منگل، 13 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

نعت کی خوشبو سے مہکتی نعت منزل،تحریر:شاہد نسیم چوہدری

نقطہ نظر
shahid naseem

بزمِ فروغِ نعت سمن آباد، فیصل آباد کے چھٹے ماہانہ نعتیہ مشاعرے کی ایمان افروز روداد۔کچھ محفلیں محض محفلیں نہیں ہوتیں، وہ دلوں میں عقیدت کے چراغ روشن کرتی، روح کے دریچوں پر نور کی دستک دیتی اور انسان کو محبتِ رسول ﷺ کے اس بے کراں سمندر سے آشنا کرتی ہیں جس کی موجوں میں ڈوب کر دلوں کی دنیا بدل جاتی ہے۔ ایسی محفلوں میں جب زبانِ شعر سے مدحتِ مصطفیٰ ﷺ کے پھول جھڑتے ہیں تو فضائے محفل خوشبو سے بھر جاتی ہے، نگاہیں عقیدت سے جھک جاتی ہیں اور دل بے اختیار پکار اٹھتے ہیں کہ دنیا کی سب سے بڑی سعادت اپنے آقا و مولا، حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی محبت سے وابستہ ہونا ہے۔

اسی جذبۂ عشق و عقیدت کی ایک خوب صورت جھلک جمعۃ المبارک، 9 اکتوبر 2026ء کو فیصل آباد کے علاقے ستارہ کالونی میں دیکھنے کو ملی، جہاں بزمِ فروغِ نعت سمن آباد، فیصل آباد کے زیرِ اہتمام چھٹا ماہانہ نعتیہ مشاعرہ و محفلِ نعت منعقد ہوا۔ شام چار بجے شروع ہونے والی یہ نورانی محفل خادمِ نعت پروفیسر سید رضا حسین گیلانی کی رہائش گاہ، ’’نعت منزل‘‘، مکان نمبر 276/B، ستارہ کالونی، فیصل آباد میں سجائی گئی۔ یہ محفل درحقیقت ان خوش نصیب ساعتوں کا نام تھی جن میں اہلِ محبت نے اپنے جذبات، احساسات اور قلبی واردات کو نعت کے پیرایے میں ڈھال کر بارگاہِ رسالت مآب ﷺ سے اپنی وابستگی کا اظہار کیا۔

نعت؛ محبت، عقیدت اور نسبت کا عنوان

نعت اردو ادب کی وہ مقدس صنفِ سخن ہے جس میں لفظ محض لفظ نہیں رہتا بلکہ محبت کی گواہی بن جاتا ہے۔ اس میں خیال کی بلندی، جذبے کی پاکیزگی، اسلوب کی لطافت اور عقیدت کی گہرائی یکجا ہو جاتی ہیں۔ نعت گوئی محض شعری مہارت کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک ایسی قلبی کیفیت ہے جس میں شاعر اپنی بساط کے مطابق محبوبِ خدا ﷺ کی سیرتِ طیبہ، اخلاقِ حسنہ، رحمت و شفقت اور انسانیت کے لیے آپ ﷺ کی بے مثال خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کرتا ہے۔

حضور نبی کریم ﷺ کی ذاتِ اقدس تمام جہانوں کے لیے رحمت ہے۔ قرآنِ مجید میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ’’وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ‘‘، یعنی ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا۔ یہی پیغام نعت کی روح اور مسلمانوں کی اجتماعی زندگی کا روشن حوالہ ہے۔ آپ ﷺ نے انسانیت کو محبت، عدل، اخوت، رواداری، صداقت، امانت اور حسنِ اخلاق کا درس دیا۔ آپ ﷺ کی تعلیمات نے نفرتوں میں گھرے معاشرے کو محبت کا مفہوم سمجھایا، کمزوروں کو عزت دی اور انسان کو انسان کے حقوق پہچاننے کی راہ دکھائی۔

