ہفتہ، 31 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

لاہور میں سموگ کا بحران،حکومتی دعوے، زمینی حقائق اور ناکامی کے اسباب،تحریر:ندیم یعقوب گوہر

نقطہ نظر
nadeem yaqoob gohar

لاہور، جو کبھی اپنے سرسبز باغات اور دلکش موسموں کی وجہ سے "باغوں کا شہر" کہلاتا تھا، اب بدقسمتی سے ہر سال سردی کی آمد کے ساتھ ہی دنیا کے طویل المدتی اور شدید ترین ماحولیاتی بحرانوں کی زد میں آ جاتا ہے۔ فضا میں زہریلے دھوئیں اور کُہرے کا یہ ایسا غبار چھا جاتا ہے کہ سانس لینا محال ہو جاتا ہے، اور حالیہ ایئر کوالٹی انڈیکس (AQI) کی عالمی درجہ بندی میں لاہور ایک بار پھر دنیا بھر کے بڑے شہروں میں پہلے نمبر پر براجمان ہے۔ جب بھی سموگ کا یہ عذاب سر اٹھاتا ہے، تو حکومتی ایوانوں سے بڑے بڑے دعوے، ہنگامی اجلاسوں کا سلسلہ اور 'زیرو ٹالرنس' کی پالیسیوں کے اعلانات شروع ہو جاتے ہیں۔ انتظامیہ کی جانب سے بتایا جاتا ہے کہ مصنوعی ذہانت سے لیس کیمرے فضا خراب کرنے والوں کی نگرانی کر رہے ہیں، بھٹوں اور فیکٹریوں کے خلاف کریک ڈاؤن جاری ہے، اور سڑکوں پر اینٹی سموگ گنز سے پانی کا چھڑکاؤ کیا جا رہا ہے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان تمام دعوؤں، اعلانات اور کاغذی کارروائیوں کے باوجود آخر سموگ پر قابو کیوں نہیں پایا جا سکا؟ اس کے پیچھے کون سے پوشیدہ عوامل اور تلخ زمینی حقائق کارفرما ہیں، جن پر قابو پانا حکومت کے لیے تاحال ایک معمہ بنا ہوا ہے۔


اسموگ کوئی ایک دن میں پیدا ہونے والا مسئلہ نہیں ہے، بلکہ یہ کئی دہائیوں کی پالیسی غلطیوں، انتظامی کمزوریوں اور ماحولیاتی غفلت کا مجموعی نتیجہ ہے۔ سب سے پہلا اور اہم محرک صنعتی اخراج اور پرانی ٹیکنالوجی کا تسلسل ہے۔ لاہور کے گردونواح اور پنجاب کے صنعتی زونز میں آج بھی ہزاروں ایسی فیکٹریاں اور کارخانے دھڑلے سے کام کر رہے ہیں جو آلودگی کو روکنے والے جدید آلات سے عاری ہیں۔ اگرچہ محکمہ ماحولیات وقتاً فوقتاً چند کارخانے سیل کرنے کی تصاویر اخبارات کی زینت بناتا ہے، لیکن کرپشن، سیاسی اثر و رسوخ اور کمزور فالو اپ کی وجہ سے بہت سے یونٹس معمولی جرمانے بھر کر یا جرمانوں سے بچ کر دوبارہ اسی روش پر لوٹ آتے ہیں۔ اینٹوں کے بھٹوں کو زگ زیگ ٹیکنالوجی پر منتقل کرنے کے بڑے بڑے دعوے کیے گئے، لیکن چھوٹے درجے کے بھٹہ مالکان کے پاس یا تو مالی وسائل کی کمی ہے یا پھر وہ نگران اداروں کی آنکھ میں دھول جھونک کر روایتی طریقے سے کالا دھواں فضا میں چھوڑتے رہتے ہیں۔


صنعتی آلودگی کے علاوہ، شہر میں چلنے والی لاکھوں کی تعداد میں پرانی، خستہ حال اور بغیر فٹنس سرٹیفکیٹ کے کمرشل گاڑیاں، رکشے اور ٹرک اس بحران کو مزید سنگین بناتے ہیں۔ پبلک ٹرانسپورٹ کا ایک مؤثر اور مربوط نظام نہ ہونے کی وجہ سے عوام مجبورا اپنی ذاتی گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں پر انحصار کرتے ہیں، جس سے سڑکوں پر ٹریفک کا اژدھام اور زہریلے دھوئیں کا اخراج بڑھ جاتا ہے۔ دوسری طرف، زرعی شعبے میں فصلوں کی باقیات جلانے کا رجحان بھی مکمل طور پر ختم نہیں ہو سکا۔ اگرچہ حکومت نے کوئیک رسپانس یونٹس تعینات کرنے کا دعویٰ کیا ہے، لیکن کسانوں کے پاس متبادل انتظام نہ ہونے یا جدید مشینری کی عدم دستیابی کے باعث یہ مسئلہ جوں کا توں برقرار ہے، اور اس کے ساتھ ساتھ سرحد پار سے آنے والی آلودہ ہوائیں لاہور کے ماحول کو مزید گھٹن زدہ کر دیتی ہیں۔


