غیرت کا اصل تقاضا یہ نہیں کہ کمزور کو کچلا جائے یا ہجوم بن کر آگ لگائی جائے، بلکہ غیرت کا حقیقی تقاضا یہ ہے کہ مظلوم کا ساتھ دیا جائے، قانون کا احترام کیا جائے اور ہر شہری کے لیے مساوی عدل کو یقینی بنایا جائے۔ہمارے معاشرے کی بنیادیں اس وقت عجیب تضادات کا شکار نظر آتی ہیں جب ہم "غیرت" اور "قانون" کے رشتے کو دیکھتے ہیں۔ ایک طرف جہاں مذہب، ریاست اور آئین تمام شہریوں کے لیے مساوات اور انصاف کے یکساں حقوق کا اعلان کرتے ہیں، وہیں دوسری طرف عملاً "غیرت" کو قانون سے بالاتر اور ہجوم کے انصاف کو ریاست کی حاکمیت پر فوقیت حاصل ہوتی دکھائی دیتی ہے۔حالیہ دنوں میں پیش آنے والے چند واقعات—چاہے وہ نارنگ منڈی (گھڑیال) کا واقعہ ہو جہاں عرفان گل کے گھر اور میڈیکل اسٹور کو مبینہ توہین آمیز مواد کے الزام میں مشتعل ہجوم نے آگ لگا دی، ملتان کے علاقے آرچرڈ میں ایک یتیم بچے کو تحقیر اور بے حسی کے ساتھ کچل دینے کا حادثہ ہو، یا حرم شریف میں غیر اخلاقی حرکت پر سعودی سپریم کورٹ کی جانب سے بنگلہ دیشی جوڑے کو سنائی جانے والی سخت سزا کا واقعہ ہو—یہ تمام واقعات انسان کو سوچنے پر مجبور کرتے ہیں کہ آخر "غیرت"، "قانون" اور "عدل" کے پیمانے کس بنیاد پر طے ہو رہے ہیں؟ہجوم کا انصاف اور قانونی حاکمیت کا زوال
نارنگ منڈی کا واقعہ پاکستان میں رونما ہونے والے کئی ایسے واقعات کی تسلسل کی ایک کڑی ہے جہاں الزام لگتے ہی مشتعل ہجوم عدالت، قاضی اور جلاد تمام کردار خود ہی ادا کرنے لگتا ہے۔ جب بھی کسی فرد پر کوئی مذہبی الزام عائد ہوتا ہے، تو قانون، آئین، پولیس اور عدالتیں یکایک مفلوج دکھائی دیتی ہیں۔ ہجوم مکانات اور املاک کو نظر آتش کر دیتا ہے، لیکن کیا یہ تشدد واقعی مذہبی غیرت کا مظاہرہ ہے یا قانون کی عدم موجودگی کا فائدہ؟مذہب اور آئین دونوں اس بات کا درس دیتے ہیں کہ جرم کا اثبات اور سزا کا تعین صرف اور صرف ریاست اور عدالت کا کام ہے۔ جب ہجوم کو قانون ہاتھ میں لینے کی کھلی چھوٹ مل جاتی ہے، تو پھر جرم کے اثبات سے پہلے ہی انسان کی زندگی اور جائیداد تباہ کر دی جاتی ہے۔حرم شریف کا فیصلہ اور ہمارے دوہرے معیارات
سعودی عرب کی سپریم کورٹ کی جانب سے حرم شریف میں نازیبا حرکت پر بنگلہ دیشی جوڑے کو دی جانے والی سزا پر سوشل میڈیا پر شدید بحث جاری ہے۔ سعودی عرب کے اس اقدام کو ان کی ریاست اور قوانین کے نفاذ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، لیکن اس سے ایک بنیادی سوال ہمارے اپنے رویوں اور نظام پر اٹھتا ہے: کیا قانون صرف طاقتور کے لیے مختلف اور کمزور کے لیے مختلف ہے؟ہمارے اپنے ملک پاکستان میں مساجد اور مذہبی اداروں کے اندر بچوں سے جنسی زیادتی (Child Sexual Abuse) کے سینکڑوں مقدمات درج ہوتے ہیں۔ لیکن افسوسناک بات یہ ہے کہ بچوں کی حرمت، مسجد کے تقدس اور قرآن پاک کے احکامات کو پامال کرنے والے ایسے عناصر کے خلاف کبھی "توہینِ مسجد" یا "توہینِ قرآن" کی شقیں شامل نہیں کی جاتیں۔ دوسری طرف، اگر کسی اقلیتی فرد یا غریب شہری پر ایک واٹس ایپ میسج یا مبینہ الزام کا سایہ بھی پڑ جائے تو فوراً ایف آئی آر (FIR) درج ہو جاتی ہے اور پورا علاقہ خطرے میں پڑ جاتا ہے۔ کیا مسجد کا تقدس اور بچوں کی آبرو کسی دوسرے مذہبی جرم سے کم اہم ہے؟
