لاہور:نشہ کی حالت میں ڈرائیونگ، خاتون کی گاڑی کو ٹکر مارنے پر پولیس اہلکار گرفتار

لاہور میں نشے کی حالت میں گاڑی چلانے اور خاتون کی گاڑی کو ٹکر مارنے کے الزام میں پولیس کے اسسٹنٹ سب انسپکٹر (اے ایس آئی) کے خلاف مقدمہ درج کرکے اسے گرفتار کر لیا گیا۔ پولیس اہلکار نے خاتون کی گاڑی کو پہنچنے والے نقصان کے ازالے کے لیے پانچ لاکھ روپے ادا کر دیے، تاہم معاملہ باہمی رضامندی سے طے پانے کے باوجود اہلکار کے خلاف محکمانہ انکوائری جاری رہے گی۔
تفصیلات کے مطابق 16 اکتوبر 2026 کو لاہور کی جیل روڈ پر ایک خاتون کی گاڑی کو ٹکر مارنے کا واقعہ پیش آیا، جس میں پولیس اہلکار اے ایس آئی غافر نوید ملوث پایا گیا۔ تھانہ شادمان پولیس نے واقعے کا مقدمہ درج کرکے ملزم اہلکار کو گرفتار کر لیا۔ غافر نوید جوڈیشل ونگ میں تعینات تھا۔
پولیس اہلکار پر تیز رفتاری، غفلت اور نشے کی حالت میں گاڑی چلانے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ واقعے کے بعد غافر نوید نے خاتون کی گاڑی کو پہنچنے والے نقصان کے ازالے کے لیے پانچ لاکھ روپے ادا کیے، جس کے بعد خاتون اور پولیس اہلکار کے درمیان معاملہ باہمی رضامندی سے طے پا گیا۔ حکام کے مطابق فریقین کے درمیان معاملہ طے پانے کے باوجود پولیس اہلکار کے خلاف محکمانہ کارروائی ختم نہیں کی جائے گی۔ ایس ایس پی آپریشنز لاہور واقعے کی غیرجانبدارانہ انکوائری کر رہے ہیں، جبکہ الزام ثابت ہونے کی صورت میں متعلقہ اہلکار کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے اس واقعے پر اپنے مؤقف میں کہا کہ قانون کی پاسداری شہریوں اور پولیس اہلکاروں پر یکساں لازم ہے اور وردی کسی کو قانون سے بالاتر ہونے کا اختیار نہیں دیتی۔
انہوں نے مزید کہا کہ محکمہ پولیس میں احتساب کے عمل کو یقینی بنایا جائے گا اور الزام ثابت ہونے پر متعلقہ اہلکار کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔
مزید پڑھیں