شہر کا بے ہنگم شہری پھیلاؤ اور تعمیراتی سرگرمیاں بھی اس بحران میں برابر کی شریک ہیں۔ ہاؤسنگ سوسائٹیز کے نام پر درختوں کی اندھا دھند کٹائی کی گئی اور کھلی زمینوں کو کنکریٹ کے جنگلات میں تبدیل کر دیا گیا، جس سے شہر کا قدرتی ماحول اور آکسیجن پیدا کرنے کا نظام تباہ ہو گیا۔ تعمیراتی مقامات سے اڑنے والی سیمنٹ اور مٹی کی دھول فضا میں موجود ذرات کی مقدار کو خطرناک حد تک بڑھا دیتی ہے۔ اس تمام صورتحال میں حکومتی دعوؤں اور زمینی نفاذ کے درمیان ایک بہت بڑا خلیج پایا جاتا ہے۔ کاغذی کارروائی میں ہزاروں انسپکشنز، نوٹسز اور لاکھوں روپے کے جرمانے ضرور دکھائے جاتے ہیں، لیکن زمینی سطح پر نفاذ کمزور نظر آتا ہے۔ زیادہ تر کارروائیاں موسمی اور وقتی ہوتی ہیں؛ جب میڈیا اور عدلیہ کا دباؤ بڑھتا ہے تو انتظامیہ حرکت میں آ جاتی ہے، لیکن جیسے ہی سردیوں کا سیزن گزرتا ہے، معاملات دوبارہ پرانی ڈگر پر آ جاتے ہیں۔ انوائرمنٹ پروٹیکشن ایجنسی کے پاس نہ تو اتنی افرادی قوت ہے اور نہ ہی تکنیکی وسائل کہ وہ صوبے کے ہر کونے میں پھیلی فیکٹریوں کی مستقل نگرانی کر سکے۔


اس سب کے نتیجے میں جو نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے، وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ ایئر کوالٹی انڈیکس جب چار سو یا پانچ سو کی خطرناک حد کو چھوتا ہے، تو یہ صرف ایک نمبر نہیں ہوتا بلکہ لاہور کے کروڑوں شہریوں کے پھیپھڑوں پر ایک کاری ضرب ہوتا ہے۔ اس زہریلی فضا میں سانس لینا گویا زہر کو براہ راست جسم میں اتارنا ہے۔ عام شہریوں سے لے کر بزرگوں، بچوں اور دمے کے مریضوں تک سبھی اس آلودگی کی لپیٹ میں آ کر اسپتالوں کا رخ کرتے ہیں۔ آنکھوں میں جلن، گلے کی خرابی، سینے کی جکڑن اور دائمی کھانسی گھر گھر کا قصہ بن چکی ہے۔


اب وقت آ گیا ہے کہ محض بیانات، سکولوں کی عارضی بندش اور مصنوعی بارش جیسے سطحی و عارضی اقدامات سے باہر نکل کر ایک سنجیدہ اور پائیدار طویل المدتی حکمت عملی اپنائی جائے۔ جب تک شہر میں پبلک ٹرانسپورٹ کے نظام کو جدید اور الیکٹرک بسوں پر منتقل نہیں کیا جاتا، شہر کے اندر موجود صنعتوں کو متبادل زونز میں نہیں ڈالا جاتا، اور شجرکاری کو تحریک کی شکل نہیں دی جاتی، تب تک حکومتی دعوے محض کاغذی شیر ہی رہیں گے۔ لاہور کے باسیوں کا یہ بنیادی حق ہے کہ وہ صاف ہوا میں سانس لیں، اور اس کے لیے انتظامیہ کو مصلحتوں سے بالاتر ہو کر ایک بے رحمانہ اور مستقل ماحولیاتی انفورسمنٹ نظام نافذ کرنا ہوگا، ورنہ ہر سال یہی کہانیاں دہرائی جاتی رہیں گی اور ہم زہریلے دھوئیں کی چادر اوڑھ کر جینے پر مجبور رہیں گے۔