پیر، 2 نومبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

نومبر کی شاموں میں ٹھہرا ہوا وقت،تحریر: زینب جہانزیب

نقطہ نظر
zainab jahazeb

نومبر کی شاموں میں ایک عجیب سی اداسی گھلی ہوتی ہے۔ یہ شامیں نہ مکمل خزاں ہوتی ہیں، نہ سردیوں کی پوری دستک؛ بس ایک درمیانی کیفیت، جہاں ہوا کے لمس میں خنکی اور فضا میں بکھری خاموشی دل کے کسی انجان گوشے کو چھو جاتی ہے۔ سورج جب دن بھر کی مسافت طے کرکے افق کی اوٹ میں چھپنے لگتا ہے تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وقت بھی اپنی رفتار دھیمی کر رہا ہو۔ درختوں سے جھڑتے زرد پتے، گلیوں میں پھیلتی دھند اور آسمان پر اترتی شام مل کر ایک ایسا منظر بناتے ہیں جسے دیکھتے ہوئے انسان چند لمحوں کے لیے اپنی مصروف زندگی سے بے خبر ہو جاتا ہے۔


نومبر کی سرد شامیں اپنے ساتھ صرف موسم کی تبدیلی نہیں لاتیں، بلکہ یادوں کے کئی بند دریچے بھی کھول دیتی ہیں۔ چائے کے کپ سے اٹھتی بھاپ، کھڑکی سے اندر آتی سرد ہوا، آسمان پر پھیلتی دھند اور دور کہیں سے آتی کسی پرندے کی آواز، یہ سب مل کر ایک ایسی فضا تخلیق کرتے ہیں جہاں انسان انجانے میں اپنے ماضی کی گلیوں میں بھٹکنے لگتا ہے۔ کچھ چہرے یاد آتے ہیں، کچھ آوازیں سماعت میں گونجتی ہیں اور کچھ لمحے ایسے ہوتے ہیں جنہیں دوبارہ جینے کی خواہش کبھی ختم نہیں ہوتی۔


عجیب بات ہے کہ بعض موسم انسان کو باہر سے زیادہ اپنی داخلی دنیا میں لے جاتے ہیں۔ نومبر بھی ایسا ہی موسم ہے۔ یہ ہمیں اپنی ذات کے روبرو لا کھڑا کرتا ہے۔ دن کی مصروفیات جب تھک کر خاموش ہو جاتی ہیں تو دل ان سوالوں سے مکالمہ کرنے لگتا ہے جنہیں ہم نے مدت سے روزمرہ کی بھاگ دوڑ میں کہیں دفن کر رکھا ہوتا ہے۔ کبھی خیال آتا ہے کہ ہم نے زندگی کی دوڑ میں کتنے خوب صورت لمحے پیچھے چھوڑ دیے، کتنی خواہشوں کو نامکمل رہنے دیا اور کتنی باتیں ایسی تھیں جو وقت پر کہی جا سکتی تھیں مگر خاموشی کی نذر ہو گئیں۔


کچھ یادیں بھی نومبر کی شاموں جیسی ہوتی ہیں؛ ہلکی سی سرد، قدرے دھندلی، مگر دل کے بہت قریب۔ ان میں خوشی بھی ہوتی ہے اور ایک نامعلوم سی کسک بھی۔ کبھی کسی گزرے ہوئے لمحے کی مسکراہٹ لبوں پر آ ٹھہرتی ہے تو کبھی کسی کی غیر موجودگی پورے ماحول کو اداس کر دیتی ہے۔ شاید انسان کی زندگی کا سب سے دلچسپ پہلو یہی ہے کہ وہ حال میں رہتے ہوئے بھی اپنے ماضی سے مکمل طور پر آزاد نہیں ہو پاتا۔ بعض لوگ ہماری زندگی سے رخصت ہو جاتے ہیں، مگر ان سے وابستہ احساسات کہیں نہیں جاتے۔ وہ کسی مانوس خوشبو، کسی پرانے گیت یا موسم کی پہلی سرد ہوا کے ساتھ اچانک لوٹ آتے ہیں۔


