معاشروں کے عروج و زوال کا فیصلہ محض بلند عمارتوں، جدید ٹیکنالوجی، معاشی ترقی اور ظاہری خوش حالی سے نہیں ہوتا، بلکہ اس بات سے بھی ہوتا ہے کہ وہاں سچ بولنے والوں کو کس نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، اختلافِ رائے کو کتنی وسعتِ قلبی سے سنا جاتا ہے اور اپنی غلطی تسلیم کرنے کا کتنا حوصلہ موجود ہے۔ جس معاشرے میں خوشامد کو وفاداری، خاموشی کو مصلحت اور حق گوئی کو دشمنی سمجھ لیا جائے، وہاں اصلاح کے دروازے آہستہ آہستہ بند ہونے لگتے ہیں۔ بدقسمتی سے ہمارے معاشرتی رویوں میں بھی ایسے رجحانات نمایاں ہیں جو سنجیدہ غور و فکر اور اجتماعی خود احتسابی کا تقاضا کرتے ہیں۔
سچ ہمیشہ آسان نہیں ہوتا، کیونکہ وہ اکثر ان حقیقتوں سے پردہ اٹھاتا ہے جنہیں انسان اپنی خواہش، مفاد یا انا کی خاطر چھپائے رکھنا چاہتا ہے۔ دوسروں کی خامیوں کی نشان دہی کرنا نسبتاً آسان ہے، لیکن جب وہی آئینہ ہماری اپنی ذات کے سامنے رکھ دیا جائے تو برداشت کا دامن تنگ ہونے لگتا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہماری بات کو اہمیت دی جائے، ہمارے مؤقف کو تسلیم کیا جائے اور ہماری غلطیوں سے صرفِ نظر کیا جائے مگر دوسروں کے معاملے میں ہم انصاف کے سخت ترین پیمانے اختیار کر لیتے ہیں۔ یہی دوہرا معیار انفرادی کردار کو کمزور اور معاشرتی اعتماد کو مجروح کرتا ہے۔
سچ ایک آئینے کی مانند ہے۔ آئینہ نہ کسی سے محبت کرتا ہے، نہ کسی سے نفرت وہ صرف عکس دکھاتا ہے۔ مگر المیہ یہ ہے کہ بعض اوقات انسان اپنے چہرے پر موجود داغ دیکھنے کے بجائے آئینہ دکھانے والے کو ہی قصوروار ٹھہرانے لگتا ہے۔ اسے اپنی اصلاح سے زیادہ اس شخص کی خاموشی عزیز ہوتی ہے جو اس کی کمزوری کی نشان دہی کرتا ہے۔ حالاں کہ حقیقت سے نظریں چرانے سے حقیقت بدل نہیں جاتی۔ سوال کو دبایا جا سکتا ہے، آواز کو خاموش کیا جا سکتا ہے اور اختلاف کرنے والے کو تنہا بھی کیا جا سکتا ہے، لیکن مسائل کا پائیدار حل صرف ان کا سامنا کرنے سے ہی نکلتا ہے۔
ہمارے ہاں ایک عجیب تضاد دیکھنے کو ملتا ہے جو شخص ہماری ہر بات پر سر ہلائے، ہماری تعریف کرے اور ہماری غلطیوں کو بھی خوبی بنا کر پیش کرے، وہ ہمیں مخلص محسوس ہوتا ہے لیکن جو شخص دلیل کے ساتھ ہماری کوتاہی کی نشان دہی کرے، اسے بدخواہ، مخالف یا تنقید برائے تنقید کرنے والا سمجھ لیا جاتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں خوشامد، اخلاص کا لبادہ اوڑھ لیتی ہے اور منافقت کو سماجی قبولیت ملنے لگتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر اختلاف دشمنی نہیں ہوتا اور ہر اتفاق خیرخواہی کی دلیل نہیں ہوتا۔ کبھی ایک سچی تنبیہ، سو جھوٹی تعریفوں سے زیادہ قیمتی ثابت ہوتی ہے۔
تاہم حق گوئی کا مطلب تلخ مزاجی، بدزبانی یا دوسروں کی تذلیل ہرگز نہیں۔ سچ بولنے کے لیے صرف جرأت کافی نہیں، بلکہ شعور، دیانت اور شائستگی بھی ضروری ہیں۔ اگر بات درست ہو لیکن انداز تحقیر آمیز ہو تو اس کے اثرات کمزور پڑ سکتے ہیں۔ اسی طرح محض سخت الفاظ استعمال کرنے سے کوئی شخص حق گو نہیں بن جاتا۔ اصل حق گوئی وہ ہے جو دلیل، شواہد، اخلاق اور خیرخواہی کی بنیاد پر کی جائے۔ اختلاف کا حق سب کو حاصل ہے، لیکن کسی کی عزتِ نفس پامال کرنا کسی کے مؤقف کو درست ثابت نہیں کرتا۔ سچائی کی قوت اس کی صداقت میں ہے، آواز کی بلندی میں نہیں۔
موجودہ دور میں سوشل میڈیا نے اس صورتِ حال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ اب ایک غیر مصدقہ خبر، ذاتی الزام یا جذباتی بیان چند لمحوں میں ہزاروں افراد تک پہنچ سکتا ہے۔ لوگ بعض اوقات تحقیق سے پہلے فیصلہ اور تصدیق سے پہلے کردار کشی شروع کر دیتے ہیں۔ اس ماحول میں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ہر مقبول بات سچ نہیں ہوتی، ہر وائرل خبر حقیقت نہیں ہوتی اور ہر تنقید اصلاح کی نیت سے نہیں کی جاتی۔ کسی پر الزام لگانا آسان، مگر اس کے ثبوت فراہم کرنا اور اپنے الفاظ کی ذمہ داری قبول کرنا مشکل ہوتا ہے۔ اس لیے حق گوئی کا دعویٰ کرنے والے پر لازم ہے کہ وہ سچائی کے ساتھ دیانت، تحقیق اور انصاف کے تقاضے بھی پورے کرے۔