صنفی غیرت اور "پتھر کے جذبات"معاشرے کا ایک اور المیہ "صنفی غیرت" (Honour Killing) کے نام پر ہونے والے قتل ہیں۔ پاکستان میں ہر سال صدہا بیٹیاں اور خواتین "غیرت" کی قربان گاہ پر چڑھائی جاتی ہیں۔ کیا غیرت کے نام پر قتل ہونے والی ان بیٹیوں کے جذبات، ان کی زندگی اور ان کی آبرو پتھر کی ہوتی ہے؟جس معاشرے میں ایک عورت کو پسند کی شادی کرنے یا اپنی زندگی کا فیصلہ کرنے پر "بے غیرتی" کا طعنہ دے کر قتل کر دیا جاتا ہے، وہی معاشرہ بچوں پر ہونے والے مظالم اور جبری تبدیلیٔ مذہب پر مجرمانہ خاموشی اختیار کر لیتا ہے۔ یہ کیسی غیرت ہے جو مظلوم اور کمزور کے خلاف تو بیدار ہوتی ہے لیکن ظالم، طاقتور اور جابر کے سامنے سو جاتی ہے؟اقلیتیں، جبری تبدیلئ مذہب اور ریاستی خاموشی پاکستان میں کم عمر اقلیتی بچیوں کا اغوا، ان کی جبری تبدیلیٔ مذہب اور کم عمری کی شادیاں ایک ایسا سنگین مسئلہ ہے جس پر ہماری پارلیمنٹ، عدلیہ اور قانون نافذ کرنے والے ادارے طویل عرصے سے گہری خاموشی دھارے ہوئے ہیں۔
جب کسی کم عمر اقلیتی بچی کو اغوا کر کے اس کی شادی کر دی جاتی ہے، تو عدالتوں میں اکثر اسے "رضامندی" اور "مذہبی بیداری" کا نام دے کر قانونی تحفظ فراہم کر دیا جاتا ہے۔ پارلیمنٹ میں جب بھی جبری تبدیلیٔ مذہب کے خلاف قانون سازی کی کوشش کی جاتی ہے، تو مذہبی اور سیاسی دباؤ کے تحت اسے مسترد یا التوا کا شکار کر دیا جاتا ہے۔ کیا آئینِ پاکستان میں درج تمام شہری بنیادی حقوق صرف اکثریت کے لیے ہیں؟ کیا مذہبی غیرت اور جذبات پر صرف ایک خاص طبقے کی اجارہ داری ہے؟ملتان کا واقعہ غریب ایک یتیم بچے کو کچل دینے کا واقعہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ہمارے اندر کا انسان مر چکا ہے۔ جہاں نہ صرف مذہبی اور صنفی بلکہ طبقاتی غیرت بھی غالب آ چکی ہے۔ غریب، یتیم اور بے سہارا افراد کو انسان ہی نہیں سمجھا جاتا۔ ان کی چیخیں اور آہ زاری قانون کے بند کمروں تک نہیں پہنچتیں۔اگر پاکستان کو ایک مہذب، مستحکم اور انصاف پر مبنی ریاست بنانا ہے تو قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانا ہے تو ریاست کو یہ واضح پیغام دینا ہوگا کہ ہجوم کا انصاف برداشت نہیں کیا جائے گا۔ الزام کی نوعیت چاہے کچھ بھی ہو، سزا کا حق صرف عدلیہ کو ہونا چاہیے۔ تمام شہری چاہے ان کا تعلق کسی بھی مذہب، فرقے، جنس یا طبقے سے ہو—کے لیے قانون کا یکساں اطلاق ہونا چاہیے۔ مساجد میں بچوں کے ساتھ بدفعلی کرنے والوں کے خلاف سخت ترین قانونی و مذہبی شقوں کے تحت کارروائی ہونی چاہیے۔جبری تبدیلیٔ مذہب اور کم عمری کی شادی کے خلاف واضح، شفاف اور سخت قانون سازی کی جائے تاکہ اقلیتی شہری خود کو اس ملک کا برابر کا شہری محسوس کر سکیں۔"غیرت کے نام پر قتل" کو سادہ الفاظ میں عمدی قتل (Premeditated Murder) قرار دے کر تمام تلافی اور سمجھوتے کے راستے بند کیے جائیں۔معاشرے غیرت کے نعروں سے نہیں، بلکہ انصاف اور مساوات سے زندہ رہتے ہیں۔ جب تک ہم یہ تسلیم نہیں کریں گے کہ ہر انسان، چاہے وہ کسی بھی مذہب کا ہو، کسی بھی جنس کا ہو، یا سماجی طور پر کتنا ہی کمزور کیوں نہ ہو، اس کی زندگی، عزت اور آبرو اتنی ہی مقدس ہے جتنی کسی طاقتور کی، تب تک ہم ایک بیمار معاشرہ ہی رہیں گے۔
مزید پڑھیں






