تمہیں معلوم ہے، تم میں اور مجھ میں ایک قدر مشترک ہے۔ میں روکی ہوئی گھڑی کے نام لکھ رہی ہوں۔ "میں نے سامنے دیوار پر لٹکے اس بے جان تالاب کی طرف دیکھا، جس کے ہندسے اب وقت کے قیدی نہیں رہے تھے۔" اس کی سوئیاں بارہ بج کر پانچ منٹ پر یوںجمی تھیں جیسے کوئی سکتہ طاری ہوگیا ہو ۔۔۔بالکل میرے اندر کے وقت کی طرح۔ہم دونوں نے وقت کو اپنے اندر کہیں روک رکھا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ تمہاری سوئیاں ایک مقررہ لمحے پر آ کر ٹھہر گئی تھیں، اور میری زندگی کا وقت اُس دن رُکا تھا، جس دن میرے اپنے مجھے چھوڑ کر چلے گئے تھے۔ تمہاری سوئیوں نے تو صرف وقت کی گردش سے انکار کیا تھا، مگر میں نے تو جیتے جاگتے لوگوں کے درمیان رہتے ہوئے زندگی سے اپنا تعلق کھو دیا تھا۔ آج بہت عرصے بعد تم سے بات کرنے کو جی چاہا ہے۔ شاید اس لیے کہ دنیا میں اب کوئی ایسا نہیں بچا جس کے سامنے میں اپنے دل کی تمام پرتیں کھول سکوں۔ لوگ چہرے پڑھنے کا دعویٰ تو کرتے ہیں، مگر آنکھوں کے پیچھے چھپے ہوئے موسموں کو کون پڑھتا ہے؟ کون جانتا ہے کہ مسکراتے ہوئے چہرے کے اندر کتنی صدیاں دفن ہو سکتی ہیں؟ تم خاموش ہو، اس لیے تم سے بات کرنا آسان ہے۔ تم مجھ سے کوئی سوال نہیں کرو گی، میرے آنسوؤں کی وجہ نہیں پوچھو گی، نہ ہی میری محبت کو میری کمزوری قرار دو گی۔ سو، آج تمہیں وہ سب لکھتی ہوں جو برسوں سے میرے اندر ایک بند کمرے میں پڑا سسک رہا ہے۔ تمہیں یاد ہے نا، ہمارے گھر میں کبھی کتنی آوازیں ہوا کرتی تھیں؟ صبح کے وقت چائے کے برتنوں کی کھنک، باورچی خانے سے آتی ہوئی پکاریں، کسی کی ناراضی، کسی کی فرمائش، کسی کا ہنسنا اور کسی کا بے وجہ مجھے آواز دے دینا۔ میں انہی آوازوں کے درمیان بڑی ہوئی تھی۔ مجھے لگتا تھا، زندگی کا دوسرا نام یہی ہے کہ انسان اپنے لوگوں کے لیے جیتا رہے۔ میں نے کبھی محبت کو نفع و نقصان کے ترازو میں نہیں تولا۔ مجھے کسی کے لیے کچھ کرتے ہوئے یہ خیال نہیں آیا کہ بدلے میں مجھے کیا ملے گا۔ میں نے اپنے حصے کی خوشیاں دوسروں کی جھولی میں ڈال دیں، اپنی خواہشوں کو یہ کہہ کر چپ کرا دیا کہ کوئی بات نہیں، ان کی خوشی زیادہ ضروری ہے۔ جب کسی کو میری ضرورت ہوتی، میں اپنے تمام کام چھوڑ کر اس کے پاس پہنچ جاتی۔ کسی کے لہجے میں اداسی محسوس ہوتی تو رات بھر سوچتی رہتی کہ آخر اسے کس بات نے پریشان کیا ہے۔ کوئی ناراض ہو جاتا تو اپنی غلطی تلاش کرنے لگتی، چاہے غلطی میری ہوتی ہی نہ تھی۔
میں نے برسوں اپنے رشتوں کو بچانے کے لیے خود کو بدلنے کی کوشش کی۔ کبھی اپنا لہجہ نرم کیا، کبھی اپنی بات واپس لی، کبھی آنسو پی کر مسکرا دی، کبھی دل پر پتھر رکھ کر معافی مانگ لی۔ مجھے لگتا تھا کہ شاید میری تھوڑی سی برداشت کسی کا غصہ کم کر دے گی، میری خاموشی کسی رشتے کو ٹوٹنے سے بچا لے گی، میری محبت کسی دن ان کے دلوں میں میرے لیے بھی محبت پیدا کر دے گی۔ مگر مجھے دیر سے معلوم ہوا کہ ہر دروازہ محبت سے نہیں کھلتا، اور ہر دل قربانیوں سے نرم نہیں ہوتا۔