نعتیہ محافل کی اہمیت اسی لیے مسلم ہے کہ ان میں عقیدت کے ساتھ ساتھ سیرتِ نبوی ﷺ سے وابستگی اور آپ ﷺ کی تعلیمات کو اپنی زندگی میں اپنانے کا پیغام بھی اجاگر ہوتا ہے۔

تلاوتِ قرآن سے آغاز، ذکرِ مصطفیٰ ﷺ سے روشن فضا

محفل کا آغاز ساہی وال سے تشریف لانے والے ننھے بچے سید عبید اللہ گیلانی نے تلاوتِ قرآنِ مجید سے کیا۔ ایک کم سن بچے کی زبان سے کلامِ الٰہی کی تلاوت اس حقیقت کی یاد دہانی تھی کہ عشقِ رسول ﷺ کی روایت نئی نسل تک منتقل کرنا ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے۔ وہ نسل جو قرآن سے اپنا تعلق مضبوط کرے، سیرتِ طیبہ کو سمجھے اور حضور اکرم ﷺ کے اخلاقِ کریمانہ کو اپنی زندگی کا حصہ بنائے، وہی معاشرے میں حقیقی مثبت تبدیلی کا ذریعہ بن سکتی ہے۔

اس بابرکت محفل کی نظامت اور سرپرستی کے فرائض خادمِ نعت پروفیسر سید رضا حسین گیلانی نے انجام دیے۔ ان کی میزبانی، محبت اور نعتیہ ادب سے وابستگی نے محفل کو ایک باوقار ادبی و روحانی رنگ عطا کیا۔ نعت منزل کا نام ہی اس جذبے کی عکاسی کرتا ہے کہ یہ گھر محض رہائش گاہ نہیں بلکہ ذکرِ رسول ﷺ اور فروغِ نعت سے وابستہ ایک ادبی مرکز کی صورت اختیار کر چکا ہے۔

اس موقع پر نعتیہ شاعری سے وابستہ شعرا نے اپنے اپنے انداز میں بارگاہِ رسالت مآب ﷺ میں عقیدت کے پھول پیش کیے۔ ہر شاعر کا لہجہ الگ، انداز جدا اور جذبے کی کیفیت اپنی جگہ منفرد تھی، لیکن سب کے دلوں میں محبت کا مرکز ایک ہی تھا: حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ۔

شعرا کی عقیدت، لفظوں کی خوشبو

محفل میں شرکت کرنے والے شعرا میں پروفیسر سید رضا حسین گیلانی گولڑوی، محمد افضل خاکسار گولڑوی، ڈاکٹر مقصود احمد عاجز، پروفیسر مسعود الرحمن مسعود، حکیم محمد اکرم شاہد، فقیر حسین چشتی گولڑوی، انجم اکرام چشتی اور عظیم مودود چشتی شامل تھے۔

ان اہلِ سخن کی شرکت نے محفل کو نعتیہ ادب کی رنگارنگی اور فکری وسعت سے آشنا کیا۔ نعت کا حسن یہ ہے کہ شاعر اپنی انفرادی کیفیت کو اجتماعی محبت میں بدل دیتا ہے۔ اس کا ایک شعر کسی سامع کے دل میں برسوں سے موجود عقیدت کو تازہ کر دیتا ہے، کوئی مصرع آنکھوں کو نم کر دیتا ہے اور کوئی لفظ انسان کو اپنے کردار کا جائزہ لینے کی دعوت دیتا ہے۔

حقیقی نعت وہ ہے جو محبتِ رسول ﷺ کے ساتھ اتباعِ رسول ﷺ کا شعور بھی بیدار کرے۔ حضور اکرم ﷺ سے محبت کا تقاضا ہے کہ ہم اپنی زبانوں کو سچائی، اپنے معاملات کو دیانت، اپنے رویوں کو نرمی اور اپنے دلوں کو دوسروں کے لیے خیر خواہی سے آراستہ کریں۔ اگر نعت ہمیں اخلاقِ مصطفیٰ ﷺ کے قریب لے آئے تو یہ ادب، عبادت کے جذبے اور اصلاحِ کردار کا مؤثر وسیلہ بن جاتا ہے۔

