ہفتہ، 31 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

کیا سیاسی قیادت باشعور کارکن کی متحمل ہو سکتی ہے ؟تحریر: نعیم خان

نقطہ نظر

فروری 2024ء کے عام انتخابات سے پہلے لاہور میں عبدالعلیم خان کی انتخابی مہم جاری تھی۔ انتخابی دفاتر قائم ہو رہے تھے ، کارنر میٹنگز کا اہتمام کیا جا رہا تھا اور کارکن گھر گھر جا کر لوگوں سے رابطے کر رہے تھے۔ 19 جنوری کو عبدالعلیم خان نے داتا دربار لاہور سے اپنی انتخابی مہم کا آغاز کیا ، جس کے بعد عوامی رابطوں اور انتخابی سرگرمیوں میں تیزی آئی۔ میں ایک سیاسی کارکن کی حیثیت سے اس سارے عمل کا گہری نظر سے مشاہدہ کر رہا تھا۔

انتخابی مہم میں امیدوار اور قیادت نمایاں دکھائی دیتے ہیں لیکن ان کے پیچھے کارکنوں کی ایک بڑی تعداد اپنا وقت ، توانائی اور وسائل صرف کر رہی ہوتی ہے۔ کوئی لوگوں تک جماعت کا پیغام پہنچاتا ہے ، کوئی انتخابی انتظامات سنبھالتا ہے اور کوئی اپنی ذاتی مصروفیات پسِ پشت ڈال کر جماعتی ذمہ داریاں نبھاتا ہے۔ انتخابات کے دن یہ محنت عروج پر ہوتی ہے لیکن انتخابی معرکہ ختم ہونے کے بعد ایک بنیادی سوال اپنی جگہ موجود رہتا ہے: جس کارکن کی محنت سے جماعت انتخابی میدان میں آگے بڑھتی ہے کیا اس کی سیاسی اور فکری تربیت کے لیے بھی اتنی ہی سنجیدگی دکھائی جاتی ہے ؟

پاکستان کی سیاست میں کارکن کی ضرورت اکثر جلسوں ، انتخابی مہمات اور عوامی اجتماعات کے موقع پر شدت سے محسوس کی جاتی ہے۔ لیکن کیا کارکن کو محض ان سرگرمیوں میں حصہ لینے کے لیے تیار کیا جاتا ہے یا اسے مستقبل کی قیادت کا اہل بنانے پر بھی توجہ دی جاتی ہے ؟ کیا اسے سیاسی نظام ، آئین ، قانون ، معیشت ، پارلیمان اور ریاستی امور کی سمجھ دی جاتی ہے ؟ کیا اسے اختلافِ رائے ، دلیل ، مذاکرات اور عوامی مسائل کے حل کی تربیت ملتی ہے ؟

ایک سیاسی کارکن کا کردار محض نعرے لگانے یا کسی شخصیت کے حق میں آواز بلند کرنے تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ اسے معلوم ہونا چاہیے کہ پارلیمان کیسے کام کرتی ہے ، قانون سازی کیسے ہوتی ہے ، حکومت اور ریاست میں کیا فرق ہے ، آئینی اختیارات کی حدود کیا ہیں اور حکومتی فیصلوں کے عام شہری کی زندگی پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ سیاسی جماعتیں اگر کارکنوں کو ان بنیادی امور سے آگاہ کیے بغیر انہیں عوامی نمائندگی اور قیادت کی ذمہ داریوں کے لیے تیار سمجھتی ہیں تو یہ خود ان کی سیاسی تربیت کے نظام پر سوالیہ نشان ہے۔

سیاسی تربیت کی اہمیت محض جماعتی کارکردگی تک محدود نہیں اس کا تعلق ریاست اور معاشرے کے مستقبل سے بھی ہے۔ ایک باشعور کارکن جانتا ہے کہ حکومت پر تنقید ، سیاسی قیادت سے اختلاف اور اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھانا جمہوری عمل کا حصہ ہے لیکن سیاسی اختلاف کے نام پر تشدد ، املاک کی تباہی یا فوجی تنصیبات پر حملے کسی جائز سیاسی جدوجہد کا راستہ نہیں ہو سکتے۔ اسے ریاست ، آئین اور قانون کے باہمی تعلق کا شعور ہونا چاہیے تاکہ وہ جذباتی نعروں کا آلہ بننے کی بجائے ذمہ داری کے ساتھ اپنے سیاسی مؤقف کا اظہار کر سکے۔

قومی اداروں کا احترام اور ان کی مضبوطی اہم ہے لیکن اداروں کا آئین اور قانون کے مطابق کام کرنا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ تربیت یافتہ کارکن اس فرق کو سمجھتا ہے۔ وہ نہ اختلاف کو غداری سمجھتا ہے نہ اختلاف کے نام پر قانون شکنی کو جائز قرار دیتا ہے۔ وہ اپنی جماعت اور قیادت سے وابستگی کے باوجود قومی مفاد ، آئینی حدود اور قانون کی بالادستی کو نظرانداز نہیں کرتا۔

