Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

سونے کی چڑیا،تحریر: محمد عثمان

m usman blog

جنت کی زندگی ہے، جس کی فضا میں جینا

میرا وطن وہی ہے، میرا وطن وہی ہے


ہمارا پیارا وطن... پاکستان؛ ہمارے لیے کسی انعامِ خاص سے کم نہیں۔ اس نعمتِ عظمیٰ پر ”خالقِ لم یزل“ کا جتنا بھی شکر ادا کیا جائے کم ہے، بل کہ اس احسانِ بے بدل پر خُدائے وحدہ لا شریک کا شکر ادا کرنا ہم پر ہر لمحہ واجب ہے۔ یہ خطہِ ارضی قدرتی وسائل سے مالا مال ہونے کے ساتھ ساتھ تہذیب و تمدن اور تاریخ و ثقافت کا بھی گہوارہ ہے۔ آبادی کے لحاظ سے یہ دنیا کا پانچواں بڑا اور رقبے کے لحاظ سے تینتیسواں بڑا ملک ہے۔ اس کا مکمل نام ”اسلامی جمہوریہ پاکستان“ ہے، جو اس کے نظریاتی اور فکری تشخص کا آئینہ دار ہے۔ پاکستان کے زیرِ انتظام اکائیوں میں پنجاب، سندھ، بلوچستان اور خیبرپختونخواہ شامل ہیں، جب کہ ”آزاد جموں و کشمیر“ خود مختار مگر پاکستان سے الحاق یافتہ خطہ ہے۔ پاکستانی پرچم گہرے سبز و سفید رنگ، ایک چاند اور پانچ کونوں والے ستارے پر مشتمل ہے۔ پرچم میں سبز رنگ مسلم اکثریت، جب کہ سفید پٹی غیر مسلم اقلیتوں کے حقوق، ان کی مذہبی روایات کے احترام کی نمائندگی کرتی ہے۔ ہلال کا نشان ترقی اور تابناک مستقبل، جب کہ ستارہ علم، بلندی اور راہنمائی کا استعارہ ہے۔ مجموعی طور پر ”پاکستانی پرچم“ اخوت و مساوات، امن و امان، اسلامی اقدار اور روحانی تشخص کا مظہر ہے۔

اس کے وسیع و عریض میدان، تا حدِ نگاہ پھیلے ہوئے صحرا، بلند و بالا پہاڑ، اس دھرتی پر بہتے ہوئے دریا، ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر، سرسبز و شاداب وادیاں، گرتی ہوئی آبشاریں، لہلہاتے ہوئے کھیت و کھلیان، جنگلات اور اس کے سینے میں موجود قدرتی وسائل کا ذخیرہ؛ بلا شبہ اس وطن کے ”سونے کی چڑیا“ ہونے کے گواہ ہیں، مگر حیف صد حیف کہ! ہم نے ان نعمتوں کی قدر نہ کی..!

پاکستان کا تقریباً نصف رقبہ قابل کاشت اور زرخیز ہے۔ ”دریائے سندھ“ اور اس کے معاون دریا مل کر آب پاشی کا شاندار نظام فراہم کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے اور لاکھوں خاندانوں کی روزی کا انحصار زراعت پر ہے۔ پاکستان گندم، چاول، کپاس، گنا، مکئی اور پھلوں کی پیداوار میں دنیا میں ممتاز حیثیت رکھتا ہے۔

زمین کے نیچے چھپے سونے، تانبے، لوہے، کرومائیٹ، قدرتی گیس، کوئلے اور نمک کے وسیع تر معدنی ذخائر پاکستان کی اصل دولت ہیں۔ کھیوڑہ میں موجود دنیا کی دوسری بڑی ”نمک کی کان“ اقتصادی طور پر پاکستان کا نہایت ہی قیمتی اثاثہ ہے۔ تیل اور گیس کے ذخائر پاکستان کو توانائی کے میدان میں خودکفیل بنا سکتے ہیں بشرط یہ کہ، جدید ٹیکنالوجی کو بروئے کار لاتے ہوئے ان وسائل کو منصفانہ طور پر استعمال کیا جائے۔

