تعلیم کاروبار نہیں، مستقبل کی تعمیر ہے،تحریر: اعجاز راہی
نقطہ نظر
قومیں اپنے مستقبل کا فیصلہ میدانِ جنگ میں نہیں بلکہ درس گاہوں میں کرتی ہیں۔ آج جو ملک دنیا کی معیشت، ٹیکنالوجی اور صنعت پر حکمرانی کر رہے ہیں، انہوں نے یہ مقام کسی اتفاق سے حاصل نہیں کیا بلکہ اپنی تعلیمی پالیسیوں کو آنے والے عشروں کی ضرورت کے مطابق ڈھال کر حاصل کیا ہے۔ چین اس کی ایک نمایاں مثال ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں چین نے تعلیم کے میدان میں ایسے فیصلے کیے جنہوں نے پوری دنیا کی توجہ حاصل کی۔ سب سے پہلے اس نے لازمی تعلیم کے شعبے میں یہ اصول اختیار کیا کہ تعلیم کو کاروبار نہیں بننے دیا جا سکتا۔ چین کے نو سالہ لازمی تعلیم کے دوران منافع بخش نجی اسکولوں کی حوصلہ شکنی کی گئی، انہیں غیر منافع بخش حیثیت اختیار کرنے کی طرف لایا گیا، جبکہ نصابی مضامین کی منافع بخش کوچنگ پر بھی سخت پابندیاں عائد کر دی گئیں۔ حکومت کا مؤقف واضح تھا کہ جب تعلیم منافع کی منڈی بن جاتی ہے تو والدین مالی دباؤ کا شکار ہوتے ہیں، بچوں پر غیر ضروری مسابقت مسلط ہو جاتی ہے اور معاشرے میں حصولِ علم کے لئے امیر و غریب کی بڑھتی ہوئی خلیج مزید وسعت پکڑتی ہے۔چین کا یہ فیصلہ محض تعلیمی اصلاح نہیں تھا بلکہ ایک سماجی فلسفہ تھا۔ حکومت نے یہ پیغام دیا کہ تعلیم سرمایہ کاروں کی کمائی کا ذریعہ نہیں بلکہ ریاست کی ذمہ داری اور قوم کے مستقبل کی ضمانت ہے۔ علم اگر صرف ان لوگوں کی دسترس میں ہو جو مہنگی فیسیں ادا کر سکتے ہیں تو پھر مساوی مواقع کا تصور ختم ہو جاتا ہے، اور جب مساوی مواقع ختم ہوتے ہیں تو معاشرے میں محرومی، بے چینی اور طبقاتی تقسیم جنم لیتی ہے۔
یہ اہم قدم اٹھانے کے ساتھ ساتھ چین نے صرف یہیں پر اکتفا نہیں کیا۔ اس نے اپنی جامعات کا بھی ازسرِ نو جائزہ لیا۔ گزشتہ چند برسوں میں ہزاروں ایسے ڈگری پروگرام ختم، معطل یا ضم کیے گئے جن کی افادیت کم ہو چکی تھی یا جن کا تعلق بدلتی ہوئی معیشت اور صنعت سے کمزور پڑ گیا تھا۔ اسی کے ساتھ مصنوعی ذہانت، روبوٹکس، ڈیجیٹل فنانس، ڈیجیٹل تجارت، نئی توانائی، انٹیگریٹڈ سرکٹس، بایو مینوفیکچرنگ، زرعی ٹیکنالوجی اور دیگر ابھرتے ہوئے شعبوں میں نئے پروگرام متعارف کرائے گئے۔
اس فیصلے کا مطلب یہ نہیں کہ ادب، فنون یا سماجی علوم غیر ضروری ہو گئے ہیں، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی بھی نصاب ہمیشہ کے لیے مقدس نہیں ہوتا۔ تعلیم اگر وقت کے ساتھ خود کو تبدیل نہ کرے تو وہ معاشرے کی رہنمائی کرنے کے بجائے ماضی کا بوجھ بن جاتی ہے۔
