منگل، 13 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

سنگِ تراش کا خواب،تحریر: مہوش بنت بشارت

نقطہ نظر

وقت ایک بے لگام گھوڑا ہے جو کسی کی تھپکی سے نہیں رکتا۔ جو سو گیا وہ گرد رہ گیا۔ جو جاگتا رہا وہ منزل پر پہنچا۔ زندگی رفتار کا نام نہیں بلکہ سمت کا درست اور اٹل تعین ہے۔ہم جس تیز رفتار اور ہنگامہ خیز دور میں سانس لے رہے ہیں وہاں ہر شخص راتوں رات شہرت دولت اور آسائش کے محل سجانا چاہتا ہے۔ سوشل میڈیا کی چکاچوند نے ہمارے ذہن کو عجلت کا عادی بنا دیا ہے۔ ہر کوئی پکی پکائی کھیر چاہتا ہے۔ فطرت مگر کسی ضابطے یا حساب کی غلام نہیں ہوتی۔بیج مٹی کے اندر دبتا ہے۔ وہاں شدید گھٹن اور حبس ہوتا ہے۔ خول ٹوٹتا ہے اور کرب کی ایک طویل رات گزرتی ہے تب جا کر کہیں ایک ننھا پودا سر اٹھاتا ہے۔ اس ابتدائی تاریکی کا حساب کوئی نہیں رکھتا۔ لوگ بس آخری سایہ تلاش کرتے ہیں۔کامیابی کوئی آسمانی بجلی یا اچانک کھلنے والا خزانہ نہیں ہے۔ یہ روزمرہ کی گمنام اور تھکا دینے والی مشقت کا نچوڑ ہے۔ کوہِ گراں پر جب تیشہ چلتا ہے تو ابتدائی سو ضربیں بظاہر رائیگاں جاتی کیونکہ پتھر کے ماتھے پر شکن تک نہیں ابھرتی مگر ہر وار اس کی اندرونی ساخت کو ریزہ ریزہ کر رہا ہوتا ہے۔ آخری ضرب صرف اعلان کرتی ہے۔ اصل طاقت پچھلی تمام محنت کی ہوتی ہے۔ ہم آخری نتیجہ دیکھتے ہیں اور پسینے کے قطرے بھول جاتے ہیں۔ذہانت ایک خوشگوار تحفہ ہے مگر استقامت اصل ہتھیار ہے۔ اوسط درجے کا ذہن اگر لگاتار مشق اور ریاضت کا ہنر جانتا ہے تو وہ اس فطری طور پر ذہین کاہل کو کوسوں پیچھے چھوڑ دیتا ہے جو اپنی پیدائشی صلاحیت کے بل بوتے پر غفلت کی چادر تان کر سوتا ہے۔ قطرہ قطرہ پانی جب سخت چٹان پر مسلسل گرتا ہے تو وہاں گہرا نشان ثبت ہو جاتا ہے۔ انسانی ارادہ اس بے جان پتھر سے کہیں زیادہ قوتِ برداشت رکھتا ہے۔بڑے لوگوں کی زندگیوں کو اٹھا کر دیکھیے۔ نیوٹن نے برسوں کائنات کے مخفی اسرار میں دماغ کھپایا۔ تھامس ایڈیسن ہزاروں بار ناکام ہونے کے باوجود لیبارٹری سے باہر نہ نکلا۔ ہمارے اپنے اقبال نے تاریک راتوں میں جاگ کر وہ نوائے سحر لکھی جس نے ایک مردہ قوم کی رگوں میں نیا خون دوڑا دیا۔ فیض نے زندان کی تنہائیوں میں لفظوں کو سچا رنگ دیا۔ گلیلیو نے سچائی کی قیمت قید اور رسوائی کی شکل میں چکائی۔ مائیکل اینجلو مہینوں پتھر کے مجسمے تراشتے ہوئے بھوکا پیاسا رہا۔ ان سب کی کہانیاں دراصل ناکامیوں تنہائیوں اور مسلسل جدوجہد کا ایک طویل مرثیہ تھیں جسے دنیا بعد میں فتح کا ترانہ سمجھ کر گاتی ہے۔بچپن میں جب ہم ہاتھوں سے چھوٹے کھلونے یا مٹی کے گھر بناتے تھے یا لکڑی کی گاڑیوں کے پہیے جوڑتے تھے تو ایک ایک جوڑ ملانے میں گھنٹے لگتے تھے۔ تب سمجھ آتا تھا کہ کھیل بھی مشق مانگتا ہے۔ جو بچہ ٹریک کا ٹکڑا درست جوڑنا سیکھ لے وہ بڑے ہو کر ماہر کاریگر بنتا ہے۔ جو توڑ کر پھینک دے وہ ہاتھ ملتا رہ جاتا ہے۔ ہنر کا یہی قاعدہ زندگی کے ہر بڑے اور کڑے میدان پر لاگو ہوتا ہے۔محنت صرف رزق نہیں دیتی۔ یہ انسانی نفس کی سب سے بڑی اور کڑی تربیت گاہ ہے۔ جب بندہ مشقت کے طویل مرحلے سے گزرتا ہے تو تکبر کافور ہو جاتا ہے اور عاجزی جنم لیتی ہے۔ ہاتھ کے چھالے انسان کو زمین اور حقیقت سے جوڑے رکھتے ہیں۔ اس کے برعکس جو لوگ محنت سے کتراتے ہیں اور دوسروں کے کاندھوں پر رکھ کر بندوق چلانا چاہتے ہیں ان کی کھڑی کی گئی عمارتیں ہوا کے پہلے جھونکے میں ریت کا تودہ بن کر بیٹھ جاتی ہیں۔ناکامی کوئی حتمی موت یا آخری نقطہ نہیں ہے۔ یہ سفر کا ایک ایسا پڑاؤ ہے جو ہماری اصل خامیوں کا آئینہ دکھاتا ہے۔ جو شخص ٹھوکر کھا کر گرتا ہے اور پھر ہمت باندھ کر دوبارہ اٹھ کھڑا ہوتا ہے وہی اصل مسافر کہلانے کا حقدار ہے۔ زخم وقت کے ساتھ مرہم بنتے ہیں۔ ٹھوکریں عقل سکھاتی ہیں۔ آج کا دن ہمارے پاس ایک امانت ہے۔ آنے والا کل کسی نے نہیں دیکھا۔ اگر آج کی گھڑی غفلت اور کاہلی میں کٹی تو کل کے پچھتاوے ہمارے دائمی نصیب ہوں گے۔ڈگری محض کاغذ کا ایک ٹکڑا ہے۔ ہنر اصل طاقت اور پہچان ہے۔ ہاتھ کالے کیے بغیر کبھی نصیب سفید نہیں ہوتا۔ میدانِ جنگ میں ڈگری نہیں بولتی بلکہ مشقت بولتی ہے۔ تجربہ وہ سکہ ہے جو بازار میں نہیں ملتا بلکہ اسے خود کمانا پڑتا ہے۔ہمیں بہانے تراشنے کا کھیل بند کرنا ہو گا۔ ہم ہر روز ایک چھوٹا مگر پکا قدم آگے بڑھائیں گے۔ چاہے راستہ کتنا ہی پتھریلا کیوں نہ ہو۔ ہمیں یہ سوچنا ہے کہ تیشہ اٹھا کر اپنی تقدیر لکھنی ہے یا تماشائی بن کر صرف تالیاں بجانی ہیں۔