49 ہزار بلیو پاسپورٹ کا معاملہ قائمہ کمیٹی میں زیرِ بحث، پارلیمنٹیرینز اور بیوروکریٹس کی تفصیلات طلب

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے بلیو پاسپورٹس کے اجرا سے متعلق تفصیلات طلب کرتے ہوئے استفسار کیا ہے کہ جاری کیے گئے 49 ہزار بلیو پاسپورٹس میں سے کتنے ارکان پارلیمنٹ اور کتنے بیوروکریٹس کے پاس ہیں۔ کمیٹی کے اجلاس میں بلیو پاسپورٹس کی تعداد میں کمی، ان کے اجرا کے قواعد اور سابق ارکان پارلیمنٹ کو تاحیات بلیو پاسپورٹ رکھنے کی اجازت دینے سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
اجلاس کے دوران ڈائریکٹر جنرل پاسپورٹ نے بتایا کہ مختلف ممالک کے ساتھ ویزا فری سہولت کی کیٹیگری میں شامل ہونے کے لیے بلیو پاسپورٹس کی تعداد کم کرنا ضروری تھا۔ اسی مقصد کے تحت بلیو پاسپورٹس کی تعداد 75 ہزار سے کم کرکے 49 ہزار کردی گئی ہے۔
ڈی جی پاسپورٹ نے کہا کہ اگر کسی رکن قومی اسمبلی کو صرف اپنے عہدے پر فائز رہنے تک بلیو پاسپورٹ رکھنے کی اجازت دینی ہے تو اس حوالے سے موجودہ قواعد لاگو ہوں گے۔ اجلاس میں بلیو پاسپورٹس کے اجرا اور انہیں اپنے پاس رکھنے کے طریقہ کار پر بھی گفتگو کی گئی۔
اس موقع پر وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا کہ انہیں اجازت دی جائے تاکہ وہ بلیو پاسپورٹس کے معاملے کا کوئی حل نکال کر پیش کرسکیں۔
دوسری جانب گزشتہ دنوں سینیٹ میں ارکان سینیٹ کو تاحیات بلیو پاسپورٹ دینے سے متعلق بل اتفاق رائے سے منظور کیا گیا تھا۔ سینیٹر عبدالقادر نے پاسپورٹ ایکٹ میں ترمیم کا بل پیش کیا تھا، جس میں تجویز دی گئی کہ ایسا ریٹائرڈ رکن پارلیمنٹ جس نے قومی اسمبلی یا سینیٹ کے رکن کی حیثیت سے حلف اٹھایا ہو، وہ بلیو پاسپورٹ اپنے پاس رکھنے اور استعمال کرنے کا حق دار ہوگا، خواہ اس نے اپنی مدت مکمل کی ہو یا نہیں۔
بل میں ارکان پارلیمنٹ کے بچوں کو بھی بلیو پاسپورٹ دینے کی تجویز شامل تھی۔ اس تجویز کے تحت ارکان پارلیمنٹ کے بچوں کو بھی بلیو پاسپورٹ کی سہولت فراہم کرنے کی بات کی گئی تھی۔ بل پر بحث کے دوران سینیٹر ناصر بٹ نے کہا کہ ریٹائر ہونے والے افراد، سیکرٹریز اور ججوں کے بلیو پاسپورٹس منسوخ کیے جائیں۔ ان کا مؤقف تھا کہ متعلقہ عہدوں سے ریٹائرمنٹ کے بعد بلیو پاسپورٹ رکھنے کے معاملے پر نظرثانی کی جانی چاہیے۔
اس موقع پر سینیٹر عبدالقادر نے سوال اٹھایا کہ اگر گریڈ 22 کے سرکاری افسران کے بچوں کو بھی بلیو پاسپورٹ جاری کیے جاتے ہیں تو ارکان پارلیمنٹ کے بچوں کو یہ سہولت کیوں فراہم نہیں کی جاسکتی۔
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ میں بلیو پاسپورٹس سے متعلق تفصیلات طلب کیے جانے کے بعد اس معاملے پر مزید غور کیا جا رہا ہے، جبکہ وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے بھی اس حوالے سے حل پیش کرنے کی اجازت طلب کی ہے۔
مزید پڑھیں




