پیر، 2 نومبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

سفید جھوٹ اور کالے عکس،تحریر: مائرہ حمزہ

نقطہ نظر

سچ اور جھوٹ کی جنگ اتنی ہی قدیم ہے جتنا کہ خود انسان۔ آدم کے بیٹے سے لے کر آج کے دور تک، ہم نے ہمیشہ سچ کو کڑوا اور جھوٹ کو شیریں سمجھا ہے؛ لیکن وقت کے ساتھ انسان نے اپنی کمزوریوں پر پردہ ڈالنے کے لیے جھوٹ کو نیا فیشن دے دیا، اسے رنگوں کا لباس پہنا دیا۔ اس میں سب سے مشہور لباس "سفید" کا ہے۔

"سفید جھوٹ" نام سنتے ہی یوں محسوس ہوتا ہے جیسے کوئی معصوم سی بات ہو، کسی کا دل رکھنے کے لیے کہی گئی ہو، یا کسی بڑی پریشانی سے بچانے کے لیے بولی گئی ہو۔ کہا جاتا ہے کہ یہ بے ضرر ہوتا ہے؛ مگر حقیقت یہ ہے کہ جھوٹ کا کوئی رنگ نہیں ہوتا۔ جھوٹ بہرحال جھوٹ ہی رہتا ہے اور ہر سفید جھوٹ اپنے پیچھے ایک گہرا، تاریک اور کالا عکس چھوڑ جاتا ہے۔ وہ عکس جو آہستہ آہستہ ہمارے رشتوں، ہمارے ضمیر اور ہمارے معاشرے کی بنیادوں کو دیمک کی طرح چاٹ جاتا ہے۔

جب کوئی شخص پہلی بار سفید جھوٹ بولتا ہے تو اسے لگتا ہے کہ اس نے بڑی عقلمندی کا کام کیا ہے۔ دفتر میں باس سے کہہ دینا کہ "سر، ٹریفک میں پھنس گیا تھا" حالانکہ وہ دیر سے بیدار ہوا تھا۔ دوست سے کہہ دینا کہ "تمہارا سوٹ بہت جچ رہا ہے" جبکہ دل میں وہ میں رہا ہے "اچھا نہیں لگا۔" ماں سے یہ چھپا لینا کہ آج پیسے کہاں خرچ ہوئے، یا دوست سے کہہ دینا کہ "میں بالکل ٹھیک ہوں" جبکہ اندر سے وہ ٹوٹ چکا ہے۔

بظاہر یہ باتیں بہت معمولی لگتی ہیں۔ ہم خود کو تسلی دیتے ہیں کہ اس میں کیا حرج ہے، کسی کا دل تو نہیں دکھا۔ لیکن یہیں سے اس کالے عکس کی ابتدا ہوتی ہے۔ ایک سفید جھوٹ کو سچ ثابت کرنے کے لیے دس مزید جھوٹ بولنے پڑتے ہیں اور پھر ان دس کو چھپانے کے لیے سو جھوٹ اور۔ انسان خود اپنے ہی بنے ہوئے جال میں مکڑی کی طرح الجھ جاتا ہے۔ پہلے وہ اپنی ذات کو دھوکا دیتا ہے پھر آہستہ آہستہ دوسروں کو۔ اس کا ضمیر مصلحتوں کا قیدی بن جاتا ہے۔ وہ آئینے میں اپنی آنکھوں سے آنکھیں نہیں ملا پاتا کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اس چہرے پر اب سچائی کا نور باقی نہیں رہا۔

معاشرتی سطح پر اس سفید جھوٹ کا کالا عکس اور بھی بھیانک ہے۔ سیاست کو ہی دیکھ لیں۔ وعدہ کیا جاتا ہے کہ "عوام کی خدمت کریں گے۔" یہ سفید جھوٹ ہے اور اس کا کالا عکس کرپشن، مایوسی اور ٹوٹے ہوئے خوابوں کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ کاروبار میں دیکھیں، "ہمارا مال ایک نمبر ہے" کہا جاتا ہے، یہ بھی سفید جھوٹ ہے اور اس کا عکس گاہک کا اعتماد ٹوٹنے کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔

گھروں کا حال بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ شوہر بیوی سے باتیں چھپاتا ہے، بیوی شوہر سے، ماں باپ بچوں سے سفید جھوٹ بولتے ہیں اور بچے ماں باپ سے۔ سب مصلحت کے نام پر جھوٹ کا سہارا لیتے ہیں؛ پھر ایک دن جب حقیقت کا دھماکہ ہوتا ہے تو وہی معمولی سا جھوٹ رشتوں کے آئینے پر ایسا زخم لگا جاتا ہے کہ وہ آئینہ ہمیشہ کے لیے دھندلا ہو جاتا ہے۔ اعتبار اگر ٹوٹ جائے تو جوڑنے کے بعد بھی اس میں دراڑ نظر آتی ہے۔

اس کا سب سے بڑا نقصان خود انسان کی اپنی ذات کو پہنچتا ہے۔ بار بار سفید جھوٹ بولنے والا اپنی ہی نظروں میں گر جاتا ہے۔ وہ ایک مصنوعی دنیا بنا لیتا ہے، کاغذ کے پھولوں سے سجی ہوئی دنیا، جو دیکھنے میں حسین لگتی ہے مگر اندر سے بے جان ہوتی ہے۔ اس میں سچ بولنے کی ہمت ختم ہو جاتی ہے اور ہر بات کے بعد دل میں یہ کھٹکا لگا رہتا ہے کہ کہیں بھید نہ کھل جائے۔

وہ کالا عکس اس کے کردار پر داغ بن جاتا ہے۔ وہ چاہے کتنے ہی سفید جھوٹوں سے اسے دھونے کی کوشش کرے، وہ داغ مٹتا نہیں کیونکہ سچ کو دفن تو کیا جا سکتا ہے؛ مگر مٹایا نہیں جا سکتا۔ وہ کبھی نہ کبھی ضمیر کو جھنجھوڑ کر باہر آ ہی جاتا ہے۔

سچ کڑوا ضرور ہے۔ بسا اوقات سچ بولنے سے رشتہ ٹوٹ بھی جاتا ہے، نوکری چلی بھی جاتی ہے، لوگ ناراض بھی ہو جاتے ہیں؛ مگر سچ کا انجام ہمیشہ صاف اور شفاف ہوتا ہے، جیسے بارش کے بعد مٹی سے اٹھنے والی خوشبو۔ جبکہ سفید جھوٹ ایک عارضی مرہم ہے۔ وہ زخم پر لگ کر وقتی سکون تو دیتا ہے مگر اندر ہی اندر پیپ بھرتا رہتا ہے اور ایک دن وہی پیپ پھوٹ کر سارے وجود کو آلودہ کر دیتی ہے۔

ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ صرف "سفید" کا لفظ لگا دینے سے جھوٹ کی سنگینی کم نہیں ہو جاتی۔ زہر کو شہد کی بوتل میں ڈال دینے سے وہ شہد نہیں بن جاتا؛ اگر ہم واقعی ایک صحت مند معاشرہ چاہتے ہیں؛ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے گھروں، اداروں اور ملک میں اعتماد قائم ہو، تو ہمیں اس سفید جھوٹ کے سحر سے نکلنا ہوگا۔ ہمیں تلخ سچ بولنے اور سننے کا حوصلہ پیدا کرنا ہوگا۔

یاد رکھیں، کاغذ کے پھولوں سے کبھی خوشبو نہیں آتی، خوشبو صرف سچے جذبوں سے آتی ہے۔ زندگی کی خوبصورتی، رشتوں کی مٹھاس اور ضمیر کا سکون، یہ سب صرف سچ کے اجالے میں ہی ممکن ہے۔ جھوٹ چاہے کتنا ہی سفید کیوں نہ ہو، اس کا عکس ہمیشہ کالا ہی رہتا ہے۔