جمعہ، 16 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

دیر کالونی اسکول حادثہ،گورنر کی زیر صدارت اجلاس، 15 دن میں رپورٹ طلب

مصنف:

پشاور: گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے دیر کالونی میں اسکول کی چھت گرنے کے واقعے کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی اور نجی اسکولوں کے لیے نئی قانون سازی کرکے 15 دن کے اندر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کردی۔


گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی زیرِ صدارت گورنر ہاؤس پشاور میں اجلاس ہوا، جس میں دیر کالونی میں اسکول کی چھت گرنے کے افسوسناک واقعے اور اس سے متعلق انتظامی امور کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں مشیرِ تعلیم عامر عبداللہ، کمشنر پشاور کیپٹن (ر) خالد محمود، ڈپٹی کمشنر آفاق وزیر اور محکمہ تعلیم کے متعلقہ افسران نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران کمشنر پشاور کیپٹن (ر) خالد محمود نے گورنر فیصل کریم کنڈی کو واقعے سے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اسکول کے مالک نے 16 مرلے اراضی 10 سال کے لیے لیز پر حاصل کی تھی، جس پر عمارت تعمیر کی گئی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ متعلقہ اسکول 2026 میں رجسٹرڈ ہوا، تاہم اسکول انتظامیہ نے مقررہ معیاری طریقۂ کار (ایس او پیز) پر عمل درآمد نہیں کیا۔گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ دیر کالونی میں اسکول کی چھت گرنے کا واقعہ انتہائی افسوسناک سانحہ ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ اسکول کی چھت گرنے کے واقعے کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے اور آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔انہوں نے کہا کہ شہر میں بغیر منظور شدہ نقشوں کے تعمیر ہونے والی عمارتوں کی نشاندہی اور ان کی جانچ پڑتال ضروری ہے۔ اس مقصد کے لیے تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشنز (ٹی ایم ایز) مؤثر کردار ادا کرسکتی ہیں۔


گورنر خیبرپختونخوا نے ہدایت کی کہ نجی اسکولوں کے قیام اور عمارتوں کی تعمیر کے لیے مقررہ ایس او پیز پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے، جبکہ صوبے میں نجی تعلیمی اداروں کی رجسٹریشن اور حفاظتی انتظامات سے متعلق قواعد و ضوابط پر سختی سے عمل درآمد کرایا جائے۔فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ جن نجی اسکولوں کے پاس رجسٹریشن سرٹیفکیٹ موجود نہیں، ان کے خلاف کارروائی اور سزاؤں کے تعین کے لیے اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے نجی اسکولوں کے معاملات میں شفافیت، مؤثر نگرانی اور انتظامی امور میں بہترین طریقۂ کار اپنانے کی بھی ہدایت کی۔گورنر نے مزید کہا کہ نجی اسکولوں کے لیے مؤثر قانون سازی کی جائے تاکہ تعلیمی اداروں میں حفاظتی معیارات اور ضابطہ کار پر عمل درآمد یقینی بنایا جاسکے۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو نجی اسکولوں سے متعلق نئی قانون سازی کے حوالے سے 15 دن کے اندر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ تمام متعلقہ ادارے اپنی ذمہ داریاں مؤثر انداز میں ادا کریں۔