اور پھر ہم نے اسے بدکردار کہہ دیا، تحریر:انیم چوہدری
نقطہ نظر
رات کے تقریباً دو بج رہے تھے۔ گلی میں خاموشی تھی، مگر اس چھوٹے سے کمرے میں ایک بوڑھی عورت کی کھانسی مسلسل گونج رہی تھی۔ ’’بیٹی…‘‘ بستر پر لیٹی ماں نے بہت دھیمی آواز میں پکارا۔وہ فوراً اٹھ بیٹھی۔ ’’جی، امی؟‘‘ ’’پانی…‘‘ وہ گلاس لے کر ماں کے پاس آئی۔ ماں نے دو گھونٹ پانی پیا اور بیٹی کا ہاتھ پکڑ لیا۔ ’’تم سوئی نہیں؟‘‘وہ مسکرائی۔’’آپ کو چھوڑ کر کیسے سو جاؤں؟‘‘ماں نے اس کے چہرے کو دیکھا۔ کچھ کہنا چاہا، مگر خاموش ہوگئی۔ ماں کی آنکھیں بہت کچھ جانتی تھیں۔وہ جانتی تھی کہ بیٹی رات کو کہاں جاتی ہے۔وہ یہ بھی جانتی تھی کہ ہر صبح واپس آنے والی یہ لڑکی پہلے جیسی نہیں رہتی۔ مگر ماں کیا کرتی؟ اس کے پاس اپنی بیٹی کو بچانے کے لیے آنسوؤں کے سوا کچھ نہیں تھا۔ ’’امی…‘‘ لڑکی نے آہستہ سے پوچھا: ’’اگر میں بری لڑکی بن گئی ہوں تو… کیا آپ بھی مجھے چھوڑ دیں گی؟‘‘ ماں کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے۔ اس نے بیٹی کو اپنے سینے سے لگا لیا۔ ’’تو میری بچی ہے…‘‘ بس اتنا ہی کہہ سکی۔ لڑکی ماں کے سینے سے لگ کر ایسے روئی جیسے برسوں سے اپنے اندر دفن جنازے کو آج دفنا رہی ہو۔ ’’امی، میں نے یہ سب اپنی مرضی سے نہیں کیا…‘‘ ماں نے اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرا۔’’مجھے معلوم ہے۔‘‘ ’’پھر اللہ مجھے معاف کرے گا؟‘‘ماں کی آواز کانپ گئی۔ ’’اللہ… ماں سے بھی زیادہ مہربان ہوتا ہے، بیٹی۔‘‘ وہ رات دونوں ماں بیٹی ایک دوسرے سے لپٹ کر روتی رہیں۔باہر بارش ہوتی رہی۔ اور اندر ایک لڑکی اپنی عزت، اپنے خواب اور اپنی جوانی کے ٹکڑے گنتی رہی۔اس کے باپ کو مرے ہوئے تین سال ہو چکے تھے۔ چھوٹا بھائی ابھی گیارہ برس کا تھا۔ گھر کا کرایہ باقی تھا۔بجلی کا بل باقی تھا۔ ماں کی دوائیں ختم تھیں۔ اور گھر میں آٹے کا آخری مٹھی بھر حصہ بھی ختم ہو چکا تھا۔ اس دن بھائی نے پوچھا: ’’آپی، آج روٹی نہیں بنے گی؟‘‘ وہ کچھ دیر اسے دیکھتی رہی۔ پھر مسکرائی۔’’آج تم میرے ساتھ چائے پیو گے۔‘‘ ’’روٹی کے بغیر؟‘‘ ’’ہاں۔ آج ہم بڑے لوگوں کی طرح چائے پئیں گے۔‘‘ بچہ ہنس دیا۔وہ بھی ہنس دی۔ مگر جب بھائی سو گیا تو وہ باورچی خانے میں گئی، خالی ڈبے کھولے، ایک ایک برتن الٹا… کچھ نہیں تھا۔ وہ فرش پر بیٹھ گئی اپنے منہ پر ہاتھ رکھ لیا۔ تاکہ اس کی سسکی بھائی تک نہ پہنچے۔ اس رات اس نے پہلی مرتبہ خدا سے شکوہ کیا: ’’یا اللہ… غریب پیدا کیا تھا، بے سہارا کیوں چھوڑ دیا؟‘‘ پھر خود ہی ڈر گئی۔ ’’معاف کرنا…‘‘ اس نے سر زمین پر رکھ دیا۔’’میں تھک گئی ہوں۔‘‘ اگلی صبح اسے ایک فون آیا۔ ’’کام چاہیے؟‘‘وہ خاموش رہی۔ ’’پیسے اچھے ملیں گے۔‘‘ اس نے ماں کی دوا کی پرچی دیکھی پھر بھائی کی فیس کی رسید۔ پھر گھر کا کرایہ۔ اس نے آنکھیں بند کر لیں۔ ’’کہاں آنا ہے؟‘‘ اور اسی ایک جملے کے ساتھ…اس کی زندگی دو حصوں میں تقسیم ہوگئی۔ایک وہ لڑکی جو کبھی خواب دیکھا کرتی تھی۔ اور دوسری وہ عورت جو صرف زندہ رہنے کے لیے سانس لے رہی تھی۔ اس کے بعد ہر رات وہ آئینے کے سامنے کھڑی ہوتی۔اپنے چہرے کو دیکھتی۔ کبھی خود سے پوچھتی: ’’کیا واقعی یہ میں ہوں؟‘‘پھر آئینہ خاموش رہتا۔ وہ اپنے آنسو پونچھتی۔ لبوں پر مسکراہٹ لاتی۔ اور دروازہ کھول دیتی۔ کیونکہ گھر میں ایک بیمار ماں تھی۔ Lایک بھوکا بھائی تھا۔ اور دنیا کو ان دونوں سے کوئی سروکار نہیں تھا۔دنیا کو صرف اس کی قیمت معلوم تھی۔ ایک رات ایک آدمی نے جاتے ہوئے اسے کچھ نوٹ تھمائے اور کہا: ’’تم عورتیں پیسوں کے لیے کچھ بھی کر سکتی ہو۔‘‘وہ نوٹ اس کے ہاتھ میں رکھے تھے۔ وہ انہیں دیکھتی رہی۔ پھر آہستہ سے بولی: ’’صاحب… آپ نے کبھی بھوک دیکھی ہے؟‘‘وہ شخص ہنس دیا۔ ’’کیا مطلب؟‘‘ اس نے نوٹ واپس اس کے ہاتھ میں رکھ دیے۔ ’’کچھ نہیں۔ آپ نہیں سمجھیں گے۔‘‘ وہ آدمی چلا گیا۔دروازہ بند ہوا۔اور وہ وہیں فرش پر بیٹھ گئی۔ اس نے اپنے گھٹنوں میں سر چھپا لیا۔ ’’میں کچھ بھی نہیں کرنا چاہتی تھی…‘‘ اس کی آواز ٹوٹ گئی۔ ’’میں صرف جینا چاہتی تھی۔‘‘ کچھ سال بعد ماں دنیا سے چلی گئی۔ آخری وقت میں اس نے بیٹی کا ہاتھ پکڑ کر کہا: ’’اب اپنے لیے جینا۔‘‘ وہ چیخ پڑی: ’’امی! میرے لیے تو آپ ہی تھیں!‘‘ ماں نے آنکھیں بند کر لیں۔ اور اس کے بعد… اس دنیا میں واقعی اس کا کوئی نہیں تھا صرف ایک بھائی تھا۔وہ بھائی جسے اس نے اپنی زندگی دے دی تھی۔ سال گزرتے گئے۔ بھائی پڑھ لکھ کر بڑا افسر بن گیا۔ایک دن اس نے بہن سے کہا: ’’آپی، میری شادی ہے۔ آپ ضرور آنا۔‘‘وہ مسکرائی۔ ’’میں کیسے نہ آؤں گی؟‘‘ شادی والے دن وہ بہت دیر تک دروازے کے باہر کھڑی رہی۔وہ اندر جانا چاہتی تھی۔ مگر ڈر رہی تھی۔ اگر کسی نے پہچان لیا تو؟ اگر کسی نے اس کے بھائی سے پوچھ لیا تو؟ اگر اس کے ماضی نے اس کے بھائی کی خوشی چھین لی تو؟ وہ واپس مڑنے لگی۔ اچانک بھائی نے اسے دیکھ لیا۔دوڑ کر آیا۔ ’’آپی! آپ باہر کیوں کھڑی ہیں؟‘‘ اس نے ہاتھ پکڑ کر اسے اندر لے لیا۔ ’’یہ میری بہن ہے۔‘‘ لوگوں کے سامنے اس نے فخر سے کہا۔ ’’اس نے مجھے پڑھایا ہے۔‘‘ وہ کچھ نہ بول سکی۔ اس کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔ بھائی نے پوچھا: ’’آپی، آپ رو کیوں رہی ہیں؟‘‘وہ مسکرائی۔ ’’بس… آج امی بہت یاد آ رہی ہیں۔‘‘ اس نے یہ نہیں بتایا کہ اسے اپنی ماں سے زیادہ آج اپنی وہ راتیں یاد آ رہی تھیں… جب وہ بھائی کی فیس کے لیے خود کو بیچ کر واپس آتی تھی۔شادی ختم ہوئی۔وہ اکیلی گھر واپس آئی۔ دروازہ بند کیا۔ دوپٹہ اتارا۔ آئینے کے سامنے کھڑی ہوئی۔ پھر اچانک اسے اپنی ماں کی آواز یاد آئی:’’اللہ ماں سے بھی زیادہ مہربان ہوتا ہے، بیٹی۔‘‘ وہ فرش پر بیٹھ گئی۔ اور برسوں بعد پہلی بار اس نے خود کو معاف کرنے کی کوشش کی۔ باہر صبح ہونے والی تھی۔ فجر کی اذان بلند ہوئی۔وہ اٹھ کر وضو کرنے لگی۔ آنکھوں سے آنسو مسلسل بہہ رہے تھے۔اس نے جائے نماز بچھائی۔ سجدے میں گئی۔ اور بس ایک جملہ کہا: ’’یا اللہ… میں بری نہیں تھی، بس بہت مجبور تھی۔‘‘ پھر اس کی ہچکی بندھ گئی۔ اتنی دیر تک روتی رہی کہ شاید اس کے اندر برسوں سے جمع ہر درد آنسو بن کر بہہ گیا۔ صبح جب وہ باہر نکلی تو وہی شہر تھا وہی لوگ تھے۔ وہی نظریں تھیں۔مگر آج پہلی بار اسے لوگوں کے فیصلوں سے زیادہ اپنے رب کی رحمت پر یقین تھا۔وہ آہستہ آہستہ چلتی رہی۔ اور اس کے پیچھے اس کی پوری زندگی پڑی تھی۔ایک ایسی زندگی…جس میں اسے کسی نے محبت سے نہیں پوچھا تھا: ’’تم ٹھیک تو ہو؟‘‘ شاید کبھی کبھی کسی انسان کو گناہ سے پہلے ایک ہاتھ چاہیے ہوتا ہے۔ ایک ایسا ہاتھ جو اسے پکڑ کر کہہ دے: ’’چلو… گھر چلتے ہیں۔‘‘ مگر افسوس…اس کے حصے میں ہاتھ نہیں آئے۔صرف قیمت لگانے والے ہاتھ آئے۔ اور پھر ہم نے اسے بدکردار کہہ دیا
مزید پڑھیں




