سحر کامران کا بیجوں کے غیرمعیاری ہونے، کھاد کی قیمتوں اور کسانوں کے مسائل پر اظہار تشویش

قومی اسمبلی میں سوالات کے وقفے کے دوران پیپلز پارٹی کی رہنما، رکن قومی اسمبلی سیحر کامران نے کپاس کی پیداوار میں کمی، غیرمعیاری بیجوں کی فروخت اور کھاد کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں سحر کامران نے کہا کہ 391 بیج کمپنیوں کی رجسٹریشن منسوخ کیے جانے کے باوجود وزارت ایک بھی سزا یا جرمانے کی وصولی کی مثال پیش نہیں کرسکی۔ مختلف مارکیٹ سرویز کے مطابق تقریباً 90 فیصد کپاس اب بھی غیرمنظور شدہ اور غیرمعیاری بیجوں سے کاشت کی جارہی ہے، تاہم حکومت کسانوں کو تصدیق شدہ بیج فراہم کرنے میں ناکام دکھائی دیتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ڈی اے پی اور یوریا کی قیمتوں میں اضافے کا ذمہ دار صرف مشرق وسطیٰ کے بحران کو قرار دینا مسئلے کا حل نہیں۔ کھاد بنانے والی کمپنیاں اربوں روپے منافع کما رہی ہیں اور انہیں بھاری سبسڈی پر گیس بھی فراہم کی جارہی ہے، لیکن کسانوں کو کوئی ریلیف نہیں مل رہا۔
سیحر کامران کے مطابق صرف ایک سال میں کپاس کی کاشت کا رقبہ 12 فیصد سے زیادہ کم ہوچکا ہے، جبکہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران مجموعی پیداوار میں تقریباً 60 فیصد کمی آئی ہے۔ ٹیکسٹائل ملیں بند ہورہی ہیں اور ہزاروں افراد کے روزگار کو خطرات لاحق ہیں۔انہوں نے کہا کہ کسان مہنگی زرعی لاگت برداشت کرنے کے باوجود کم پیداوار حاصل کررہے ہیں۔ حکومت کے جوابات میں نہ احتساب کا کوئی نظام نظر آیا، نہ قوانین پر عمل درآمد کی تفصیلات اور نہ ہی کسانوں اور ٹیکسٹائل سیکٹر کے تحفظ کے لیے کوئی ٹھوس منصوبہ پیش کیا گیا۔
ایک اور سوال کے حوالے سے سحر کامران نے اسلام آباد میں سرکاری رہائشی مکانات پر غیرقانونی قبضوں کا معاملہ بھی اٹھایا۔ ان کا کہنا تھا کہ متعلقہ وزیر سوالات کے وقفے میں موجود نہیں تھے، جبکہ تحریری جواب نامکمل اور غیرتسلی بخش تھا۔انہوں نے بتایا کہ اپریل 2024 میں انٹیلی جنس بیورو کے ساتھ کیے گئے سروے کا ذکر تو کیا گیا، لیکن قابض، خالی اور انتظار کی فہرست میں شامل سرکاری مکانات کی تفصیلات اور اسٹیٹ آفس کی بے ضابطگیوں کے خلاف کارروائی سے متعلق کوئی معلومات ایوان میں پیش نہیں کی گئیں۔سحر کامران نے سوالات کے وقفے میں وزرا کی عدم حاضری پر بھی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وزرا کا پارلیمانی سوالات کا جواب دینے سے گریز جمہوری احتساب کے عمل کو کمزور کررہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک کو بہانوں کی نہیں بلکہ واضح جوابات اور عملی اقدامات کی ضرورت ہے
مزید پڑھیں




