پیر، 26 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

27 اکتوبر1947ء سے آج تک ،مسئلہ کشمیر کے نہ بجھنے والے شعلے،تحریر:انعام الحسن کاشمیری

نقطہ نظر

مودی پالیسیوں کے مضمرات اور بھارت کی مشکلات


79برس قبل27اکتوبر 1947ء کو بھارت نے ریاست جموں وکشمیر کے ایک حصے پر غیرآئینی، غیراخلاقی اور غیرقانونی قبضہ کرلیا تھا۔ جس کے خلاف دنیا بھر میں کشمیری 27اکتوبر کو یوم سیاہ مناتے ہیں۔ مقبوضہ جموں وکشمیر پر بھارتی قبضے کو کشمیری عوام نے کبھی تسلیم نہیں کیا۔ اُس کی جدوجہد آج پون صدی کے بعد بھی جاری ہے۔ 47ء سے 88ء تک کشمیریوں نے بیشتر وقت سیاسی جدوجہد کا سہارا لیا اور بھارت پر سیاسی دباؤ بڑھاتے رہے۔ تاہم اس دوران مسئلہ کشمیر کو لے کر پاکستان اور بھارت کے درمیان متعدد جنگیں بھی رونما ہوئیں۔ دسمبر 1964ء میں درگاہ حضرت بل سے موئے مبارک کی چوری اور اس کے نتیجے میں کشمیری مسلمانوں کے زبردست احتجاج اور پھر ریاست بھر میں جاری تحریک نے بھارت پر زبردست دباؤ ڈالا۔ پوری ریاست میں ہنگامے پھوٹ پڑے جس کے بعد بھارت مجبور ہوا کہ وہ موئے مبارک کو واپس اپنی جگہ پر رکھ دے۔ مگر کشمیریوں کے جو جذبات برانگیختہ ہوچکے تھے، اس کے نتیجے میں آپریشن جبرالٹر اور پھر ستمبر 65ء کی جنگ نے خطے میں امن و امان کی مجموعی صورت حال کو خاصا متاثر کیا۔ مگر ایک بات طے ہوگئی کہ بھارت پاکستان کے وجود کو کسی صورت تسلیم نہیں کرتا اور یہ کہ وہ مسئلہ کشمیر کی آڑ میں پاکستان کو مسلسل نقصان پہنچانے کی کوشش کرتا رہے گا۔ بعد میں آنے والے وقت نے اس کو ثابت بھی کیا۔ 1984ء میں بھارت کی جانب سے سیاچن پر قبضہ، کارگل جنگ1999ء ، بالاکوٹ پر فضائی حملہ 2019ء، پھر گذشتہ برس 2025ء میں آپریشن سیندور کی آڑ میں پاکستان کے خلاف جنگ اور نتیجے میں عبرتناک شکست اور عالمی سطح پر زبردست ہزیمت اور جگ ہنسائی نے بھارت کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔ اس ذلت کا بدلہ لینے کے لیے و ہ مسلسل منصوبہ بندی کررہاہے۔ گذشتہ ماہ مودی نے اسی حوالے سے ایک جلسہ میں خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ جو لوگ مجھے (مودی ) گالیاں دیتے رہے اور بھارت کی پسپائی پر ہنستے رہے ، وہ زیادہ دیر تک خوش نہیں رہیں گے بہت جلد انھیں اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔

مودی کی سازش، پینترے، حکمت عملی، منصوبہ بندی جیسے تمام افعال، کردار اور اعمال خود اُس کے گلے کا طوق بنتے جارہے ہیں۔ گذشتہ دنوں 24 اکتوبر کو جبکہ آزاد کشمیر حکومت کے قیام کا یوم تاسیس منایا جارہا تھا ، تو شیخ عبداللہ کے فرزند، مقبوضۃ کشمیر کے موجودہ وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کے والد ، سینئر سیاست دان اور سابق وزیراعلیٰ فاروق عبداللہ نے مودی اور بھارت کے خلاف بیان دے کر ایک بار پھر یہ ثابت کردیا ہے کہ بھارت کشمیریوں کو دبانے، لبھانے اور انھیں رام کرنے کی جتنی بھی کوشش کرلے، آخر ایک دن حقیقت کسی نہ کسی صورت میں ظاہر ہوکر ہی رہتی ہے۔ شیخ عبداللہ نے جن مفادات کا اسیر ہوکر کشمیری قوم کے جذبات کو ٹھیس پہنچائی تھی، بعد میں وہی شیخ عبداللہ مختلف مواقع پر اس بات کا اظہار کرتے رہے کہ انھوں نے بھارت اور کانگریس کا ساتھ دے کر سخت غلطی کی ہے۔ یہ شیخ عبداللہ بیچارے بھارت کا ساتھ دینے کے ‘‘صلے ’’ میں برسوں قید بھی رہے ۔ اُن کے فرزند ارجمند فاروق عبداللہ بھی مختلف مواقع پر اپنے والد کے نقشِ قدم پر چلنے کی کوشش کرتے اور بھارت کو آئینہ دکھاتے رہے ہیں۔ وہ مقبوضہ جموں وکشمیر کے سب سے سینئر سیاست دان اور نیشنل کانفرنس کے صدر ہیں ۔ وہ پڑھے لکھے، باشعور اور مختلف سیاسی امور کا بخوبی ادارک رکھتے ہیں۔ انھیں مقبوضہ جموں کشمیر میں جاری تحریک آزادی کی تاریخ اور اس کے مختلف عوامل کے بارے میں بھی معلوم ہے اور یہی وجہ ہے کہ 24 اکتوبر کو انھوں نے بارہ مولہ میں پارٹی کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے بھارت میں ہلچل مچادی ہے ۔ یاد رہے کہ بارہ مولا کا یہ علاقہ چکوٹھی سیکٹر سے کچھ ہی فاصلے پر ہے۔ اُن کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے، جب بھارت کی مشرقی ریاست ارونا چل پردیش کے وسیع علاقے پر چینی فوج کے قبضے کی خبریں سامنے آرہی ہیں۔ فاروق عبداللہ کا کہنا ہے کہ :۔

