زندگی میں بعض اوقات انسان جس راستے سے بچنے کی کوشش کرتا ہے، حالات اسے بار بار اسی طرف لے آتے ہیں۔ وہ کسی ذمہ داری سے کنارہ کش ہونا چاہتا ہے، مگر کچھ عرصے بعد وہی ذمہ داری ایک نئی صورت میں اس کے سامنے آ کھڑی ہوتی ہے۔ ایسے میں ذہن میں سوال اٹھتا ہے کہ آخر ایسا کیوں ہو رہا ہے؟ کیا یہ محض اتفاق ہے یا اس کے پیچھے کوئی ایسی حقیقت ہے جسے سمجھنے کی ابھی ہمیں مہلت نہیں ملی؟
میں نے زندگی کے بعض تجربات سے یہ محسوس کیا ہے کہ ہر بار حالات سے پیچھے ہٹ جانا مسئلے کا حل نہیں ہوتا۔ کبھی انسان دوسروں کے سہارے کا منتظر رہتا ہے، مگر وقت کے ساتھ وہ سہارے کم ہونے لگتے ہیں۔ جن لوگوں کی موجودگی اسے مضبوط بناتی تھی، وہ کسی وجہ سے ساتھ نہیں دے پاتے۔ تب انسان کو اپنے اندر جھانکنے کا موقع ملتا ہے اور وہ جاننے لگتا ہے کہ اس کے اندر بھی بہت سی ایسی صلاحیتیں موجود ہیں جن سے وہ خود بھی ناواقف تھا۔
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَعَسٰی أَنْ تَکْرَهُوا شَیْئًا وَهُوَ خَیْرٌ لَكُمْ
ترجمہ: ممکن ہے کہ تم کسی چیز کو ناپسند کرو، حالاں کہ وہ تمہارے لیے بہتر ہو۔ (البقرہ: 216)
یہ آیت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ہر وہ چیز جو ہمیں مشکل محسوس ہو، لازماً ہمارے حق میں بری نہیں ہوتی۔ بعض اوقات حالات ہماری پسند کے مطابق نہیں ہوتے، مگر انہی حالات میں سیکھنے، سنبھلنے اور آگے بڑھنے کے امکانات پوشیدہ ہوتے ہیں۔
البتہ ہر اتفاق کو تقدیر کا واضح اشارہ سمجھ لینا بھی درست نہیں۔ زندگی کے فیصلوں میں عقل، مشاہدے اور حالات کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ ہمیں یہ دیکھنا چاہیے کہ جس کام سے ہم بار بار دور بھاگ رہے ہیں، کیا وہ واقعی ہمارے لیے نامناسب ہے یا ہم محض خوف، تذبذب اور اپنی کمزوریوں کے باعث اس سے بچ رہے ہیں؟
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
احْرِصْ عَلَى مَا يَنْفَعُكَ، وَاسْتَعِنْ بِاللَّهِ وَلَا تَعْجَزْ
ترجمہ: جو چیز تمہیں فائدہ پہنچائے اس کی کوشش کرو، اللہ سے مدد مانگو اور ہمت نہ ہارو۔ (صحیح مسلم: 2664)
یہی وہ اصول ہے جو انسان کو بے بسی سے نکال کر عمل کی طرف لے جاتا ہے۔ اللہ پر بھروسا کرنے کا مطلب ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جانا نہیں، بلکہ اپنی ذمہ داری پوری کوشش کے ساتھ نبھانا اور نتیجہ اللہ کے سپرد کرنا ہے۔
کبھی کبھی زندگی ہمیں تنہا اس لیے بھی چھوڑ دیتی ہے کہ ہم دوسروں کے سہاروں سے آگے بڑھ کر اپنے قدموں پر کھڑا ہونا سیکھیں۔ ہر دروازے پر دستک دینا ضروری نہیں ہوتا۔ بعض دروازے ہمارے اپنے حوصلے، محنت اور فیصلے سے کھلتے ہیں۔ جب انسان اپنی صلاحیتوں کو پہچان لیتا ہے تو وہ حالات سے شکایت کرنے کے بجائے ان کا سامنا کرنا سیکھ جاتا ہے۔
شاید تقدیر کی دستک ہمیشہ کسی غیر معمولی واقعے کی صورت میں نہیں آتی۔ کبھی وہ ایک بار بار سامنے آنے والی ذمہ داری ہوتی ہے، کبھی کوئی ایسا موقع جس سے ہم گھبراتے ہیں اور کبھی ایک ایسی مشکل جو ہمیں اپنی اصل قوت سے آشنا کر دیتی ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ہر مشکل کو محض سزا اور ہر اتفاق کو غیبی اشارہ سمجھنے کے بجائے غور و فکر سے کام لیں۔ جہاں قدم اٹھانا ضروری ہو، وہاں ہمت کریں اور جہاں راستہ بدلنا بہتر ہو، وہاں دانش مندی سے فیصلہ کریں۔
کیونکہ زندگی کا ہر موڑ ہماری مرضی کے مطابق نہیں ہوتا، مگر ہر موڑ پر ہمارا ردعمل ہمارے اختیار میں ضرور ہوتا ہے۔ کبھی کبھی جس راستے سے ہم بچنا چاہتے ہیں، وہی راستہ ہمیں اپنی پہچان، اپنی ذمہ داری اور اپنی صلاحیتوں تک پہنچا دیتا ہے۔ شاید اسی لمحے انسان سمجھ پاتا ہے کہ بعض دستکیں محض دروازہ کھولنے کے لیے نہیں، خود کو پہچاننے کے لیے بھی ہوتی ہیں۔
مزید پڑھیں






