ترجیحات کی اصلاح،تحریر:ملک محمد شاکر بہاولپوری
نقطہ نظر
یہ کیسا نظام ہے کہ انسان بھوک سے بلکتا رہے، گھر میں چولہا ٹھنڈا پڑا ہو، بچوں کی فیس ادا نہ ہو، علاج کے لیے پیسے نہ ہوں اور روزگار کی تلاش میں عمر گزر جائے، مگر کسی ادارے کو اس کی خبر تک نہ ہو! لیکن جونہی اس کے بینک اکاؤنٹ میں محنت کی کمائی کے چند پیسے آتے ہیں، ریاستی مشینری کو اس کی آمدن، لین دین اور ٹیکس کی فکر ستانے لگتی ہے۔ غربت میں انسان بے یار و مددگار ہے، مگر خوش حالی کی طرف قدم بڑھائے تو اس کے مالی معاملات اہم ہو جاتے ہیں۔
آپ کے پاس دو وقت کی روٹی کے پیسے نہیں، تو کسی کو آپ کی خبر نہیں؛ لیکن جونہی آپ کے اکاؤنٹ میں چند پیسے آتے ہیں، ایف بی آر (FBR) کے قوانین اور ٹیکس کی ذمہ داریاں یاد آنے لگتی ہیں۔ گویا ریاست کو آپ کی بھوک سے کوئی سروکار نہیں، اسے آپ کی جیب میں موجود رقم سے دلچسپی ہے! سوال یہ ہے کہ شہری کی محرومیوں کا حساب کون لے گا؟ اس کے خالی چولہے، بیمار بچوں، بے روزگاری اور بے بسی کی خبر کون رکھے گا؟
جنوبی سوڈان کے ارب پتی لارنس لوال سے منسوب ایک واقعہ اسی تلخ حقیقت کو نمایاں کرتا ہے۔ ان سے منسوب بیان کے مطابق، جب انہوں نے محنت سے دولت کمائی تو حکومتی اداروں نے ان کے ذرائعِ آمدن کی تحقیقات شروع کر دیں۔ اس موقع پر انہوں نے اپنے ماضی کی محرومیوں کو یاد کرتے ہوئے سوال اٹھایا:
"جب میں جوبا کی سڑکوں پر بے گھر سوتا تھا، بارش میں رات بھر بھیگتا تھا، بھوک سے نڈھال ہو کر کچرے کے ڈھیر سے روٹی کے ٹکڑے اٹھا کر کھاتا تھا، تب حکومت کہاں تھی؟ اُس وقت کسی کو میرے ذرائعِ غربت جاننے کی فکر کیوں نہیں ہوئی؟ کسی نے یہ معلوم کرنے کی کوشش کیوں نہیں کی کہ میں کن حالات میں زندگی گزار رہا ہوں، میری بھوک کا سبب کیا ہے اور میری محرومیوں کا ذمہ دار کون ہے؟ لیکن آج، جب میں نے اپنی محنت اور صلاحیت سے دولت کمائی ہے، تو تم مجھ سے میری آمدن کے ذرائع پوچھنے آ گئے ہو! آخر یہ کیسا نظام ہے کہ میری غربت تمہارے لیے بے معنی تھی، مگر میری خوش حالی تمہارے لیے قابلِ تفتیش بن گئی؟"
یہ سوال صرف ایک شخص کا نہیں، ہر اس غریب کا ہے جسے مشکل وقت میں تنہا چھوڑ دیا جاتا ہے، مگر کچھ کمانے کے قابل ہوتے ہی اس سے جواب طلبی شروع ہو جاتی ہے۔
ریاست کا کام محض ٹیکس وصول کرنا، قوانین بنانا اور شہریوں سے حساب مانگنا نہیں؛ اس کی ذمہ داری یہ بھی ہے کہ شہری کو باعزت زندگی گزارنے کے مواقع فراہم کرے۔ اگر ایک نوجوان ڈگری لے کر بھی بے روزگار ہے، ایک مزدور دن بھر پسینہ بہا کر بھی بچوں کا پیٹ نہیں بھر سکتا اور ایک بیمار علاج کے لیے ترس رہا ہے، تو یہ صرف ان افراد کی ناکامی نہیں، حکومتی ترجیحات پر بھی سوال ہے۔
آخر ریاست کی کارکردگی کا حساب کون لے گا؟شہری سے پوچھا جاتا ہے کہ پیسہ کہاں سے آیا، مگر یہ سوال کم ہی سنائی دیتا ہے کہ اس کے پاس پیسہ کمانے کے مواقع کیوں نہیں تھے۔ اس کی آمدن پر نظر رکھی جاتی ہے، مگر اس کے اخراجات، مہنگائی، قرضوں اور معاشی مشکلات کو کتنی اہمیت دی جاتی ہے؟ اس سے ٹیکس کی توقع کی جاتی ہے، مگر بدلے میں معیاری تعلیم، سستا علاج، روزگار اور بنیادی سہولتیں فراہم کرنے کی ذمہ داری کس کی ہے؟
پاکستان جیسے ملک میں یہ تضاد مزید تکلیف دہ ہے۔ مہنگائی نے عام آدمی کی کمر توڑ دی ہے۔ بجلی کے بل، مکان کا کرایہ، بچوں کی فیس اور روزمرہ ضروریات پوری کرنا مشکل ہو چکا ہے۔ ایک تنخواہ دار شخص مہینے بھر کی کمائی چند دنوں میں ضروری اخراجات پر خرچ کر دیتا ہے، جبکہ ایک فری لانسر یا چھوٹا کاروباری شخص کبھی آمدن حاصل کرتا ہے اور کبھی مہینوں مشکلات کا سامنا کرتا ہے۔ ایسے میں شہری کو پیچیدہ مالی ضابطوں میں الجھانے کے بجائے نظام کو آسان، شفاف اور عام آدمی کی استطاعت کے مطابق بنانا ضروری ہے۔
