جمعرات، 15 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

قانون کی غلامی یا ضمیر کی حکمرانی؟تحریر: یاسمین اختر طوبیٰ

نقطہ نظر

جب انسان کو انسان رہنے کے لیے بھی اجازت نامہ درکار ہو۔


دنیا میں قانون کی تخلیق انسان کی تہذیب، معاشرتی نظم اور اجتماعی زندگی کے تحفظ کے لیے ہوئی تھی۔ قانون کا بنیادی مقصد انسان کو وحشت کے اندھیروں سے نکال کر شعور کی روشنی تک پہنچانا، طاقت کے نشے میں بدمست لوگوں کو جواب دہ بنانا اور کمزور کے وجود کو طاقت ور کے جبر سے محفوظ رکھنا تھا۔ قانون وہ چراغ تھا جسے انسان نے اپنی راہوں کو روشن کرنے کے لیے جلایا تھا مگر المیہ یہ ہے کہ بعض معاشروں میں یہی چراغ انسانیت کے چہروں پر سیاہی ملنے کا وسیلہ بن گیا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ قانون کی حکمرانی ہونی چاہیے یا نہیں، اصل سوال یہ ہے کہ *قانون کس کی حکمرانی قائم کرتا ہے، انسان کی، انسانیت کی یا انسان کے اندر چھپے ہوئے درندے کی؟*

اگر کوئی قانون انسان کو خود غرضی سے ایثار، جہالت سے شعور، نفرت سے محبت، ظلم سے عدل اور حیوانی جبلتوں سے انسانی اقدار کی طرف لے جاتا ہے تو ایسے قانون کے سامنے سر جھکانا کمزوری نہیں، اعلیٰ ظرفی ہے۔ ایسا قانون کسی فرد کی گردن میں غلامی کا طوق نہیں ڈالتا بلکہ اسے اپنی ذات کی پستیوں سے آزاد کرتا ہے۔ وہ انسان کو بتاتا ہے کہ تمہاری آزادی وہاں تک معتبر ہے جہاں سے دوسرے انسان کی آزادی کا احترام شروع ہوتا ہے۔ وہ طاقت ور کو سمجھاتا ہے کہ اختیار کوئی جاگیر نہیں، امانت ہے؛ دولت کوئی خدائی سند نہیں، ذمہ داری ہے اور منصب کسی انسان کو دوسروں کی عزتِ نفس روندنے کا پروانہ نہیں دیتا۔ ایسے قانون کی اطاعت دراصل انسانیت کی اطاعت ہے اور اس سے انحراف اپنی ہی تہذیب کے چراغ کو بجھانے کے مترادف ہے

لیکن اگر قانون کے نام پر کسی انسان کی انسانیت چھینی جانے لگے، اگر ضابطوں کی آڑ میں اس کی عزتِ نفس کو کچلا جائے، اگر انصاف کے ایوانوں میں سچ کو مجرم اور جھوٹ کو صاحبِ اقتدار ہونے کی بنا پر معزز سمجھا جائے، اگر کمزور کے لیے قانون تلوار اور طاقت ور کے لیے ڈھال بن جائے، تو پھر یہ سوال اٹھانا ناگزیر ہو جاتا ہے کہ ہم قانون کی پاس داری کر رہے ہیں یا ظلم کی پرورش؟ کیونکہ قانون کی کتاب میں درج ہر لفظ لازماً انصاف کی ضمانت نہیں ہوتا۔ الفاظ کو مقدس بنا دینے سے ان کے پیچھے چھپی ہوئی نیتیں پاک نہیں ہو جاتیں۔ ایک ظالمانہ حکم اگر سرکاری مہر کے ساتھ جاری ہو تو بھی اس کے ظلم ہونے کی حقیقت تبدیل نہیں ہوتی۔ وردی، منصب، مہر اور دستخط کسی ناانصافی کو انصاف کا لباس تو پہنا سکتے ہیں، اس کی روح نہیں بدل سکتے۔

