پشاور تا پنڈی اور قومی بحران،تحریر:خالد شہزاد
نقطہ نظر
مولانا فضل الرحمان کے حالیہ سخت رویے، بیانات اور "ریاست پر تھوکنے" سے متعلق الفاظ (جن کا حوالہ ایوانِ بالا اور پارلیمانی بحثوں میں شدید تنقید کے ساتھ سامنے آیا) نے ملک کے سیاسی منظر نامے پر کئی سوالات جنم دیے ہیں۔ مولانا فضل الرحمان کے اس سخت اور جارحانہ بیانیے کے پیچھے چند اہم عوامل کارفرما ہیں۔مولانا فضل الرحمان کا موقف رہا ہے کہ فروری 2024 کے عمومی انتخابات اور اس کے بعد کے سیاسی سیٹ اپ میں انہیں نظر انداز کیا گیا اور دھاندلی کے ذریعے ان کی روایتی نشستیں متاثر کی گئیں۔خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ہنگامی اقدامات وغیرہ پر حکومت کی جانب سے صوبہ خیبر پختونخوا میں کچھ انتظامی و سیکیورٹی فیصلوں اور ایمرجنسی/گورنر راج سے متعلق کوششوں پر جے یو آئی (ف) نے شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ مولانا کا ماننا ہے کہ آئین کے دائرہ کار سے باہر جا کر کیے گئے فیصلے ریاست کی کمزوری کا باعث بن رہے ہیں۔ حکومت اور وزیر داخلہ محسن نقوی اور ن لیگ کے چند راہنماؤں کی جانب سے یہ موقف سامنے آیا کہ مولانا فضل الرحمان حکومت میں حصہ نہ ملنے اور اقتدار سے دور ہونے کی وجہ سے ایسے شدید ردِعمل کا اظہار کر رہے ہیں۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ ایک ایسا بار بار دہرایا جانے والا ڈرامہ ہے جس کے کردار، مکالمے اور ہدایت کار تو شائد بدلتے رہتے ہیں، لیکن اس کا انجام ہمیشہ ایک ہی نکلتا ہے: عام عوام کی تباہی اور امراء (Elites) کی کامیابی۔ آج کل قومی اسمبلی کے ایوانوں میں گونجتی تقریریں، مولانا فضل الرحمان کے تلملاہٹ سے بھرپور جملے، اور حکومت کی بوکھلاہٹ اسی پرانے کھیل کا ایک نیا باب ہیں۔ لیکن اس سارے شور و غوغا کے پیچھے جو کہانی چھپی ہے، وہ ریاست کی مضبوطی کی نہیں بلکہ مفادات کی جنگ اور غریب کے استحصال کی داستان ہے۔ایک وقت تھا جب میاں نواز شریف ایوانوں اور جلسوں میں "ووٹ کو عزت دو" کا نعرہ ماردے تھے۔ دوسری طرف آصف علی زرداری بھی موقع کی مناسبت سے اسٹیبلشمنٹ کی طرف توپوں کا رخ کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے تھے۔ راولپنڈی کے مال روڈ کو نشانہ بنانا اور جمہوریت کے تحفظ کی قسمیں کھانا ان کا پسندیدہ مشغلہ تھا۔، لیکن آج کا منظر نامہ دیکھیے۔ نواز شریف اور زرداری بظاہر سیاست کے دھارے سے ذرا فاصلے پر "چھٹیوں" پر محسوس ہوتے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ دونوں اقتدار کے مزے لوٹ رہے ہیں۔ ان کے لبوں پر اب وہ تمام شکوے ختم ہو چکے ہیں اور صورتحال بالکل "لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری" والی بن چکی ہے۔ مال روڈ کے ساتھ ان کے رشتے اتنے مضبوط، استوار اور خوش گوار ہو چکے ہیں کہ ماضی کی تمام تلخیاں ہوا میں تحلیل ہو گئی ہیں۔ اقتدار کی کرسی ملتے ہی جمہوریت کے تمام اصول اور نعرے پسِ پشت ڈال دیے گئے ہیں اور اب گٹھ جوڑ کی سیاست پوری آب و تاب سے جاری ہے جبکہ مولوی کا خالی سڑک پر پتھر مارنے کی "سیاست" پس پردہ مل جل کر رہنا کی ہے، کیونکہ مولانا بلاشبہ پاکستان کی سیاست کے سب سے زیرک، تجربہ کار اور چالاک کھلاڑیوں میں شمار ہوتے ہیں۔ وہ خوب جانتے ہیں کہ پاور کوریڈورز میں اپنا وزن کیسے بنانا ہے اور کب کس کے ساتھ مل کر توازن بگاڑنا ہے۔آج مولانا صاحب کی بے تابی کی اصل وجہ یہ ہے کہ اس وقت نہ تو مال روڈ سے کوئی بلاوا آ رہا ہے، نہ ہی وزیراعظم ہاؤس سے کوئی مثبت اشارہ۔ اقتدار کے حاشیے پر دھکیل دیے جانے کے بعد مولوی صاحب کا پرانا حربہ متحرک ہو چکا ہے: "خالی سڑک پر پتھر مارو تاکہ کوئی نہ کوئی تو پتھر اٹھانے آئے"۔قومی اسمبلی میں ان کے تند و تیز بیانات اور حکومت پر تابڑ توڑ حملے دراصل جمہوریت کے درد میں نہیں، بلکہ اپنے وجود کا احساس دلانے کے لیے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ مال روڈ کے پار بیٹھے اقتدار کے اصلی ڈرائیورز ان پر "نظرِ کرم" کریں، ان کو مذاکرات کی میز پر بلائیں اور موجودہ سیاسی نظام میں ان کی مشاورت اور اہمیت کو تسلیم کیا جائے۔ ان کا ہدف صرف اتنا ہے کہ انہیں بھی اقتدار کے اس دسترخوان پر ایک مناسب حصہ مل جائے۔ایک طرف ایوانوں میں مولوی اور حکومت کے مابین زبانی کلامی اور طنز و مزاح کا سرکس جاری ہے، تو دوسری طرف عوام کی زندگی جہنم بنا دی گئی ہے۔ بجلی کے ناہموار اور بھاری بل، پٹرولیم مصنوعات کی آسان قسطوں میں بڑھتی قیمتیں، اور گیس کی نایابی اور پشاور میں تجاوزات کے نام پر آپریشن کے دوران ہر گلی محلہ، دکان، مکان و کاروبار پر بلڈوزر چلائے جا رہے ہیں جس نے غریب اور متوسط طبقے کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ مہنگائی کا جن بوتل سے باہر نکل کر ہر شہری کی تھالی سے نوالہ چھین رہا ہے،حیرت کی بات یہ ہے کہ اس سارے غوغا میں "ریاست" اور "سیاست" کے حقیقی معنوں کی کوئی جھلک نظر نہیں آتی: جو عوامی مسائل کے حل کا نام تھی، اب صرف اقتدار پر قبضے اور مراعات کے حصول کی ریس بن چکی ہے،"جبکہ ریاست جس کی پہلی ذمہ داری اپنے شہریوں کے جان و مال اور بنیادی حقوق کا تحفظ تھا، وہ اب خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے یا پھر نخبگان کے مفادات کی چوکیدار بن چکی ہے۔"دوسری جانب عوام تڑپ رہے ہیں لیکن حکمرانوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی، کیونکہ ان کی تمام تر توجہ اس بات پر ہے کہ اقتدار کی ڈوریاں کس طرح اپنے ہاتھ میں رکھی جائیں ۔حکمران طبقہ، چاہے وہ مولوی ہو، روایتی سیاستدان ہو یا پردے کے پیچھے بیٹھا "ٹیکنیکل دماغ "، سب کو ایک ہی بات کا سب سے بڑا ڈرعوام کا بیدار ہونا۔پشاور اور دیگر علاقوں میں سخت اقدامات اور ایمرجنسی کا مقصد یہ ہے کہ عام شہری اس سیاسی و معاشی گھماؤ گھیر کو سمجھ نہ جائے۔ کہیں عوام سڑکوں پر نکل کر مولوی، سیاستدان اور ٹیکنیکل دماغ سے اپنا آئینی اور قانونی حق نہ مانگ بیٹھیں۔ اگر عوام نے سوال کرنا شروع کر دیا کہ ہماری بجلی، پٹرول اور روٹی کا حساب کون دے گا؟ تو ان تمام سیاسی و غیر سیاسی کھلاڑیوں کے بنائے ہوئے کچا چٹھا کھل جائیں گے۔
پاکستان کا موجودہ سیاسی منظر نامہ ایک تلخ سچائی کی عکاسی کرتا ہے۔ یہاں سیاست عوامی خدمت نہیں بلکہ مفادات کی سودے بازی ہے۔ مولانا فضل الرحمان کا غصہ، نون لیگ اور پیپلز پارٹی کا سکوت، اور پسِ پردہ ڈرائیوروں کی حکمت عملی—یہ سب ایک ہی سکے کے مختلف رخ ہیں۔
جب تک غریب عوام اپنی تذلیل پر خاموش رہیں گے اور ان مفاد پرست سیاستدانوں اور ان کے پشت پناہوں کے ڈراموں کو سمجھنے سے قاصر رہیں گے، تب تک یہ کھیل یوں ہی چلتا رہے گا۔ اب وقت آ گیا ہے کہ عوام مولوی کے پتھر اور حکمرانوں کے جھوٹے نعروں سے باہر نکل کر ریاست سے اپنا اصل حق مانگیں، ورنہ "مال روڈ" کی مشاورتیں اور مولانا کی چنگاڑ یونہی چلتی رہیں گی اور غریب کا چولہا یونہی ٹھنڈا ہوتا رہے گا۔
مزید پڑھیں