یہاں ایک بنیادی حقیقت بھی واضح رہنی چاہیے کہ ایف بی آر کا کام قانون کے مطابق ٹیکس وصول کرنا اور ٹیکس چوری کی روک تھام ہے۔ ہر بینک ٹرانزیکشن پر ٹیکس واجب نہیں ہوتا اور نہ ہی اکاؤنٹ میں رقم آنے کا مطلب لازماً ٹیکس کی خلاف ورزی ہے۔ لیکن اگر ریاست اپنے مالیاتی نظام میں شہری سے جواب دہی چاہتی ہے تو اسے اپنی کارکردگی، شفافیت اور عوامی خدمت کے حوالے سے بھی جواب دہ ہونا چاہیے۔
ٹیکس دینا شہری کی قانونی ذمہ داری ہو سکتی ہے، مگر ریاست کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ اپنی سماجی ذمہ داریوں سے غافل ہو جائے۔ اگر شہری سے اس کی آمدن کا حساب مانگا جاتا ہے تو عوام کو بھی یہ پوچھنے کا حق ہے کہ ان کے ادا کردہ ٹیکس سے کیا حاصل ہوا؟ کتنے بے روزگاروں کو روزگار ملا؟ کتنے غریب خاندانوں کی حالت بدلی؟ کتنے بیماروں کو علاج میسر آیا؟ اور کتنے بچوں کو معیاری تعلیم فراہم کی گئی؟
احتساب صرف عوام کے لیے کیوں؟ حکومتی اخراجات، سرکاری منصوبوں، عوامی وسائل اور ادارہ جاتی کارکردگی کا بھی سخت اور شفاف احتساب ہونا چاہیے۔ اگر ایک عام شہری سے چند ہزار روپے کی وضاحت طلب کی جا سکتی ہے تو قومی خزانے کے اربوں روپے خرچ کرنے والوں سے جواب کیوں نہ مانگا جائے؟ قانون کی سختی کمزور کے لیے اور نرمی طاقت ور کے لیے ہو تو اسے انصاف نہیں، دوہرا معیار کہا جائے گا۔
ہم یہ نہیں کہتے کہ دولت مند افراد سے سوال نہ کیا جائے یا ٹیکس قوانین سے استثنا دیا جائے۔ غیر قانونی آمدن، ٹیکس چوری اور مالی بدعنوانی کی تحقیقات ضرور ہونی چاہییں۔ لیکن جائز محنت سے کمانے والے شخص کو محض اس لیے مشکوک سمجھنا کہ اس کے حالات بہتر ہو گئے ہیں، درست نہیں۔ قانون کا مقصد شہری کو ہراساں کرنا نہیں، بلکہ انصاف اور شفافیت کو یقینی بنانا ہے۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ ریاست شہری کو اکثر ایک انسان کے بجائے محض محصولات کا ذریعہ سمجھنے لگتی ہے۔ اسے یہ یاد رہتا ہے کہ کس نے کتنا کمایا، مگر یہ بھول جاتی ہے کہ کتنے لوگ کمانے کے مواقع سے محروم ہیں۔ اسے مالی گوشواروں کی فکر ہوتی ہے، مگر ان گھروں کی فکر کتنی ہے جہاں بچے بھوکے سو جاتے ہیں؟
ریاست کو شہری کی جیب تک پہنچنے سے پہلے اس کے گھر کی حالت بھی دیکھنی چاہیے۔ اسے معلوم ہونا چاہیے کہ کتنے خاندان بنیادی ضروریات سے محروم ہیں، کتنے نوجوان بے روزگار ہیں اور کتنے محنت کش اپنی پوری زندگی گزار کر بھی غربت سے باہر نہیں نکل پاتے۔
آخر سوال وہی ہے: جب انسان بھوکا تھا تو ریاست کہاں تھی؟ جب وہ بے روزگار تھا تو ادارے کہاں تھے؟ جب وہ علاج اور تعلیم کے لیے ترس رہا تھا تو اس کی محرومیوں کا حساب کس نے لیا؟ اور جب اس نے اپنی محنت سے چند پیسے کما لیے تو اچانک اس کی آمدن سب کے لیے اہم کیوں ہو گئی؟
ٹیکس وصول کرنا ریاست کا حق ہے، مگر عوام کو بنیادی سہولتیں فراہم کرنا اس کی ذمہ داری ہے۔ شہری سے حساب لینا ضروری ہے، مگر حکمرانوں اور اداروں سے حساب مانگنا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔کیونکہ جس نظام کو شہری کے اکاؤنٹ میں آنے والی رقم تو دکھائی دے، مگر اس کے گھر کا خالی چولہا دکھائی نہ دے، اسے صرف شہریوں کی نہیں، اپنی ترجیحات کی بھی اصلاح کرنی چاہیے۔
مزید پڑھیں