تاریخ کے اوراق گواہ ہیں کہ ظلم ہمیشہ برہنہ تلوار لے کر میدان میں نہیں اترا، کبھی وہ قانون کی شقوں میں چھپا، کبھی مذہب کی تعبیر بن کر سامنے آیا، کبھی روایت کے تقدس میں لپٹا اور کبھی نظم و ضبط کے نام پر انسانوں کے ضمیر کو یرغمال بناتا رہا۔ ہر دور کے ظالم نے اپنے جبر کے لیے کوئی نہ کوئی دلیل ضرور تراشی ہے۔ کسی نے اسے ریاست کی ضرورت کہا، کسی نے معاشرے کا مفاد، کسی نے تہذیب کا تحفظ اور کسی نے امن کی ضمانت۔ مگر ظلم کی سب سے بڑی کامیابی یہی ہوتی ہے کہ مظلوم ایک دن اپنے زخموں کو مقدر اور اپنی زنجیروں کو زیور سمجھنے لگتا ہے۔ جب انسان ناانصافی کے خلاف آواز اٹھانے کے بجائے اس کی توجیہات تلاش کرنے لگے، جب وہ حق کے بجائے طاقت کے سامنے جھکنے کو دانش مندی سمجھنے لگے، تو سمجھ لیجیے کہ غلامی صرف اس کے ہاتھ پاؤں تک محدود نہیں رہی، اس نے اس کے ذہن اور ضمیر میں بھی گھر کر لیا ہے۔

یہاں ایک بنیادی فرق سمجھنا ضروری ہے: قانون کی خلاف ورزی ہمیشہ بہادری نہیں ہوتی اور قانون کی اطاعت ہمیشہ بزدلی نہیں ہوتی۔ معاشرہ اگر ہر شخص کو اپنی خواہش کے مطابق قانون توڑنے کی اجازت دے دے تو آزادی کے نام پر جنگل کا نظام قائم ہو جائے گا لیکن اگر قانون کو اس قدر مطلق بنا دیا جائے کہ اس کے سامنے اخلاق، عدل، انسانی وقار اور بنیادی حقوق کی کوئی حیثیت ہی باقی نہ رہے تو یہ جنگل سے بھی زیادہ خطرناک صورتِ حال ہوگی کیونکہ جنگل میں درندہ اپنے دانتوں سے حملہ کرتا ہے جبکہ مہذب معاشرے کا درندہ کبھی کبھی دلیل، اختیار اور قانون کی زبان بولتا ہے۔ ایک طرف بے لگام خواہش انسان کو حیوان بناتی ہے، دوسری طرف بے لگام اقتدار اسے اپنے جیسے انسانوں کے لیے عذاب بنا دیتا ہے۔ تہذیب ان دونوں انتہاؤں کے درمیان عدل کا راستہ تلاش کرنے کا نام ہے۔

سوچیے، ایک شخص بھوکے کو روٹی دیتا ہے، ایک مظلوم کے حق میں گواہی دیتا ہے، ایک بے گناہ کے دفاع میں کھڑا ہوتا ہے اور ایک طاقت ور کے سامنے سچ بولنے کی جرأت کرتا ہے۔ اگر ان افعال کے پیچھے انسانیت، دیانت اور احساسِ ذمہ داری موجود ہے تو وہ معاشرے کے لیے امید کا چراغ ہیں۔ اس کے برعکس اگر کوئی شخص ہر ضابطے کی پابندی کرتے ہوئے بھی اپنے اختیار سے دوسروں کی زندگی اجیرن بناتا ہے، قانون کے الفاظ کی آڑ میں انصاف کا راستہ روکتا ہے اور اپنے مفاد کے لیے انسانی ضمیر کو خاموش کراتا ہے تو محض قانون کا تابع ہونے سے وہ اخلاقی عظمت کا مستحق نہیں بن جاتا۔ انسان کی اصل پہچان صرف یہ نہیں کہ وہ کیا کرنے کا مجاز ہے، یہ بھی ہے کہ وہ کیا کرنے کے باوجود خود کو روک لیتا ہے۔ قانون بعض اوقات ہاتھ پکڑ سکتا ہے مگر کردار ہی دل کو ظلم سے باز رکھتا ہے۔

ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ انسانی ضمیر کوئی ایسا خودکار پیمانہ نہیں جس پر ہر شخص اپنی خواہش کو انصاف کا نام دے دے۔ ہر باغی حق پر نہیں ہوتا، ہر احتجاج مقدس نہیں ہوتا اور ہر انکار اصول پسندی کی دلیل نہیں بنتا۔ جو شخص اپنے مفاد کے لیے قانون کو پامال کرتا ہے، وہ محض اس لیے حق پر نہیں ہو جاتا کہ اس نے کسی ضابطے کو ماننے سے انکار کیا ہے۔ اصل امتحان یہ ہے کہ انکار کے پیچھے کون سی قدر کھڑی ہے: ذاتی منفعت یا اجتماعی انصاف؟ انتقام یا اصلاح؟ انا یا انسانی وقار؟ اصول پسندی وہ نہیں جو ہر حکم کے خلاف کھڑی ہو جائے، اصول پسندی وہ ہے جو ہر حکم کو عدل کی کسوٹی پر پرکھنے کی جرأت رکھتی ہو۔ اسی طرح اطاعت وہ نہیں جو آنکھیں بند کر کے سر جھکا دے۔ حقیقی اطاعت وہ ہے جو جائز اختیار کا احترام کرے اور ناجائز اختیار کو جواب دہ بھی بنائے۔

ریاستیں عمارتوں، سرحدوں، دفتروں اور سرکاری دستاویزات سے نہیں، اپنے شہریوں کے اعتماد سے مضبوط ہوتی ہیں۔ یہ اعتماد اس وقت جنم لیتا ہے جب عام آدمی کو یقین ہو کہ اس کی فریاد سنی جائے گی، اس کے ساتھ ہونے والی زیادتی کا ازالہ ہوگا اور انصاف کے ترازو میں اس کی حیثیت کسی بااثر شخص سے کم نہیں ہوگی۔ جس معاشرے میں قانون صرف کمزور کو ڈرانے کے لیے حرکت میں آئے اور طاقت ور کے سامنے مصلحت کی چادر اوڑھ لے، وہاں قانون کی ہیبت تو باقی رہ سکتی ہے، حرمت نہیں۔ لوگ سزا کے خوف سے خاموش ضرور ہو سکتے ہیں مگر خاموشی کو رضامندی اور خوف کو احترام سمجھ لینا اقتدار کی سب سے بڑی خود فریبی ہے۔ جس قانون سے شہریوں کے دلوں میں اعتماد پیدا ہونے کے بجائے تحقیر، بے بسی اور نفرت جنم لے، اسے اپنے نفاذ سے پہلے اپنے جواز پر غور کرنا چاہیے۔

قانون کا اصل امتحان عدالتوں کے فیصلوں، سرکاری دفاتر کی فائلوں اور کتابوں کی شقوں سے آگے شروع ہوتا ہے۔ وہ اس لمحے پرکھا جاتا ہے جب کسی غریب کی آہ کسی بااثر شخص کے دروازے سے ٹکراتی ہے؛ جب کسی بے بس کی سچائی کسی طاقت ور کے مفاد سے متصادم ہوتی ہے؛ جب کسی افسر کے سامنے دو راستے ہوتے ہیں، ایک اختیار کے ناجائز استعمال کا اور دوسرا اصول پر قائم رہنے کا۔ اس لمحے قانون محض ایک تحریر نہیں رہتا، وہ کردار کا امتحان بن جاتا ہے۔ اگر اس امتحان میں انصاف ہار جائے اور مصلحت جیت جائے تو شکست صرف ایک فرد کی نہیں ہوتی؛ پورا نظام اپنی اخلاقی ساکھ کا ایک حصہ کھو دیتا ہے۔

