پیر، 19 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

شخصیت نگاری ، پروین شاکر،تحریر: ایس اے شازِم

نقطہ نظر
s a shazim

پروین شاکر ایک بہترین و معروف شاعرہ 26 نومبر 1952ء کو کراچی میں پیدا ہوئیں۔ وہ بچپن سے ہی حساس طبیعت کی مالک تھیں۔ ہر چھوٹی سے چھوٹی بات میں کچھ نہ کچھ تلاش کر ہی لیتی تھی اور کبھی کبھی تو معمولی سی بے رُخی بھی ان کے دل میں ایک طوفان برپا کر دیتی تھی۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم رضویہ گرلز اسکول کراچی سے حاصل کی۔ دورانِ تعلیم مختلف نصابی سرگرمیوں کے علاوہ تقریری مقابلوں، بحث و مباحثہ اور ادب سے متعلق سرگرمیوں میں حصہ لیتی رہیں۔ میٹرک تک پہنچتے پہنچتے اُن کا ادبی ذوق اور الفاظ سے کھیلنے کی صلاحیت بہت نمایاں اور شاندار ہو چکی تھی۔ اس کے بعد انہوں نے ثانوی تعلیم مکمل کی اور بعد ازاں انہوں نے سر سید کالج سے بی اے آنرز کی ڈگری حاصل کی۔ کالج کے دور سے ہی ان کا ادب سے لگاؤ پختہ ہوتا گیا اور انہوں نے باقاعدہ شاعری لکھنے کا عمل شروع کیا۔ کالج کی ادبی محفل اور مشاعروں میں ان کی شرکت بڑھتی گئی۔ بی اے کے بعد انہوں نے یونیورسٹی سے ایم اے میں داخلہ لیا اور اپنے ادبی شوق کو پورا کرنے کی جستجو میں لگ گئی۔ ایم اے لسانیات کے بعد ان کا تخلیقی حُسن نکھرتا گیا اور وہ ادبی فورمز کا حصہ بننے لگی۔

ان کے والدِ محترم بھی شاعری سے دلچسپی رکھتے تھے اور گھر میں ایک ادبی ماحول تھا۔ اُن کے گھرانے میں ادب و شاعری کی قدر تھی اور یہی ماحول پروین شاکر کی ادبی رجحان کی بنیاد بنا۔

ان کی تربیت کے دور نے انہیں معاشرتی، ادبی اور تعلیمی اعتبار سے مضبوط بنیاد دی۔ جو بعد میں ان کی شاعری اور پیشہ ورانہ زندگی دونوں میں نمایاں نظر آتی ہیں۔

سی ایس ایس کے امتحان میں نمایاں کامیابی کے بعد انہوں نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن میں اپنی پیشہ ورانہ صلاحیت انجام دیں۔

وہ ایک معروف پاکستانی شاعرہ، سرکاری ملازمہ اور سول سروسز (سی ایس ایس) کا امتحان پاس کرنے والی افسر تھیں۔ ان کی شادی ان کے خالہ زاد کزن ڈاکٹر نصیر علی سے ہوئی، جس کے بعد طلاق ہو گئی۔ان سے ایک بیٹے ہیں جن کا نام مراد علی ہے۔ ان کی زندگی میں اُن کے والد شاکر حسین ثاقب نے اہم کردار ادا کیا۔

پروین شاکر اپنی رومانوی شاعری کے لیے مشہور ہیں، جس میں نسوانی جذبات، زندگی کے تجربات اور تلخیوں کو بڑی خوبصورتی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔ ان کی پہلی کتاب "خوشبو" نے بے پناہ شہرت حاصل کی۔ان کی شاعری کو احمد ندیم قاسمی کی سرپرستی حاصل رہی اور ان کا کلام اکثر ان کے رسالے "فنون" میں شائع ہوتا تھا۔

پروین شاکر ایک پاکستانی شاعرہ اور حکومت پاکستان کی سرکاری ملازم تھیں۔ اسلام آباد میں سیکرٹری دوم کے طور پر اپنی خدمات انجام دے رہیں تھیں۔ وہ اپنی شاعری کے لیے مشہور ہیں۔

پروین شاکر کا ادبی سفر اُس وقت شروع ہوا جب ان کا پہلا شعری مجموعہ "خوشبو" شائع ہوا۔ یہ محض ایک شاعری کی کتاب نہ تھی بلکہ اردو شاعری میں ایک نئی خوشبو کا آغاز تھی۔ اس کتاب کی خوشبو نے پروین شاکر کو راتوں رات نہ صرف شہرت کی بلندیوں تک پہنچا دیا بلکہ انہیں ایک منفرد شناخت بھی عطا کی۔

