میں نے اپنے دل کو اللہ کے سپرد کر دیا،تحریر: سمیرا اکرام
نقطہ نظر
یہ اعلان نہیں، یہ تسلیم ہے۔ یہ شکست نہیں، یہ فتح ہے۔ یہ ہار نہیں، یہ نجات ہے۔ یہ فیصلہ کسی ایک لمحے کا نہیں تھا؛ یہ ان راتوں کی پیداوار ہے، جب میری آنکھیں چھت کو تکتی رہیں اور میرا دل اپنے ہی سینے میں بے چین رہا۔ ان آنسوؤں کا نتیجہ ہے، جو تکیے پر گر کر خاموش ہو گئے۔ ان دعاؤں کا جواب ہے، جو زبان تک آ کر بھی ادھوری رہ گئیں۔ ان چہروں کا سبق ہے، جن پر میں نے بھروسہ کیا، اور جنہوں نے میرے بھروسے کو خاک کر دیا۔ میں نے ہر دروازہ کھٹکھٹایا، ہر دل کے سامنے اپنا درد رکھا، مگر کسی نے میرے درد کو سمجھا نہیں۔ سب نے میری بات سنی، مگر کسی نے میری خاموشی نہیں سنی۔ آخرکار، میں نے آسمان کی طرف دیکھا، اور دل کی گہرائی سے کہا: "یا اللہ! اب یہ دل تیرا ہے۔ میں اسے اب کسی انسان کے حوالے نہیں کروں گی۔"
دنیا نے میرے دل کو کھلونا سمجھا تھا۔ جس نے چاہا، اسے اٹھایا۔ جس نے چاہا، اسے توڑ دیا۔ میں نے دل کو لوگوں کے ہاتھوں میں دیا، تو لوگوں نے اسے بکھیر دیا۔ میں نے دل کو محبت کے نام پر دیا، تو محبت نے اسے زخمی کر دیا۔ میں نے دل کو رشتوں کے نام پر دیا، تو رشتوں نے اسے تنہا کر دیا۔ میں سمجھتی تھی، شاید دل انسانوں کے لیے ہے۔ مگر مجھے دیر سے سمجھ آیا کہ دل صرف اللہ کے لیے ہے۔ دل وہ امانت ہے، جو اللہ نے دی ہے، اور اللہ ہی اس کی حفاظت کر سکتا ہے۔ انسان دل کی حفاظت نہیں کر سکتا۔ انسان دل کو صرف دکھ دے سکتا ہے۔ انسان دل کو صرف آزما سکتا ہے۔ انسان دل کو صرف چھوڑ سکتا ہے۔
جب میں نے دل کو اللہ کے سپرد کیا، تو مجھے لگا جیسے میرے سینے سے ایک بہت بڑا بوجھ اتر گیا ہے۔ پہلے میں ہر وقت ڈرتی تھی کہ کہیں کوئی میرا دل نہ توڑ دے، کہیں کوئی میری بات کو مذاق نہ بنا دے، کہیں کوئی میرے آنسوؤں پر ہنس نہ دے۔ اب میں نہیں ڈرتی۔ کیوں کہ اب میرا دل اللہ کے پاس ہے۔ اب کوئی اسے توڑ نہیں سکتا۔ اب کوئی اسے دھوکہ نہیں دے سکتا۔ اب کوئی اسے بیچ نہیں سکتا۔ اللہ کے پاس جو چیز جاتی ہے، وہ محفوظ ہو جاتی ہے۔ میں نے اپنے دل کو بھی محفوظ کر دیا۔
یہ سپردگی میری کمزوری نہیں، میری طاقت ہے۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ اللہ کو دل دینا، ہار ماننا ہے۔ مگر نہیں، اللہ کو دل دینا، جیت جانا ہے۔ میں نے دنیا سے ہار کر، اللہ سے جیت لیا ہے۔ میں نے انسانوں سے امید توڑ کر، اللہ سے امید جوڑ لی ہے۔ اب مجھے کسی کے پیغام کا انتظار نہیں ہے۔ اب مجھے کسی کی خاموشی کا خوف نہیں ہے۔ اب مجھے کسی کے چلے جانے کا دکھ نہیں ہے۔ کیوں کہ اب میرا دل کسی انسان کے پاس نہیں، اللہ کے پاس ہے۔
