باغی رائٹرز فورم ، لفظ سے حوصلے تک،تحریر:طاہر محمود
نقطہ نظرڈیجیٹل دور میں لکھاری کی عزت، تحریر کی حرمت، حوصلہ افزائی اور اختلافِ رائے کا احترام

باغی رائٹرز فورم لکھاریوں، شاعروں، کالم نگاروں، نظم نگاروں اور تخلیقی صلاحیت رکھنے والے افراد کے لیے ایک خوبصورت حوصلہ گاہ ہے، جہاں الفاظ کو اظہار، خیالات کو سمت اور تخلیقی صلاحیتوں کو پذیرائی ملتی ہے۔ اس فورم کی خوبصورت روایت یہ بھی ہے کہ وقتاً فوقتاً لکھاریوں کی حوصلہ افزائی کے لیے مختلف زمروں میں اعزازات، ادبی اسناد اور ایوارڈز کا اہتمام کیا جاتا ہے۔
اس سلسلے میں باغی رائٹرز فورم کے سربراہ و سرپرست مبشر لقمان صاحب اور ان کی پوری ٹیم کی کاوشیں قابلِ قدر ہیں۔ وہ اہلِ قلم کی حوصلہ افزائی، نئے لکھنے والوں کی پذیرائی اور تخلیقی صلاحیتوں کو سامنے لانے کے لیے جس خلوص کے ساتھ کام کر رہے ہیں، وہ یقیناً ایک مثبت ادبی روایت ہے۔ مختلف زمروں میں اعزازات اور اسناد کے ذریعے لکھاریوں کی محنت کو تسلیم کرنا اس بات کا اظہار ہے کہ تخلیق کار کی قدر صرف اس کے الفاظ پڑھنے تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ اس کی محنت کو سراہنا بھی ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے۔
یہ دور ڈیجیٹل دور ہے۔ فیس بک، واٹس ایپ اور دیگر سماجی ذرائع نے اظہارِ خیال کو پہلے سے کہیں زیادہ آسان بنا دیا ہے۔ آج ایک عام شخص بھی اپنی سوچ، احساس، تجربہ، مشاہدہ اور تخلیقی صلاحیت چند لمحوں میں دنیا کے سامنے رکھ سکتا ہے۔ لیکن اظہار کی اس آزادی کے ساتھ ایک اہم ذمہ داری بھی وابستہ ہے: ہم دوسروں کے الفاظ، وقت، محنت اور جذبات کا احترام کریں۔
ایک شاعر جب شعر کہتا ہے، ایک نظم نگار جب نظم لکھتا ہے، ایک کالم نگار جب کالم تحریر کرتا ہے یا کوئی لکھنے والا اپنے احساسات کو الفاظ میں ڈھالتا ہے تو وہ صرف چند سطریں نہیں لکھ رہا ہوتا۔ اس کے پیچھے اس کا وقت، مطالعہ، سوچ، تجربہ، احساس اور کئی بار اس کی زندگی کے گہرے مشاہدات شامل ہوتے ہیں۔
اسی لیے اگر کوئی تحریر آپ کے دل کو چھو جائے تو اس کی حوصلہ افزائی ضرور کیجیے۔ اس کے لیے ہمیشہ طویل تبصرے یا بہت زیادہ وقت کی ضرورت نہیں ہوتی۔
تین آسان انداز ہیں: پسندیدگی کا اظہار، دل کا اظہار، یا مختصر سا تبصرہ۔ جو تحریر آپ کے دل کو بھائے، اپنی پسند کے مطابق ان میں سے کوئی ایک ضرور دیجیے۔ آپ کا یہ مختصر سا اظہار کسی شاعر، کالم نگار، نظم نگار یا کسی بھی لکھاری کے لیے بڑے حوصلے کا سبب بن سکتا ہے۔
اگر کسی گروپ میں سینکڑوں افراد موجود ہوں تو ضروری نہیں کہ ہر شخص تفصیلی تبصرہ کرے، لیکن کسی نہ کسی صورت میں اپنی موجودگی کا احساس ضرور دلایا جا سکتا ہے۔ ایک پسندیدگی، ایک دل یا چند خوبصورت الفاظ لکھنے والے کو یہ احساس دلاتے ہیں کہ اس کی محنت دیکھی گئی، پڑھی گئی اور محسوس کی گئی ہے۔
ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ ہر تحریر پر متفق ہونا ضروری نہیں۔ رائے دینا ہر شخص کا حق ہے، اور مثبت و منفی دونوں رائے اپنی جگہ اہمیت رکھتی ہیں۔ اگر کسی کو کسی تحریر سے اختلاف ہے تو وہ اپنے اختلاف کا اظہار ضرور کرے، مگر شائستگی، دلیل اور احترام کے ساتھ۔
اختلافِ رائے کو اختلافِ ذات نہیں بنانا چاہیے۔ کسی خیال سے اختلاف کیا جا سکتا ہے، کسی جملے پر سوال اٹھایا جا سکتا ہے، کسی نقطۂ نظر سے اتفاق نہ کیا جا سکتا ہے، لیکن لکھنے والے کی تضحیک یا تحقیر کسی صورت مناسب نہیں۔ تنقید اگر اصلاح کی نیت سے ہو تو وہ تخلیق کو نکھار سکتی ہے، لیکن سخت لہجہ اور تمسخر ایک نئے لکھنے والے کے حوصلے کو توڑ سکتے ہیں۔
ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ ہر بڑا لکھاری کبھی نہ کبھی ایک نئے لکھنے والے کے طور پر سامنے آیا تھا۔ آج جس شخص کی تحریر شاید ہمیں معمولی محسوس ہو، ممکن ہے کل وہی ایک بہترین شاعر، مؤثر کالم نگار یا صاحبِ اسلوب مصنف بن جائے۔ اس لیے نئے لکھنے والوں کے لیے ہماری ایک پسندیدگی، ایک حوصلہ افزا جملہ یا ایک مثبت مشورہ ان کے ادبی سفر میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
اسی طرح کسی کی تحریر کو آگے بڑھاتے وقت اس کے اصل لکھاری کا نام برقرار رکھنا بھی اخلاقی ذمہ داری ہے۔ کسی کے الفاظ کو اپنے نام سے پیش کرنا صرف ایک تحریر کی شناخت نہیں چھینتا بلکہ اس تخلیق کار کی محنت اور حقِ ملکیت کو بھی نظرانداز کرتا ہے۔ الفاظ کی حرمت یہ ہے کہ انہیں ان کے حقیقی خالق کے نام کے ساتھ عزت دی جائے۔
آج ڈیجیٹل دنیا میں ایک اور خوبصورت روایت کی ضرورت ہے: ایک دوسرے کو پڑھنے کی روایت، ایک دوسرے کو سننے کی روایت اور ایک دوسرے کا حوصلہ بڑھانے کی روایت۔
ہم اکثر اپنی تحریر کے ردِعمل کا انتظار کرتے ہیں، لیکن یہ بھی سوچنا چاہیے کہ ہم دوسروں کی تحریروں پر کتنا ردِعمل دیتے ہیں۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ لوگ ہمارے لفظ کو پڑھیں، ہماری رائے کو اہمیت دیں اور ہماری تحریر پر اپنی رائے دیں تو ہمیں بھی دوسروں کے لفظ کے لیے وقت نکالنا ہوگا۔
کسی کے پاس اگر چند لمحے ہیں تو ایک پسندیدگی دے سکتا ہے، دل کی کیفیت ہو تو دل کا اظہار کر سکتا ہے، اور اگر وقت میسر ہو تو ایک مختصر سا تبصرہ لکھ سکتا ہے۔ یہ معمولی دکھائی دینے والے اعمال دراصل ایک بڑے ادبی ماحول کی بنیاد بنتے ہیں۔
ہمیں یہ بات ہمیشہ یاد رکھنی چاہیے کہ کسی کے چراغ کو روشن کرنے سے ہمارے اپنے چراغ کی روشنی کم نہیں ہوتی۔ کسی کی حوصلہ افزائی ہمارے مقام کو کم نہیں کرتی بلکہ ہمارے ظرف کو بلند کرتی ہے۔ دوسروں کی کامیابی پر خوش ہونا اور ان کے لفظ کو سراہنا دراصل اپنے اندر موجود وسعتِ قلبی کا اظہار ہے۔
لہٰذا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو صرف اپنی ذات کے اظہار کا ذریعہ نہ بنایا جائے بلکہ انہیں سیکھنے، سکھانے، مکالمے، احترام، برداشت اور حوصلہ افزائی کا وسیلہ بنایا جائے۔ اگر ہم ایک دوسرے کے الفاظ کی قدر کریں، اختلاف کو برداشت کریں، تنقید کو اصلاح کا ذریعہ بنائیں اور حوصلہ افزائی کو اپنی روایت بنائیں تو ہماری ادبی اور فکری دنیا کہیں زیادہ خوبصورت ہو سکتی ہے۔
آخر میں مبشر لقمان صاحب اور باغی رائٹرز فورم کی پوری ٹیم کے لیے خراجِ تحسین کہ انہوں نے اہلِ قلم کے لیے ایک ایسا خوبصورت پلیٹ فارم فراہم کیا جہاں لفظ کو عزت، خیال کو اظہار اور لکھنے والے کو حوصلہ ملتا ہے۔ ایسے پلیٹ فارم معاشرے میں مثبت سوچ، ادبی شعور اور باہمی احترام کو فروغ دیتے ہیں۔
آئیے، ہم سب مل کر ڈیجیٹل دنیا کو ایسی خوبصورت فضا بنائیں جہاں ہر شاعر، کالم نگار، نظم نگار اور لکھنے والے کے لفظ کو احترام ملے، اختلافِ رائے کو برداشت کیا جائے، تنقید کو اصلاح کا ذریعہ بنایا جائے اور حوصلہ افزائی کو اپنی روایت بنایا جائے۔
کیونکہ ایک اچھا لفظ کسی ایک انسان کا نہیں ہوتا؛ کبھی کبھی وہ پوری معاشرتی فضا کو بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
مزید پڑھیں




