جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

وہ مقامِ عشق جہاں درد بھی سکون کی صورت اختیار کرلے،تحریر: زینب جہانزیب اعوان

نقطہ نظر
zainab jahazeb

کبھی آپ نے محسوس کیا کہ زندگی میں ایک وقت ایسا بھی آتا ہے جب درد، درد نہیں رہتا؟ جب زخم چبھتے نہیں بلکہ کسی عجیب سی نرمی سے روح کو تھام لیتے ہیں؟ جب آنکھیں نم تو ہوتی ہیں، مگر دل میں کوئی بے نام سا اطمینان اترنے لگتا ہے؟ یہ وہی مقام ہے جہاں عشق اپنی اصل میں ظاہر ہوتا ہے، جہاں انسان درد سے نجات نہیں مانگتا بلکہ اس کے اندر چھپے ہوئے معنی کو سمجھنے لگتا ہے۔


ابتدا میں عشق آگ کی طرح ہوتا ہے۔ جلانے والا، بے قرار کرنے والا اور انسان کو خود اس کی ذات سے بے خبر کر دینے والا۔ اس مرحلے میں ہم سوال کرتے ہیں، شکایتیں کرتے ہیں اور اپنے رب سے بھی پوچھ بیٹھتے ہیں کہ آخر ہمارے حصے میں یہی آزمائش کیوں آئی؟ ہمیں لگتا ہے کہ اگر یہ درد ختم ہو جائے تو شاید ہم سکون پا لیں گے، مگر ہم نہیں جانتے کہ بعض درد ہمیں ختم کرنے نہیں بلکہ ہماری شخصیت کو ایک نئی صورت دینے آتے ہیں۔


عشق کا سفر صرف کسی کو پانے کا نام نہیں، بلکہ اپنے اندر اترنے اور اپنی حقیقت سے آشنا ہونے کا نام بھی ہے۔ یہ ہمیں بتاتا ہے کہ ہر خواہش کا پورا ہونا ضروری نہیں اور ہر جدائی محرومی نہیں ہوتی۔ کبھی کبھی جو چیز ہم سے چھن جاتی ہے، وہی ہمیں اپنے اندر موجود ان گوشوں سے متعارف کرواتی ہے جن سے ہم عمر بھر ناواقف رہتے ہیں۔


رفتہ رفتہ جب انسان مزاحمت چھوڑ دیتا ہے، جب وہ ہر سوال کا جواب فوراً حاصل کرنے کی ضد سے آزاد ہونے لگتا ہے، تب ایک عجیب سا سکون اس کے اندر اترنے لگتا ہے۔ درد اپنی جگہ موجود رہتا ہے، مگر اسے دیکھنے کا زاویہ بدل جاتا ہے۔ آنسو بہتے ہیں، مگر اب ان میں صرف شکایت نہیں ہوتی؛ کبھی ان میں دعا کی نمی ہوتی ہے، کبھی خاموش شکرگزاری اور کبھی اس حقیقت کا اعتراف کہ انسان ہر معاملے کو اپنی مرضی کے مطابق نہیں ڈھال سکتا۔


عشق ہمیں توڑتا نہیں، بلکہ ہمارے اندر موجود وہموں، مصنوعی سہاروں اور خود پسندی کی دیواروں کو گراتا ہے۔ یہ ہمیں ہماری کمزوریوں سے روشناس کرواتا ہے اور سکھاتا ہے کہ اصل طاقت ہر حال میں مضبوط دکھائی دینے میں نہیں، بلکہ اپنی شکست کو تسلیم کرکے دوبارہ سنبھل جانے میں ہے۔ جب انسان کے اندر سے انا کی شدت کم ہونے لگتی ہے تو درد بھی اپنی صورت بدلنے لگتا ہے۔ زخم اب صرف تکلیف نہیں دیتے، وہ شعور بھی عطا کرتے ہیں؛ اور محرومیاں انسان کو اپنی ذات کی قدر کرنا سکھا دیتی ہیں۔


