ملتان واقعہ، وہ بھاگتا رہا، موت تعاقب کرتی رہی ،تحریر: ملک محمد شاکر بہاولپوری
نقطہ نظر
کچھ مناظر ایسے ہوتے ہیں جو آنکھوں کے راستے دل میں اتر کر روح کو چھلنی کر دیتے ہیں؛ ملتان کی ایک گلی سے سامنے آنے والی وہ چند سیکنڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج کوئی عام ریکارڈنگ نہیں، بلکہ ہمارے پورے معاشرتی ڈھانچے، انصاف کے نظام اور اجتماعی ضمیر پر ایک کاری ضرب ہے۔ سفید شلوار قمیض میں ملبوس، پندرہ سولہ برس کا ایک کم عمر بچہ آگے آگے اپنی سانسیں بچانے کے لیے سرپٹ دوڑ رہا ہے اور پیچھے سے ایک گاڑی میں سوار سنگدل انسان ایک درندے کی طرح اس کا تعاقب کر رہا ہے۔ پھر ایک ہولناک آواز آتی ہے، گاڑی کی رفتار بڑھتی ہے، معصوم وسیم عباس دیوار اور گیٹ کے درمیان کچلا جاتا ہے اور سفید کپڑے آن کی آن میں سرخ لہو کے سمندر میں ڈوب جاتے ہیں۔
یہ محض ایک حادثہ یا عام قتل کی واردات نہیں تھی، یہ لاچاری اور بے بسی پر طاقت اور فرعونیت کا وحشیانہ حملہ تھا۔
وسیم عباس کون تھا؟ وہ کسی بااثر یا دولت مند گھرانے کا چشم و چراغ نہیں تھا، جس کی معمولی خراش پر پورا تھانہ حرکت میں آ جاتا۔ وہ تو ایک یتیم تھا، جس کے سر سے باپ کا سایہ برسوں پہلے اٹھ چکا تھا؛ نامساعد حالات کی ستائی ماں نے اسے اور اس کے معصوم بھائی کو ایک یتیم خانے کے سپرد کر دیا تھا تاکہ وہ وہاں کچھ پڑھ لکھ جائیں، دو وقت کی عزت کی روٹی کھا سکیں اور معاشرے کے طعنوں سے محفوظ رہیں۔ نانا کے الفاظ روح کو تڑپا دیتے ہیں کہ: ’’ہم نے تو دونوں نواسوں کو اس لیے بھیجا تھا کہ وہ انسان بن جائیں، مگر ٹھیکیدار نے اسے سستی لیبر سمجھ لیا۔‘‘ کسے خبر تھی کہ جس ادارے کی چھت کو یتیم کے لیے پناہ گاہ بننا تھا، وہیں سے اسے ایک بے رحم ٹھیکیدار کے حوالے ہنر کے نام پر جبری مشقت کے لیے جھونک دیا جائے گا؟
ہنر سکھانے کے نام پر اس بچے کو کیا دیا جا رہا تھا؟ تشدد، تذلیل اور خوف! ایف آئی آر کے مطابق وہ معصوم جان، مسلسل مار پیٹ اور جان جانے کے خوف سے بھاگا تھا۔ سوچیے، اس پندرہ سالہ لڑکے کے ننھے دل پر اس وقت کیا گزری ہوگی جب اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا ہوگا اور ایک وزنی کار کو عفریت کی طرح اپنے ہی تعاقب میں آتے دیکھا ہوگا؟ اس کے نحیف قدموں نے کس قدر گھبراہٹ اور امید کے درمیان زمین ناپی ہوگی کہ شاید وہ کسی گلی کے موڑ پر چھپ جائے، شاید کوئی بند دروازہ کھل جائے، یا شاید کوئی انسان اس کی پکار سن کر آگے آ جائے۔
مگر افسوس! اس بدقسمت کو کہیں جائے امان نہ مل سکی۔ کار نے اسے گیٹ کے ساتھ ایسے بے دردی سے کچلا کہ اس کا سر پھٹ گیا۔ مرنے کے بعد ڈرائیور کے نہ چہرے پر ملال، نہ آنکھوں میں ندامت۔ بعد میں قانون اور دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لیے یہ لغو عذر تراشا گیا کہ ’’گاڑی پھسل گئی تھی‘‘۔ کیا انسانی جان اتنی حقیر اور بے قیمت ہو چکی ہے کہ کیمرے کی آنکھ میں قید وحشیانہ تعاقب اور گیٹ سے روند دینے کی بربریت کو فقط ’’پھسلن‘‘ قرار دے کر جان چھڑا لی جائے؟
یہ خونی واقعہ ہر اس شخص کے منہ پر زور دار طمانچہ ہے جو انسانیت، آئین اور قانون کی برتری کا دعویٰ کرتا ہے۔ کیا یتیم خانے بے سہارا نونہالوں کو سنگدل ٹھیکیداروں کے ظلم و ستم اور مفت مزدوری کے لیے بیگار کیمپ کے طور پر استعمال کروانے کے مجاز ہیں؟ کس قانون کے تحت ایک یتیم بچے کو بنا کسی تحفظ اور معاہدے کے ایک ظالم شخص کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا؟
وسیم عباس تو مظفر گڑھ کی سرد مٹی میں دفن ہو گیا۔ اس کا خوف، اس کا درد اور اس کی آخری چیخیں ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گئیں، لیکن وہ وائرل ویڈیو ہمارے گریبان پر ہاتھ ڈال کر یہ تلخ سوال ضرور چھوڑ گئی ہے: کیا اس ملک میں غریب، نادار اور یتیم کا خون ہمیشہ یوں ہی ارزاں رہے گا؟
اگر آج وسیم کے قاتلوں کو کیفر کردار تک نہ پہنچایا گیا اور یتیم خانے کے ان تمام ذمہ داران کا احتساب نہ ہوا جنہوں نے اس معصوم کو بھیڑیوں کے آگے ڈالا تھا، تو یاد رکھیے، کل کو کوئی اور بے بس بچہ کسی اور ظالم کی گاڑی تلے روندا جائے گا اور ہم محض ویڈیو کلپس دیکھ کر، سر ہلا کر، اگلے تماشے کا انتظار کرنے والے مردہ دل معاشرے کے سوا کچھ نہیں کہلائیں گے۔ قانون کے ایوانوں اور انصاف کی مسندوں کو اب حرکت میں آنا ہوگا، ورنہ تاریخ ہمیں مظلوم کے خون پر خاموش رہنے والے مجرموں میں شمار کرے گی۔





