محبت یوں تو رسوا نہ تھی ،تحریر: مبراء عبدالقیوم
نقطہ نظر
محبت ایک ایسا جذبہ ہے، جسے انسان چاہ کر بھی ہمیشہ اپنے اندر قید نہیں رکھ سکتا ہے۔ کبھی یہ آنکھوں سے چھلک پڑتی ہے، کبھی لہجے میں اتر آتی ہے اور کبھی خاموشی کے پردے میں اپنی موجودگی کا احساس دلاتی رہتی ہے۔ ہر محبت کو اظہار کی منزل نہیں ملتی ہے۔ کچھ جذبے ایسے بھی ہوتے ہیں جنہیں دل میں جگہ تو مل جاتی ہے، لیکن معاشرے کی نگاہوں، رشتوں کی نزاکتوں اور حالات کی سختیوں کے باعث زبان تک آنے کی اجازت نہیں ہوتی ہے۔ ایسی محبتیں بظاہر خاموش رہتی ہیں مگر ان کی گونج انسان کے اندر بہت دیر تک سنائی دیتی ہے۔ محبت یوں تو رسوا تھی مگر اس کی رسوائی کا سبب محبت نہیں، انسانوں کی سوچ تھی۔ ہمارے ہاں محبت کو پرکھنے کے پیمانے بھی عجیب ہیں۔ کسی کے خلوص کو اس کی خاموشی سے نہیں، اس کے اظہار سے جانچا جاتا ہے۔ کسی کی قربانیوں کو اس وقت تک اہمیت نہیں دی جاتی جب تک وہ خود اپنی اچھائی کا اعلان نہ کرے۔ اگر کوئی اپنے جذبات کا ذکر کر دے تو اسے بے باک کہا جاتا ہے اور اگر خاموشی سے کسی کے لیے آسانیاں پیدا کرے تو اس کے عمل کو معمول سمجھ لیا جاتا ہے۔ یوں محبت اپنی اصل پہچان کھو دیتی ہے اور لوگوں کے تبصروں میں ایک ایسا موضوع بن جاتی ہے، جس پر ہر شخص اپنی مرضی کا فیصلہ سنانا اپنا حق سمجھتا ہے۔ میں نے اکثر سوچا ہے کہ محبت آخر رسوا کیوں ہوتی ہے؟ کیا کسی کے لیے دل میں نرم گوشہ رکھنا جرم ہے؟ کیا کسی کی پریشانی کو اپنی پریشانی سمجھ لینا کمزوری ہے؟ کیا کسی کی غیر موجودگی میں اس کے حق میں دعا کرنا بھی کسی وضاحت کا محتاج ہے؟ شاید مسئلہ محبت میں نہیں، بلکہ اس توقع میں ہے کہ ہر جذبہ ہماری بنائی ہوئی حدود اور لوگوں کے مقرر کردہ معیار کے مطابق ہی ہونا چاہیے۔ حالاں کہ دل کے معاملات ہمیشہ اتنے سادہ نہیں ہوتے۔ بعض اوقات انسان کسی سے محبت کرتے ہوئے بھی اس سے دور رہنے کا فیصلہ کرتا ہے، کیونکہ اسے معلوم ہوتا ہے کہ قربت ہر مسئلے کا حل نہیں ہوتی ہے۔
کچھ محبتیں رشتوں کے نام سے پہچانی جاتی ہیں۔ ماں کی ممتا، باپ کی شفقت، بہن بھائیوں کا تعلق، اولاد سے وابستگی اور انسانیت کے لیے ہمدردی، یہ سب محبت ہی کی مختلف صورتیں ہیں۔ افسوس کہ ہم نے محبت کو صرف حاصل کرنے اور پانے کے مفہوم تک محدود کر دیا ہے۔ کسی کو اپنی مرضی کے مطابق دیکھنا، اس سے اپنی توقعات پوری کروانا اور اس کے فیصلوں پر اختیار جتانا محبت نہیں، بلکہ اپنی خواہش کو دوسرے کی زندگی پر مسلط کرنا ہے۔ حقیقی محبت تو وہ ہے جو دوسرے کی عزتِ نفس کو مجروح نہ کرے، اس کی مجبوریوں کو سمجھے اور اس کے لیے آسانی کا راستہ تلاش کرے۔ ایک عجیب المیہ یہ بھی ہے کہ محبت کرنے والے اکثر اپنی نیت کی صفائی ثابت کرتے رہ جاتے ہیں، جبکہ ان کے بارے میں رائے قائم کرنے والے کبھی اپنے رویوں کا جائزہ نہیں لیتے۔ کسی کے خلوص کو شک کی نگاہ سے دیکھنا آسان ہے، لیکن اپنے اندر موجود بدگمانی کو پہچاننا مشکل ہے۔ ہم دوسروں کے کردار پر انگلی اٹھانے میں دیر نہیں لگاتے مگر اپنی زبان سے نکلنے والے الفاظ کا حساب نہیں رکھتے ہیں۔ ایک جملہ کسی کا اعتماد توڑ سکتا ہے، ایک الزام کسی کی برسوں کی عزت کو داغ دار کر سکتا ہے۔ ایک بے بنیاد بات کسی خاندان کے سکون کو برباد کر سکتی ہے۔ پھر بھی ہم اسے معمولی گفتگو سمجھ کر آگے بڑھ جاتے ہیں۔ محبت کا ایک خوبصورت پہلو ایثار بھی ہے۔ یہ ضروری نہیں کہ جس کے لیے ہم نے کچھ کیا ہو، وہ ہمارے عمل کی قدر بھی کرے۔ کبھی کسی کی ضرورت پوری کرنا، کسی کی مشکل میں خاموشی سے ساتھ دینا اور کسی کی غلطی پر اسے رسوا کرنے کے بجائے اصلاح کا موقع دینا بھی محبت ہے۔ ایثار کا مطلب اپنی عزتِ نفس کو مٹا دینا بالکل بھی نہیں ہے۔ محبت انسان کو نرم دل ضرور بناتی ہے، بے وقعت نہیں۔ جو تعلق مسلسل ذلت، بے اعتنائی اور ذہنی اذیت کا سبب بن جائے، وہاں خاموشی سے فاصلہ اختیار کرنا بھی ایک دانش مندانہ فیصلہ ہو سکتا ہے۔ ہر رشتہ بچانا ضروری نہیں، لیکن ہر حال میں اپنا کردار اور اخلاق بچانا بہت ضروری ہے۔
قرآنِ مجید نے انسانوں کو باہمی احترام، حسنِ ظن اور پاکیزہ طرزِ عمل کی تعلیم دی ہے۔ سورۃ الحجرات میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: "اے ایمان والو! بہت سے گمانوں سے بچو، بے شک بعض گمان گناہ ہوتے ہیں۔" (الحجرات: 12)
یہ آیت ہمیں صرف بدگمانی سے نہیں روکتی بلکہ دوسروں کے معاملات میں بے جا مداخلت اور بغیر تحقیق رائے قائم کرنے سے بھی خبردار کرتی ہے۔ اگر ہم اس ایک ہدایت کو اپنی زندگیوں میں جگہ دے دیں تو کتنے ہی تعلقات بے وجہ کی تلخیوں سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔ کسی کے بارے میں سنی سنائی بات پر یقین کرنے سے پہلے سوچنا، کسی کے کردار پر فیصلہ دینے سے پہلے حقیقت جاننا اور کسی کی خاموشی کو اس کی کمزوری نہ سمجھنا، یہ سب ایک بہتر معاشرے کی بنیاد بن سکتے ہیں۔