شمالی علاقہ جات کے جنگلات، دیودار اور چیڑ کے درخت پاکستان کے ماحولیاتی توازن میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ وادی نیلم، سوات اور ہنزہ کی جھیلیں اور بلند و بالا پہاڑ؛ پاکستان کو ایک دل کش سیاحتی مقام بناتے ہیں۔ جنگلی اور آبی نایاب حیاتیات بھی پاکستان کا قابلِ فخر اثاثہ ہیں۔ وطن عزیز کا آبی نظام بھی زرخیزی اور توانائی دونوں کے لیے نعمت ہے۔ تربیلا، منگلا اور غازی بروتھا جیسے ڈیم زرعی زمینوں کو سیراب کرنے کے ساتھ ساتھ بجلی بھی فراہم کرتے ہیں۔ ساحلی پٹی پر واقع گوادر اور کراچی کی بندرگاہیں تجارتی لحاظ سے بہت اہمیت رکھتی ہیں۔ تاریخی اعتبار سے بھی یہ سرزمین عظیم تہذیبوں کا گہوارہ رہی ہے۔ موہنجو داڑو، ہڑپہ، ٹیکسلا اور مکلی جیسے مقامات آج بھی اس ملک کی تہذیبی عظمت کی گواہی دیتے ہیں۔ مذہبی اور ثقافتی تنوع اس ملک کو ایک الگ پہچان عطا کرتا ہے۔


میرے وطن کی سرزمین، اخلاص و چاہت کی امیں

اس کے جواں سب سے جری، مثل وفا ہر نازنین


گل رنگ و سبزہ پوش ہیں سب وادیاں، سب بستیاں

ہے اس کا چپہ چپہ روشن، صورتِ عرش بریں


لیکن سوال یہ ہے کہ! جب ہمارے پاس سب کچھ موجود ہے، تو ہم ترقی کی دوڑ میں پیچھے کیوں رہ گئے؟ ہم ترقی یافتہ قوم کہلانے کے بجائے ترقی پزیر قوم کیوں کہلائے جاتے ہیں؟ ہم معاشی اور اقتصادی بحرانوں کا شکار کیوں ہیں؟ ہمارے ہاں مہنگائی کا جن بے قابو کیوں ہے؟

معزز قارئین!

اس سب کی بنیادی وجہ ہمارے اجتماعی رویے، بدعنوانی، تعلیم و تحقیق کی کمی، وسائل کے غیر مؤثر استعمال، نا انصافی، سوچ و فکر کی پستی، اخلاقی گراوٹ؛ فن و ثقافت سے بیگانگی اور جاگیر دارانہ نظام میں چھپی ہوئی ہے۔ سونے کی چڑیا تو ہمارے پاس ہے، مگر ہم نے خود اس کے پروں کو کاٹ دیا ہے...!


اس کی تقدیر میں محکومی و مظلومی ہے

قوم جو کر نہ سکی اپنی خودی سے انصاف


فِطرت! افراد سے اغماض بھی کر لیتی ہے

کبھی کرتی نہیں، ملّت کے گُناہوں کو معاف


محترم قارئین!

اب وقت آ گیا ہے کہ! ہم جاگ جائیں۔ ہمیں چاہیے کہ تعلیم و تربیت، امانت و دیانت، محنت اور اتحاد کو اپنائیں۔ اپنے وسائل کو ایمان داری سے استعمال کریں۔ سائنسی تحقیق، جدید ٹیکنالوجی اور دیانت دار قیادت کے ذریعے اس وطن کو اس مقام پر پہنچائیں جہاں یہ واقعی سونے کی چڑیا بن کر چہک اٹھے۔ یہ ملک ہمارے آبا کی قربانیوں کا حاصل اور ہماری نسلوں کا مستقبل ہے۔ آئیے! مل کر یہ عہد کریں کہ، ہم پاکستان کی قدر کریں گے، اسے ترقی، خوشحالی اور سربلندی کی مثال بنا کر دنیا کو دکھائیں گے کہ ہاں! واقعی ہمارا یہ ملک... ملک پاکستان... سونے کی چڑیا ہے، جو ہر قید اور ہر پنجرے سے آزاد ہے اور ہم اس کے محافظ ہیں۔


وہ نغمہِ بلبل، رنگیں نوا اک بار ہو جائے

کلی کی آنکھ کھل جائے، چمن بیدار ہو جائے