ایک مہذب معاشرے میں اختلافِ رائے کو خطرہ نہیں، بہتری کا امکان سمجھا جاتا ہے۔ گھروں میں بچوں کو سوال کرنے سے روکا نہ جائے، تعلیمی اداروں میں اختلاف کو بدتمیزی نہ سمجھا جائے، دفاتر میں اصولی مؤقف اختیار کرنے والوں کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے اور اجتماعی معاملات میں تنقید کو ذاتی دشمنی کا رنگ نہ دیا جائے۔ کسی بھی ادارے کی مضبوطی اس میں غلطیوں کے انکار سے نہیں، بلکہ انہیں پہچاننے اور درست کرنے کی صلاحیت سے ظاہر ہوتی ہے۔ اسی طرح کسی فرد کی عظمت اس بات میں نہیں کہ وہ کبھی غلطی نہ کرے، بلکہ اس میں ہے کہ غلطی سامنے آنے پر اسے تسلیم کرنے کا حوصلہ رکھتا ہو۔
ہر شخص جو خود کو حق گو کہتا ہے، ضروری نہیں کہ وہ ہمیشہ درست ہو۔ سچائی کسی فرد کی ذاتی ملکیت نہیں اور نہ ہی اختلاف کرنے والا ہر شخص لازماً حق پر ہوتا ہے۔ اصل معیار شخصیت، عہدہ، شہرت یا مقبولیت نہیں، بلکہ دلیل، شواہد اور کردار ہیں۔ جو شخص دوسروں سے جواب دہی کا مطالبہ کرتا ہے، اسے خود بھی احتساب کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ انصاف کا تقاضا یہی ہے کہ اپنے لیے اور دوسروں کے لیے ایک ہی اصول اختیار کیا جائے۔ یہی رویہ حق گوئی کو ذاتی عناد سے الگ اور تنقید کو اصلاح کا ذریعہ بناتا ہے۔
آج ہمیں دوسروں کے کردار پر انگلی اٹھانے سے پہلے اپنی ذات کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ کیا ہم اپنے گھر میں سچ برداشت کرتے ہیں؟ کیا ہم اپنے دوست کو اپنی غلطی بتانے کی اجازت دیتے ہیں؟ کیا ہم کسی مخالف کی درست بات تسلیم کر سکتے ہیں؟ اور کیا ہم اپنے مفاد کے خلاف ہونے کے باوجود اصول کا ساتھ دیتے ہیں؟ ان سوالات کے جواب ہی ہمارے حقیقی کردار کی عکاسی کرتے ہیں۔ معاشرے کی اصلاح محض تقریروں، نعروں اور دوسروں پر الزامات سے ممکن نہیں اس کے لیے ہر فرد کو اپنے حصے کی ذمہ داری قبول کرنا ہوگی۔
حقیقت یہ ہے کہ سچ کڑوی دوا کی طرح ہو سکتا ہے اس کا ذائقہ ناگوار ضرور ہوتا ہے، لیکن درست تشخیص اور مناسب استعمال کے ساتھ یہی اصلاح کا راستہ کھولتا ہے۔ اس کے برعکس خوشامد وقتی خوشی اور جھوٹی تسلی تو دے سکتی ہے، مگر رفتہ رفتہ انسان کو اپنی کمزوریوں سے بے خبر کر دیتی ہے۔ جو معاشرہ سچ سننے کا حوصلہ کھو بیٹھے، وہ اپنی غلطیوں سے سیکھنے کی صلاحیت بھی کھونے لگتا ہے۔ ترقی کے لیے صرف قابل لوگوں کی موجودگی کافی نہیں، بلکہ ایسا ماحول بھی ضروری ہے جہاں دیانت دار آواز کو سنا جائے، دلیل کو اہمیت دی جائے اور غلطی کی اصلاح کو توہین نہ سمجھا جائے۔
آخر میں سوال یہ نہیں کہ ہمارے معاشرے میں سچ بولنے والے کتنے ہیں، بلکہ یہ بھی ہے کہ ہم سچ سننے کے لیے کتنے تیار ہیں؟کیونکہ حق گوئی کی قدر اسی وقت پیدا ہوتی ہے جب سچ کہنے والے کے ساتھ سچ سننے والا بھی موجود ہو۔ ہمیں آئینہ دکھانے والے سے ناراض ہونے کے بجائے اپنے عکس کا جائزہ لینا ہوگا، خوشامد کے مقابلے میں دیانت کو ترجیح دینا ہوگی اور انا کے بجائے دلیل کو اپنا رہنما بنانا ہوگا۔ یاد رکھیے، کسی معاشرے کو کمزور کرنے کے لیے ہمیشہ جھوٹ کا غلبہ ضروری نہیں ہوتا کبھی سچ بولنے والوں کو خاموش کر دینا اور خوشامد کرنے والوں کو سر آنکھوں پر بٹھانا ہی کافی ہوتا ہے۔ جس روز ہم سچائی کو دشمنی کے بجائے خیرخواہی، اختلاف کو مخالفت کے بجائے مکالمہ اور خود احتسابی کو کمزوری کے بجائے اخلاقی قوت سمجھنے لگیں گے، اسی روز ایک باوقار، منصفانہ اور صحت مند معاشرے کی بنیاد مضبوط ہونے لگے گی۔
مزید پڑھیں





