کیا زمانہ بدل گیا ہے یا ہم؟تحریر: مہر بشارت صدیقی
نقطہ نظر
کبھی کبھی انسان اپنے اردگرد پھیلے ہوئے ہجوم کو دیکھتا ہے تو سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ آخر ہم کس دور میں جی رہے ہیں۔ چہروں پر مسکراہٹیں کم، ماتھوں پر شکنیں زیادہ، دلوں میں سکون کم اور پریشانیاں زیادہ کیوں ہیں؟ گھروں میں آسائشوں کی بھرمار ہے، ہاتھوں میں مہنگے موبائل فون ہیں، سڑکوں پر قیمتی گاڑیاں دوڑ رہی ہیں، بڑے بڑے مکان تعمیر ہو رہے ہیں، کاروبار پھیل رہے ہیں اور دولت کمانے کی دوڑ پہلے سے کہیں زیادہ تیز ہو چکی ہے، لیکن اس سب کے باوجود انسان مطمئن کیوں نہیں؟ آخر کیا وجہ ہے کہ زندگی کی سہولتیں بڑھنے کے ساتھ ساتھ زندگی کا سکون کم ہوتا جا رہا ہے؟ کیا واقعی زمانہ بدل گیا ہے یا ہم خود بدل گئے ہیں؟
یہ سوال آج ہر اس شخص کے ذہن میں پیدا ہوتا ہے جو کبھی ماضی کی زندگی کو یاد کرتا ہے اور پھر اپنے حال پر نظر ڈالتا ہے۔ ایک وقت تھا جب لوگوں کے پاس محدود وسائل تھے، گھروں میں سادگی تھی، خواہشات کم تھیں اور ضروریات بھی محدود تھیں، لیکن اس کے باوجود چہروں پر رونق، دلوں میں محبت اور رشتوں میں اپنائیت نظر آتی تھی۔ لوگ ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہوتے، کسی کے گھر خوشی ہوتی تو پورا محلہ مبارک باد دینے پہنچ جاتا اور کسی کے گھر غم آتا تو لوگ اپنے کام چھوڑ کر اس کے ساتھ کھڑے ہو جاتے تھے۔ خوشیاں بانٹنے سے بڑھتی تھیں اور غم بانٹنے سے ہلکے ہو جاتے تھے۔
آج صورت حال کسی حد تک بدل چکی ہے۔ ایک ہی گھر میں رہنے والے افراد کے پاس ایک دوسرے کے لیے وقت کم پڑ جاتا ہے۔ سب کے ہاتھوں میں موبائل فون ہیں، لیکن دلوں کے درمیان فاصلے بڑھتے جا رہے ہیں۔ ایک کمرے میں بیٹھے ہوئے لوگ دنیا بھر کی خبروں سے باخبر ہوتے ہیں، مگر انہیں یہ معلوم نہیں ہوتا کہ ان کے ساتھ بیٹھا ہوا شخص اندر سے کس کرب میں مبتلا ہے۔ سوشل میڈیا پر مسکراتی ہوئی تصویریں لگائی جاتی ہیں، خوشیوں کا اظہار کیا جاتا ہے اور زندگی کو خوب صورت بنا کر پیش کیا جاتا ہے، لیکن ان تصویروں کے پیچھے چھپی پریشانیوں، تنہائیوں اور محرومیوں کو بہت کم لوگ جانتے ہیں۔
اصل سوال یہ نہیں کہ ہمارے پاس کیا کچھ موجود ہے، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ جو کچھ ہمارے پاس ہے، کیا ہم اس سے خوش بھی ہیں؟ کیا ہمارے دلوں کو اطمینان حاصل ہے؟ کیا ہم اپنے خاندان کے ساتھ بیٹھ کر چند لمحے سکون سے گزار سکتے ہیں؟ کیا ہم کسی غریب کی مدد کرکے حقیقی خوشی محسوس کرتے ہیں؟ کیا کسی پرانے دوست سے مل کر وہی اپنائیت محسوس ہوتی ہے جو کبھی ہمارے تعلقات کا حصہ ہوا کرتی تھی؟