رسوائی ہمیشہ محبت کے حصے میں نہیں آتی، کبھی محبت کے نام پر کی جانے والی خود غرضی بھی تعلقات کو بدنام کر دیتی ہے۔ جب انسان کسی کے جذبات سے کھیلتا ہے، اس کے اعتماد کو اپنی سہولت کے لیے استعمال کرتا ہے یا اپنی غلطیوں کا بوجھ دوسرے کے کردار پر ڈال دیتا ہے، تو وہ محبت کی توہین کرتا ہے۔ محبت دعووں سے نہیں، ذمہ داری سے پہچانی جاتی ہے۔ اس میں سچائی، احترام، برداشت اور حدود کا خیال رکھنا ضروری ہے۔ جہاں یہ صفات موجود نہ ہوں، وہاں خوب صورت الفاظ بھی کسی تعلق کو پاکیزہ نہیں بنا سکتے ہیں۔ ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ ہر محبت کا انجام ایک جیسا نہیں ہوتا ہے۔ کچھ تعلقات وقت کے ساتھ مضبوط ہو جاتے ہیں، کچھ حالات کی نذر ہو جاتے ہیں اور کچھ صرف ایک سبق بن کر انسان کی زندگی میں رہ جاتے ہیں۔ ہر بچھڑنے والا بے وفا نہیں ہوتا اور ہر ساتھ رہنے والا مخلص نہیں ہوتا ہے۔ بعض اوقات فاصلے انسان کو وہ حقیقت سمجھا دیتے ہیں جو برسوں کی قربت بھی نہیں سمجھا پاتی ہے۔ زندگی کا حسن صرف کسی کو پا لینے میں نہیں، بلکہ اپنے حصے کے تعلقات کو دیانت داری سے نبھانے اور جہاں ضرورت ہو وہاں وقار کے ساتھ پیچھے ہٹ جانے میں بھی ہے۔
شاید محبت کی سب سے بڑی بدقسمتی یہ نہیں کہ اسے رسوائی ملی، بلکہ یہ ہے کہ ہم نے اس کے معنی ہی بدل دیے ہیں۔ ہم نے خلوص کو کمزوری، برداشت کو بے بسی اور خاموشی کو شکست سمجھ لیا ہے۔ حالاں کہ بعض خاموشیاں بہت باوقار ہوتی ہیں۔ کچھ لوگ اپنی صفائی دینے کے بجائے وقت پر معاملہ چھوڑ دیتے ہیں، کیونکہ انہیں معلوم ہوتا ہے کہ ہر شخص کو حقیقت سمجھانا ممکن نہیں ہے۔ وہ اپنے دل میں کسی کے لیے بددعا نہیں رکھتے مگر خود کو دوبارہ اسی اذیت میں ڈالنے سے بھی گریز کرتے ہیں۔
آخر میں سوال محبت کے رسوا ہونے کا نہیں، ہمارے رویوں کے بدلنے کا ہے۔ اگر محبت میں احترام شامل ہو، خلوص کے ساتھ ذمہ داری بھی ہو اور جذبات کے ساتھ اللہ کی مقرر کردہ حدود کا خیال رکھا جائے تو محبت کسی کے لیے رسوائی کا سبب نہیں بنتی ہے۔ ہمیں دوسروں کے جذبات پر فیصلے صادر کرنے کے بجائے اپنے کردار کی اصلاح کرنی چاہیے۔ کیونکہ انسان کی اصل پہچان یہ نہیں کہ وہ محبت کے بارے میں کتنی خوب صورت باتیں کرتا ہے، بلکہ یہ ہے کہ اس کے رویے سے کتنے دل محفوظ رہتے ہیں۔ محبت یوں تو رسوا تھی مگر حقیقت یہ ہے کہ رسوائی محبت کی نہیں، اس سوچ کی تھی جو خلوص کو سمجھنے کے بجائے اسے بدنام کرنے میں مصروف رہی تھی۔
مزید پڑھیں