چین نے دراصل ایک بنیادی سوال پوچھا: آنے والے دس، بیس اور تیس برس بعد دنیا کو کس قسم کے انسان درکار ہوں گے؟ پھر اس نے اپنی جامعات کو اسی سوال کا جواب بنانے کی کوشش کی۔
یہ سوال پاکستان کو بھی اپنے آپ سے پوچھنا ہوگا۔
ہمارے ہاں آج بھی یونیورسٹی میں داخلہ لیتے وقت زیادہ تر والدین کا پہلا سوال یہی ہوتا ہے کہ کون سی ڈگری اچھی ہے؟ مگر اب یہ سوال کافی نہیں رہا۔ اصل سوال یہ ہے کہ یہ ڈگری طالب علم کو کیا سکھائے گی؟ کیا وہ کسی مسئلے کا حل نکال سکے گا؟ کیا وہ نئی ٹیکنالوجی کے ساتھ کام کر سکے گا؟ کیا وہ مصنوعی ذہانت، ڈیٹا، خودکار نظام اور ڈیجیٹل معیشت کی زبان سمجھتا ہوگا؟ یا پھر وہ صرف ایک خوبصورت ڈگری لے کر روزگار کے انتظار میں کھڑا ہوگا؟
بدقسمتی سے ہمارے ہاں تعلیم کا تصور ابھی تک ڈگری کے گرد گھومتا ہے، جبکہ دنیا صلاحیت کے گرد گھوم رہی ہے۔ کمپنیاں اب صرف یہ نہیں دیکھتیں کہ امیدوار نے کون سی ڈگری حاصل کی ہے، بلکہ وہ یہ دیکھتی ہیں کہ وہ کیا کر سکتا ہے، کون سا مسئلہ حل کر سکتا ہے، کون سی نئی قدر پیدا کر سکتا ہے اور بدلتی ہوئی دنیا کے ساتھ خود کو کس حد تک ہم آہنگ کر سکتا ہے۔
یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ پاکستان میں تعلیم ایک مہنگی صنعت بنتی جا رہی ہے۔ سرکاری تعلیمی ادارے وسائل کی کمی سے نبرد آزما ہیں جبکہ نجی اداروں کی فیسیں مسلسل بڑھ رہی ہیں۔ اس کے ساتھ کوچنگ سینٹرز اور ٹیوشن کا ایسا کلچر پیدا ہو چکا ہے جس نے والدین پر اضافی مالی بوجھ ڈال دیا ہے۔ بہت سے گھرانوں میں تعلیم اب حق نہیں بلکہ ایک مہنگی خریداری بن چکی ہے۔
تعلیم یقیناً وسائل مانگتی ہے۔ اچھے اساتذہ، جدید تجربہ گاہیں، تحقیق، ٹیکنالوجی اور معیاری نصاب سب سرمایہ چاہتے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اس سرمایہ کاری کا مقصد کیا ہو؟ اگر مقصد صرف منافع کمانا رہ جائے تو تعلیم اپنی روح کھو دیتی ہے۔ تعلیم کا اصل مقصد انسان بنانا، سوچ پیدا کرنا، کردار تعمیر کرنا اور ایسی صلاحیتیں پیدا کرنا ہے جو فرد اور معاشرے دونوں کے کام آئیں۔
پاکستان کو چین کا ہر ماڈل اپنانے کی ضرورت نہیں، کیونکہ ہر ملک کے اپنے سیاسی، معاشی اور سماجی حالات ہوتے ہیں۔ لیکن یہ ضرور سیکھا جا سکتا ہے کہ تعلیمی پالیسی کو مستقبل کے مطابق کیسے بنایا جاتا ہے۔ نصاب کو ہر چند سال بعد صنعت، معیشت اور نئی ٹیکنالوجی کی ضروریات کے مطابق کیسے اپ ڈیٹ کیا جاتا ہے۔ جامعات کو صرف ڈگریاں تقسیم کرنے والے ادارے نہیں بلکہ تحقیق، اختراع اور مسئلہ حل کرنے کے مراکز کیسے بنایا جاتا ہے۔
