پیر، 19 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

نوجوانی میں نفسیاتی و ذہنی مسائل ،تحریر: ڈاکٹر نازیہ ندیم

نقطہ نظر
dr nazia nadeem

ٹین ایج کے بعد مرحلہ نوجوانی کا آتا ہے نوجوانی کا دور زندگی کا ایک ایسا سحر انگیز اور تلاطم خیز موڑ ہے جہاں انسان کے خواب، اس کی صلاحیتیں اور آرزوئیں شباب پر ہوتی ہیں۔ یہی وہ عمر ہے جب ایک فرد اپنے مستقبل کی تعمیر، کیریئر کی جدوجہد، تعلیمی مراحل کی تکمیلی منزلوں اور مالی استحکام کی جستجو میں رات دن ایک کر دیتا ہے۔ تاہم اسی سنہری دور میں، جہاں جوش و جذبہ کی فراوانی ہوتی ہے، وہیں معاشرتی توقعات، مقابلے کی تگ و دو اور ناپائیدار حالات کے باعث نوجوان شدید قسم کے ذہنی اور نفسیاتی بحرانوں کی گرفت میں آ جاتے ہیں۔ دورِ حاضر کی تیزی اور برقی ترقی نے جہاں زندگی کو آسان بنایا ہے، وہیں فکر و نظر کو ایک ناختم ہونے والے اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ مستقبل کا خوف، تعلیمی دباؤ، روزگار کی تلاش اور زندگی میں خود کو ثابت کرنے کی جدوجہد مسلسل ذہنی تناؤ اور کھچاؤ کا سبب بنتی ہے۔ جب یہ دباؤ حد سے بڑھنے لگتا ہے تو انسان کے ذہن پر ایک دائمی خوف طاری ہو جاتا ہے جسے ہم بے چینی یا اینزائٹی کے نام سے جانتے ہیں۔ ہر وقت کسی انہونی کا کھٹکا، فیصلوں میں ہچکچاہٹ اور ہر کام میں بے جا کمال اور پرفیکشنزم حاصل کرنے کی خواہش نوجوانوں کے سکون کو نگل جاتی ہے، جس کے نتیجے میں دل کی دھڑکن کا تیز ہونا اور اچانک گھبراہٹ کے دورے پڑنا جیسے علامات سامنے آنے لگتی ہیں۔


جب مسلسل کوششوں کے باوجود کامیابی کے چراغ روشن نہیں ہوتے یا توقعات کا محل زمین بوس ہو جاتا ہے، تو بے چینی اور تناؤ کا یہ سفر افسردگی اور ڈپریشن کی تاریک وادی میں جا گرتا ہے۔ ناکامی کا ملال، تنہائی کا زہر اور رشتوں کی تلخی انسان کے اندر کی روشنی بجھا دیتی ہے۔ ڈپریشن میں مبتلا نوجوان کے لیے ہر نیا دن ایک نڈر اور بوجھل آزمائش بن جاتا ہے، جہاں اس کی روزمرہ کی دلچسپیاں ختم ہو جاتی ہیں، اور ایک نہ ختم ہونے والی ناامیدی کا احساس اس کا احاطہ کر لیتا ہے۔ اس ابتر صورتحال میں مزید بگاڑ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب جدید ٹیکنالوجی کی مصنوعی روشنی اور دیر رات تک سکرینوں کا استعمال نیند کے طبیعی نظام کو درہم برہم کر دیتا ہے۔ بے خوابی یا انسومنیا نہ صرف جسمانی طاقت کو سلب کر لیتی ہے بلکہ یہ ذہن کی الجھنوں اور چڑچڑے پن میں بے پناہ اضافہ کرتی ہے، جس سے شخصیت کا توازن متزلزل ہو کر رہ جاتا ہے۔


ان نفسیاتی الجھنوں اور ذہنی مسائل سے نجات حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ سب سے پہلے زندگی کی ترتیب اور معمولات کا نئے سرے سے جائز لیا جائے۔ نوجوانی کے اس مرحلے پر زندگی کے معاملات کو استوار اور متوازن بنانے کے لیے چند عملی اور فکر انگیز اقدامات ناگزیر ہیں۔ سب سے پہلی بات یہ ہے کہ انسان کو اپنی صلاحیتوں اور امکانات کے عین مطابق مقاصد کا تعین کرنا چاہیے اور بے جا سماجی دباؤ یا دوسروں سے تقابل کی روش کو ترک کر دینا چاہیے۔ اپنی دن بھر کی مصروفیات میں سے کچھ وقت قدرتی ماحول کے لیے نکالنا، روزانہ باقاعدگی سے ورزش یا چہل قدمی کو معمول بنانا اور جسمانی صحت کی دیکھ بھال کرنا ذہنی توازن کی بحالی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اسی طرح، سکرین کے استعمال کا ایک حد مقرر کرنا اور رات کی پرسکون نیند کا اہتمام کرنا ذہن کو تازہ دم رکھنے کے لیے بے حد ضروری ہے۔ جذباتی اور نفسیاتی صحت کے لیے اپنے اندر کی باتوں کو دبانے کے بجائے اپنے قریبی اور ہمدرد دوستوں یا اہل خانہ سے دل کا حال بیان کرنا چاہیے، کیونکہ انسان جب اپنے اندر کے غبار کو باہر نکالتا ہے تو اداسی کا بوجھ کتنا ہی سنگین کیوں نہ ہو، کافی حد تک ہلکا ہو جاتا ہے۔