کچھ لوگوں کو تم جتنا بھی دے دو، انہیں تمہاری کمی ہی دکھائی دیتی ہے۔ تم ان کے لیے اپنی نیندیں قربان کر دو، وہ تمہیں وقت نہ دینے کا شکوہ کریں گے۔ تم اپنی خواہشیں مار دو، وہ تمہیں خودغرض کہیں گے۔ تم ان کی تلخ باتوں پر خاموش رہو، وہ تمہاری خاموشی کو اپنی فتح سمجھ لیں گے اور پھر ایک دن تمہارا دل پوچھتا ہے کہ آخر تمہیں کس جرم کی سزا مل رہی ہے؟
میں بھی یہی پوچھتی تھی۔
اکثر رات کو جب سب سو جاتے، میں تمہارے نیچے رکھی ہوئی پرانی کرسی پر بیٹھ جاتی۔ تمہاری ٹک ٹک مجھے تسلی دیتی تھی۔ مجھے لگتا تھا، وقت سب ٹھیک کر دے گا۔ میں اپنے آپ کو سمجھاتی کہ آج جو سخت لہجہ سننے کو ملا ہے، کل شاید اس کی جگہ محبت لے لے۔ آج جو ناانصافی ہوئی ہے، شاید کل کوئی میری تکلیف سمجھ جائے۔ آج جو مجھے نظرانداز کر رہے ہیں، شاید کل انہیں میری موجودگی کی قدر ہو جائے۔
میں اپنے دل کو مستقبل کے وعدوں پر زندہ رکھتی رہی۔
مگر مستقبل نے کبھی مجھ سے کوئی وعدہ نہیں کیا تھا۔ یہ وعدے تو میں خود ہی کرتی رہی تھی۔ تم جانتی ہو، سب سے زیادہ تکلیف کس بات کی ہوتی ہے؟ غیروں کی بے رخی سے نہیں، اپنوں کی بے اعتنائی سے۔ غیروں کے لفظ پتھر کی طرح لگتے ہیں، مگر اپنوں کے لفظ اندر کہیں گھر بنا لیتے ہیں۔ وہی بات جو کسی اجنبی کے منہ سے سن کر انسان نظرانداز کر دے، جب کوئی اپنا کہتا ہے تو برسوں دل میں گونجتی رہتی ہے۔
میں نے اپنے لوگوں کے ہاتھوں بہت کچھ سہا۔ ایسے لفظ بھی سنے جن کے بعد انسان کو اپنے وجود پر شرمندگی محسوس ہونے لگتی ہے۔ ایسے رویے بھی برداشت کیے جنہوں نے مجھے بار بار یہ سوچنے پر مجبور کیا کہ کیا واقعی میری محبت کی کوئی قیمت نہیں؟ کیا میں صرف اس وقت تک اہم ہوں جب تک کسی کی ضرورت پوری کرتی رہوں؟ پھر بھی، میں ان سے نفرت نہ کر سکی۔ یہ میری سب سے بڑی خوبی تھی یا سب سے بڑی کمزوری، آج تک فیصلہ نہیں کر پائی۔ جنہوں نے مجھے رلایا، میں انہی کی پریشانی پر بے چین ہو جاتی تھی۔ جن کے رویوں نے مجھے تنہائی کا عادی بنایا، ان کی خاموشی مجھے پھر بھی خوف زدہ کر دیتی تھی۔ جن کی باتوں نے میرے اندر کی روشنی مدھم کر دی، میں انہی کے لیے دعائیں مانگتی تھی۔ میں ان کی زیادتیوں کو درست نہیں سمجھتی تھی، مگر ان سے محبت کرنا بھی نہیں چھوڑ پاتی تھی۔ شاید محبت کا سب سے پیچیدہ پہلو یہی ہے کہ دل ہمیشہ وہاں سے واپس نہیں آتا جہاں اسے بار بار زخمی کیا گیا ہو۔ کبھی کبھی میں خود سے ناراض ہوتی۔ آئینے کے سامنے کھڑی ہو کر اپنے چہرے کو دیکھتی اور پوچھتی، ’’آخر تم کیوں نہیں بدل جاتیں؟ کیوں ہر بار انہی لوگوں کے لیے نرم پڑ جاتی ہو جنہوں نے تمہیں سخت ہونے پر مجبور کیا؟ کیوں تم اپنے زخموں کا حساب نہیں مانگتیں؟‘‘ مگر آئینے میں کھڑی عورت کے پاس کوئی جواب نہیں ہوتا تھا۔ وہ صرف تھکی ہوئی آنکھوں سے مجھے دیکھتی رہتی۔ پھر میں نے خاموش رہنا سیکھ لیا۔ یہ خاموشی سکون کی نہیں تھی، بکھر جانے کے خوف کی تھی۔ میں بولتی تو آنسو بہنے لگتے، اور آنسو بہتے تو کوئی نہ کوئی انہیں میری کمزوری کہہ دیتا۔ اس لیے میں نے اپنے دکھ کو اپنے اندر رکھنا شروع کر دیا۔ میں ہنستی، کام کرتی، سب کی سنتی، سب کی ضرورتوں کا خیال رکھتی، مگر میرے اندر ایک جگہ تھی جہاں کوئی داخل نہیں ہو سکتا تھا۔
