منگل، 13 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

کچھ یادیں کچھ باتیں ،تحریر: فائزہ شہزاد

نقطہ نظر

کچھ دن پہلے کی بات ہے کہ میں اپنے نواسے، نواسیوں کے ساتھ بیٹھی آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کی سیرت طیبہ بیان کررہی تھی ـ ویسے تو یہ تقریباَ میرا روز کا معمول ہے اور اُس وقت سے ہے جب میرے بچے چھوٹے تھےـ میں نے جب شادی کے 12 سال بعد اپنا تعلیمی سلسلہ دوبارہ شروع کیا تو گریجویشن کے بعد جب ماسٹرز کا فارم فل کیا تو غیر ارادی طورپر میں نے اسلامیات لکھ دیاـ اور پھر جب پڑھنا شروع کیا تو میری آنکھیں کھل گئیں اور میں اپنے ربِ کائنات کی شکرگزار ہوئی کہ جس نے میرے قلم سے فارم پر اسلامیات لکھوایاـ میں نے تو پہلی جماعت سے لے کر میٹرک تک جو اسلامیات پڑھی تھی، اُس میں تو صرف بنیادی باتوں کا علم تھا اور یہ صرف میرے ساتھ نہیں بلکہ ہر طالب علم کے ساتھ ہی ایسا ہوا ہوگاـ لیکن میں جب یہ ڈھیر ساری کتابیں کھول کر بیٹھی تو میرے سامنے تو ایک الگ ہی دُنیا تھی ـ پورا قرآن پاک بمعہ ترجمہ اور تفسیر کے پڑھنا شروع کیا تو احساس ہوا کہ اب تک تو صرف ایک رٹو طوطے کی مانند ایک عام کتاب کی طرح پڑھتی رہی( پورے ادب آداب کے ساتھ) اور سمجھ ہی نہ سکی کہ قرآن پاک کا اصل مقصد ، اصل پیغام،اصل رُوح کیا ہے؟ اور اتنا عرصہ غفلت میں گزار دیاـ سخت افسوس ہوتا مگر پھر اللہ پاک کا شکر ادا کیا کہ چلو دیر سے ہی سہی مگر اللہ نے ہدایت کا سامان بنا دیا میرے لئےـ بس یہاں سے میں نے ایک بات سیکھی اور سمجھی کہ میں جو جو کچھ پڑھتی جاؤں گی، ساتھ ساتھ بچوں کو سمجھاتی بھی جاؤں گی ـ بیشک اُس وقت بچے بہت چھوٹے تھے، مگر اب یہ میرا کام بلکہ مشن کہہ لیں تھا کہ اُن کے ننھے ذہنوں میں یہ سب کیسے ڈالنا ہے، کیسے سمجھآنا ہے؟ لہٰذامیں نے یہ روٹین بنائی کہ جمعے والے دن عصر یا مغرب کے وقت بچوں کو لے کر بیٹھ جاتی اور کوئی ایک موضوع پر ایک آدھا گھنٹہ گفتگو کرتی، اور اُن کو آسان الفاظ میں سمجھاتی ـ اور دماغ میں یہ تھا کہ سب سے پہلے تو ان کے دلوں میں اللہ پاک کی محبت ڈالنی ہے نہ کہ ڈر ۔۔ کیونکہ میں نے ہمیشہ اپنے اردگرد یہ دیکھا اور محسوس کیا کہ ہمارے دلوں میں ڈر ڈالا جاتا ہے کہ جھوٹ بولو گے تو اللہ سزا دے گا، دوزخ کی آگ میں جلانے گا ۔۔ وغیرہ وغیرہ ۔۔۔۔ جب کہ ہم بچوں کے ذہن میں عشقِ مجازی ( میری نظر اور ناقص رائے کے مطابق ۔۔ والدین، بہن بھائیوں، دوستوں، رشتے داروں سے محبت اور عشق مجازی ہی ہےـ جو اور بھی صورتوں میں ہوجاتا ہے ) تو ڈال دیتے ہیں مگر عشقِ حقیقی کی طرف توجہ نہیں دیتے کہ خود ہی آہستہ آہستہ سمجھ آ جائے گی ابھی بچے ہیں، جب کہ یہ تو ہم سب کا عشق اوّلین ہونا چاہئےـ اپنے اللہ سے، آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم سے اور اپنے دین اسلام سے ۔۔۔ جب دلوں میں یہ محبت ہوگی تو پھر انسان اپنی محبت کو راضی رکھنے کے لئے ہر اچھا کام کرتا ہے کہ کہیں میری محبت میرا عاشق مُجھے سے ناراض نہ ہوجائے ۔۔ اور دلچسپ بات یہ تھی کہ نہ صرف بچوں کو بلکہ اپنی والدہ اور اپنی خالہ( ساس) کو بھی ساتھ بٹھا لیتی ، اور اِن دونوں کا یہ حال تھا کہ وہ میرے اِنتظار میں ہوتیں کہ کب فارغ ہوگی فائزہ، کہ ہم اس سے سنیں ـ میرے بچے چھوٹے چھوٹے تھے اور اُنہیں " سورہ البقرہ " کا تمام واقعہ معلوم تھاـ اُنہیں آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کے معجزات اور غزوات کے بارے میں علم تھاـ ایک دن میں بچوں کو کہہ رہی تھی کہ دیکھو ! جب جب آپ کوئی بھی اچھا اور نیک کام کرو گے تو وہ صدقہ جاریہ بنے گا آپ کے لئے، میرے لئے، ابو کے لئے اور سب کے لئے ۔۔ اور اگر تو آپ کو ہم سے محبت ہے تو اچھے اچھے کام کرنا، نماز قرآن میں غفلت مت کرنا، حلال حرام، گناہ ثواب، سچ جھوٹ سب کا خیال رکھنا تو پھر ہم جنت میں جائیں گے اور اگر غلط کام کرو گے تو پھر ہم جہنم میں جائیں گے۔۔۔ تو اب آپ بتاؤ کہ ہمیں کہاں بھیجنا ہے تو وہ بولے ۔۔ جنت میں .. کیونکہ ہمیں سب سے زیادہ محبت آپ سے ہے ۔۔ پھر میں نے کہا ۔۔" نہیں ! بچو! پہلی محبت اللہ اور اُس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم سے اور اُس کے بعد والدین اور اپنے بزرگوں سے( یہ بچوں کو آسان طریقے سے سمجھاتی تھی کہ اُن کے چھوٹے اور معصوم ذہن اِن کو سمجھ سکیں) اُس وقت جب میں یہ باتیں کررہی تھی تو میری والدہ اور ساس میرے پاس بیٹھی تھیں، انہوں نے کہا: " ہمیں یہ لفظ صدقہ جاریہ " سمجھاؤ ۔۔ کہ ہم کیا کیا کرسکتے ہیں ؟" میں نے اُن کو بتایا تو دونوں سوچ میں پڑ گئیں اور کوئی دو، تین دن کے بعد مجھے کہا: " کہ ہم چاہتی ہیں کہ مسجد میں پنکھے لگوا دیں، یا کہیں واٹر کولر ۔۔ مگر اتنے پیسے نہیں ہیں کیا کریں؟ " اب میں سوچ میں پڑ گئی ۔۔ پھر کہا: " چلیں ! گھر کے لان میں درخت اور پودے لگا لیتے ہیں"ـ مگر انہوں نے کہا: " نہیں ! ہم نے پنکھے ہی لگانے ہیں اور پھر میری والدہ نے اپنا زیور جو جو، جس بچے کو دینا تھا، اُن کو دیا اور باقی بیچ کر 20 ہزار ایک مسجد میں اور 20 دوسری مسجد میں پنکھے لگوا دیئے( اللہ پاک میری والدہ کے درجات بلند فرمائے آمین یارب العالمین) پھر میری ساس نے کمیٹی کی رقم سے مسجد میں کام کروایا اور پنکھے بھی لگوا دیئے( اللہ پاک ان کے درجات بلند فرمائے آمین یارب العالمین) یہ آج سے 30 سال پہلے کی بات ہےـ آرٹیکل لکھنے سے پہلے ذہن میں ایک دوسرا موضوع تھا مگر اچانک سے دل میں یادوں کا دیپ جل اُٹھا اور سوچا چلیں آج آپ سب کو بھی کیوں نہ اِن یادوں میں شامل کرلیا جائے۔۔ میرے تینوں بچے( ڈاکٹر سعدیہ شہزاد، ڈاکٹر محمد عمر، محمد عمیر) ماشاء اللہ بہت ذہین تھےـ بہت جلد بات کو سمجھ لیتے تھےـ اسکول داخل ہونے سے پہلے اور قاری صاحب سے پڑھنے سے پہلے ہی ان بچوں کو تمام کلمے، چھوٹی چھوٹی سورتیں اور دعائیں یاد تھیں ۔۔ نماز کبھی پڑھتے کبھی نہ کیونکہ نا سمجھ تھےـ میری عادت تھی کہ رات سونے سے پہلے اِن کو کلمے وغیرہ پڑھآتی تھی ۔۔ اکثر اوقات تھکاوٹ سے برا حال ہوتا، نیند سے آنکھیں بند ہورہی ہوتی تھیں مگر میں ہر حال میں پڑھاتی تھی، اب ایک بار قاری صاحب نے میرے چھوٹے بیٹے محمد عمیر سے کلمے سنے اور کہا: " دیکھو! میں نے کتنا کچھ سکھایا ہے تم دونوں بھائیوں کوـ" بڑا محمد عمر تو خاموش رہا مگر چھوٹا ایک دم بولا: " قاری صاحب ! جھوٹ ہے۔۔ ہمیں تو سب کچھ ہماری ماما نے سکھایا ہےـ" جب مجھے معلوم ہوا تو میں بہت ہنسی مگر پھر سمجھایا کہ ۔۔ باقی سب تو ٹھیک ہے مگر ۔۔ جھوٹ ہے ۔۔ نہیں کہنا چاہیے کیونکہ وہ بڑے ہیں اور بڑوں کو ایسا نہیں کہتےـ"

