ترقی یافتہ دنیا کا اضطراب، احتجاج اور حقیقی سکون کی تلاش،تحریر: سید علی جبران نقوی
نقطہ نظر
دنیا کی ترقی یافتہ ریاستیں جدید ٹیکنالوجی، معیاری جامعات، وسیع طبی سہولتوں اور مضبوط معاشی نظاموں کے باوجود سماجی اضطراب سے محفوظ نہیں۔ اکتوبر 2026 کی رپورٹنگ کے مطابق فرانس میں تعلیمی سہولتوں اور مہنگائی کے خلاف احتجاج پُرتشدد صورت اختیار کر گیا، جبکہ اٹلی میں بڑھتی لاگت اور البانیہ میں بدعنوانی اور تعلیمی مسائل پر مظاہرے رپورٹ ہوئے۔ (رائٹرز، ایسوسی ایٹڈ پریس، دی گارڈین)
یہ واقعات ایک بنیادی سوال اٹھاتے ہیں: مادی ترقی کے باوجود معاشرے بے چینی، غصے اور عدم اطمینان کا شکار کیوں ہوتے ہیں؟
اس کی وجوہات متعدد ہیں۔ مہنگائی، بے روزگاری، رہائش کی ناقابلِ برداشت قیمتیں، آمدنی میں عدم مساوات، بدعنوانی، ناقص عوامی خدمات اور حکمرانوں پر عدم اعتماد عوامی غصے کو بڑھا سکتے ہیں۔ نوجوانوں کو تعلیم کے بعد روزگار اور بہتر مستقبل کی امید نہ ملے تو مایوسی مزید گہری ہوتی ہے۔ تاہم ہر احتجاج پُرتشدد نہیں ہوتا اور نہ ہی تمام معاشروں کے مسائل یکساں ہیں۔
احتجاج بذاتِ خود کسی معاشرے کی ناکامی نہیں؛ پُرامن احتجاج شہریوں کا جائز جمہوری اظہار ہے۔ اصل مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب مظاہرین تشدد، آتش زنی اور توڑ پھوڑ پر اتر آئیں، یا ریاستی ادارے قانون کے مطابق متناسب کارروائی اور شہری حقوق کے تحفظ میں ناکام رہیں۔
حل محض طاقت کے استعمال میں نہیں بلکہ مؤثر حکمرانی، شفاف احتساب، انصاف، روزگار کے مواقع، معیاری تعلیم، سستی رہائش اور عوامی شکایات کے بروقت ازالے میں ہے۔ ریاست کو پُرامن احتجاج کا حق محفوظ رکھتے ہوئے تشدد اور املاک کو نقصان پہنچانے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کرنی چاہیے۔
لیکن انسانی زندگی کا ایک پہلو ایسا بھی ہے جسے صرف معاشی ترقی سے نہیں سمجھا جا سکتا: قلبی اور روحانی اطمینان۔ یہ کہنا درست نہیں کہ ہر خوش حال انسان بے سکون ہے، مگر مادی آسائشیں بذاتِ خود دائمی سکون کی ضمانت بھی نہیں۔
قرآن مجید واضح کرتا ہے: ’’سن لو! اللہ کے ذکر ہی سے دل اطمینان پاتے ہیں (سکون پاتے ہیں)۔‘‘ (سورۃ الرعد، 13:28)۔ اسی طرح فرمایا: ’’جو شخص بھی نیک عمل کرے گا خواہ وہ مرد ہو یا عورت، بشرطیکہ ہو وہ مومن، اُسے ہم دُنیا میں پاکیزہ زندگی بسر کرائیں گے اور (آخرت میں)ایسے لوگوں کو اُن کے اجر اُن کے بہترین اعمال کے مطابق بخشیں گے۔‘‘ (سورۃ النحل، 16:97)۔
قرآن دنیا کی زندگی کو آخری منزل نہیں قرار دیتا۔ سورۃ العنکبوت (29:64) میں دنیاوی زندگی کو کھیل تماشے سے تشبیہ دے کر بتایا گیا ہے کہ حقیقی زندگی آخرت کی زندگی ہے۔ سورۃ الحدید (57:20) دنیا کی رونق، مال و اولاد پر فخر اور مسابقت کی عارضی حقیقت واضح کرتی ہے، جبکہ سورۃ القصص (28:77) آخرت کے گھر کی تلاش کے ساتھ دنیا میں اپنے جائز حصے کو نہ بھولنے کی تعلیم دیتی ہے۔
اسلام محض عبادت نہیں، عدل، امانت، حقوق العباد اور ذمہ داری کا بھی دین ہے۔ سورۃ الزلزال (99:7-8) کے مطابق ذرہ برابر نیکی یا بدی بھی سامنے آئے گی، اور سورۃ آل عمران (3:185) یاد دلاتی ہے کہ ہر جان کو موت کا ذائقہ چکھنا ہے اور پورا بدلہ قیامت کے دن ملے گا۔ جنت اہلِ ایمان کے لیے اللہ کا وعدہ کردہ اجر ہے (سورۃ البقرہ، 2:25)۔
پاکستان کا آئین بھی اسلامی تشخص کے ساتھ شہری حقوق اور قانونی نظم کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔ آرٹیکل 16 پُرامن اجتماع، جبکہ آرٹیکل 19 آزادیٔ اظہار اور صحافت کو قانونی حدود کے تابع تسلیم کرتا ہے۔
لہٰذا ایک پُرامن معاشرے کے لیے عدل و انصاف، جواب دہی اور معاشی اصلاحات ناگزیر ہیں؛ اور فرد کے لیے ایمان، نیکی، خدمتِ خلق اور آخرت کی جواب دہی کا احساس زندگی کو بامعنی بناتا ہے۔ حقیقی کامیابی دنیا کی تعمیر اور آخرت کی تیاری، دونوں میں توازن قائم کرنے میں ہے۔
مزید پڑھیں