یہی سیاسی شعور اور شخصیت پرستی کے درمیان بنیادی فرق ہے۔ سیاسی کارکن کو اپنی قیادت کے مؤقف کو سمجھنے اس کا دلیل سے دفاع کرنے اور ضرورت پڑنے پر سوال اٹھانے کی صلاحیت بھی حاصل ہونی چاہیے۔ اگر کارکن ہر معاملے میں کسی شخصیت کی رائے کو حرفِ آخر سمجھنے لگے تو سیاسی وابستگی فکری جمود میں بدل سکتی ہے۔ جمہوریت صرف قیادت کے انتخاب کا نام نہیں یہ سوال کرنے ، اختلاف کرنے ، دلیل سننے اور جواب دہی قبول کرنے کا نظام بھی ہے۔

اس مقصد کے لیے سیاسی جماعتوں کو کارکنوں کی تربیت کا باقاعدہ اور مسلسل نظام تشکیل دینا چاہیے۔ سیاسی تعلیم کے مراکز ، آئین و قانون سے متعلق نشستیں ، پارلیمانی امور کی تربیت ، معاشی مسائل پر مباحثے اور عملی سیاسی مشقیں کارکنوں کو محض جذباتی وابستگی سے آگے بڑھا سکتی ہیں۔ ان کی صلاحیتوں کو جانچنے اور ذمہ داریاں دینے میں بھی علم ، کردار ، اہلیت اور عوامی خدمت کو اہمیت ملنی چاہیے تاکہ قیادت تک رسائی صرف قربت ، گروہ بندی یا مالی وسائل سے مشروط نہ رہے۔

یہ سوال پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں سے کیا جانا چاہیے: کیا ان کے پاس کارکنوں کی سیاسی تربیت کا کوئی واضح اور مستقل نظام موجود ہے ؟ کیا جماعتیں اپنے کارکنوں کو مستقبل کی قیادت کے لیے تیار کر رہی ہیں یا ان کی صلاحیتوں کو صرف انتخابی مہمات اور تنظیمی سرگرمیوں تک محدود رکھا جا رہا ہے ؟ سیاسی جماعتوں کی مضبوطی کا اندازہ صرف ان کے انتخابی نتائج سے نہیں اس بات سے بھی ہونا چاہیے کہ وہ اپنے اندر سے کتنے باشعور ، باصلاحیت اور ذمہ دار رہنما تیار کرتی ہیں۔

سیاسی کارکن کو صرف وقتی ضرورت سمجھنا بھی ایک بڑی غلطی ہے۔ اگر اسے جلسوں میں لوگوں کو جمع کرنے ، انتخابی مہم چلانے اور قیادت کے حق میں نعرے لگانے کے لیے تو اہم سمجھا جائے لیکن اس کی فکری نشوونما اور سیاسی ترقی کو نظرانداز کر دیا جائے تو جماعت اپنی ہی قوت کو محدود کر دیتی ہے۔ کارکن محض انتخابی مشینری کا پرزہ نہیں وہ ایک شہری ، ایک سیاسی شعور رکھنے والا فرد اور مستقبل کا ممکنہ رہنما ہے۔

اس بحث کا سب سے اہم سوال ابھی باقی ہے۔ کیا سیاسی جماعتوں کے بانی رہنما اور موجودہ قائدین واقعی اپنے کارکنوں کو باشعور ، باصلاحیت اور سیاسی طور پر تربیت یافتہ دیکھنا چاہتے ہیں ؟ یا وہ ایک ایسے کارکن کو ترجیح دیتے ہیں جو صرف نعرہ لگائے ، حکم بجا لائے اور سوال کیے بغیر قیادت کے ہر فیصلے کی تائید کرتا رہے ؟

کیا ایک نعرہ لگانے والا ، ہر حکم پر چلنے والا اور مفت میں دستیاب کارکن ایک باشعور ، قانون شناس اور سوال کرنے والے کارکن سے سیاسی قیادت کے لیے زیادہ مفید ہے ؟ کیا ہماری سیاسی قیادت تربیت یافتہ کارکن چاہتی بھی ہے یا اسے ایسے کارکن زیادہ پسند ہیں جو سوال کرنے کے بجائے صرف حکم بجا لائیں ؟

کیا ہماری سیاسی قیادت باشعور کارکن چاہتی ہے یا صرف نعرے لگانے اور حکم ماننے والے کارکن ؟ اور کیا کارکن ہمیشہ پیروکار رہنا چاہتا ہے یا کل کا رہنما بننا بھی ؟