ہفتہ، 31 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

مٹی کا انسان اور ضمیر کی بیداری،تحریر: مہوش بنت بشارت

نقطہ نظر

مٹی کا یہ پتلا جسے ہم انسان کہتے ہیں کائنات کا سب سے بڑا تضاد ہے۔ مٹی اس کا خمیر ہے اور مٹی ہی اس کا انجام ہے۔ اس مٹی کے ڈھیر کے اندر روشنی کا ایک ایسا چراغ چھپا ہے جسے ضمیر کہتے ہیں۔ جب تک یہ چراغ بجھا رہتا ہے انسان صرف گوشت اور ہڈیوں کا ایک متحرک وجود ہوتا ہے۔ جو دنیا کی بھیڑ میں اندھا دھند بھاگتا رہتا ہے اور زمین پر بوجھ بن کر جیتا ہے۔ وہ کھاتا ہے پیتا ہے سوتا ہے اور جاگتا ہے لیکن اس کی روح سوئی رہتی ہے۔ وہ دنیا کو فتح کرنے نکلتا ہے مگر خود اپنے وجود کے تاریک گوشوں سے خوف کھاتا ہے۔

انسان کی سب سے بڑی اصلیت یہ ہے کہ وہ مٹی کی رنگینیوں میں کھو کر اپنی اصل کو بھول جاتا ہے۔ وہ دنیا کے سامنے ایک کامیاب شخص بننے کی دوڑ میں اپنے اندر کے انسان کا گلا گھونٹ دیتا ہے۔ وہ دوسروں کے حقوق پامال کرتا ہے۔ جھوٹ کا سہارا لیتا ہے کیونکہ مٹی کا خوف اسے مادی نفع نقصان کا اسیر بنا دیتا ہے۔ وہ سوچتا ہے کہ وہ بہت طاقتور ہے لیکن درحقیقت وہ اپنی خواہشات کا ایک بے بس غلام ہوتا ہے۔ جب انسان مادی فائدے کے لیے اپنے اصولوں کا سودا کرتا ہے تو اس کے اندر کی مٹی مزید سخت ہو جاتی ہے یہاں تک کہ وہ پتھر بن جاتی ہے۔ اس حالت میں اسے نہ تو کسی کا درد محسوس ہوتا ہے اور نہ ہی اپنی تذلیل کا احساس ہوتا ہے۔ پھر اچانک زندگی کے کسی موڑ پر ضمیر جاگ اٹھتا ہے۔ ضمیر کی بیداری کوئی معمولی واقعہ نہیں ہے بلکہ یہ روح کا ایک زلزلہ ہے جو انسان کے اندر کے جمود کو توڑ کر رکھ دیتا ہے۔ یہ وہ لمحہ ہوتا ہے جب مٹی کا انسان اپنے سچے آئینے کے سامنے کھڑا ہو جاتا ہے جہاں کوئی نقاب اور کوئی جھوٹ کام نہیں آتا۔ ضمیر کی آواز بہت دھیمی ہوتی ہے مگر اس کی گونج کائنات کی تمام آوازوں پر بھاری پڑتی ہے۔ یہ وہ اندرونی عدالت ہے جہاں انسان خود ہی مجرم ہوتا ہے اور خود ہی منصف بن کر اپنے اعمال کا حساب کرتا ہے۔

جب ضمیر بیدار ہوتا ہے تو سب سے پہلے انا کا بت ٹوٹتا ہے۔ انسان کو اپنی اوقات یاد آتی ہے کہ وہ محض خاک کا ایک ذرہ ہے جس کی کوئی حیثیت نہیں۔ وہ اپنے ماضی کی غلطیوں پر تڑپ اٹھتا ہے اور اس کی آنکھوں سے بہنے والے ندامت کے آنسو اس کے گناہوں کی سیاہی کو دھو دیتے ہیں۔ یہ آنسو مٹی کے اس سوکھے ہوئے وجود کو دوبارہ زندہ کر دیتے ہیں۔ اس میں ہمدردی کی نئی کونپلیں پھوٹنے لگتی ہیں۔ وہ شخص جو کل تک دوسروں کو حقیر سمجھتا تھا اب خود کو سب سے چھوٹا دیکھنے لگتا ہے۔

ضمیر کی بیداری کا عمل بہت تکلیف دہ ہوتا ہے۔ یہ ایک ایسی آگ ہے جس میں انسان کا مادی وجود جلتا ہے تاکہ اس کی روح خالص سونا بن سکے۔ اس مرحلے پر انسان کو دنیا کی ہر آسائش بے معنی لگنے لگتی ہے کیونکہ جب تک اندر سکون نہ ہو باہر کی جنت بھی دوزخ معلوم ہوتی ہے۔ وہ راتوں کو اٹھ کر روتا ہے اور اپنے خالق سے معافی مانگتا ہے۔ یہ تنہائی کا وہ سفر ہے جہاں انسان دنیا سے کٹ کر اپنی حقیقت سے جڑ جاتا ہے۔ بیدار ضمیر کا مالک انسان معاشرے کے لیے ایک رحمت بن جاتا ہے۔ وہ مٹی کی محبت سے آزاد ہو کر انسانوں سے محبت کرنے لگتا ہے اور کسی کا دل نہیں دکھاتا۔ وہ جان جاتا ہے کہ دنیا عارضی ہے اور یہاں کا اصل سرمایہ صرف نیک اعمال ہیں۔ وہ لوگوں کے طعنوں اور دنیا کے نقادوں سے بے نیاز ہو کر سچائی کے راستے پر چل پڑتا ہے۔ چاہے وہ راستہ کتنا ہی کٹھن کیوں نہ ہو۔

مٹی کے انسان کا اصل کمال یہی ہے کہ وہ اپنے ضمیر کو سونے نہ دے۔ جو قومیں اور جو افراد اپنے ضمیر کی آواز کو دبا دیتے ہیں وہ تاریخ کے صفحات سے مٹ جاتے ہیں اور ان کا نام و نشان تک باقی نہیں رہتا۔ ضمیر کی بیداری ہی وہ واحد راستہ ہے جو انسان کو حیوانیت کی سطح سے اٹھا کر انسانیت کے اعلیٰ مقام پر فائز کرتا ہے۔ اسے اشرف المخلوقات بناتا ہے۔ یہ وہ سچی روشنی ہے جو قبر کی اندھیری رات میں بھی انسان کے ساتھ رہتی ہے اور اسے ابدی زندگی کے سفر میں سرخرو کرتی ہے۔