وہاں میں اکیلی تھی۔ وہاں میری وہ تمام باتیں رہتی تھیں جو میں کسی سے کہہ نہیں سکی۔ وہاں میرے وہ خواب دفن تھے جنہیں میں نے دوسروں کی خوشیوں کے لیے چھوڑ دیا تھا۔ وہاں میری وہ خواہشیں پڑی تھیں جنہیں میں نے ہر بار یہ کہہ کر خاموش کرایا تھا کہ کبھی فرصت ملی تو اپنے لیے بھی جی لوں گی۔ مگر اپنے لیے جینے کی فرصت کب آتی ہے، روکی ہوئی گھڑی؟
انسان دوسروں کی زندگی سنوارتے سنوارتے اپنی زندگی کے کمرے میں جھانکنا ہی بھول جاتا ہے اور پھر ایک دن وہ لمحہ آیا جس کا مجھے خوف تو ہمیشہ رہا تھا، مگر یقین کبھی نہیں تھا۔ وہی لوگ، جنہیں میں نے اپنے وجود کا حصہ سمجھا تھا، مجھ سے دور ہونے لگے۔ پہلے لہجوں میں اجنبیت آئی، پھر باتوں میں فاصلے، پھر ملاقاتوں میں کمی۔ میں نے سوچا، شاید کوئی پریشانی ہو گی۔ شاید حالات خراب ہوں گے۔ شاید انہیں کچھ وقت درکار ہو گا۔ میں نے پھر خود کو سمجھایا۔ پھر ایک دن مجھے محسوس ہوا کہ میں اب ان کے لیے ضروری نہیں رہی۔ میرے ہونے اور نہ ہونے سے ان کی زندگی میں کوئی فرق نہیں پڑتا تھا۔ میری بات سنی بھی جاتی تو محض رسمی طور پر۔ میرے دکھ کا ذکر ہوتا تو موضوع بدل دیا جاتا۔ میری موجودگی کبھی کبھی بوجھ محسوس ہونے لگی تھی، اور میری محبت، جسے میں اپنی سب سے قیمتی متاع سمجھتی تھی، ان کے لیے ایک ایسی چیز بن گئی تھی جس کی موجودگی کا احساس بھی باقی نہیں رہا تھا۔ میں نے آخری مرتبہ بھی رشتہ بچانے کی کوشش کی۔ میں نے اپنے دل کو سمجھایا کہ شاید میں ہی زیادہ سوچتی ہوں۔ شاید میری توقعات زیادہ ہیں۔ شاید محبت میں کچھ شکایتیں برداشت کرنی پڑتی ہیں۔ میں نے ایک بار پھر اپنی ذات کو کٹہرے میں کھڑا کر دیا اور اپنے ہی خلاف گواہیاں دینے لگی۔ پھر انہوں نے مجھے چھوڑ دیا، نہ کوئی ایسا الوداع جس میں برسوں کی محبت کا احترام ہوتا، نہ کوئی ایسی بات جس سے مجھے محسوس ہوتا کہ میرے ہونے کی کبھی کوئی اہمیت تھی۔ بس فاصلے تھے، خاموشی تھی اور ایک ایسا خالی پن جس میں میری تمام آوازیں گم ہو گئی تھیں۔ میں ان سے الگ ہو گئی۔
لوگوں نے کہا، اچھا ہوا، جان چھوٹی۔ کسی نے کہا، ایسے رشتوں سے دور ہو جانا چاہیے۔ کسی نے میری برداشت کو بے وقوفی کہا، کسی نے میری محبت کو خودداری کے خلاف سمجھا۔ میں ان سب کی باتیں سنتی رہی۔ کاش کوئی ایک شخص ایسا بھی ہوتا جو مجھے یہ کہتا کہ کبھی کبھی درست فیصلہ بھی انسان کو خوش نہیں کرتا۔ کبھی کبھی خود کو بچانے کے لیے اٹھایا گیا قدم دل کو سب سے زیادہ زخمی کرتا ہے۔ کبھی کبھی کسی سے دور ہونا اس لیے مشکل نہیں ہوتا کہ وہ اچھا انسان تھا، بلکہ اس لیے کہ ہم نے اس کے ساتھ اپنی زندگی کا بہت بڑا حصہ، اپنے خواب، اپنی عادتیں اور اپنا مستقبل وابستہ کر لیا ہوتا ہے۔ میں ان سے دور تو ہو گئی تھی، مگر ان سے جڑی ہوئی اپنی زندگی سے کیسے الگ ہوتی؟ مجھے آج بھی ان کی عادتیں یاد آتی تھیں۔ کسی بات پر ان کا ہنسنا، کسی موقع پر ان کا ناراض ہونا، ان کی پسندیدہ چیزیں، ان کی چھوٹی چھوٹی ضرورتیں۔ کبھی بازار میں کوئی ایسی چیز دکھائی دیتی جو انہیں پسند تھی تو میرا ہاتھ بے اختیار اسے خریدنے کے لیے بڑھ جاتا، پھر اچانک یاد آتا کہ اب میری محبت کا کوئی خریدار نہیں رہا۔
کبھی کوئی اچھی خبر ملتی تو دل چاہتا، سب سے پہلے انہیں بتاؤں۔ پھر یاد آتا کہ اب میرے پاس وہ لوگ نہیں جنہیں اپنی خوشی میں شریک کرنے کے لیے میں بے چین رہا کرتی تھی۔
کبھی کسی مشکل میں ان کا خیال آتا تو دل دعا کرنے لگتا کہ خدا انہیں آسانی دے، چاہے وہ میری زندگی میں واپس نہ آئیں۔
ہاں، روکی ہوئی گھڑی، میں آج بھی ان کے لیے برا نہیں چاہتی۔
تم اسے میری شکست کہہ سکتی ہو، مگر میرے لیے محبت کا مطلب کسی کو اپنے پاس رکھنے کا نام نہیں تھا۔ میں نے ان سے محبت کی تھی، انہیں قید کرنے کا معاہدہ نہیں کیا تھا۔ اگر ان کی زندگی میں میرے بغیر سکون تھا تو میں ان کے سکون کی دشمن کیسے ہو سکتی تھی؟
البتہ اب میں نے ایک بات ضرور سیکھ لی ہے۔ کسی کے لیے نرم گوشہ رکھنا اور کسی کو بار بار اپنے وجود کو زخمی کرنے کی اجازت دینا، دو مختلف باتیں ہیں۔ میں آج بھی انہیں معاف کرنے کی کوشش کرتی ہوں، مگر اب ان کے پاس واپس جانے کے لیے اپنے آپ کو مجبور نہیں کرتی۔ میں آج بھی ان کے لیے دعا کرتی ہوں، مگر اب اپنی دعاؤں میں اپنا نام بھی شامل کر لیتی ہوں۔ میں آج بھی ان کی یاد سے انکار نہیں کرتی، مگر اب اس یاد کو اپنی زندگی کا فیصلہ کرنے کا اختیار نہیں دیتی۔ یہ سب سیکھنے میں مجھے بہت وقت لگا۔
اور شاید اسی وقت کے کسی لمحے میں تم بھی رک گئی تھیں۔ مجھے وہ دن یاد ہے جب میں نے تمہاری ٹک ٹک پہلی بار غور سے سنی تھی۔ تم اچانک خاموش ہو گئی تھیں۔ تمہاری دونوں سوئیاں ایک ہی جگہ ٹھہر گئی تھیں۔ میں نے سوچا، شاید بیٹری ختم ہو گئی ہے۔ میں نے تمہیں اتار کر دیکھا، پھر دیوار پر لٹکا دیا۔ ارادہ تھا کہ اگلے دن تمہیں ٹھیک کروا لوں گی۔ مگر اگلا دن آیا تو میرے اندر کچھ اور ہی ٹوٹ چکا تھا۔
اس روز مجھے پہلی مرتبہ شدت سے احساس ہوا کہ بعض رشتے بھی گھڑیوں کی طرح ہوتے ہیں۔ ان کی ظاہری ساخت سلامت رہتی ہے، مگر اندر کوئی باریک سا نظام ٹوٹ جاتا ہے۔ ہم انہیں پہلے کی طرح دیوار پر لٹکائے رکھتے ہیں، ان کی موجودگی سے مانوس بھی رہتے ہیں، مگر ان کی سوئیاں آگے نہیں بڑھتیں۔
