Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

موٹاپے میں فاقہ کشی نہ کریں ،تحریر: ڈاکٹر نازیہ ندیم

نقطہ نظر
dr nazia nadeem

انسانی جسم قدرت کا وہ شاہکار ہے جو اپنے اندر خود کار نظامِ شفا رکھتا ہے، مگر افسوس کہ دورِ جدید کے نام نہاد شعور نے اس فطری توازن کو بری طرح مجروح کر دیا ہے۔ ہمارے معاشرے میں جب بھی وزن کم کرنے یا موٹاپے سے نجات کی بات چھڑتی ہے، تو پہلی اور سب سے بڑی غلط فہمی یہ جنم لیتی ہے کہ پیٹ پر قفل لگا دیا جائے اور فاقہ کشی کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیا جائے۔ اشتہارات کی چمک دمک اور سوشل میڈیا کے جادوگر چند دنوں میں درجنوں کلو وزن گھٹانے کے دعوے کرتے ہیں اور سادہ لوح انسان اپنے ہی جسم کے خلاف بھوک کی جنگ چھیڑ دیتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بھوکا رہ کر خود کو نڈھال کر لینا وزن کم کرنے کا کوئی سائنسی یا دانشمندانہ راستہ نہیں، بلکہ یہ ایک ایسا گرداب ہے جو انسان کو ایک بیماری سے نکال کر کئی خطرناک امراض کے منہ میں دھکیل دیتا ہے۔ موٹاپا فاقوں سے نہیں بلکہ تدبر، آگاہی اور غذا کے دانشمندانہ استعمال سے دور ہوتا ہے۔

جب کوئی شخص فاقہ کشی کا راستہ چنتا ہے تو انسانی خلیات اسے قحط یا خطرے کا سگنل سمجھتے ہیں۔ قدرت نے ہمارے جسم میں بقا کا ایک زبردست نظام رکھا ہے، چنانچہ بھوکا رہنے کی صورت میں ہمارا میٹابولزم اپنی رفتار کو خود بخود انتہائی سست کر دیتا ہے تاکہ موجود چربی کو جلنے سے بچایا جا سکے۔ فاقہ کشی کے نتیجے میں جو وزن کم ہوتا دکھائی دیتا ہے، وہ درحقیقت چربی کا زوال نہیں ہوتا بلکہ ہمارے جسم سے قیمتی پانی اور پٹھوں کا انحطاط ہوتا ہے۔ جونہی فاقے کی زنجیر ٹوٹتی ہے، سست میٹابولزم کے باعث وزن پہلے سے زیادہ برق رفتاری سے واپس آتا ہے، جسے طب کی دنیا میں ری باؤنڈ یا یو یو افیکٹ کہا جاتا ہے۔ اس بے جا مشقت کے نتیجے میں انسان اعصابی کمزوری، چڑچڑاپن، بالوں کے جھڑنے اور چہرے کی ماندگی کا شکار ہو جاتا ہے۔

اب وقت آ گیا ہے کہ ہم کھانے کو اپنا دشمن سمجھنا چھوڑ دیں اور بقراط کے اس سنہری قول کو اپنی زندگی کا مشعلِ راہ بنائیں کہ تمہاری خوراک ہی تمہاری دوا ہونی چاہیے اور دوا تمہاری خوراک ہو۔ خوراک محض پیٹ کی آگ بجھانے یا محض زبان کے چٹخارے کا نام نہیں، بلکہ یہ وہ ایندھن ہے جس نے ہمارے اعضائے رئیسہ کو زندگی بخشنی ہوتی ہے۔ جب ہم خوراک کو دوا کے طور پر استعمال کرنا شروع کرتے ہیں تو ہمارے کھانے کی پلیٹ کسی میڈیکل پریسکرپشن سے کم اہمیت نہیں رکھتی۔ جیسے کسی مرض کے لیے دوا کی نوعیت، اس کی مقدار اور اس کا درست وقت ناگزیر ہوتا ہے، بالکل اسی طرح غذا کا انتخاب، اس کا پورشن اور اس کا وقت بھی ایک باقاعدہ علاج کا درجہ رکھتا ہے۔

غذا کو دوا بنانے کا پہلا قدم یہ ہے کہ ہم اپنی روزمرہ کی خوراک میں سے زہر آلود مادوں کو بے دخل کریں۔ ریفائنڈ اور مصنوعی اجناس، جیسا کہ باریک سفید میدہ، کھانڈ یعنی سفید چینی اور ڈبوں میں بند بازار کے چمکتے دمکتے کھانے، ہمارے جسم میں انسولین کے طوفان کھڑے کر دیتے ہیں۔ انسولین ہمارے نظام کا وہ بنیادی ہارمون ہے جو چربی کو جکڑ کر رکھتا ہے اور اسے جلنے نہیں دیتا۔ اس کے برعکس جب ہم قدرت کی بنائی ہوئی خالص اور غیر چھنی غذائیں، دیسی موٹا آٹا، جو، باجرہ، تازہ موسمی سبزیاں اور دالیں کھاتے ہیں تو ان میں موجود قدرتی فائبر ایک دوا کی طرح خون میں شوگر کے بہاؤ کو اعتدال بخشتا ہے اور آنتوں کی اندرونی سوزش کو دھو ڈالتا ہے۔ آنتیں اور معدہ جسم کا وہ دوسرا دماغ ہیں جہاں ہماری مجموعی صحت کی بنیاد رکھی جاتی ہے۔ جب فائبر اور خمیر شدہ غذائیں معدے میں پہنچتی ہیں تو وہ صحت بخش جراثیم کو طاقتور بنا کر جسم کی چربی پگھلانے کی قدرتی صلاحیت کو بیدار کر دیتی ہیں۔