معاملاتِ زندگی کو سدھارنے کے ساتھ ساتھ فطری اور بے ضرر طریقہ علاج کی طرف رجوع کرنا بھی انتہائی مفید ثابت ہوتا ہے۔ اس سلسلے میں ہومیوپیتھک طریقہ علاج ایک ایسا نظام ہے جو نہ صرف بیماریوں کے علامات بلکہ مریض کی کلی نفسیاتی اور جذباتی کیفیت کو مدنظر رکھ کر شفایابی کا راستہ دکھاتا ہے۔ ہومیوپیتھی میں ذہنی اور نفسیاتی مسائل کے لیے بہت سی جامع اور اثر انگیز ادویات موجود ہیں۔ مثال کے طور پر اگر کوئی نوجوان آئندہ کے امتحانات، انٹرویو یا مستقبل کے کسی اہم واقعے کے خوف اور بے چینی کا شکار ہو اور اس کی وجہ سے اس کی ٹانگوں میں کپکپاہٹ یا ذہنی مفلوجیت کا احساس ہو تو جیلسیمیم (Gelsemium) انتہائی موثر ثابت ہوتی ہے۔ اسی طرح، شدید اینزائٹی، خوف، موت کے ڈر اور بے تابی کی کیفیت میں جہاں مریض ایک جگہ سکون سے نہ بیٹھ سکے، ارسنکم البم (Arsenic Album) بہترین نتائج دیتی ہے۔ اگر ذہنی تناؤ اور غصے کی وجہ زیادہ کام کا بوجھ، راتوں کو جاگنا، چائے یا کافی کا زیادہ استعمال اور تیز مزاجی ہو تو نکس والمیکا (Nux Vomica) نظامِ اعصاب کو اعتدال پر لانے میں مددگار ہوتی ہے۔


پہلے سے موجود گہرے صدمے، محبت یا تعلقات کی ناکامی اور خاموش اداسی کے لیے اگنیشیا (Ignatia) کو ایک بے مثال دوا مانا جاتا ہے، جو سینے میں گھٹن اور آہوں کے بار بار نکلنے کی کیفیت کو دور کرتی ہے۔ طویل عرصے سے چلی آنے والی افسردگی، تنہائی پسندی اور ماضی کے تلخ واقعات کو بار بار یاد کر کے کڑھنے کی عادت میں نیٹرم میور (Natrum Muriaticum) مریض کو اس نفسیاتی دلدل سے نکالنے میں معاون ثابت ہوتی ہے۔ اسی طرح، مسلسل ذہنی مشقت، پڑھائی کے تھکاوٹ اور دماغی نچوڑ کے باعث پیدا ہونے والی بے خوابی اور جسمانی کمزوری کے لیے کالی فاس (Kali Phos) اعصابی طاقت بحال کرنے کا ایک اعلیٰ ذریعہ ہے۔ شدید مایوسی اور زندگی سے بیزاری کے جذبات ابھرنے کی صورت میں اورم میٹ (Aurum Metallicum) ذہن کو ازسرِ نو امید اور روشنی کی طرف مائل کرتی ہے۔


ذہن کو پرسکون رکھنے اور صحت مند زندگی کی طرف قدم بڑھانے کے لیے کسی ماہر اور شفیق معالج کی راہنمائی بہت اہم ہوتی ہے۔ ہومیوپیتھک طریقہ علاج میں ہر فرد کی کیفیات کا الگ جائزہ لے کر اس کی انفرادی دوا منتخب کی جاتی ہے، جس سے ذہنی سکون اور توانائی واپس لوٹ آتی ہے۔ اس ضمن میں ڈاکٹر نازیہ ندیم سے رابطہ کیا جا سکتا ہے، جن کی طبی مہارت اور تجربہ نوجوانوں کو ان نفسیاتی اور ذہنی الجھنوں سے نجات دلا کر ایک خوشگوار، پرسکون اور کامیاب زندگی کی طرف گامزن کرنے میں انتہائی مددگار اور شفا بخش ثابت ہو سکتا ہے۔