Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

سردیوں کے دن،تحریر: ردا فاطمہ اعوان

نقطہ نظر

مجھے سردیوں کے دن کبھی خوبصورت نہیں لگے۔ نہ ان کی دھند میں لپٹی صبحیں اچھی لگیں، نہ شام کے اترتے سائے، اور نہ ہی رات کی وہ طویل خاموشیاں جو اپنے ساتھ کئی ان کہی کہانیاں لے کر آتی ہیں۔ لوگ کہتے ہیں کہ سردیوں کا موسم محبت، سکون اور خوبصورت یادوں کا موسم ہوتا ہے، مگر شاید وہ نہیں جانتے کہ کچھ موسم ایسے بھی ہوتے ہیں جو انسان کے اندر چھپے دکھوں کو جگا دیتے ہیں۔ کچھ ہوائیں ایسی ہوتی ہیں جو جسم سے زیادہ روح کو چھوتی ہیں، اور کچھ شامیں ایسی ہوتی ہیں جو انسان کو اپنے ہی وجود کے سامنے لا کھڑا کرتی ہیں۔


میرے لیے سردیاں محض موسم کی تبدیلی کا نام نہیں، بلکہ یہ میرے اندر کے خالی پن کو مزید گہرا کرنے کا ایک وسیلہ ہیں۔ جب سرد ہوا ہلکے سے کانوں کے پاس سے گزرتی ہے تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے کوئی پرانی صدا لوٹ آئی ہو۔ کسی کی ہنسی، کسی کی آواز، کسی کے ہونے کا احساس اور کسی کی موجودگی سے وابستہ وہ مدھم سی خوشبو، جو کبھی میرے دنوں کو روشن اور راتوں کو پُرسکون بنایا کرتی تھی۔ یہ سب یادیں اچانک میرے گرد جمع ہونے لگتی ہیں، جیسے ماضی کے بکھرے ہوئے اوراق ہوا کے دوش پر اڑتے ہوئے میرے سامنے آ گرے ہوں۔


کبھی کبھی میں سوچتی ہوں کہ وقت واقعی گزر جاتا ہے یا صرف کیلنڈر کے صفحات بدلتے ہیں؟ کیونکہ کچھ لمحے ایسے ہوتے ہیں جو گزر کر بھی انسان کے اندر کہیں ٹھہر جاتے ہیں۔ ان کی آوازیں خاموش ہو جاتی ہیں، چہرے نظروں سے اوجھل ہو جاتے ہیں، ملاقاتوں کے راستے بند ہو جاتے ہیں، مگر دل کے کسی گوشے میں ان کی موجودگی باقی رہتی ہے۔ شاید اسی لیے کچھ لوگوں کی جدائی کے بعد بھی انسان ان سے مکمل طور پر جدا نہیں ہو پاتا۔ وہ چلے جاتے ہیں، مگر ان کی یادیں روزمرہ زندگی کے معمولی سے معمولی لمحے میں بھی اپنا راستہ تلاش کر لیتی ہیں۔


وہ محفلیں جہاں کبھی قہقہے گونجا کرتے تھے، اب خاموشی کی دیواروں میں دفن ہو چکی ہیں۔ وہ باتیں جن پر ہنستے ہنستے آنکھوں میں آنسو آ جاتے تھے، آج یاد آتی ہیں تو آنکھیں کسی اور ہی وجہ سے نم ہو جاتی ہیں۔ وہ راتیں جو کبھی پلک جھپکتے گزر جایا کرتی تھیں، اب ختم ہونے کا نام نہیں لیتیں۔ گھڑی کی سوئیاں چلتی رہتی ہیں، رات اپنے قدم بڑھاتی رہتی ہے، مگر میرے اندر کہیں وقت ٹھہر جاتا ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے ماضی کا کوئی دروازہ کھل گیا ہو اور میں چاہنے کے باوجود اس سے نظریں نہ ہٹا سکتی ہوں۔