نومبر کی شاموں میں محبت کا تصور بھی کچھ مختلف محسوس ہوتا ہے۔ یہ محبت صرف کسی شخص کی موجودگی یا قربت کا نام نہیں، بلکہ ان چھوٹی چھوٹی چیزوں سے وابستگی بھی ہے جو زندگی کو خوب صورت بناتی ہیں۔ کسی اپنے کے ساتھ بیٹھ کر چائے پینا، بے مقصد گفتگو کرنا، سرد ہوا سے بچنے کے لیے شال کا ایک کونا سنبھالنا یا کسی کی خاموشی کو بغیر سوال کیے سمجھ لینا؛ یہی وہ معمولی دکھائی دینے والے لمحے ہیں جو وقت گزرنے کے بعد زندگی کے قیمتی اثاثے بن جاتے ہیں۔


اور پھر ان شاموں میں ایک خوب صورتی تنہائی کی بھی ہے۔ ضروری نہیں کہ ہر خاموشی اداسی کی علامت ہو، بعض اوقات خاموش رہنا خود سے ملاقات کا سب سے خوب صورت ذریعہ بن جاتا ہے۔ ایک کپ چائے، پسندیدہ کتاب اور کھڑکی کے پار اترتی شام انسان کو وہ سکون دے سکتی ہے جو طویل گفتگوؤں میں بھی میسر نہیں آتا۔ شاید ہم ہمیشہ دوسروں کو سمجھنے اور ان کی توقعات پر پورا اترنے میں اتنے مصروف رہتے ہیں کہ اپنی ذات کی آواز سننا ہی بھول جاتے ہیں۔ نومبر کی طویل ہوتی شامیں ہمیں اسی بھولی ہوئی آواز کی طرف متوجہ کرتی ہیں۔


موسموں کی تبدیلی ہمیں زندگی کا ایک اہم سبق بھی دیتی ہے۔ درخت جب اپنے پتے گراتے ہیں تو ان کی شاخیں بے رونق ضرور دکھائی دیتی ہیں، مگر یہ اختتام نہیں ہوتا۔ فطرت جانتی ہے کہ ہر زوال کے بعد ایک نئی نمو کا امکان موجود رہتا ہے۔ انسان بھی اگر اپنی زندگی کے بکھرے ہوئے حصوں کو قبول کرنا سیکھ لے تو شاید ہر جدائی، ہر محرومی اور ہر نامکمل خواہش اسے توڑنے کے بجائے ایک نئی بصیرت عطا کر سکتی ہے۔


نومبر ہمیں شاید یہی سکھانے آتا ہے کہ ہر گزرنے والی چیز کو بھول جانا ضروری نہیں، کچھ یادوں کو دل میں محفوظ رکھنا بھی زندگی کا ہنر ہے۔ وقت اپنی رفتار سے گزرتا رہتا ہے، موسم بدلتے رہتے ہیں، مگر کچھ لمحے ہماری ذات میں ہمیشہ کے لیے ٹھہر جاتے ہیں۔ ہم چاہیں بھی تو انہیں ماضی کے کسی بند کمرے میں قید نہیں کر سکتے، کیونکہ وہ ہماری شخصیت، ہماری سوچ اور ہمارے احساسات کا حصہ بن چکے ہوتے ہیں۔


شاید نومبر کی سرد شاموں کا اصل حسن بھی یہی ہے کہ یہ ہمیں گزرے ہوئے وقت کا ماتم نہیں، اس کے خوب صورت ہونے کا احساس دلاتی ہیں۔ زندگی کی تمام تر تلخیوں کے باوجود کچھ شامیں ایسی ضرور ہونی چاہییں جن میں ہم خود کو وقت کی تیز رفتاری سے آزاد کرکے چند لمحے جی سکیں؛ کیونکہ زندگی صرف منزل تک پہنچنے کا نام نہیں، راستے میں بکھرے ان حسین لمحوں کو محسوس کرنے کا نام بھی ہے جن کی قدر اکثر گزر جانے کے بعد ہوتی ہے۔


کچھ موسم کیلنڈر سے رخصت ہو جاتے ہیں، مگر ان کی شامیں عمر بھر ہماری یادوں میں چراغ بن کر جلتی رہتی ہیں۔