شاخوں کے نوحے اور پرندوں کی ہجرت،تحریر:مہوش بنت بشارت
نقطہ نظر
تخلیقِ کائنات کا حسن اپنے اندر بے پناہ وسعتیں اور گہرائیاں رکھتا ہے جس کا اعتراف ہر دور کے صاحبِ بصیرت انسان نے کیا ہے۔ جب زمین نے اپنے وجود پر زندگی کا پہلا سانس لیا ہوگا تو یقیناً اس وقت کوئی مشینی شور نہ ہوگا اور نہ ہی انسانی تمدن کی ایجاد کردہ مصنوعی آوازیں فضا کو آلودہ کر رہی ہوں گی۔ اس وقت اگر کوئی آواز فضا میں گونجتی ہوگی تو وہ بہتے جھرنوں کا ترنم، ہوا کی سرسراہٹ اور درختوں کی شاخوں پر بیٹھے پرندوں کی مدھم چہچہاہٹ ہوگی۔ یہ چہچہاہٹ محض چند آوازوں کا مجموعہ نہیں ہے بلکہ یہ فطرت کا وہ ابدی نغمہ ہے جو روح کے تاروں کو چھیڑتا ہے اور انسان کو مٹی کے اصل وجود سے جوڑتا ہے۔ماضی کے جھروکوں میں جھانکیں تو معلوم ہوتا ہے کہ انسانی زندگی اور پرندوں کا رشتہ کس قدر گہرا اور اٹوٹ رہا ہے۔ پرانے وقتوں میں صبح کا آغاز کسی مصنوعی گھنٹی یا برقی آلات کی کرخت آوازوں سے نہیں ہوتا تھا بلکہ افق پر سپیدہ سحر نمودار ہوتے ہی چڑیوں کا شور، طوطوں کی ٹیں ٹیں اور کوئل کی کوکو انسانی بیداری کا سبب بنتی تھی۔ وہ ایک ایسا پرسکون دور تھا جب انسان فطرت کے توازن کے ساتھ سانس لیتا تھا۔ صبح سویرے بستر سے اٹھ کر صحن میں آنا اور درختوں پر چہچہاتے پرندوں کو دیکھنا دل کو ایک ایسی انوکھی فرحت اور تازگی سے بھر دیتا تھا جس کا متبادل آج کی مادی دنیا کی کوئی بھی آسائش فراہم نہیں کر سکتی۔ یہ پرندے دراصل کائنات کے وہ نغمہ نگار ہیں جو بغیر کسی معاوضے کے روزانہ انسان کی روح کی تسکین کے لیے اپنا فن پیش کرتے ہیں مگر افسوس کہ جیسے جیسے انسان نے مادی ترقی کی منازل طے کیں اور تمدن کے نئے افق دریافت کیےوہ اپنے اس خوبصورت اثاثے سے دور ہوتا چلا گیا۔ ہم نے اپنے آرام اور آسائش کے لیے جنگلات کا بے دردی سے صفایا کیا اور ہرے بھرے باغات کو کاٹ کر وہاں خشت و سنگ کے بے روح اور آہنی جنگل کھڑے کر دیے۔ بلند و بالا عمارتوں، کارخانوں کے دھوئیں اور سڑکوں پر دوڑتی گاڑیوں کے کان پھاڑتے شور نے ان معصوم پرندوں کو ہمارے شہروں سے ہجرت کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ اب ہمارے آنگن ویران ہیں اور کھڑکیاں بند ہیں۔ وہ چڑیاں جو کبھی ہمارے گھروں کے روشن دانوں میں گھونسلے بناتی تھیں اور جن کی ننھی اڑان بچوں کے لیے مسرت کا باعث بنتی تھی اب وہ شہروں کے جدید طرزِ تعمیر کی نذر ہو چکی ہیں۔ ہم نے ترقی تو کر لی لیکن اس ترقی کی قیمت ہم نے اپنی ذہنی آسودگی اور فطرتی حسن کی قربانی دے کر چکائی ہے۔نفسیاتی اور روحانی اعتبار سے دیکھا جائے تو پرندوں کی چہچہاہٹ انسانی صحت کے لیے ایک اکسیر کا درجہ رکھتی ہے۔ آج کا انسان جتنے شدید ذہنی دباؤ، اضطراب اور تنہائی کا شکار ہے ماضی میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ اس کی ایک بڑی وجہ فطرت سے دوری ہے۔ طبی اصول بھی اس بات کی تائید کرتے ہیں کہ جب انسان چند لمحے خاموشی سے پرندوں کے گیت سنتا ہے تو اس کے دماغ کے خلیوں کو سکون ملتا ہے اور اندرونی خلفشار کا خاتمہ ہوتا ہے۔ یہ آوازیں انسان کو یہ احساس دلاتی ہیں کہ وہ اس کائنات میں اکیلا نہیں ہے بلکہ زندگی کی ایک بہت بڑی اور خوبصورت لہر کا حصہ ہے۔ پرندوں کی بولیاں صوفیانہ رنگ بھی رکھتی ہیں کیونکہ صوفیائے کرام کے نزدیک یہ پرندے صبح کے وقت اپنے خاص انداز میں اپنے خالقِ حقیقی کی حمد و ثنا بیان کرتے ہیں۔ ان کی یہ تسبیح انسان کو توکل اور شکر گزاری کا وہ لازوال سبق دیتی ہے جو بڑے بڑے کتب خانوں کی کتابیں بھی نہیں سکھا پاتیں۔ یہ ننھی جانیں کل کے رزق کی فکر سے آزاد ہو کر صبح اپنے گھونسلوں سے نکلتی ہیں اور شام کو پیٹ بھر کر خوشی خوشی اپنے ٹھکانوں کو لوٹ آتی ہیں۔موجودہ دور کی سائنسی ایجادات اور مواصلاتی لہروں نے ان بے زبانوں کی زندگی کو مزید اجیرن بنا دیا ہے۔ فضا میں پھیلا ہوا برقی مقناطیسی جال ان پرندوں کے حواس کو متاثر کرتا ہے جس کی وجہ سے بہت سے پرندے اپنے راستے بھول جاتے ہیں یا موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ یہ ایک خاموش المیہ ہے جس پر معاشرے کو سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر ہم نے اب بھی اپنے رویوں پر نظرِ ثانی نہ کی تو وہ دن دور نہیں جب پرندوں کے گیت صرف قصے کہانیوں اور کتابوں کے صفحات تک محدود رہ جائیں گے اور ہماری آنے والی نسلیں اس لافانی حسن سے بالکل محروم ہو جائیں گی۔
اس سنگین صورتحال کا تقاضا ہے کہ ہم انفرادی اور اجتماعی سطح پر کچھ عملی اقدامات کریں۔ ہمیں اپنے گھروں کی بالکونیوں، چھتوں اور صحنوں میں درخت اور پودے لگانے چاہئیں تاکہ ان پرندوں کو دوبارہ اپنے گھروں کی طرف لوٹنے کا بہانہ مل سکے۔ ان کے لیے دانے اور پانی کا انتظام کرنا نہ صرف ایک اخلاقی اور انسانی فریضہ ہے بلکہ یہ ہمارے اندر کی مردہ ہوتی ہوئی ہمدردی کو بھی زندہ رکھنے کا سبب بنے گا۔ جب تک ہم فطرت کے ساتھ اپنے ٹوٹے ہوئے رشتے کو دوبارہ استوار نہیں کریں گےتب تک ہم حقیقی خوشی اور قلبی سکون حاصل نہیں کر سکتے۔ زندگی کا اصل حسن خشت و سنگ کے ان چمکتے ہوئے ڈھانچوں میں نہیں ہے بلکہ ان ہرے بھرے درختوں اور ان پر چہچہاتے پرندوں کے دم قدم سے ہے جو کائنات کی رعنائی کو برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ آج سے عہد کریں کہ ہم اپنی زندگیوں میں فطرت کو دوبارہ جگہ دیں گے اور ان بے زبان نغمہ نگاروں کے گیتوں کو اپنے آنگنوں میں دوبارہ خوش آمدید کہیں گے۔
مزید پڑھیں




