Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

ریاست سے بغاوت کا انجام، نسلوں کی تباہی تک،تحریر:غنی محمود قصوری

نقطہ نظر
ghani mahmood kasuri

اس وقت کرہ ارض پر موجود دنیا کے بہت سے ممالک مہنگائی، بے روزگاری، سیاسی اختلافات اور معاشی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں جس کی وجہ سے بہت سے ممالک میں مسلح تصادم جاری ہے


جب اندرونی اختلافات مسلح تصادم میں بدل جائیں تو ان کے نتائج نسلوں تک بھگتنا پڑتے ہیں

مسلم دنیا کے ممالک میں سوڈان، لیبیا، افغانستان، عراق، شام اور یمن اس کی نمایاں مثالیں ہیں جہاں جنگوں اور بدامنی نے لاکھوں انسانوں کی زندگیاں متاثر کیں، گھر اجاڑے اور معیشتوں کو شدید نقصان پہنچایا


سوچنے کی بات ہے کہ آخر یہ ممالک اس تباہی تک کیسے پہنچے؟

اس کے اسباب میں آمرانہ طرزِ حکومت، سیاسی ناانصافی، معاشی محرومیاں، اقتدار کی کشمکش، فرقہ وارانہ اختلافات اور بیرونی مداخلت شامل ہیں


تاریخ گواہ ہے کہ جب مذاکرات اور سیاسی عمل کے راستے بند ہونے لگیں اور ہتھیار فیصلے کرنے لگیں تو سب سے زیادہ نقصان عام شہریوں کو اٹھانا پڑتا ہے کیونکہ امراء و صاحب اقتدار لوگ کسی اور ملک میں منتقل ہو جاتے ہیں پیچھے عام عوام ہی بچتی ہے جس کا انجام بڑا خطرناک ہو جاتا ہے


آزادی، انصاف اور بہتر مستقبل کا مطالبہ ہر انسان کا حق ہے

حکومت پر تنقید کرنا یا تبدیلی کا مطالبہ کرنا ریاست سے بغاوت نہیں لیکن جب سیاسی اختلافات کو تشدد میں بدل دیا جائے اور مسلح گروہ اقتدار کے حصول کے لئے ریاستی نظام کو کمزور کرنے لگیں تو حالات قابو سے باہر ہو سکتے ہیں ہیں


خانہ جنگی کا شکار یمن، شام، لیبیا، عراق اور سوڈان کی تاریخ مختلف تو ہے مگر ان میں ایک مشترک سبق ہے کہ اندرونی تنازعات میں بیرونی طاقتوں کی مداخلت اور مسلح گروہوں کی بڑھتی ہوئی طاقت کسی بحران کو طویل اور پیچیدہ بنا سکتی ہے جس کی قیمت عوام اپنے گھروں، کاروبار، تعلیم اور مستقبل کی قربانی دے کر ادا کرتے ہیں


شام میں 2011 میں شروع ہونے والی تحریک طویل خانہ جنگی میں تبدیل ہوئی تو دسمبر 2024 میں بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد بھی ملک کو سلامتی، تعمیرِ نو اور قومی مفاہمت جیسے بڑے چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے

یمن میں 2014 کے بعد پیدا ہونے والے بحران اور 2015 سے شدت اختیار کرنے والی جنگ نے بھی عوام کو شدید مشکلات سے دوچار کیا ہوا ہے

ان ممالک کی مثالیں بتاتی ہیں کہ مسلح تصادم شروع کرنا آسان ہوتا ہے مگر امن بحال کرنا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے


اندرونی اختلافات ،بدامنی ،مہنگائی ،بیروزگاری سے ہونے والی خانہ جنگی صرف مسلم دنیا کا ہی مسئلہ نہیں

کیونکہ ہم نے ابھی حال ہی میں دیکھا کہ میانمار میں 2021 کی فوجی بغاوت کے بعد مسلح تنازع مذید شدت اختیار کر گیا

صومالیہ میں 1991 میں مرکزی حکومت کے خاتمے کے بعد طویل عرصے تک بدامنی رہی

جنوبی سوڈان 2011 میں آزاد ہوا مگر 2013 میں خانہ جنگی شروع ہو گئی


نیپال میں 1996 سے 2006 تک ماؤ نواز باغیوں اور حکومت کے درمیان مسلح تنازع جاری رہا تاہم 2006 کے امن معاہدے نے سیاسی عمل کی راہ کھولی

اسی طرح سری لنکا میں حکومت اور تامل ٹائیگرز کے درمیان تقریباً 26 سالہ جنگ مئی 2009 میں ختم ہوئی مگر اس کے انسانی اور معاشرتی اثرات طویل عرصے تک برقرار رہے اور دنیا نے ان ممالک میں بھوک،غربت،لاقانونیت کا راج دیکھا


ان ممالک کی تاریخ واضح کرتی ہے کہ جب سیاسی اختلافات کا پُرامن حل تلاش نہ کیا جائے تو ریاستی ادارے کمزور اور معاشرے تقسیم ہو سکتے ہیں تاہم ہر ملک کے حالات مختلف ہوتے ہیں کہیں سیاسی محرومیاں بنیادی سبب بنیں ہیں تو کہیں نسلی تنازعات اور کہیں بیرونی مداخلت نے بحران کو بڑھایا ہے