درد کی راہ میں جب سر کو جھکانا سیکھا،


میں نے ہر زخم میں اُس کو ہی پانا سیکھا۔


آگ سی جلتی رہی روح، مگر عجب تھا یہ،


جلتے جلتے ہی سکون میں ڈھل جانا سیکھا۔


اب نہ شکوہ ہے، نہ خواہش، نہ کوئی بے قراری،


میں نے ہر حال میں اُس کا ہی ترانہ سیکھا۔


یہ عشق ہی ہے، مٹا کر بھی بنا دیتا ہے،


میں نے کھو کر خود کو، پھر سے پانا سیکھا۔


یہ اشعار اسی باطنی تبدیلی کی ترجمانی کرتے ہیں جہاں انسان اپنی تکلیف سے بھاگنے کے بجائے اسے سمجھنے لگتا ہے۔ تاہم، ہر درد کو محبت کی علامت سمجھ لینا بھی درست نہیں۔ بعض تکلیفیں ہمیں اپنی حدود پہچاننے، غلط تعلقات سے باہر نکلنے اور اپنے وجود کی حفاظت کرنے کا سبق دیتی ہیں۔ عشق کا مطلب خود کو اذیت میں مبتلا رکھنا نہیں، بلکہ اپنے دل کو اتنا وسیع کرنا ہے کہ وہ حقیقت کو قبول بھی کر سکے اور ضرورت پڑنے پر خود کو سنبھال بھی سکے۔


یہی وہ مقامِ عشق ہے جہاں انسان کو احساس ہوتا ہے کہ سکون ہمیشہ باہر کی دنیا میں تلاش کرنے کی چیز نہیں۔ کبھی وہ ہمارے اپنے اندر چھپا ہوتا ہے، مگر ہم اسے خواہشوں، توقعات اور بے شمار سوالوں کے شور میں سن نہیں پاتے۔ جب ہم ہر چیز کو اپنی مرضی کے مطابق حاصل کرنے کی ضد چھوڑ دیتے ہیں تو دل میں ایک نئی وسعت پیدا ہوتی ہے۔ ہم زندگی کو صرف اپنی پسند اور ناپسند کے پیمانے سے دیکھنا چھوڑ دیتے ہیں اور قبولیت کے مفہوم کو سمجھنے لگتے ہیں۔


یہ سکون بے حسی کا نام نہیں، نہ ہی اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کو اب کوئی دکھ محسوس نہیں ہوتا۔ یہ دراصل وہ کیفیت ہے جہاں دکھ موجود ہونے کے باوجود انسان کا باطن مکمل طور پر بکھرتا نہیں۔ وہ جان لیتا ہے کہ زندگی میں کچھ سوالوں کے جواب وقت دیتا ہے، کچھ زخموں کو بھرنے کے لیے صبر درکار ہوتا ہے اور بعض راستوں پر چلتے ہوئے صرف اپنے رب پر بھروسا کرنا پڑتا ہے۔


شاید عشق کی اصل خوب صورتی بھی یہی ہے کہ وہ انسان کو اپنی ذات سے نکال کر ایک وسیع تر حقیقت سے جوڑ دیتا ہے۔ وہ اسے سکھاتا ہے کہ ہر جدائی کے بعد زندگی ختم نہیں ہوتی، ہر نامکمل خواہش کے باوجود دل دھڑکتا رہتا ہے اور ہر اندھیری رات کے بعد صبح ہونے کا امکان باقی رہتا ہے۔


اور شاید یہی عشق کی انتہا ہے؛ جہاں انسان سکون کو تلاش کرنا چھوڑ کر اسے اپنے اندر محسوس کرنے لگتا ہے۔ جہاں درد مٹتا نہیں، مگر انسان درد سے بڑا ہو جاتا ہے۔ جہاں آنسو بہتے ہیں، مگر دل میں امید کا چراغ روشن رہتا ہے۔


کیونکہ عشق کا سب سے حسین مقام وہ نہیں جہاں انسان کو اپنی چاہت مل جائے، بلکہ وہ ہے جہاں وہ محرومی کے باوجود اپنے رب سے جڑا رہے اور ٹوٹ کر بھی زندگی سے اپنا رشتہ نہ توڑے۔