اور کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ گھڑی خراب نہیں ہوتی، صرف ہماری زندگی کا کوئی لمحہ اس سے وابستہ ہو کر ہمارے اندر ٹھہر جاتا ہے۔ میرا وقت بھی وہیں رک گیا تھا، جہاں مجھے آخری بار اپنے ہونے کی اہمیت ثابت کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی تھی۔ اس کے بعد دن گزرتے رہے۔ موسم بدلے، کیلنڈر کے ورق پلٹے، سورج ہر صبح نکلا اور ہر شام ڈوب گیا۔ دنیا نے اپنے تمام معمولات جاری رکھے۔ لوگوں نے نئے رشتے بنائے، پرانی باتیں بھلائیں، نئی خوشیاں تلاش کیں اور میں؟
میں بظاہر ان سب کے ساتھ چلتی رہی، مگر میرے اندر ایک کمرہ ایسا تھا جس کی کھڑکی ہمیشہ بند رہتی تھی۔ وہاں وقت کا حساب نہیں رکھا جاتا تھا۔ وہاں وہی پرانی باتیں بار بار دہرائی جاتی تھیں۔ وہی سوال، وہی چہرے، وہی امیدیں، وہی دکھ۔ کبھی میں خود کو اس کمرے سے باہر نکالنے کی کوشش کرتی تو کوئی یاد میرا ہاتھ پکڑ کر اندر کھینچ لیتی۔ پھر ایک دن میں بہت تھک گئی۔
یہ تھکن نیند سے دور ہونے والی تھکن نہیں تھی۔ یہ کسی سے شکایت کرنے کی بھی تھکن نہیں تھی۔ یہ اس کوشش کی تھکن تھی جس میں انسان ہر بار اپنے دل کو سمجھاتا ہے کہ سب ٹھیک ہو جائے گا، حالانکہ وہ جانتا ہے کہ کچھ چیزیں پہلے جیسی کبھی نہیں ہوں گی۔
میں نے اس دن تمہارے سامنے بیٹھ کر بہت دیر تک سوچا۔
کیا میری زندگی واقعی ختم ہو گئی تھی، یا صرف وہ زندگی ختم ہوئی تھی جس کا تصور میں نے اپنے اپنوں کے ساتھ باندھ رکھا تھا؟ کیا میرے اندر محبت ختم ہو گئی تھی، یا محبت نے پہلی بار اپنا رخ میری طرف موڑنے کی درخواست کی تھی؟ کیا ان کا مجھے چھوڑ دینا میرے بے وقعت ہونے کا ثبوت تھا، یا صرف اس حقیقت کا کہ ہر رشتہ ہماری توقع کے مطابق نہیں چل سکتا؟
میرے پاس ان سوالوں کے مکمل جواب نہیں تھے، مگر ایک بات سمجھ آنے لگی تھی۔ میں نے اپنی تمام محبت دوسروں کے نام کر دی تھی اور اپنے حصے میں صرف انتظار رکھا تھا۔ میں نے دوسروں کی ناراضی کو اہمیت دی، مگر اپنی تکلیف کو معمولی سمجھا۔ میں نے رشتے بچانے کی فکر میں یہ نہیں سوچا کہ ان رشتوں کے اندر مجھے بچانے والا کون ہے۔
اور شاید سب سے بڑی ناانصافی میں نے خود اپنے ساتھ کی تھی۔
یہ سمجھ آنا آسان نہیں تھا۔ اس سچ کو قبول کرنے کے لیے مجھے اپنے ہی بنائے ہوئے تصورِ محبت سے گزرنا پڑا۔ مجھے ماننا پڑا کہ قربانی ہمیشہ محبت کی دلیل نہیں ہوتی، خاموشی ہمیشہ صبر نہیں ہوتی، اور ہر حال میں کسی کے ساتھ رہنا وفاداری کی واحد صورت نہیں ہوتی۔
کبھی کبھی اپنے آپ کو مزید تکلیف سے بچا لینا بھی ایک ذمہ داری ہوتی ہے۔ میں نے اس روز کوئی بڑا فیصلہ نہیں کیا۔ نہ اپنے ماضی کو جھٹلایا، نہ اپنے اپنوں سے نفرت کا اعلان کیا، نہ اپنی محبت کو جھوٹا کہا۔
میں نے صرف پہلی بار اپنے دل سے یہ کہا: ’’تم نے بہت کوشش کر لی۔ اب تمہیں ہر روز اپنی محبت کا ثبوت دینے کی ضرورت نہیں۔‘‘ یہ کہتے ہوئے میری آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ شاید برسوں بعد میں نے اپنے دکھ کو کسی کے سامنے ثابت کرنے کی کوشش نہیں کی تھی۔ میں نے نہ اپنے آنسو چھپائے، نہ انہیں کمزوری سمجھا۔ میں نے بس انہیں بہنے دیا اور اس دن مجھے پہلی مرتبہ اپنے اندر تھوڑا سا سکون محسوس ہوا۔ میں نہیں جانتی کہ اسے شفا کہتے ہیں یا قبولیت، مگر اتنا ضرور جانتی ہوں کہ دل کے ہر زخم کا بھر جانا ضروری نہیں ہوتا۔ بعض زخم ہمارے اندر رہتے ہیں، مگر وقت کے ساتھ ان کا درد ہماری پوری زندگی پر حاوی رہنا چھوڑ دیتا ہے۔ مجھے اپنوں کی یاد آج بھی آتی ہے۔ ان کے لیے دل میں اب بھی ایک نرم گوشہ موجود ہے۔ کبھی ان کے ساتھ گزارے ہوئے اچھے دن یاد آتے ہیں تو ہونٹوں پر مسکراہٹ بھی آ جاتی ہے، اور کبھی وہی یادیں آنکھوں کو نم کر دیتی ہیں۔ مگر اب میں اپنے ماضی کو اپنے مستقبل کی سزا نہیں بنانا چاہتی۔ میں یہ نہیں کہتی کہ میں مکمل طور پر ٹھیک ہو گئی ہوں۔ کچھ راتیں اب بھی طویل ہوتی ہیں، کچھ سوال اب بھی بے جواب رہتے ہیں، کچھ یادیں اب بھی میرے قدم روک لیتی ہیں۔ مگر اب میں ان لمحوں میں خود کو تنہا چھوڑنے کے بجائے اپنے ساتھ بیٹھنے کی کوشش کرتی ہوں۔
میں نے آہستہ آہستہ اپنے لیے وقت نکالنا شروع کیا ہے۔ وہ کتابیں پڑھنے لگی ہوں جنہیں برسوں سے خرید کر رکھ چھوڑا تھا۔ کبھی اپنے لیے چائے بناتی ہوں اور اسے ٹھنڈا ہونے سے پہلے پی لیتی ہوں۔ کبھی کھڑکی کھول کر ہوا کو اندر آنے دیتی ہوں۔ کبھی اپنے دل کی باتیں کاغذ پر لکھ دیتی ہوں، جیسے آج تمہیں لکھ رہی ہوں۔
یہ چھوٹی چھوٹی باتیں ہیں، مگر میرے لیے ان کی اہمیت بہت بڑی ہے کیونکہ میں نے پہلی بار سمجھا ہے کہ زندگی صرف کسی کے آنے، کسی کے ٹھہرنے یا کسی کے لوٹ آنے کا نام نہیں۔ زندگی وہ بھی ہے جو ان سب کے بعد باقی رہ جاتی ہے اور جو باقی رہ جائے، اسے یوں ہی ضائع نہیں کر دینا چاہیے۔
میرے کمرے کی روکی ہوئی گھڑی! میں تم سے ایک بات پوچھنا چاہتی ہوں۔ اگر تمہاری سوئیوں کو دوبارہ چلا دیا جائے تو کیا تم وہی وقت واپس لے آؤ گی جس پر تم رکی تھیں؟ کیا تم ان لمحوں کو واپس لا سکتی ہو جن میں مجھے یقین تھا کہ میرے اپنے مجھے کبھی تنہا نہیں چھوڑیں گے؟ کیا تم ان دنوں کو لوٹا سکتی ہو جن میں میں اپنی تمام محرومیوں کے باوجود خوش تھی، کیونکہ مجھے لگتا تھا کہ محبت کرنے والے لوگ ایک دوسرے کو آخرکار سمجھ ہی لیتے ہیں؟
نہیں نا؟ تم وقت دکھا سکتی ہو، وقت واپس نہیں لا سکتیں۔
شاید اسی لیے میں تمہیں اب تک ٹھیک نہیں کروا سکی۔ شاید تمہیں دیکھ کر مجھے یاد رہتا ہے کہ زندگی میں کچھ لمحے ایسے بھی ہوتے ہیں جنہیں دوبارہ جینے کی خواہش تو ہوتی ہے، مگر ان کی طرف لوٹنا ممکن نہیں ہوتا۔ مگر ایک بات اب میں تم سے مختلف کرنا چاہتی ہوں۔ تم اپنی جگہ رکی رہو تو رہو، میں اپنی جگہ نہیں رکنا چاہتی۔ میں اپنے اپنوں کو بھولنے کا دعویٰ نہیں کروں گی، کیونکہ محبت کوئی سوئچ نہیں جسے ایک دن بند کر دیا جائے۔ میں اپنے دل کو پتھر بھی نہیں بناؤں گی، کیونکہ جس نرمی نے مجھے دوسروں کے دکھ پر رلایا، میں اسی نرمی کو اپنی ذات کے لیے بھی بچا کر رکھنا چاہتی ہوں۔ میں بس یہ سیکھنا چاہتی ہوں کہ کسی کو چاہنے کے باوجود اس سے فاصلے پر رہا جا سکتا ہے۔ کسی کی غلطی کو پہچاننے کے باوجود اس کے لیے دعا کی جا سکتی ہے۔ کسی کو معاف کرنے کی کوشش کرتے ہوئے بھی اپنی حدود قائم رکھی جا سکتی ہیں اور سب سے بڑھ کر، کسی کے چھوڑ جانے کے باوجود خود کو نہیں چھوڑا جاتا۔ شاید یہی وہ سبق ہے جسے سیکھنے میں میری آدھی زندگی گزر گئی۔ تمہیں معلوم ہے، کبھی کبھی مجھے لگتا ہے کہ میرے اپنوں نے مجھے تنہا نہیں چھوڑا تھا، انہوں نے میرے اندر موجود اس عورت کو بھی مجھ سے جدا کر دیا تھا جو محبت پر یقین رکھتی تھی، جو چھوٹی چھوٹی خوشیوں سے خوش ہو جاتی تھی، جو کسی کی مسکراہٹ کے لیے اپنی تھکن بھول جاتی تھی۔ میں اسی عورت کو واپس تلاش کر رہی ہوں۔ مگر اس بار میں اسے یہ نہیں سکھاؤں گی کہ محبت کے لیے خود کو مٹا دینا ضروری ہے۔ میں اسے بتاؤں گی کہ نرم دل ہونا خوب صورت بات ہے، مگر اپنے دل کی حفاظت کرنا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ صبر کرنا فضیلت ہے، مگر ظلم کو اپنی قسمت سمجھ کر قبول کرتے رہنا کوئی فرض نہیں۔ اپنوں کے لیے جگہ رکھنا اچھی بات ہے، مگر اس جگہ کی قیمت اپنی پوری ذات سے ادا کرنا ضروری نہیں۔
میں اسے یہ بھی بتاؤں گی کہ زندگی میں کچھ لوگ ہمارے دل میں رہ جاتے ہیں، ہماری زندگی میں نہیں۔ ان کی یاد کا احترام کیا جا سکتا ہے، بغیر اس کے کہ ہم ان کے پاس واپس جائیں۔
اور یہ کہ کبھی کبھی جدائی محبت کا خاتمہ نہیں ہوتی، صرف اس امید کا خاتمہ ہوتی ہے کہ شاید اب سب کچھ پہلے جیسا ہو جائے گا۔ آج میں تمہیں ٹھیک کروانے کا ارادہ رکھتی ہوں۔ نہیں، اس لیے نہیں کہ مجھے اپنے ماضی سے انکار ہے، بلکہ اس لیے کہ میں اپنے حال کو ماضی کی قید میں نہیں رکھنا چاہتی۔ میں چاہتی ہوں کہ تمہاری سوئیاں دوبارہ حرکت کریں، اور جب میں تمہیں دیکھوں تو مجھے یہ احساس ہو کہ وقت رکتا نہیں، چاہے کسی ایک دل کے اندر کتنی ہی خاموشی کیوں نہ ہو۔
شاید تمہاری مرمت کے ساتھ میرے زخم نہ بھریں، شاید میرے اپنوں کے رویے نہ بدلیں، شاید کچھ سوال ہمیشہ میرے ساتھ رہیں۔ مگر میں اب زندگی سے یہ شرط نہیں رکھنا چاہتی کہ پہلے سب کچھ ٹھیک ہو، تب میں جینا شروع کروں گی۔
میں اپنے ٹوٹے ہوئے حصوں کے ساتھ بھی جی سکتی ہوں۔ اپنے نامکمل سوالوں کے ساتھ بھی مسکرا سکتی ہوں۔ اپنے ماضی کی یادوں کو سینے میں رکھ کر بھی مستقبل کی طرف قدم بڑھا سکتی ہوں اور اگر کبھی وہ لوگ واپس آ گئے، جنہیں میں نے کبھی دل سے نکالنے کی کوشش نہیں کی، تو میں ان کے لیے اپنے دل میں موجود نرمی سے انکار نہیں کروں گی۔ مگر اس بار میں خود کو بھی اسی محبت کا حق دوں گی جو ہمیشہ دوسروں کے لیے بچا کر رکھی تھی۔
اب میں کسی سے یہ نہیں کہوں گی کہ میرے ساتھ وہی محبت کرو جو میں تم سے کرتی ہوں۔ محبت مانگنے سے نہیں ملتی، اور نہ ہی کسی کے دل میں جگہ زبردستی بنائی جا سکتی ہے۔
میں صرف اتنا چاہوں گی کہ جہاں میرا احترام نہ ہو، وہاں میری موجودگی کو میری محبت کے نام پر معمولی نہ سمجھا جائے۔ میں نے بہت عرصہ دوسروں کے لیے دروازے کھلے رکھے۔ اب اپنے دل کے دروازے پر بھی ایک دستک سننا چاہتی ہوں۔ یہ دستک کسی دوسرے کی نہیں، میری اپنی ہو گی۔