بنگلہ دیش کی علیحدگی سے اور پھر حالیہ انقلاب سے بہت بڑا سبق ملتا ہے


پاکستان کی تاریخ میں 1971 کا سانحہ ایک تلخ حقیقت ہے جب مشرقی پاکستان الگ ہو کر بنگلہ دیش بن گیا

اس کے پس منظر میں سیاسی محرومیاں، اقتدار کی کشمکش، جمہوری مینڈیٹ کا بحران، بڑے پیمانے پر تشدد اور بیرونی مداخلت جیسے عوامل شامل تھے


مکتی باہنی نے مسلح جدوجہد کی اور بھارت کی فوجی مداخلت نے تنازع کے انجام میں اہم کردار ادا کیا تھا

جب دوبارہ بنگالیوں نے اقتدار بدلا تو آج پھر پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان بہتر تعلقات مثال بن رہے ہیں

تو سوچنے کی بات ہے تب اس وقت ہی صبر تحمل سے حل کیوں نا نکالا گیا تاکہ ہزاروں زندگیاں نا ضائع ہوتیں

اب بھی وقت ہے کہ ان دونوں ممالک کو ماضی کے اختلافات سے سبق لیتے ہوئے باہمی احترام اور تعاون کو فروغ ہو گا

پاکستان اور بنگلہ نا صرف موجودہ پاکستانی عوام بلکہ پوری دنیا کیلئے ایک مثال ہے کہ لاکھ اختلاف ہو جائیں ،علیحدگی بھی ہو جائے مگر وقت کبھی نا کبھی پھر سے جوڑتا ہے تو بہتر ہے پہلے ہی جڑے رہیں



پاکستان آج ایک ایسے ملک کی حیثیت رکھتا ہے جس کے پاس وسائل، باصلاحیت نوجوان اور ترقی کے وسیع امکانات موجود ہیں لیکن مہنگائی، بے روزگاری، معاشی دباؤ اور سیاسی عدم استحکام جیسے مسائل بھی درپیش ہیں


اور انہی مسائل کا حل اپنے ملک کو کمزور کرنا نہیں، بلکہ اسے بہتر بنانا ہے

دوسری طرف پاکستان سے محبت کا مطلب یہ بھی نہیں کہ حکومت کی ہر پالیسی کو درست مان لیا جائے بلکہ عوام کو تنقید، پرامن احتجاج اور احتساب کا پورا حق حاصل ہے

اگر حکمران غلطی کریں تو ان سے سوال ہونا چاہیے، ناانصافی ہو تو آواز اٹھنی چاہیے اور عوامی حقوق پامال ہوں تو ان کا دفاع کرنا چاہیے لیکن حکومت اور ریاست میں فرق سمجھنا ضروری ہے کیونکہ حکومتیں بدلتی رہتی ہیں، حکمران آتے جاتے ہیں مگر ریاست نسلوں کا مشترکہ اثاثہ ہوتی ہے

اگر اس کا نقصان ہوا تو خمیازہ نسلیں بھگتنے پر مجبور ہو جاتی ہیں


جسطرح خانہ جنگی کا سب سے بڑا نقصان صرف تباہ شدہ عمارتیں یا ہلاک ہونے والے افراد نہیں ہوتے بلکہ اس سے مستقبل بھی چھین لیا جاتا ہے، بچے تعلیم سے محروم ہو جاتے ہیں، نوجوان روزگار اور تحفظ کھو دیتے ہیں اور خاندان برسوں تک اپنے پیاروں، گھروں اور کاروباروں کی تباہی کے اثرات بھگتتے ہیں


بطور محب وطن پاکستانی ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ آج کے فیصلے صرف ہماری زندگیوں کو نہیں بلکہ ہماری اولاد کے مستقبل کو بھی متاثر کرتے ہیں

ریاست سے اختلاف کرنا اور ریاست کو تباہی کی طرف دھکیلنا دو الگ باتیں ہیں اصلاح، احتساب، جمہوری جدوجہد اور قانون کی بالادستی قوموں کو مضبوط کرتی ہے جبکہ تشدد اور انتشار انہیں کمزور کرتے ہیں


یاد رکھیں کہ ریاستیں صرف سرحدوں سے نہیں بنتیں بلکہ وہ عوام کے اعتماد، انصاف، مضبوط اداروں اور مشترکہ مستقبل سے قائم رہتی ہیں

اور جب یہ بنیادیں کمزور ہوتی ہیں تو سب سے پہلے عام آدمی کا گھر اجڑتا ہے پھر معاشرہ بکھرتا ہے اور آخرکار آنے والی نسلیں اس کی قیمت ادا کرتی ہیں


اللہ تعالیٰ پاکستان کو امن، استحکام اور خوشحالی عطا فرمائے، مسلم دنیا کو اتحاد و انصاف نصیب کرے اور ہمیں اپنے اختلافات کو حکمت اور تدبر سے حل کرنے کی توفیق عطا فرمائے