‘‘ پاکستان ہر موقع پرکشمیریوں کے ساتھ کھڑا ہے، پاکستان کشمیریوں کی حفاظت کر رہا ہے۔ کیا آپ لوگوں کو دہلی حکومت سے یہ امید ہے کہ آپ کو انصاف دے گی؟ پاکستان کے خوف کی وجہ سے بھارت مقبوضہ کشمیر کو نقصان نہیں پہنچا سکتا، پاکستان ہر موقع پر کشمیریوں کے ساتھ کھڑا ہے اورانھیں بچانے کے لیے پہنچتا ہے۔کشمیریوں کو اپنے حقوق کے لیے متحد ہونا ہوگا، آپ میں ان (بھارتی حکومت) کا مقابلہ کرنے اور ان کے خلاف ڈٹ کر کھڑے ہونے کی ہمت ہونی چاہیے، اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو آپ کا وجود مٹ جائے گا، آپ کا نام و نشان اور شناخت ختم ہو جائے گی اور کوئی آپ کو یاد تک نہیں رکھے گا۔پاکستان دنیا میں کشمیر کا معاملہ اٹھا رہا ہے، اسی وجہ سے کشمیریوں کی آواز سنی جا رہی ہے جبکہ بھارت کی کشمیریوں کے حوالے سے نیت درست نہیں ہے۔ہمارا پڑوسی (پاکستان) مسلسل ان کے پیچھے پڑا ہوا ہے، وہ ہر جگہ جا کر کہتا ہے کہ مسئلہ کشمیر ابھی تک حل نہیں ہوا، وہ ہماری حفاظت کر رہا ہے، ورنہ ان (بھارت) کے ارادے ٹھیک نہیں ہیں، وہ کہتے کچھ ہیں لیکن کرتے بالکل اس کے برعکس ہیں۔ آپ میں سچ کا ساتھ دینے اور اس پر ڈٹ جانے کا حوصلہ ہونا چاہیے، سچ بولنا آسان نہیں ہوتا لیکن جب تک آپ سچ نہیں بولیں گے اور اس پر مضبوطی سے قائم نہیں رہیں گے، آپ کا مستقبل کبھی محفوظ نہیں ہو سکتا۔’’