محفل میں بعض شعرا کا کلام واٹس ایپ وائس میسج کے ذریعے بھی موصول ہوا۔ کراچی سے شارق رشید اور انگلینڈ سے ٹیپو ارسل نے اپنے نعتیہ کلام کے ذریعے اس محفل میں شرکت کی۔ اس امر نے یہ احساس مزید گہرا کیا کہ محبتِ رسول ﷺ کسی ایک شہر، ملک یا جغرافیائی حدود کی پابند نہیں۔ جہاں کہیں دل میں عشقِ مصطفیٰ ﷺ کا چراغ روشن ہے، وہاں سے عقیدت کی آواز بلند ہو سکتی ہے۔

جدید ذرائع ابلاغ نے ادبی و روحانی محافل کو ایک نیا وسیلہ فراہم کیا ہے۔ اب کسی شاعر کی جسمانی عدم موجودگی اس کے کلام کو سامعین تک پہنچنے سے نہیں روک سکتی۔ کراچی سے انگلینڈ تک پھیلی یہ ادبی شرکت اسی حقیقت کا اظہار تھی کہ نعت کی خوشبو فاصلے نہیں دیکھتی، بلکہ دلوں کو ایک نسبت میں پرو دیتی ہے۔

سامعین؛ محبت کے خاموش ترجمان

کسی بھی ادبی محفل کی رونق صرف اسٹیج پر بیٹھے شعرا سے نہیں ہوتی، بلکہ ان سامعین سے بھی ہوتی ہے جو توجہ، احترام اور محبت کے ساتھ کلام سنتے ہیں۔ اس محفل میں عبداللطیف شاہ، رانا محمد سعید اور احمد سرفراز سلیمی بطور سامعین شریک ہوئے۔ احمد سرفراز سلیمی نے ریکارڈنگ انجینئر کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دیں۔

یہ امر قابلِ قدر ہے کہ نعتیہ محافل میں سامعین کی شرکت محض سماعت تک محدود نہیں رہتی۔ وہ اپنے قلبی ذوق، توجہ اور احترام سے شعرا کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں اور اس ادبی روایت کے تسلسل میں حصہ ڈالتے ہیں۔ ایسی محافل معاشرے میں مثبت سرگرمیوں کو فروغ دیتی ہیں اور نئی نسل کو ادب، تہذیب اور روحانی اقدار سے قریب لانے کا ذریعہ بنتی ہیں۔

محفل کے انتظامی امور میں سید علی رضا گیلانی اور سید ربیع عباس رضا گیلانی نے ذمہ داریاں ادا کیں۔ اس طرح منتظمین، شعرا، سامعین اور ریکارڈنگ سے وابستہ افراد کی مشترکہ کاوشوں نے اس بابرکت اجتماع کو کامیابی سے ہم کنار کیا۔

درود و سلام؛ محبت کا اظہار

یہ نعتیہ مشاعرہ سہ پہر چار بجے شروع ہوا اور پونے چھ بجے اختتام پذیر ہوا۔ محفل کے اختتامی مرحلے میں فقیر حسین چشتی گولڑوی نے سلام پیش کیا۔ سلام کی یہ پیش کش اس روحانی نشست کا ایک اہم اور جذباتی لمحہ تھی، جس میں اہلِ محبت نے اپنی عقیدت کو منظوم انداز میں پیش کیا۔

اس کے بعد بارگاہِ الٰہی میں دعا کی گئی۔ دعا دراصل بندے اور اس کے رب کے درمیان امید، عاجزی اور توکل کا رشتہ ہے۔ اہلِ محفل نے اس مبارک اجتماع کو خیر و برکت کا ذریعہ بناتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے حضور التجا کی۔ بعدازاں تمام مہمانانِ گرامی کی بہترین کھانے سے تواضع کی گئی۔ مہمان نوازی کے تمام امور میں پروفیسر سید رضا حسین گیلانی کے صاحبزادگان پیش پیش رہے۔