پروین شاکر کی شاعری کی سب سے اہم خصوصیت میں ان کا نسائی شعور ظاہر ہوتا ہے۔ انہوں نے پہلی بار عورت کی اندر دنیا کو اس شدت، سچائی اور لطافت سے بیان کیا کہ اردو غزل میں عورت صرف محبوبہ یا موضوع نہ رہی بلکہ خود ایک صدا بن گئی۔ پروین شاکر نے عورت کے دل کی دھڑکن، اس کی بے بسی، اس کی خواہشات، اس کی خودداری اور اس کی نفسیاتی کیفیتوں کو ایک سلیقے اور تہذیب سے پیش کیا۔ وہ عورت کو یوں بیان کرتی ہیں جیسے وہ خود اس کی زبان ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری میں عورت محض جذباتی کردار نہیں بلکہ ایک باوقار وجود ہے۔ جو محبت بھی کرتی ہے، دکھ بھی سہتی ہے مگر اپنے احساسِ ذات کو قائم بھی رکھتی ہے۔

ان کی شاعری میں رومانویت ایک مرکزی مقام رکھتی ہے لیکن یہ رومانس فقط جذباتی نہیں بلکہ تہذیبی، فکری اور روحانی جہت بھی رکھتا ہے۔ محبت ان کے یہاں صرف چاہت نہیں بلکہ انسان کی داخلی تکمیل کا ذریعہ ہے۔ ان کے اشعار میں محبوب کی کمی یا جدائی کی اداسی محض دکھ نہیں بنتی بلکہ پڑھنے والے کے دل میں ایک نرم سی نمی چھوڑ جاتی ہے۔ پروین شاکر کی زبان کی سب سے بڑی طاقت اُن کی سادگی میں پوشیدہ ہے۔

ان کے شعری مجموعوں میں خوشبو، صد برگ، خود کلامی اور"انکار" شامل ہیں۔ "انکار" ہر انسان کے فکری سفر کے ایک نئے دور کی نمائندگی کرتا ہے۔ "خوشبو" میں جہاں صنف نازک کی نسائی طاقت اور رومانیت کا غلبہ ہے، وہاں "صد برگ" میں ان کی علامتی اور فکری گہرائی بڑھ جاتی ہے۔ "خود کلامی" میں ان کی شاعری داخلی گفتگو بن جاتی ہے، جب کہ "انکار" میں ان کا لہجہ مضبوط، حقیقت پسند اور تلخیوں سے آشنا ہے۔ بعد از وفات شائع ہونے والا کفِ آئینہ ان کی غیر مطبوعہ شاعری کو سمیٹنے کی ایک خوب صورت کوشش ہے۔

پروین شاکر کی شخصیت میں بھی وہی نرمی، سلیقہ اور وقار تھا جو ان کی شاعری میں جھلکتا ہے ۔ سرکاری ذمہ داریوں نے ان کے اندر نظم و ضبط اور سنجیدگی پیدا کی، لیکن ان کی شاعری ہمیشہ آزاد اور نرم رہی۔ وہ زندگی کے دکھ سہتے ہوئے بھی مسکراتی رہیں، سخت کڑے نظام کے اندر رہ کر بھی حسّاس دل کی مالک رہیں، اور لفظوں کو ہمیشہ محبت کے ساتھ برتنا سکھایا۔

ان کی شخصیت میں ایک عجیب سی کشش تھی۔ جو بھی ملتا ان کا گرویدہ ہو جاتا۔ زندگی کے تجربات نے انہیں توڑا بھی اور نچوڑا بھی مگر انہوں نے اپنے فن کو کبھی کمزور نہ پڑنے دیا۔ یہی وجہ ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان کی شاعری میں تلخیوں کا اثر ظاہر ہوتا ہے۔

26 دسمبر 1994ء کواسلام آباد میں ایک کار حادثے نے ان کی زندگی کا سفر ختم کردیا لیکن وہ آج بھی ہمارے دلوں میں زندہ ہیں کیونکہ احساس کبھی نہیں مرتا۔

ان کی ایک غزل جو مجھے بہت پسند ہے، پیشِ خدمت ہے۔۔۔!


غزل


وہ تو خوش بو ہے ہواؤں میں بکھر جائے گا

مسئلہ پھول کا ہے پھول کدھر جائے گا


ہم تو سمجھے تھے کہ اک زخم ہے بھر جائے گا

کیا خبر تھی کہ رگ جاں میں اتر جائے گا


وہ ہواؤں کی طرح خانہ بجاں پھرتا ہے

ایک جھونکا ہے جو آئے گا گزر جائے گا


وہ جب آئے گا تو پھر اس کی رفاقت کے لیے

موسم گل مرے آنگن میں ٹھہر جائے گا


آخرش وہ بھی کہیں ریت پہ بیٹھی ہوگی

تیرا یہ پیار بھی دریا ہے اتر جائے گا


مجھ کو تہذیب کے برزخ کا بنایا وارث

جرم یہ بھی مرے اجداد کے سر جائے گا