیناً دھوکا دہی کی صورت میں متعلقہ اداروں سے رجوع کرنا ضروری ہے لیکن یہ سوال بھی اہم ہے کہ کیا ہمارے نوجوانوں کو معلوم ہے کہ ایسے حالات میں مدد کہاں سے مل سکتی ہے؟ کیا انہیں یقین ہے کہ ان کی شکایت سنی جائے گی اور انہیں الزام دینے کے بجائے رہنمائی فراہم کی جائے گی؟
اداروں پر اعتماد صرف اعلانات سے پیدا نہیں ہوتا، اس کے لیے ضروری ہے کہ متاثرہ شہری کو بروقت، مؤثر اور باعزت معاونت فراہم کی جائے۔ مبینہ فراڈ کے معاملے کی شفاف تحقیقات ہونی چاہییں اور شواہد کی بنیاد پر ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جانی چاہیے۔
بیرونِ ملک تعلیم حاصل کرنے کے خواہش مند نوجوانوں کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ کسی ایجنٹ کو رقم دینے سے پہلے متعلقہ یونیورسٹی کے سرکاری ذرائع سے داخلے کی تصدیق کریں، ویزا اور امیگریشن سے متعلق معلومات متعلقہ سرکاری اداروں سے حاصل کریں اور ہر ادائیگی کا تحریری ریکارڈ محفوظ رکھیں۔ جامعات اور سرکاری اداروں کو بھی مستند رہنمائی کے ذرائع عام کرنے چاہییں تاکہ نوجوان غیر مصدقہ دعوؤں اور مشکوک ایجنٹوں کے ہاتھوں اپنی جمع پونجی نہ گنوا بیٹھیں۔
تاہم لائبہ کی کہانی کا دائرہ کسی ایک ایجنٹ یا خاندان تک محدود نہیں۔ یہ اس حقیقت کی طرف بھی اشارہ کرتی ہے کہ ہمارے ہاں بیرونِ ملک جانا رفتہ رفتہ کامیابی کی ایک بڑی علامت بنتا جا رہا ہے۔ نوجوان اعلیٰ تعلیم حاصل کرتے ہیں، اپنی صلاحیتیں نکھارتے ہیں اور روزگار کے مواقع تلاش کرتے ہیں لیکن جب انہیں مناسب معاوضے، پیشہ ورانہ ترقی اور معاشی استحکام کی امید کم دکھائی دیتی ہے تو وہ بہتر مستقبل کی تلاش میں دوسرے ممالک کا رخ کرتے ہیں۔
بیرونِ ملک جانے کی خواہش کو وطن سے بے وفائی قرار دینا درست نہیں۔ ہر انسان کو بہتر تعلیم، باعزت روزگار اور محفوظ زندگی کی تلاش کا حق حاصل ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ ہم نے اپنے نوجوانوں کے لیے اپنے ہی ملک میں ترقی کے کتنے قابلِ اعتماد مواقع پیدا کیے ہیں؟
ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ نوجوانوں کے لیے روزگار، تحقیق، کاروبار اور پیشہ ورانہ ترقی کے راستے آسان بنائے۔ تعلیمی اداروں کو طلبہ کی رہنمائی کے لیے مؤثر نظام قائم کرنا چاہیے جبکہ دھوکا دہی کا شکار افراد کے لیے قانونی معاونت اور ذہنی دباؤ سے گزرنے والوں کے لیے نفسیاتی مدد تک رسائی آسان ہونی چاہیے۔
اس کے ساتھ خاندانوں کو بھی اپنی تربیت کے انداز پر غور کرنا ہوگا۔ بچوں کو یہ احساس دلانا ضروری ہے کہ ان کی قدر ان کی ڈگری، تنخواہ، ویزے یا کامیابی سے مشروط نہیں۔ اگر کوئی نوجوان کسی مشکل میں پھنس جائے تو اسے یہ خوف نہ ہو کہ گھر پہنچتے ہی اس کی عقل، کردار اور فیصلوں پر سوال اٹھائے جائیں گے۔ والدین، اساتذہ اور دوستوں کی بروقت توجہ کسی پریشان انسان کو مدد لینے اور دوبارہ سنبھلنے کا حوصلہ دے سکتی ہے۔
اگر کوئی شخص مایوسی، خود کو نقصان پہنچانے یا زندگی ختم کرنے کے خیالات کا اظہار کرے تو اسے جذباتی کمزوری سمجھ کر نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔ اس کی بات سننا، اسے محفوظ رکھنا اور فوری طور پر مناسب پیشہ ورانہ مدد تک پہنچانا ضروری ہے۔ ہر مسئلے کا حل ہمارے پاس نہیں ہوتا لیکن کسی کو یہ یقین دلانا ہمارے اختیار میں ہے کہ وہ اپنے دکھ میں تنہا نہیں۔
لائبہ کے والدین کے دکھ کا اندازہ لگانا آسان نہیں۔ ان کے لیے اب کوئی رقم، قانونی فیصلہ یا تعزیتی جملہ اس خلا کو پُر نہیں کر سکتا جو بیٹی کی جدائی سے پیدا ہوا ہے۔ ہم ان کے نقصان کی تلافی نہیں کر سکتے لیکن اس سانحے سے سبق ضرور سیکھ سکتے ہیں۔
