سوچ کی غلامی اور آزاد فکر کا زوال،تحریر: پیر انتظار حسین مصور
نقطہ نظر
ہم ایک ایسے عجب دور میں زندگی بسر کر رہے ہیں جہاں بظاہر جسم تو کھلی فضا میں آزادانہ سانس لیتے نظر آتے ہیں، مگر ہماری روحیں، ہمارا شعور اور ہمارے دماغ صدیوں پرانی پوشیدہ زنجیروں میں اس طرح جکڑے ہوئے ہیں کہ اب ہمیں اپنی یہ غلامی بھی ایک دلکش آزادی لگنے لگی ہے۔ ہم نے خود پر غور و فکر کرنے اور سوچنے کے تمام دروازے اپنے ہی ہاتھوں سے بند کر کے ایک طویل فکری جلاوطنی قبول کر رکھی ہے۔ بچپن کی دہلیز سے ہی ہمارے کانوں میں یہ بات انڈیل دی جاتی ہے کہ بزرگوں نے جو کہہ دیا یا جو پرانا رواج بن گیا، وہی اس دنیا کا آخری اور اٹل سچ ہے۔ سوال اٹھانا، ہر بات پر دلیل مانگنا، اور پرانی اندھی روایات کو عقل اور شعور کی کسوٹی پر پرکھنا گویا ہمارے اس معاشرے میں سب سے بڑا اور ناقابلِ معافی گناہ سمجھا جاتا ہے۔
حقیقت تو یہ ہے کہ آزادی اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی بہت بڑی اور انمول نعمت ہے۔ آزادی صرف سرحدوں کی پاسبانی یا جسمانی قید سے نجات کا نام نہیں، بلکہ فکر، خیال اور اظہار کی آزادی ہی انسان کو اشرف المخلوقات کا درجہ دیتی ہے۔ اگر ہم اپنی اس عظیم نعمت کی قدر نہیں کریں گے اور اپنی عقل و فکر کو دوسروں کی مرضی کے تابع کر دیں گے، تو ہم سے یہ نعمت چھن جائے گی۔ نعمت کی قدر نہ کرنے والی قومیں بالآخر ذلت اور رسوائی کی اتھاہ گہرائیوں میں جا گرتی ہیں۔
اس فکری لاپروائی کا نتیجہ یہ نکلا کہ ہمارے معاشرے میں آزاد فکر کا وہ روشن چراغ جو کبھی اندھیروں کو چیرتا تھا، اب مدہم ہوتے ہوتے بالکل بجھ چکا ہے۔ اب ہم نے خود سے سوچنے کی زحمت کرنا ہی چھوڑ دی ہے۔ دوسروں کے تراشے ہوئے تعصبات، بنی بنائی آراء اور دوسروں کے تخلیق کردہ فکری سانچوں کو ہم بغیر کسی چون و چرا کے اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیتے ہیں۔ آج کے اس دور اور سوشل میڈیا کے شور شرابے میں حال یہ ہو چکا ہے کہ ہر شخص اپنی عقل استعمال کرنے کے بجائے دوسروں کی عقل پر اندھا دھند چل رہا ہے، اور اپنی انفرادی سوچ کو دوسروں کے پاس گروی رکھ چکا ہے۔ جب کوئی قوم اپنی یہ انفرادی سوچ، آزاد فکر اور اپنی نعمتوں کی قدر کرنے کی صلاحیت کھو بیٹھتی ہے، تو وہ انسانوں کا معاشرہ نہیں بلکہ صرف بھیڑوں کا ایک بے حس ریوڑ بن جاتی ہے جسے جو طاقتور چاہے جدھر چاہیں ہنکا کر لے جائے۔
یہ فکری غلامی صرف ہماری روزمرہ کی عام معاشرتی زندگی تک ہی محدود نہیں رہی، بلکہ اس نے ہمارے علم، ہمارے ادب اور ہمارے تخلیقی جوہر کو بھی اندر سے مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔ ایک سچا قلم کار اور مصور اگر مروجہ بھیڑ چال اور روایتی دھارے سے ہٹ کر کوئی سچ لکھنے یا دکھانے کی جرأت کرے، تو اس پر چہار طرف سے فکری یلغار کر دی جاتی ہے۔ ہمارا معاشرہ اب ایسے بظاہر پڑھے لکھے غلام ذہنوں کو تو خوش دلی سے قبول کر لیتا ہے جو ہر بات پر اندھا دھند ہاں میں ہاں ملائیں، مگر اس بیدار مغز اور خوددار انسان کو ہرگز برداشت نہیں کرتا جو سسٹم کے خلاف آواز اٹھائے، نظام کی خرابیوں کو بے نقاب کرے، اور اپنی عزتِ نفس یا خودداری کا سودا کرنے سے صریحاً انکار کر دے۔
اب بھی اگر ہم نے ہوش کے ناخن نہ لیے اور اپنی اس فکری آزادی اور سوچ کی نعمت کی قدر نہ کی، تو حالات بہتری کی بجائے مزید ابتر ہو جائیں گے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ اس فرسودہ فکری غلامی کے بھاری طوق کو اپنے گلے سے اتار کر ایک ہی جھٹکے میں باہر پھینک دیا جائے۔ جب تک انسان خود اپنے بل بوتے پر سوچنا، ہر سچ پر سوال کرنا اور اپنے ضمیر کی سچی آواز پر جینا نہیں سیکھے گا، تب تک نہ تو کوئی معاشرہ ترقی کی منزل پا سکتا ہے اور نہ ہی کسی قوم کی قسمت کے ستارے بدل سکتے ہیں۔ آزاد فکر ہی انسان کے لیے اصل حیات ہے، اور جو قوم اپنی سوچ کی اس لازوال آزادی کی قدر نہیں کرتی، وہ دنیا کے وسیع نقشے پر صرف زندہ لاشوں کا ایک بے جان ہجوم بن کر رہ جاتی ہے