ہمارے معاشرے میں مہمان نوازی محض ایک سماجی رسم نہیں، بلکہ محبت، احترام اور خلوص کی علامت ہے۔ جب یہ جذبہ کسی نعتیہ محفل کے ساتھ جڑ جائے تو اس کی معنویت مزید بڑھ جاتی ہے۔ اہلِ خانہ کی خدمت گزاری نے اس بات کا اظہار کیا کہ فروغِ نعت کا کام صرف شعر کہنے اور سننے تک محدود نہیں، بلکہ اس کے ساتھ وابستہ ہر شخص کی خدمت اور خلوص بھی اس روایت کا حصہ ہے۔

عشقِ رسول ﷺ؛ زندگی بدل دینے والا پیغام

آج کے دور میں جب معاشرہ عدم برداشت، نفرت، خود غرضی اور باہمی فاصلے جیسے مسائل سے دوچار ہے، ہمیں سیرتِ رسول ﷺ کی روشنی سے اپنے انفرادی اور اجتماعی رویوں کو سنوارنے کی ضرورت ہے۔ حضور اکرم ﷺ نے دشمنوں کے ساتھ بھی عدل، کمزوروں کے ساتھ شفقت، پڑوسیوں کے ساتھ حسنِ سلوک اور معاشرے کے محروم طبقات کے ساتھ ہمدردی کا درس دیا۔ آپ ﷺ کی زندگی ہمارے لیے بہترین نمونہ ہے۔

محبتِ رسول ﷺ کا چراغ دل میں روشن ہو تو انسان کی زبان دوسروں کے لیے اذیت کا سبب نہیں بنتی، اس کے ہاتھ ظلم کے بجائے خدمت کے لیے اٹھتے ہیں اور اس کے فیصلوں میں انصاف کو جگہ ملتی ہے۔ نعتیہ محافل اسی جذبے کو تازہ کرنے کا ایک خوب صورت موقع فراہم کرتی ہیں۔ تاہم ان کی حقیقی کامیابی اسی وقت ہے جب محفل سے اٹھنے والا شخص اپنے ساتھ محبت، اخلاص اور بہتر کردار کا پیغام بھی لے کر جائے۔

بزمِ فروغِ نعت سمن آباد، فیصل آباد کا چھٹا ماہانہ نعتیہ مشاعرہ بھی اسی ادبی و روحانی روایت کا تسلسل تھا۔ پروفیسر سید رضا حسین گیلانی کی میزبانی، شعرا کی شرکت، سامعین کی محبت اور منتظمین کی خدمات نے ایک ایسی فضا قائم کی جس میں نعتیہ ادب کی قدر و منزلت نمایاں ہوئی۔

یہ محفل ہمیں یاد دلاتی ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ کی مدحت کا سلسلہ صدیوں سے جاری ہے اور قیامت تک اہلِ ایمان کے دلوں میں محبتِ مصطفیٰ ﷺ کی روشنی قائم رہے گی۔ الفاظ بدلتے رہیں گے، نسلیں آگے بڑھتی رہیں گی اور زمانے کے انداز تبدیل ہوتے رہیں گے، مگر درود و سلام کی خوشبو کبھی ماند نہیں پڑے گی۔

اللہ تعالیٰ ہمیں حضور نبی کریم ﷺ کی سچی محبت، آپ ﷺ کی سنت پر عمل کرنے اور آپ ﷺ کے اخلاقِ حسنہ کو اپنی زندگی میں اپنانے کی توفیق عطا فرمائے۔ ہماری زبانوں کو درود و سلام سے تر، ہمارے دلوں کو بغض و کینہ سے پاک اور ہمارے کردار کو سیرتِ طیبہ کے نور سے منور فرمائے۔

آمین یا رب العالمین، بجاہِ سید المرسلین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ۔