لائبہ کا گولڈ میڈل اس کی محنت اور قابلیت کا ثبوت تھا مگر وہ اس کی پوری شخصیت کا تعارف نہیں تھا۔ وہ ایک بیٹی، ایک بہن اور بے شمار امکانات رکھنے والی نوجوان تھی۔ ہمیں اس کی زندگی کو صرف اس کے آخری سانحے تک محدود نہیں کرنا چاہیے۔ اس کی کہانی کا اہم سبق یہ ہے کہ کسی انسان کی کامیابیاں اسے مشکلات سے محفوظ نہیں کرتیں اور بظاہر مضبوط دکھائی دینے والے افراد کو بھی مدد اور سہارے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ کسی نوجوان کا بحران صرف اس کا ذاتی مسئلہ نہیں رہتا۔ اس کے اثرات خاندان اور معاشرے تک پہنچتے ہیں۔ اسی لیے ہمیں ایسا ماحول تشکیل دینا ہوگا جہاں مالی نقصان کا شکار شخص قانونی مدد حاصل کر سکے، جہاں ذہنی پریشانی کا اظہار شرمندگی نہ سمجھا جائے اور جہاں ناکامی کے بعد زندگی کی طرف واپسی کے راستے بند نہ ہوں۔
آج ضرورت صرف تعزیت اور افسوس کی نہیں بلکہ عملی اقدامات کی ہے۔ ہمیں مبینہ فراڈ کی شفاف تحقیقات، نوجوانوں کے لیے مستند تعلیمی رہنمائی، شکایات کے مؤثر نظام اور ذہنی صحت کی سہولتوں تک آسان رسائی کا مطالبہ کرنا ہوگا۔ اس کے ساتھ اپنے گھروں میں ایسی فضا قائم کرنا ہوگی جہاں اولاد اپنے مسائل خوف کے بجائے اعتماد سے بیان کر سکے۔
ممکن ہے وقت کے ساتھ لائبہ کے والدین کے مالی حالات بہتر ہو جائیں، ان کا گھر دوبارہ آباد ہو جائے اور گروی رکھے گئے زیورات واپس آ جائیں لیکن بیٹی کی جدائی کا کوئی متبادل نہیں۔ یہی حقیقت ہمیں اپنی ترجیحات پر نظرثانی کرنے کی دعوت دیتی ہے۔ اگر ہم نوجوانوں کو تعلیم اور کامیابی کے مواقع تو فراہم کریں، مگر مشکل وقت میں انہیں تحفظ، رہنمائی اور سہارا نہ دے سکیں تو ہمیں اپنے تعلیمی، معاشرتی اور ادارہ جاتی نظام کا جائزہ لینا ہوگا۔
آخر میں سوال صرف یہ نہیں کہ لائبہ کے ساتھ مبینہ دھوکا کس نے کیا اور تحقیقات کے نتیجے میں کون ذمہ دار قرار پاتا ہے۔ یہ سوال اپنی جگہ اہم ہے لیکن ایک اور سوال بھی ہمارے سامنے ہے: کیا ہم نے اپنے نوجوانوں کو خواب دیکھنے کی آزادی تو دی، مگر خواب ٹوٹنے کے بعد جینے اور دوبارہ کھڑے ہونے کا حوصلہ بھی دیا؟
لائبہ اب ہمارے درمیان نہیں مگر اس کی کہانی کو محض ایک خبر سمجھ کر بھلا دینا ہماری اجتماعی ذمہ داری سے فرار ہوگا۔ ہم ماضی واپس نہیں لا سکتے، لیکن مستقبل میں کسی دوسرے نوجوان کے لیے مدد کا راستہ کھول سکتے ہیں۔ ہم اس کے نقصان کی تلافی نہیں کر سکتے مگر دوسرے خاندانوں کو دھوکے سے بچانے اور بحران سے گزرنے والے افراد کو بروقت سہارا دینے کے لیے مؤثر اقدامات ضرور کر سکتے ہیں۔
سوچیے، اگر ایک باپ اپنی چھت بیچ کر بیٹی کے خواب پورے کرنے کی کوشش کرے، ایک ماں اپنے زیورات گروی رکھ کر اس کے مستقبل پر یقین کرے اور پھر وہ بیٹی کسی بحران میں خود کو بے سہارا محسوس کرنے لگے، تو کیا ہمارا فرض صرف اس سانحے پر افسوس کرنا ہے یا ان تمام دروازوں کو بھی کھٹکھٹانا ہے جہاں سے مدد مل سکتی تھی؟
لائبہ کی کہانی ہمارے لیے ایک آئینہ ہے، جس میں ہمارے معاشرتی رویے، اداروں کی ذمہ داریاں اور نوجوانوں کے لیے محدود مواقع سب دکھائی دیتے ہیں۔ اب فیصلہ ہمیں کرنا ہے کہ ہم اس آئینے میں اپنا عکس دیکھ کر آگے بڑھ جائیں گے یا ان خامیوں کو دور کرنے کی کوشش کریں گے جو کسی پریشان انسان کی تنہائی کو مزید گہرا کر سکتی ہیں۔
لائبہ کے نام ایک سوال اور ہم سب کے نام ایک ذمہ داری: جب کسی نوجوان کا خواب بکھرنے لگے تو کیا ہم اسے گرنے کے بعد دفن کرنے کے لیے جمع ہوں گے یا گرنے سے پہلے اس کا ہاتھ تھام لیں گے؟