آج اِن سب باتوں کا یہاں بیان کرنے کا مقصد کوئی " خود نمائی، کوئی واہ واہ، یا اپنی میں میں" کرنا نہیں ہےـ بلکہ اِن یادوں کو دہرانے کے پیچھے بھی ایک مقصد ہےـ

اُس وقت میں اپنے پورے گھر کو سنبھالتی تھی، کوئی ہیلپر نہیں تھی، کھانے پینے سے لے کر صفائی ستھرائی سب کرتی تھی ـ خود بھی تعلیم مکمل کررہی تھی، ساتھ ساتھ لکھنا بھی شروع کردیا تھاـ جوائنٹ فیملی تھی مگر کبھی اپنے بچوں کی طرف سے غفلت نہیں کی اور اپنی سمجھ اور عقل کے مطابق اُن کی تربیت پر خصوصی توجہ دی ـ اگر بیس بار بھی بچے نے سوال کیا ہے تو بیس بار ہی جواب دیا وہ بھی پیار سے، کبھی یہ نہیں کہا کہ میرے پاس وقت نہیں، میں تھکی ہوئی ہُوں بھاگ جاؤ، سونے دوـ مگر اب ذرا اکسیویں صدی میں آ جائیں، جہاں اب دُنیا جہان کی سہولیات ہیں ـ ہر دوسرے گھر میں ماسی ہے، جو برتنوں سے لے کر جھاڑو پوچا تک کرتی ہیں( میں سب کی بات نہیں کررہی، ہر کوئی افورڈ نہیں کرسکتا ایسے چونچلے) اور گھر میں کک رکھنا تو اب گویا اسٹیٹس سمبل ہوگیا ہےـ گھر کا ہرفرد تن آسان ہوگیا ہےـ تین سال کے بچے کو اسکول داخل کردیا جاتا ہے جس اور ماں شُکر کرتی ہے کہ تین چار گھنٹے سکون سے گزر جاتے ہیں ـ مارکیٹ میں اب ایک نیا فیشن " ٹیوشن پڑھانا " بھی بہت تیزی سے پھیل گیا ہےـ لہٰذا اسکول سے آنے کے بعد بچے کو " میگی ۔۔ نوڈلز یا فرائیز کھلا کر اُسے ٹیوشن پڑھنے بھیج دیا جاتاہےـ وہاں سے وہ ناجانے کیا کچھ سیکھ کر آتا ہوگا مگر اِن نادان ماؤں کو کیا معلوم؟ پھر جی قاری صاحب آئے ۔۔ دس سے پندرہ منٹ پڑھایا اور یہ جا وہ جا ۔۔۔ اب اِس سارے دن کی کارروائی میں سوچنے کی بات یہ ہے کہ " ماں " کیا کرتی ہے؟ بہت سے قارئین کہیں گے کہ سارا ذمہ کیا ماں کا ہے ؟ جی! میری نظر میں ماں ہی بچے کی ذمہ دار ہے۔۔ کیونکہ باپ تو صبح گھر سے نکل جاتا ہے روزی روٹی کمانے کے چکروں میں، جب کہ جو عورتیں گھروں میں ہیں اور نوکری وغیرہ نہیں کرتی تو وہی اپنی اولاد کی گھر کی نگہبان ہیں ۔۔ اب آج کل کیا ہورہاہے؟ کہ ماں کی ایک الگ سے اپنی دنیا آباد ہوچکی ہے" موبائل کی صورت میں" صبح بچوں کو اسکول اور شہر کو دفتربھیجنے کے بعد تقریبآ ہر دوسری، تیسری عورت سو جاتی ہےـ آرام سے بچوں کے آنے تک نیند کی اور پھر اُن کو کھلایا پلایا اور گھر سے بھیج دیا اور خود موبائل اٹھایا اور پھر اردگرد کی کوئی ہوش نہیں ـ پہلے کم از کم جوائنٹ فیملیز تھیں ۔۔ دادی دادا، نانا نانی ساتھ ہوتے تھے ـ وہ بچوں پر نظر رکھتے تھے مگر اب اول تو آج کل ہر ایک کو پرائیویسی اور اسپیس چاہئے لہذا گھر ٹوٹ چُکے ہیں اور جن اکا دکا میں یہ بزرگ ہیں تو وہ بھی اپنی موبائل کی دنیا میں گم ہیں ۔۔ والدین اسکول بھیج کر اور قاری صاحب کے پاس بٹھا کر سمجھتے ہیں کہ بس ہمارا کام ہے فیس دینا باقی اب اِن کے ذمے ہے سب ۔۔ اور یہی سب سے بڑی بھول ہے۔۔ تعلیمی ادارے صرف تعلیم دیتے ہیں، تربیت ماں باپ کا فرض ہےـ قاری صاحب نے صرف دس منٹ پڑھانا ہے ـ باقی فرض والدین کا ہے کہ اُن کو دین اور اسلام سکھایا اور سمجھایا جائے ۔۔ جس کا نقصان ہم دیکھ رہے ہیں کہ نئی نسل کس طرف کو جا رہی ہےـ میں رات کو سوتے وقت بچوں کو سکھایا کرتی تھی اور ہماری سب کی مائیں بھی ایسی ہی تھیں مگر آج کی ماں رات کو بستر پر لیٹ کر ریلز دیکھ رہی ہےـ ڈراموں سے لطف اندوز ہو رہی ہےـ اسے یہ تک ہوش نہیں کہ دوسرے کمرے میں بچے کیا کررہے ہیں؟ میں نے بہت سی ایسی لڑکیاں دیکھی ہیں کہ موبائل فون میں گم ہیں اور اگر بالفرض بچے نے کچھ پوچھ لیا تو اُسے ڈانٹ دیتی ہیں کہ میرے پاس وقت نہیں گوگل پر چیک کرلو ۔۔ اب اِس بے خبر کو کون سمجھائے کہ تمہیں کیا معلوم کہ وہ کیا چیک کررہا ہے؟