آج دنیا مصنوعی ذہانت، روبوٹکس، بایوٹیکنالوجی، ڈیجیٹل معیشت، فِن ٹیک، سائبر سکیورٹی، ڈیٹا سائنس، گرین انرجی اور جدید زرعی ٹیکنالوجی کی طرف بڑھ رہی ہے۔ لیکن ان تمام شعبوں میں بھی صرف تکنیکی علم کافی نہیں۔ دنیا کو ایسے افراد درکار ہیں جو تنقیدی سوچ رکھتے ہوں، مؤثر ابلاغ جانتے ہوں، ٹیم کے ساتھ کام کر سکیں، نئے حالات کے مطابق خود کو بدل سکیں اور مسلسل سیکھنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ یہی وہ مہارتیں ہیں جو مستقبل کی اصل کرنسی بننے جا رہی ہیں۔
ہمارے نوجوانوں میں صلاحیت کی کوئی کمی نہیں۔ کمی صرف درست سمت کی ہے۔ جب ایک طالب علم چار سال یونیورسٹی میں گزار کر یہ محسوس کرے کہ اس کی ڈگری مارکیٹ کی ضرورت سے مطابقت نہیں رکھتی تو یہ اس طالب علم کی ناکامی نہیں بلکہ پورے تعلیمی نظام کی ناکامی ہے۔
ہمیں یہ طے کرنا ہوگا کہ کیا ہم اپنے بچوں کو صرف امتحان پاس کرنے کے لیے پڑھا رہے ہیں یا زندگی کے امتحان کے لیے تیار کر رہے ہیں۔ کیا ہماری جامعات صرف اسناد تقسیم کریں گی یا ایسے انسان پیدا کریں گی جو نئی صنعتیں قائم کریں، نئی تحقیق کریں، نئی منڈیاں تلاش کریں اور پاکستان کی معیشت کو مضبوط کریں؟
دنیا اب معجزوں کے انتظار میں نہیں بیٹھی۔ وہ تیاری کر رہی ہے۔ جو قومیں اپنے نصاب کو وقت کے ساتھ بدل رہی ہیں، وہی معیشت، سائنس اور ٹیکنالوجی میں قیادت کر رہی ہیں۔ جو قومیں پرانی ڈگریوں، فرسودہ نصاب اور روایتی سوچ سے چمٹی رہیں گی، ان کے نوجوان روزگار، مواقع اور سفارش کے انتظار میں اپنی بہترین صلاحیتیں ضائع کرتے رہیں گے۔
تعلیم کو کاروبار نہیں، قومی سرمایہ سمجھنا ہوگا۔ جامعات کو ماضی کی یادگار نہیں بلکہ مستقبل کی تجربہ گاہ بنانا ہوگا۔ والدین کو صرف ڈگری نہیں بلکہ صلاحیت کو اہمیت دینا ہوگی، اور حکومت کو یہ یقین دلانا ہوگا کہ ہر بچے کو معیاری تعلیم اس کی معاشی حیثیت سے قطع نظر میسر ہو۔
قوموں کا مستقبل بازاروں میں نہیں بنتا۔ وہ کلاس روم میں بنتا ہے، تجربہ گاہوں میں بنتا ہے، لائبریریوں میں بنتا ہے اور ان پالیسیوں میں بنتا ہے جو آج لکھی جاتی ہیں مگر ان کے نتائج آنے والی نسلیں بھگتتی یا سمیٹتی ہیں۔
چین نے اپنے مستقبل کی تیاری شروع کر دی ہے۔ سوال صرف یہ ہے کہ کیا ہم بھی اپنے بچوں کو آنے والے کل کے لیے تیار کریں گے، یا انہیں ایک اور ڈگری دے کر یہ سمجھ لیں گے کہ ہماری ذمہ داری پوری ہو گئی؟
مزید پڑھیں