وقت تو گزر گیا، مگر احساس نہیں گیا۔ لوگ بدل گئے، راستے جدا ہو گئے، تعلقات کی صورتیں بدل گئیں، مگر کچھ یادیں آج بھی اپنی پوری شدت کے ساتھ میرے اندر زندہ ہیں۔ میں نے خود کو بہت سمجھایا کہ جو گزر گیا، اسے گزر جانے دینا چاہیے۔ ہر شخص ہمیشہ ساتھ رہنے کے لیے نہیں آتا، کچھ لوگ صرف چند لمحوں کے مسافر ہوتے ہیں۔ لیکن دل شاید ان باتوں کو سمجھنے کے باوجود ماننے سے انکار کر دیتا ہے۔ وہ بار بار انہی راستوں پر لوٹتا ہے جہاں کبھی اپنائیت کے چراغ روشن ہوا کرتے تھے۔


یہ سرد ہوائیں جب میرے دل کے دریچوں کو چھوتی ہیں تو ان میں جمے ہوئے یادوں کے برف زار پگھلنے لگتے ہیں۔ میں بظاہر خاموش رہتی ہوں، مگر میرے اندر ایک شور سا برپا ہو جاتا ہے۔ کئی بھولی بسری باتیں، ادھورے مکالمے اور نامکمل احساسات اپنی موجودگی کا احساس دلانے لگتے ہیں۔ کبھی کسی گلی سے گزرتے ہوئے، کبھی کسی مانوس آواز کو سنتے ہوئے اور کبھی تنہا بیٹھے اچانک ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے زندگی مجھے واپس انہی لمحوں میں لے گئی ہو جن سے نکلنے کے لیے میں نے جانے کتنی کوششیں کی تھیں۔


کبھی تو یہ بھی لگتا ہے کہ شاید وہ سب لمحے خواب تھے، یا محض میرا وہم، جنہیں میں نے حقیقت سمجھ کر جیا۔ شاید میں نے کچھ رشتوں کو ان کی اصل سے زیادہ اہمیت دی، شاید کچھ باتوں میں وہ معنی تلاش کیے ہی نہیں گئے تھے جو میں نے اپنے دل میں بسا لیے تھے۔ مگر انسان جب کسی احساس کو سچ سمجھ کر جیتا ہے تو اس کے لیے بعد میں اسے محض خیال قرار دینا آسان نہیں ہوتا۔ حقیقت چاہے کچھ بھی ہو، اس سے وابستہ جذبات اپنی جگہ موجود رہتے ہیں، اور کبھی کبھی یہی جذبات عمر بھر کے لیے ایک خاموش اذیت بن جاتے ہیں۔


ہر دکھ کو لفظوں میں بیان کرنا ضروری نہیں، ہر یاد کا تذکرہ کرنا بھی لازم نہیں۔ کچھ باتیں انسان اپنے اندر دفن کر کے زندگی کے ساتھ آگے بڑھنے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ لوگوں کے درمیان بیٹھ کر مسکراتا بھی ہے، روزمرہ کے کام بھی کرتا ہے اور زندگی کی ذمہ داریاں بھی نبھاتا ہے، مگر اس کے باوجود اس کے اندر ایک گوشہ ایسا رہ جاتا ہے جہاں ماضی کی آہٹیں مسلسل سنائی دیتی ہیں۔


شاید میرے لیے سردیوں کا موسم بھی ایسا ہی ایک گوشہ ہے،جہاں یادیں خاموشی سے سانس لیتی ہیں، جہاں بچھڑے ہوئے لمحے پھر سے زندہ ہونے لگتے ہیں اور جہاں تنہائی اپنے وجود کا احساس پہلے سے کہیں زیادہ شدت کے ساتھ دلاتی ہے۔


یہ سردیاں میرے لیے صرف ٹھنڈی ہواؤں، دھندلی صبحوں اور طویل راتوں کا نام نہیں۔ یہ ان لوگوں کی یاد ہیں جو کبھی زندگی کا حصہ تھے، ان لمحوں کی کسک ہیں جو لوٹ کر نہیں آ سکتے، اور ان احساسات کی کہانی ہیں جنہیں وقت بھی پوری طرح مٹا نہیں سکا۔


یہ سردیاں۔۔۔


یہ صرف موسم نہیں، یہ میری تنہائی کا دوسرا نام ہیں۔