ہمیں ایسا معاشرہ درکار ہے جہاں قانون انسان کو اپنی ذات سے بلند کرے، نہ کہ اس کی ذات کو کچل کر اطاعت کا مجسمہ بنا دے؛ جہاں اختلاف کو بغاوت اور سوال کو گستاخی نہ سمجھا جائے؛ جہاں اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھنے والے یہ نہ بھولیں کہ قانون ان کے اختیار کی توثیق کے ساتھ ساتھ اس کی حد بندی بھی کرتا ہے۔ قانون کی عظمت اس میں نہیں کہ اس سے کوئی انکار نہ کر سک بلکہ اس میں ہے کہ وہ خود بھی احتساب سے بالاتر نہ ہو۔ ایسا نظام ہی انسان کو یہ یقین دے سکتا ہے کہ اس کی آزادی محض کاغذی وعدہ نہیں، اس کی عزتِ نفس محض تقریری جملہ نہیں اور اس کا انصاف محض انتخابی نعرہ نہیں۔

بالآخر، کسی معاشرے کی تہذیب کا اندازہ اس بات سے نہیں لگایا جا سکتا کہ اس کے شہری کتنے خاموش، کتنے فرمانبردار اور کتنے خوف زدہ ہیں؛ اس کا اصل پیمانہ یہ ہے کہ اس کے شہری کتنے باوقار، کتنے منصف مزاج اور کتنے آزاد ضمیر کے مالک ہیں۔ جانور کو سدھارنے کے لیے لگام کافی ہو سکتی ہے مگر انسان کو سنوارنے کے لیے شعور، محبت، انصاف اور اخلاقی تربیت درکار ہوتی ہے۔ جس نظام کو انسان بنانے کے لیے ہر وقت کوڑے، خوف اور جبر کی ضرورت پڑے، اسے اپنی بنیادوں پر نظرثانی کرنی چاہیے اور جس نظام میں انسانیت کی حفاظت کے لیے قانون خود کھڑا ہو، وہاں اس کی اطاعت فخر ہے، مجبوری نہیں۔

*اس لیے اصول بالکل واضح ہے: جو قانون انسان کو انسان بنائے، اس کے سامنے سر جھکانا چاہیے لیکن جو قانون انسان کی انسانیت چھیننے لگے، اس کے سامنے سر جھکانے کے بجائے اس کے ظلم پر سوال اٹھانا چاہیے۔* البتہ ایسے سوال کا راستہ بھی عدل، دلیل، پُرامن مزاحمت اور جائز قانونی و اخلاقی جدوجہد سے ہو تو اس کی قوت کہیں زیادہ پائیدار ہوتی ہے کیونکہ مقصد قانون کو مٹانا نہیں، اسے اس کے اصل منصب پر واپس لانا ہے؛ مقصد نظم کو توڑنا نہیں، نظم کے اندر چھپے ظلم کو بے نقاب کرنا ہے اور مقصد انسان کو قانون سے آزاد کرنا نہیں، قانون کو اس قابل بنانا ہے کہ انسان اس کے سائے میں آزادی، عزت اور تحفظ کے ساتھ جی سکے۔ یاد رکھیے،

قانون انسان کے لیے ہے، انسان قانون کے لیے نہیں۔*

جس دن قانون انسانیت سے خالی ہو جائے، اس دن اس کی شقیں باقی رہ سکتی ہیں، اس کی روح مر جاتی ہے اور جس دن انسان اپنے ضمیر کو محض حکم کی تعمیل کے عوض گروی رکھ دے، اس دن اس کے پاس آزادی کے تمام ظاہری وسائل ہونے کے باوجود وہ اندر سے غلام ہو جاتا ہے۔ انسان ہونے کا اعزاز کسی مہر، عہدے یا اجازت نامے سے نہیں ملتا؛ یہ انصاف کے ساتھ کھڑے ہونے، کمزور کے حق میں آواز اٹھانے اور طاقت کے سامنے سچ کہنے سے حاصل ہوتا ہے۔ آخرکار، تاریخ ان لوگوں کو یاد نہیں رکھتی جنہوں نے ہر حکم کے سامنے سر جھکایا؛ تاریخ کا حافظہ ان لوگوں کے نام بھی محفوظ رکھتا ہے جنہوں نے سر اٹھا کر پوچھا تھا: اگر یہ قانون انسانیت کے خلاف ہے، تو اسے بدلنے کی جرأت کون کرے گا؟