نیتن یاہو کے مشیر کا قطر کے ‘مثبت امیج’ کیلئے چیٹ جی پی ٹی سے مشورہ لینے کا انکشاف

اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے قریبی مشیر یوناتان یورخ کے حوالے سے یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ انہوں نے قطر کا اسرائیلی شہریوں اور دنیا بھر کی یہودی برادریوں میں مثبت امیج اجاگر کرنے کے لیے چیٹ جی پی ٹی سے مشورہ لیا تھا۔
اسرائیلی نشریاتی ادارے چینل 12 کی رپورٹ کے مطابق نیتن یاہو کے مشیر یوناتان یورخ نے اے آئی سے اسرائیلی شہریوں، دنیا بھر کی یہودی برادریوں اور امریکا کی بااثر شخصیات کو ہدف بنا کر پیغامات کے تین الگ الگ خاکے تیار کرنے کی درخواست کی تھی۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ ‘قطر گیٹ’ اسکینڈل کی تحقیقات کے دوران یوناتان یورخ سے ہونے والی تفتیش کے اقتباسات منظر عام پر آنے کے بعد یہ انکشاف سامنے آیا ہے۔ تفتیش کاروں نے انہیں پولیس کے ہاتھ لگنے والی خط و کتابت بھی دکھائی۔
قطر گیٹ تحقیقات میں ان الزامات کی بھی تفتیش کی جارہی ہے کہ یوناتان یورخ اور نیتن یاہو کے قریبی حلقے کی بعض دیگر شخصیات نے قطر سے منسلک ذرائع سے مبینہ طور پر غیر قانونی رقوم وصول کیں تاکہ اسرائیل میں قطر کے تشخص کو بہتر کیا جا سکے۔ اس معاملے میں رشوت، غیر ملکی ایجنٹ سے رابطے اور منی لانڈرنگ سمیت ممکنہ جرائم کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق نیتن یاہو کے مشیر نے چیٹ جی پی ٹی سے قطر کے وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمٰن آل ثانی اور امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی کی ساکھ بہتر بنانے کے لیے بھی اضافی تجاویز مانگی تھیں۔ تاہم تفتیش کے دوران خط و کتابت دکھائے جانے کے باوجود یوناتان یورخ نے ان تمام الزامات کی تردید کی ہے۔
انہوں نے چیٹ جی پی ٹی سے لیے گئے مشورے پر کہا کہ مجھے یاد نہیں کہ چیٹ جی پی ٹی سے کیا پوچھا تھا کیونکہ وہ اس سے مختلف موضوعات پر سوالات کرتے رہتے ہیں۔
نیتن یاہو کے مشیر نے کہا کہ انہوں نے اسرائیل میں قطر کی جانب سے میڈیا، عوام یا وزیراعظم کے ساتھ معاملات میں کوئی کردار ادا نہیں کیا۔
مزید پڑھیں