فاروق عبداللہ کے اس بیان پر بھارت میں تنازع کھڑا ہوگیا ہے ۔ انھیں غدار قرار دیتے ہوئے سزا دینے کا مطالبہ کیاجارہاہے۔ بی جے پی کا کہنا ہے کہ فاروق عبداللہ کو پاکستان سے اتنی ہی محبت ہے ، تو وہ وہاں چلے جائیں۔ اسی طرح انتہاپسند اور پاکستان مخالف حلقوں کی جانب سے فاروق عبداللہ کے خلاف سخت ترین زبان استعمال کی جارہی ہے۔ بادی النظر میں فاروق عبداللہ کے اس بیان کا جائزہ لیاجائے تو یہ ان کی اصل آرزو ہے جس کا اظہار وہ اکثر وبیشتر کرتے رہے ہیں۔ انھوں نے واشگاف الفاظ میں کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر کو پاکستان نے زندہ رکھا ہوا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ عالمی فورمز پر مسئلہ کشمیر کو اس انداز میں اجاگر کیا ہے کہ جس کی وجہ سے بھارت کو سخت شرمندگی کا مظاہرہ کرنا پڑا مگر چونکہ اس کی ذہنیت میں ڈھیٹ پن اور مزاج میں ضد شامل ہے ، اس لیے وہ عالمی برادری کے سامنے ہمیشہ سے اسی سوچ اور ردعمل کا مظاہرہ کرتا آیا ہے۔ وہ سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ بنا کر پیش کرنے کی خوب مہارت رکھتا ہے ۔ مگر اُس نے کبھی تاریخ سے سبق نہیں سیکھا۔ آج فاروق عبداللہ کے اس بیان نے بھارت میں آگ لگادی ہے تو دوسری جانب بھارت کو ارونا چل پردیش کے حالات کی وجہ سے بھی سخت مایوسی کا سامنا ہے۔ شمال مشرقی ریاست میں چینی فوج 10 کلومیٹرسے زائدفاصلے تک اندر گھس آئی ہے اور مسلسل خبریں آرہی ہیں کہ چین نے اس علاقے پر قبضہ کرلیا ہے اور وہاں عام چینی شہریوں کو آباد کیاجارہاہے۔ بتایا جارہا ہے کہ چینی فوج نے درجنوں بھارتی فوجیوں کو بھی گرفتارکرلیا ہے۔ اس حوالے سے بھارتی اپوزیشن نے وزیراعظم مودی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ حقائق قوم کے سامنے رکھیں۔ مگر مودی کا ردعمل ملاحظہ فرمائیں کہ وہ ارونا چل پردیش کے مسئلے پر قوم کو اعتماد میں لیں، الٹا پاکستان کو دھمکیاں دے رہے ہیں کہ وہ بھارت کا مذاق اڑانے والوں کو جلد ہی سبق سکھائیں گے۔ مودی کا یہ طریقہ کار دراصل کھسیانی بلی کھمبا نوچے کے مصداق ہے کہ بات کچھ اور ہے لیکن کچھ اور بنا کر پیش کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ بھارت میں مودی پر طعنہ زنی کی جارہی ہے کہ انھوں نے آپریشن سیندور کے ذریعے پاکستان کو چھیڑ کر اُسے یہ موقع فراہم کیا کہ وہ اب دنیا بھر کی نظروں میں انتہائی بلند مقام اور عزت کا حامل ہوگیا ہے ۔ بھارتیوں نے حال ہی میں مکہ اور پھر بدر معاہدہ کا ذمہ دار بھی مودی کو ٹھہرایا ہے کہ اگر یہ جنگ نہ چھڑتی، تو بھارت کی پسپائی اور جگ ہنسائی نہ ہوتی اور نہ ہی پاکستان کو یہ موقع ملتا کہ وہ پہلے ایران امریکہ ثالثی کا کردار ادا کرتا اور پھر مکہ معاہدہ کے ذریعے سعودی عرب کو فوجی خدمات فراہم کرتا۔ اور اب بدر معاہدہ کے ذریعے پاکستان، ترکی، انڈونیشیا اور قطر مل کر اپنی فوجی خدمات اور صلاحیتوں سے ایک دوسرے کو نہ صرف مستفید کریں گے بلکہ دفاع کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اسلحہ سازی کی صنعت پر بھی خصوصی توجہ دیں گے۔

فاروق عبداللہ کے بیان اور ارونا چل پردیش کی صورت حال پر بھارت کے مقتدر حلقوں اور دانشور طبقے کو سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ انھیں مودی سے مطالبہ کرنا چاہیے کہ وہ بھارت کو ایسی آگ میں نہ دھکیلیں جس کا نتیجہ مکمل تباہی ہے۔ بھارت نے جو کام 27 اکتوبر1947ء کو ریاست جموں وکشمیر پر غیر اخلاقی، غیرقانونی اور غیر آئینی فوج کشی کرکے شروع کیاتھا، اس کے آفٹرشاکس مسلسل بھارت کو نقصان پہنچاتے رہے ہیں مگر اُس نے کبھی حقائق کو تسلیم کرنے کی کوشش نہیں کی۔ ہندوبنیا ہمیشہ سمجھتا رہا ہے کہ اُس نے کشمیریوں پر قابو پالیا ہے ۔ کشمیر پر اُس کا قبضہ مستحکم ہوگیا ہے اور اب کوئی کشمیر کو بھارت سے جدا نہیں کرسکتا مگر فاروق عبداللہ نے جن باتوں کی طرف اشارہ کیا ہے ، اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے اندر بھارت نواز حلقوں میں بھی بڑھتی ہوئی بے چینی آخر کار ابل کر باہر نکل آئی ہے کیونکہ فاروق عبداللہ کا بیان محض ان کا ذاتی بیان یا نقطہ نظر نہیں بلکہ یہ کشمیری قوم کی خواہشات ، اس کی تمناؤں کی ترجمانی ہے۔ مودی جو آگ پاکستان میں لگانے چلے تھے، وہ مقبوضہ کشمیر اور ارونا چل پردیش میں بھڑک اٹھی ہے ۔ انھوں نے اگر حقائق سے چشم پوشی کا وتیرہ نہ چھوڑا تو جلد ہی اس کے شعلے دہلی تک پہنچ جائیں گے۔ ٭٭٭