اسی طرح روغنیات یا چکنائی سے مکمل پرہیز بھی فاقہ کشی جیسی ہی ایک سنگین غلطی ہے۔ جسم کے ہارمونز اور دماغی اعصاب کی ساخت کو برقرار رکھنے کے لیے صحت بخش روغنیات دوا کی حیثیت رکھتے ہیں۔ بازار کے غیر معیاری اور ہائیڈروجنیٹڈ بناسپتی تیل درحقیقت شریانوں کے لیے سست زہر کا کام کرتے ہیں، جبکہ زیتون کا خالص تیل، سرسوں کا تیل اور اعتدال کے ساتھ مکھن کا استعمال سوزش کو دور کرتا ہے اور خلیات کی جھلیوں کو لچکدار بناتا ہے۔ جب ہم غیر صحت بخش چکنائی کو چھوڑ کر قدرتی روغنیات اور خشک میوہ جات کو اپنی غذا کا جزو بناتے ہیں تو جسم کو ترپتی کا وہ احساس ملتا ہے جو غیر ارادی طور پر لگنے والی بے وقت بھوک کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ کر دیتا ہے۔ پروٹین کی وافر اور متوازن مقدار جیسے کہ انڈے، مچھلی اور دالیں ہمارے پٹھوں کی ایسی دوا ہیں جو پٹھوں کو قائم رکھ کر چربی کو خارج کرتی ہیں۔

طرزِ زندگی کا دوسرا اہم ترین راستہ ہماری نیند اور ہارمونل توازن سے جڑا ہے۔ فاقے کرنے والا انسان اگر راتوں کو جاگتا رہے تو اس کا وزن کبھی کم نہیں ہو سکتا۔ رات کی گہری اور پرسکون نیند قدرت کا وہ مفت شفا خانہ ہے جہاں جسم اپنے تشنہ خلیات کی مرمت کرتا ہے۔ رات دیر تک جاگنے سے کورٹیسول نامی تناؤ کا ہارمون حد سے زیادہ بڑھ جاتا ہے، جو پیٹ کے ارد گرد چربی کا گھیراؤ تنگ کرتا چلا جاتا ہے۔ روزانہ وقت پر سونا اور کم از کم سات سے آٹھ گھنٹے کی نیند لینا کسی بھی مہنگی گولی سے زیادہ طاقتور دوا ہے جو بھوک کے سگنلز کو قابو میں رکھتی ہے اور دماغ کو پرسکون کرتی ہے۔ جب نیند پوری ہوتی ہے تو دن بھر غیر ضروری مٹھاس کی طلب کا خود بخود تدارک ہو جاتا ہے۔

اس سفر میں جسمانی سرگرمی کو مشقت نہیں بلکہ رگوں میں دوڑتے خون کو تازگی دینے کا ذریعہ سمجھنا چاہیے۔ سارا دن ایک ہی جگہ ساکت بیٹھے رہنا میٹابولزم کو جام کر دیتا ہے۔ روزانہ کھلی اور صاف فضا میں چالیس منٹ کی تیز رفتار چہل قدمی کوئی غیر معمولی کام نہیں، مگر یہ جسم کے لیے اتنی اکسیر ہے جتنا کہ کسی مرجھاتے پودے کے لیے تازہ پانی۔ چہل قدمی سے دل کی دھڑکن متحرک ہوتی ہے، پھیپھڑوں کو تازہ آکسیجن میسر آتی ہے اور اعصاب پر طاری بوجھ اترتا ہے۔ یہ ورزش دراصل ہمارے پٹھوں میں انسولین ریسیپٹرز کو بیدار کرتی ہے تاکہ ہم جو کچھ کھائیں وہ چربی کے گودام میں جانے کے بجائے حرارت اور توانائی بن کر کام آ سکے۔

انسان کی نفسیاتی حالت اور جذباتی بھوک کا تدارک بھی اس فکری انقلاب کا ایک لازم جزو ہے۔ اکثر لوگ پیٹ کی بھوک نہیں مٹاتے بلکہ اپنی بے چینی، تنہائی، مایوسی یا غصے کو مٹانے کے لیے کھاتے ہیں۔ ذہنی دباؤ اور بے چینی کو ختم کرنے کے لیے خوراک کی طرف بھاگنا فریبِ نظر کے سوا کچھ نہیں۔ انسان کو چاہیے کہ وہ کھانے کے وقت صرف کھانے پر توجہ دے، ہر نوالے کو چبا چبا کر کھائے اور قدرت کی دی گئی اس نعمت کے ذائقے اور شفا کو محسوس کرے۔ اس سے دماغ کو وقت پر یہ پیغام مل جاتا ہے کہ جسم کی ضرورت پوری ہو چکی ہے۔

موٹاپے سے نجات کا راستہ عذاب ناک بھوک کے راستے سے نہیں گزرتا، بلکہ یہ اپنے جسم کی قدرتی پکار کو سننے، سچے اور قدرتی اجزا کو دوا کی مانند برتنے، متوازن نیند، روزمرہ کی حرکت اور پرسکون ذہن کے سنگم سے نکلتا ہے۔ جب ہم اپنے طرزِ زندگی میں فاقہ کشی کے بجائے فکری آگاہی کے یہ چراغ روشن کر لیں گے، تو نہ صرف فالتو چربی خود بخود جسم کا ساتھ چھوڑ دے گی، بلکہ زندگی ایک نئی توانائی، تازگی اور وقار کے ساتھ رواں دواں ہو جائے گی۔ صحت مند رہنا سزا نہیں، قدرت کی عطا کردہ نعمتوں کی قدر دانی کا خوبصورت نام ہے۔