اور جب میں اپنے اندر داخل ہوں گی تو شاید مجھے وہاں ایک تھکی ہوئی عورت ملے، جو برسوں سے کسی کے لوٹ آنے کی امید میں بیٹھی ہے۔ میں اس کے پاس بیٹھوں گی، اس کا ہاتھ تھاموں گی اور اسے بتاؤں گی کہ جس محبت کے لیے وہ اتنے برسوں سے روتی رہی، اس محبت کا ایک حصہ اس کا اپنا بھی تھا۔ اسے کسی سے چھیننے کی ضرورت نہیں تھی۔
وہ اس کے اندر پہلے سے موجود تھی۔
بس اسے کبھی اپنے لیے استعمال کرنے کی فرصت نہیں ملی۔
میرے کمرے کی روکی ہوئی گھڑی! یہ مکتوب لکھتے ہوئے کھڑکی سے دھوپ اندر اتر آئی ہے۔ کمرے کی دیوار پر تمہارا سایہ کچھ اور واضح ہو گیا ہے۔ میں نے کاغذ تہہ کر کے تمہارے نیچے رکھ دیا ہے۔ شاید تم اسے پڑھ نہ سکو، مگر مجھے یقین ہے کہ خاموش چیزیں بھی بعض اوقات انسان کی بات سن لیتی ہیں۔
میں اب تمہارے سامنے بیٹھ کر وقت کے واپس آنے کی دعا نہیں مانگوں گی۔ میں صرف یہ دعا مانگوں گی کہ جو وقت باقی ہے، اسے کسی کے انتظار میں ضائع نہ کر دوں۔ میرے دل میں اپنے لوگوں کے لیے محبت رہے، مگر میری زندگی صرف ان کی یاد نہ بن کر رہ جائے۔ میرے اندر صبر رہے، مگر اپنی تکلیف کو پہچاننے کی ہمت بھی رہے۔ میری آنکھوں میں آنسو آئیں تو میں انہیں بہنے دوں، مگر ان آنسوؤں کے بعد اپنے چہرے کو دوبارہ اٹھا کر دیکھنا بھی سیکھوں۔
اور اگر کبھی کوئی مجھ سے پوچھے کہ تمہارے اندر اتنی خاموشی کیوں ہے، تو میں اسے یہ نہیں کہوں گی کہ میرے اپنے مجھے چھوڑ گئے تھے، اس لیے میری زندگی ختم ہو گئی۔
میں کہوں گی کہ میرے اپنے مجھے چھوڑ گئے تھے، اس لیے مجھے ایک طویل سفر طے کرنا پڑا؛ اپنے ہی اندر واپس آنے کا سفر۔ اس سفر میں میں بہت ٹوٹی، بہت روئی، بہت کچھ کھویا۔ مگر میں نے آخرکار یہ جان لیا کہ کسی کا ہمیں چھوڑ دینا، ہمارے وجود کی آخری تعریف نہیں ہوتا۔ کچھ لوگ ہماری زندگی سے چلے جاتے ہیں، مگر ہمیں اپنی زندگی سے بھی چلے جانے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ یہی بات میں تمہیں لکھ کر دے رہی ہوں، تاکہ اگر کبھی تمہاری سوئیاں دوبارہ چلنے لگیں اور میں پھر کسی دن تمہارے سامنے آ بیٹھوں، تو مجھے یاد رہے کہ میرا وقت صرف وہ نہیں تھا جو گزر گیا۔
میرا وقت وہ بھی ہے جو ابھی باقی ہے۔ تمہاری طرح میں بھی ایک لمحے میں ٹھہر گئی تھی، مگر اب میں اس لمحے کو اپنی پوری زندگی نہیں بننے دوں گی۔
تمہارے رکنے کی ایک وجہ تھی۔
میرے رکنے کی ایک کہانی تھی۔
مگر اب، میری عزیز روکی ہوئی گھڑی، میری کہانی کا اگلا صفحہ ابھی خالی ہے اور اس بار میں اس پر صرف دوسروں کے نام نہیں لکھوں گی۔ اس بار، میں اپنے نام سے آغاز کروں گی۔
تمہاری دیوار کے سائے میں بیٹھ کر برسوں اپنا وقت گنوانے والی،
وہ عورت، جس نے اپنوں سے محبت کرنا نہیں چھوڑا، مگر اب خود کو تنہا چھوڑنا بھی نہیں چاہتی۔
مزید پڑھیں




