Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

معاشرے میں بڑھتی بے حسی اور اسلامی تعلیمات،تحریر: مبراء عبدالقیوم

نقطہ نظر
mubarra qayoum

آج ہمارا معاشرہ بہت سے مسائل میں گھرا ہوا ہے مگر ان میں ایک مسئلہ ایسا بھی ہے، جو خاموشی سے ہماری اجتماعی زندگی کو کمزور کر رہا ہے: بے حسی۔

ہم دوسروں کی تکلیف دیکھتے ہیں مگر اکثر اسے محسوس نہیں کرتے ہیں۔ کسی کے گھر فاقہ ہو، کوئی بیمار ہو، کوئی قرض کے بوجھ تلے دب رہا ہو، کوئی بزرگ تنہائی کا شکار ہو یا کوئی بچہ بنیادی ضروریات سے محروم ہو، ہم چند لمحوں کے لیے افسوس تو کرتے ہیں مگر کیا ہم واقعی اس کی مدد کے لیے آگے بڑھتے ہیں؟

اسلام نے انسان کو صرف اپنی ذات تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے دوسروں کے حقوق کا بھی ذمہ دار بنایا ہے۔ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَىٰ

“اور نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرو۔”

(المائدہ: 2)

یہ صرف ایک آیت نہیں بلکہ ایک مکمل معاشرتی اصول ہے۔ ایک مسلمان کی زندگی میں دوسروں کے دکھ درد کی اہمیت ہونی چاہیے۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "وہ شخص ہم میں سے نہیں جو ہمارے چھوٹوں پر شفقت نہ کرے اور ہمارے بڑوں کی عزت نہ کرے۔"

(جامع الترمذی)

آج ہمیں اپنے اردگرد صرف غربت ہی نہیں بلکہ جذباتی تنہائی بھی نظر آتی ہے۔ کبھی کسی کو صرف دو ہمدردانہ الفاظ کی ضرورت ہوتی ہے مگر ہم مصروفیت کا بہانہ بنا کر آگے بڑھ جاتے ہیں۔ کبھی کسی پریشان شخص کو مشورے سے زیادہ، ایک سننے والے انسان کی ضرورت ہوتی ہے مگر ہم اس کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی اپنی رائے دینا شروع کر دیتے ہیں۔

بے حسی صرف یہ نہیں کہ ہم کسی کی مدد نہ کریں؛ بعض اوقات کسی کے دکھ کا مذاق اڑانا، مصیبت زدہ شخص کو طعنے دینا، کسی کی مجبوری کو سوشل میڈیا پر تماشا بنانا اور دوسروں کے جذبات کو معمولی سمجھنا بھی بے حسی کی ہی صورتیں ہیں۔ اسلام ہمیں دل نرم رکھنے کی تعلیم دیتا ہے۔ صدقہ صرف مال دینے کا نام نہیں ہے۔ کسی کی مدد کرنا، کسی کے لیے آسانی پیدا کرنا، کسی غم زدہ انسان کو تسلی دینا، راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانا اور کسی کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنا بھی نیکی کے دائرے میں آتا ہے۔

ہمیں یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ اگر معاشرے کا ہر فرد صرف یہ فیصلہ کر لے کہ "میں کسی کے لیے مشکل نہیں، آسانی بنوں گا" تو ہمارے گھروں، محلوں اور معاشرے کی فضا کتنی بدل سکتی ہے۔

آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم دوسروں کے دکھ کو صرف خبر نہ سمجھیں، اسے انسانی ذمہ داری سمجھیں۔ کسی کے آنسو ہماری توجہ مانگتے ہیں، کسی کی خاموشی شاید مدد کی پکار ہو۔ اور کسی کی مسکراہٹ کے پیچھے چھپا دکھ شاید ہمارے ایک لفظِ محبت کا منتظر ہو۔ اسلام ہمیں صرف عبادت گزار نہیں بلکہ رحم دل اور ذمہ دار انسان بنانا چاہتا ہے۔ اگر ہماری عبادت ہمارے رویوں میں نرمی، ہمارے معاملات میں انصاف اور ہمارے دل میں دوسروں کے لیے درد پیدا نہیں کرتی، تو ہمیں اپنے عمل کا جائزہ ضرور لینا چاہیے۔

معاشرہ قانون سے نہیں، انسانوں کے احساس سے بھی بنتا ہے۔ آئیے، کسی کے لیے بوجھ نہیں، سہارا بنیں؛ کسی کے زخم پر نمک نہیں چھڑکیں بلکہ مرہم رکھیں؛ اور جہاں ممکن ہو کسی کی زندگی میں آسانی پیدا کریں۔ یہی اسلامی تعلیمات کی روح بھی ہے اور ایک بہتر معاشرے کی بنیاد بھی ہے۔

رسائی کے اختیارات

Size: NORMAL