آج کے والدین( بہت معذرت کے ساتھ) بالکل لاپرواہ ہوچکے ہیں ـ اُنہیں احساس ہی نہیں کہ یہ بچے کتنی بڑی ذمہ داری ہیں ؟ ماں کے قدموں تلے جنت ہے ۔۔ تو کیا ماں اُس جنت کا حق ادا کررہی ہے؟ آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کے فرمان کے مطابق" ہر شخص اپنی رعیت کا نگہبان ہے اور اُس سے رعیت کے بارے میں سوال کیا جائے گاـ" مگر ہمارے ہاں تو والدین کے پاس وقت ہی نہیں کہ ہم اُن کو کچھ بتائیں، کچھ سمجھائیں ۔۔ بس اِک بھاگ دوڑ اور نفسا نفسی کا دور دورہ ہے ۔۔۔ بلکہ کبھی تو ایسا لگتا ہے کہ شاید قیامت آ چکی ہے کہ کسی کو کسی کی فکر نہیں پرواہ ہی نہیں ۔۔ یہاں تک کہ ماں کی بھی اپنی الگ دنیا ہے ۔۔ اُسے بھی صرف اپنے سے ہی غرض ہے ـ

بات کہاں سے شروع ہوئی اور کہاں تک آن پہنچی ہےـ میرا لب لباب یہ ہے کہ جیسی میں تھی یا میری ماں تو اِن جیسی آج کل کی مائیں کیوں نہیں؟ ہماری اتنی مصروفیات، اتنی ذمہ داریاں تھیں مگر ہم نے پورا پورا وقت اُن کو دیاـ تو آخر آج کی ماں کے پاس وقت کیوں نہیں ۔۔ سہولیات بھی ہیں ۔۔ آسائشیں بھی ہیں ۔۔۔ اور جو مُجھے سمجھ آئی ہے وہ یہ کہ ۔۔ " آج کی ماں کے پاس موبائل ہے جو ہمارے پاس نہیں تھا۔۔"

یہ کیسا پتلی تماشا ہے ؟ اِس کی دوڑ کس کے ہاتھ میں ہے؟ آپ کا کیا خیال ہے؟