میں نے جب دل کو اللہ کے سپرد کیا، تو اللہ نے میرے دل کو بدل دیا۔ اس دل میں جو نفرت تھی، وہ محبت میں بدل گئی۔ اس دل میں جو غصہ تھا، وہ معافی میں بدل گیا۔ اس دل میں جو خوف تھا، وہ سکون میں بدل گیا۔ اس دل میں جو اندھیرا تھا، وہ روشنی میں بدل گیا۔ میں نے سیکھا کہ اللہ کے سپرد کیا ہوا دل کبھی خالی نہیں رہتا۔ اللہ اسے اپنی محبت سے بھر دیتا ہے۔ میں نے پہلے کبھی اتنا سکون محسوس نہیں کیا تھا، جتنا اب کرتی ہوں۔ پہلے میں لوگوں کی محبت کے لیے ترستی تھی، اب میں اللہ کی محبت میں ڈوب گئی ہوں۔
اب میں اپنے دل کو کسی کے سامنے نہیں کھولتی۔ اب میں اپنی باتیں صرف اللہ سے کرتی ہوں۔ اب میں اپنی دعائیں صرف اللہ سے مانگتی ہوں۔ اب میں اپنے آنسو صرف سجدوں میں بہاتی ہوں۔ لوگ کہتے ہیں: "تم بدل گئی ہو!" میں کہتی ہوں: "ہاں، میں بدل گئی ہوں۔ میں نے اپنے دل کو اللہ کے سپرد کر دیا ہے۔" یہ تبدیلی میری سب سے بڑی کامیابی ہے۔ یہ تبدیلی کسی کتاب میں نہیں لکھی، کسی نے سوچی بھی نہیں ہو گی۔ کیوں کہ یہ تبدیلی صرف وہی محسوس کر سکتا ہے، جس نے اپنے دل کو اللہ کے حوالے کیا ہو۔
میں نے اپنے دل کو اللہ کے سپرد کر دیا، تو مجھے دنیا کے ہر دکھ کا جواب مل گیا۔ مجھے پتہ چلا کہ جو شخص چلا گیا، وہ میرا تھا ہی نہیں۔ جو رشتہ ٹوٹ گیا، وہ جھوٹا تھا۔ جو خواب بکھر گیا، وہ میرا نہیں تھا۔ اللہ نے مجھ سے وہ سب لیا، جو میرا تھا ہی نہیں، اور مجھے وہ دیا، جو ہمیشہ میرا رہے گا۔ اللہ نے مجھے اپنا قرب دیا۔ اللہ نے مجھے اپنا سکون دیا۔ اللہ نے مجھے اپنی محبت دی۔ یہ وہ دولت ہے، جو کوئی نہیں چھین سکتا۔
آج میں اپنے دل کی مالک نہیں ہوں، یہ دل اللہ کا ہے۔ آج میں اپنے دل کی حفاظت نہیں کرتی، اللہ کرتا ہے۔ آج میں اپنے دل کے لیے کسی سے نہیں لڑتی، کیوں کہ میرا دل اب لڑائی کے لیے نہیں، دعا کے لیے ہے۔ میں نے اپنے دل کو اللہ کے سپرد کر دیا ہے، اور اب میں آزاد ہوں۔ آزاد اس دنیا سے، آزاد ان چہروں سے، آزاد ان یادوں سے، جو مجھے توڑتی تھیں۔
اگر تم بھی تھک گئے ہو، اگر تمہارا دل بھی ٹوٹ گیا ہے، اگر تمہیں بھی دنیا نے دھوکہ دیا ہے، تو سنو! اپنے دل کو اللہ کے سپرد کر دو۔ کیوں کہ انسان کے سپرد کیا ہوا دل ٹوٹ جاتا ہے، مگر اللہ کے سپرد کیا ہوا دل کبھی نہیں ٹوٹتا۔ وہ ہمیشہ زندہ رہتا ہے، وہ ہمیشہ روشن رہتا ہے، وہ ہمیشہ محفوظ رہتا ہے۔ میں نے اپنے دل کو اللہ کے سپرد کر دیا ہے، اور اب میں جان گئی ہوں کہ سکون صرف اللہ کے پاس ہے، اور دل کی اصل منزل صرف اللہ ہے۔
مزید پڑھیں