شاید ہماری پریشانیوں کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ ہم نے زندگی کو دوسروں کے ساتھ مقابلے کا نام دے دیا ہے۔ ہمارا گھر اچھا ہے تو ہمیں اس سے بڑا گھر چاہیے، ہماری گاڑی بہتر ہے تو ہم اس سے مہنگی گاڑی کے خواہش مند ہیں، ہماری آمدن مناسب ہے تو ہم دوسروں کی آمدن دیکھ کر بے چین ہو جاتے ہیں۔ ہم اپنی خوشیوں کا حساب اپنے حالات کے مطابق لگانے کے بجائے دوسروں کی زندگیوں سے کرنے لگے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جو کچھ ہمارے پاس ہوتا ہے، اس کی قدر کرنے کے بجائے ہم اس چیز کے لیے پریشان رہتے ہیں جو ہمارے پاس نہیں ہوتی۔
خواہشات رکھنا کوئی بری بات نہیں، ترقی کرنا بھی ضروری ہے اور اپنے خاندان کے لیے بہتر زندگی کی کوشش کرنا بھی قابلِ قدر ہے، لیکن جب خواہشات انسان کے سکون سے بڑی ہو جائیں، جب دولت کی طلب رشتوں سے زیادہ اہم ہو جائے اور جب کامیابی کا معیار صرف بینک بیلنس، مکان اور گاڑی رہ جائے تو انسان بہت کچھ حاصل کرکے بھی خود کو محروم محسوس کرنے لگتا ہے۔
آج والدین بچوں کے بہتر مستقبل کے لیے دن رات محنت کرتے ہیں۔ کوئی کاروبار میں مصروف ہے، کوئی ملازمت کے مسائل سے دوچار ہے، کوئی مہنگائی کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے اور کوئی اپنے بچوں کی تعلیم، علاج اور گھر کے اخراجات پورے کرنے کے لیے مسلسل جدوجہد کر رہا ہے۔ ان حالات میں ہر شخص کے پاس پریشان ہونے کی کوئی نہ کوئی وجہ موجود ہے۔ بڑھتے ہوئے اخراجات، روزگار کی غیر یقینی صورت حال اور مستقبل کے خدشات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ ہر پریشانی کو محض ناشکری یا مادہ پرستی کا نتیجہ قرار دینا بھی درست نہیں۔ بعض اوقات انسان واقعی مشکل حالات سے گزر رہا ہوتا ہے اور اسے نصیحت سے زیادہ مدد، ہمدردی اور بہتر مواقع کی ضرورت ہوتی ہے۔
لیکن ان حقیقی مشکلات کے ساتھ ساتھ ہمیں اپنے رویوں کا جائزہ بھی لینا ہوگا۔ کیا ہم نے دوسروں کی خوشیوں میں شریک ہونا چھوڑ دیا ہے؟ کیا ہم ہر رشتے کو فائدے اور نقصان کے ترازو میں تولنے لگے ہیں؟ کیا ہم کسی سے ملتے وقت یہ سوچتے ہیں کہ اس تعلق سے ہمیں کیا حاصل ہوگا؟ اگر ان سوالوں کے جواب ہمارے ضمیر کو بے چین کرتے ہیں تو ہمیں سمجھ لینا چاہیے کہ مسئلہ صرف زمانے کی تبدیلی کا نہیں، ہمارے طرزِ زندگی اور ترجیحات کا بھی ہے۔
کبھی کسی غریب کی مدد کرکے دیکھیں، کسی پریشان حال شخص کی بات توجہ سے سنیں، کسی ناراض رشتے دار کو محبت سے منا لیں، اپنے والدین کے ساتھ چند لمحے بیٹھیں، بچوں کو موبائل سے ہٹا کر اپنے قریب بٹھائیں اور کسی پرانے دوست کو بغیر کسی غرض کے فون کریں۔ ممکن ہے ان چھوٹی چھوٹی کوششوں سے زندگی کے وہ رنگ واپس آنے لگیں جنہیں ہم ماضی کی یادوں میں تلاش کرتے رہتے ہیں۔ خوشی ہمیشہ بڑی کامیابی، بھاری دولت یا مہنگی تفریح کی محتاج نہیں ہوتی۔ کبھی کسی کی دعا، کسی بچے کی ہنسی، کسی بزرگ کی شفقت اور کسی مخلص دوست کی موجودگی بھی دل کو وہ سکون دے جاتی ہے جو بہت سی مادی آسائشیں مل کر بھی نہیں دے سکتیں۔
ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ ہر مسکراتا چہرہ خوش حال نہیں ہوتا اور ہر خاموش انسان بے فکر نہیں ہوتا۔ ہمارے اردگرد ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو اپنے دکھ کسی سے بیان نہیں کرتے، دوسروں کے سامنے مضبوط دکھائی دیتے ہیں، مگر تنہائی میں اپنے مسائل سے لڑ رہے ہوتے ہیں۔ ایسے میں ہمیں ایک دوسرے کے لیے آسانیاں پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ کسی کی پریشانی کا مذاق اڑانے کے بجائے اس کا سہارا بننا، کسی کی ناکامی پر طعنہ دینے کے بجائے اس کی حوصلہ افزائی کرنا اور کسی کے مشکل وقت میں اس کا ہاتھ تھامنا ہی انسانیت کی اصل خوب صورتی ہے۔
دولت زندگی کی ضرورت ہے، لیکن دولت ہی زندگی نہیں۔ اچھا گھر ضروری ہے، مگر اس گھر میں محبت اور احترام نہ ہو تو اس کی خوب صورتی ادھوری رہ جاتی ہے۔ قیمتی لباس انسان کی ظاہری شخصیت کو نکھار سکتا ہے، لیکن اس کے کردار کی خوب صورتی کا متبادل نہیں بن سکتا۔ شہرت انسان کو لوگوں میں معروف کر سکتی ہے، مگر دلوں میں عزت اور جگہ بنانے کے لیے خلوص، سچائی اور اچھے رویے کی ضرورت ہوتی ہے۔
ہمیں اپنی زندگی میں توازن پیدا کرنا ہوگا۔ کام کریں، ترقی کریں، پیسہ کمائیں، اپنے خواب پورے کریں، لیکن اس سفر میں اپنے رشتوں، صحت، اخلاق اور ذہنی سکون کو پیچھے نہ چھوڑیں۔ اپنے پاس موجود نعمتوں کی قدر کریں، اپنی مشکلات کے حل کے لیے کوشش جاری رکھیں اور دوسروں کی زندگی سے موازنہ کرنے کے بجائے اپنی زندگی کو بہتر بنانے پر توجہ دیں۔ اگر کسی شخص کی پریشانی مسلسل برقرار رہے اور روزمرہ زندگی متاثر ہونے لگے تو اسے اپنے قریبی لوگوں سے بات کرنے اور ضرورت پڑنے پر کسی ماہر سے مدد لینے میں بھی ہچکچانا نہیں چاہیے۔
آخر میں پھر وہی سوال ذہن میں آتا ہے کہ کیا زمانہ بدل گیا ہے یا ہم؟ حقیقت شاید یہ ہے کہ زمانہ بھی بدلا ہے اور ہم بھی۔ زندگی کی رفتار تیز ہوئی، ضروریات بڑھیں، معاشی دباؤ میں اضافہ ہوا اور ٹیکنالوجی نے ہمارے معمولات تبدیل کر دیے، لیکن اس تبدیلی کے دوران ہم میں سے بہت سے لوگ سادگی، قناعت، باہمی احترام اور رشتوں کو وقت دینے جیسی قدروں سے بھی دور ہوتے گئے۔
اب فیصلہ ہمیں کرنا ہے کہ ہم اپنی زندگی کو صرف چیزیں جمع کرنے کی دوڑ بنائے رکھنا چاہتے ہیں یا اس میں محبت، سکون، اطمینان اور انسانیت کے لیے بھی جگہ پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ زندگی کا اصل حسن دوسروں سے آگے نکلنے میں نہیں بلکہ اپنے اندر کے انسان کو زندہ رکھنے میں ہے۔
کیونکہ خوشی کا تعلق صرف اس بات سے نہیں کہ ہمارے پاس کتنا مال و دولت ہے، بلکہ اس بات سے بھی ہے کہ ہمارے دل میں کتنا سکون، ہمارے رشتوں میں کتنی محبت اور ہمارے رویوں میں کتنی انسانیت باقی ہے۔
شاید ہمیں زمانے کو بدلنے سے پہلے اپنے اندر جھانکنے کی ضرورت ہے۔ ہو سکتا ہے کہ جس خوشی کو ہم دنیا بھر میں تلاش کر رہے ہیں، اس کا راستہ ہمارے اپنے رویوں، ہماری سوچ اور ہمارے اپنے گھر سے ہو کر گزرتا ہو۔
مزید پڑھیں




