اظہارِ رائے پر پابندی، سوشل میڈیا پر خاموشی،تحریر:عظمیٰ شیخ
نقطہ نظررات کو میں نے ایک سطر لکھی اور پھر ڈیلیٹ کر دی۔ اس میں کوئی گالی نہیں تھی, کوئی الزام نہیں تھا۔,صرف ایک سوال تھا۔ مگر سوال لکھتے ہوئے ہاتھ کانپ گیا۔ وہ سطر آج بھی میرے مسودات میں پڑی ہے۔ مجھے یقین ہے یہ کہانی صرف میری نہیں ہم سب کے فون میں ایسی کئی تحریریں پڑی ہیں جو کبھی پوسٹ نہیں ہوئیں, اسی کا نام ہے سوشل میڈیا پر خاموشی۔
ہم نے سمجھا تھا سوشل میڈیا ہمیں زبان دے گا۔ اس نے زبان دی بھی لیکن ساتھ ہی ہونٹوں پر تالا بھی لگا دیا۔ آج ہر شخص کے پاس مائیک ہے۔ مگر ہر شخص بولنے سے پہلے سوچتا ہے کہ اس کی قیمت کیا ہوگی۔
اس خاموشی کے تین بڑے سبب ہیں۔
پہلا سبب ریاست کا دباؤ ہے۔ پہلے پابندی لاٹھی سے لگتی تھی۔ اب بٹن سے لگتی ہے۔ فریڈم ہاؤس کی رپورٹ فریڈم آن دی نیٹ 2024 کہتی ہے کہ دنیا میں انٹرنیٹ کی آزادی میں مسلسل چودھویں سال کمی آئی ہے۔ بہتر ملکوں میں سے ستائیس ملکوں میں حالات خراب ہوئے۔ پچیس ملکوں میں حکومتوں نے الیکشن کے دوران انٹرنیٹ بند کیا اور سوشل میڈیا بلاک کیا۔ اسی رپورٹ میں لکھا ہے کہ تین چوتھائی ملکوں میں لوگوں کو صرف پرامن بات کہنے پر گرفتار کیا گیا۔ کئی لوگوں کو دس سال سے زیادہ قید ہوئی۔ 2024 میں آن لائن لکھنے پر حملے اور قتل کے واقعات سب سے زیادہ ہوئے۔
دوسرا سبب کمپنیوں کا نظام ہے۔ ہم جن کو اپنا ٹریبیون سمجھتے ہیں وہ کاروباری ادارے ہیں۔ ان کا مقصد سچ نہیں منافع ہے۔ میٹا کی اپنی رپورٹ کے مطابق صرف چھ ماہ میں دنیا کی حکومتوں نے تین لاکھ بائیس ہزار بار صارفین کا ڈیٹا مانگا۔ بنگلہ دیش میں ایک سال میں گوگل سے پانچ ہزار آٹھ سو ستائیس بار مواد ہٹانے کا کہا گیا۔ میٹا سے تین ہزار سات سو اکہتر اکاؤنٹس کا ڈیٹا مانگا گیا۔ پاکستان میں پی ٹی اے خود عدالت میں مان چکا ہے کہ فیس بک گوگل اور ایکس پاکستان میں رجسٹرڈ نہیں۔ نہ وہ ہمارے قانون کے پابند ہیں۔ اس لیے آپ کی پوسٹ کیوں ہٹی آپ کو کبھی پتہ ہی نہیں چلتا۔ آپ کی پوسٹ پر شیڈو بین لگ جاتا ہے۔ آپ لکھتے رہتے ہیں مگر آپ کی بات کسی تک پہنچتی ہی نہیں۔
تیسرا سبب ہمارے اندر کا خوف ہے۔ ریاست اور کمپنی تو باہر کے عامل ہیں۔ اصل تالا ہمارے دل پر لگا ہے۔ اسے سیلف سنسرشپ کہتے ہیں۔ یعنی انسان خود ہی اپنا منہ بند کر لے۔ آج لکھنے سے پہلے ہر شخص سوچتا ہے کہ کہیں نوکری نہ چلی جائے۔ کہیں گھر والوں کو مسئلہ نہ ہو۔،کہیں کردار پر بات نہ آجائے۔ جب انسان خود ہی خاموش ہو جائے تو کسی قانون کی ضرورت نہیں رہتی۔ یہ سب سے خطرناک خاموشی ہے۔
اس خاموشی کا نقصان یہ ہے کہ جب سچ بولنے والے خاموش ہوتے ہیں تو جھوٹ بولنے والوں کا راج ہوتا ہے۔ سوشل میڈیا پر اب سچ کم ہے شور زیادہ ہے۔ عام آدمی کی تکلیف مزدور کی بھوک عورت پر ظلم یہ سب ٹرینڈ میں نہیں آتا۔ ٹرینڈ میں وہی آتا ہے جو طاقتور دکھانا چاہتا ہے۔
سوال یہ نہیں کہ ہم بول سکتے ہیں یا نہیں۔ سوال یہ ہے کہ بولنے کے بعد ہم محفوظ رہتے ہیں یا نہیں۔ سوشل میڈیا نے پہلے کہا تھا اگر سچ ہے تو دنیا سنے گی۔ اب وہ کہتا ہے اگر سچ ہے تو سوچو کہ اس کی قیمت دے سکتے ہو یا نہیں۔ یہ امن کی خاموشی نہیں یہ قبرستان کی خاموشی ہے۔ جہاں سب موجود ہیں مگر کوئی بولتا نہیں۔
تاریخ بتاتی ہے جب سوال کرنے والے خاموش ہوں تو فیصلے عقل سے نہیں خوف سے کیے جاتے ہیں ہیں۔ خوف کے فیصلے ہمیشہ کمزور کو کچلتے ہیں۔ میں نہیں چاہتی ہمارے بچے ایسی دنیا میں بڑی ہو جہاں ہر سچ سے پہلے انھیں ڈرنا پڑے۔ اس لیے میں نے فیصلہ کیا ہے خوف کے باوجود لکھنا ہے۔ تہذیب سے دلیل سے مگر لکھنا ضرور ہے۔ کیونکہ بولنا صرف ہمارا ا حق نہیں بلکہ یہ ہماری نسلوں کے لیے سانس لینے جیسی ضرورت ہے۔
مزید پڑھیں




