جمعرات، 15 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

​استاد کا احترام: ماضی اور حال کا فکری موازنہ،تحریر:بشریٰ سلیم

نقطہ نظر

​میں اکثر اپنے ماضی کے اوراق الٹتی ہوں تو خود کو حد درجہ خوش قسمت اور ممنون محسوس کرتی ہوں کہ میں نے اپنی تعلیم اس دور میں حاصل کی جب استاد کی عزت و توقیر دل کی سچی گہرائیوں اور روح کی پاکیزگی سے کی جاتی تھی۔ یہ کوئی پرانے زمانوں کی داستان یا صدیوں پرانا قصہ نہیں ہے، بلکہ اگر ہم صرف چند دہائیاں یا کچھ سال پیچھے مڑ کر دیکھیں تو معلوم ہوگا کہ ہم اس دورِ باصفا کے شاگرد تھے جو سال کے ۳۶۵ دن اپنے اساتذہ کی تعظیم و تکریم کو اپنا شعار بناتے تھے۔

​ہمارے دور میں استاد کے سامنے نظریں جھکا کر چلنا، ان کی بات کو حرفِ آخر ماننا اور ان کے احترام میں کھڑے ہو جانا کسی رسمی قانون کا نہیں بلکہ ہمارے جذبۂ عقیدت کا حصہ ہوا کرتا تھا۔ اس زمانے میں استاد صرف کتاب کا سبق نہیں پڑھاتے تھے، بلکہ وہ اپنے عمل اور کردار سے اخلاق و تربیت کی شمع بھی روشن کرتے تھے۔ شاگرد اپنے استاد کی کسی گفتگو کو رد کرنا تو دور، ان کے سامنے اونچی آواز میں بولنے کو بھی بے ادبی سمجھتے تھے۔ استاد کی ایک مسکراہٹ ہمارے لیے سب سے بڑا انعام ہوتی تھی اور ان کی ذرا سی ناراضگی ہمارے لیے باعثِ تشویش بن جاتی تھی۔

​ہمارے لیے استاد کی عزت و حرمت کسی ایک مخصوص دن یا "ٹیچرز ڈے" (Teacher's Day) کی محتاج نہیں تھی۔ ہمیں کبھی اس بات کا انتظار نہیں رہتا تھا کہ صرف ۵ اکتوبر کی تاریخ آئے تو ہم اپنے اساتذہ کو پھول، قلم یا کارڈ پیش کر کے اپنے فرائض سے سبکدوش ہو جائیں۔ ہمارے نزدیک تو ہر طلوع ہونے والا سورج استاد کے احترام کا پیامبر تھا اور زندگی کا ہر لمحہ ان کے ادب کے لیے وقف تھا۔ اس پاکیزہ رشتے میں نفع و نقصان کا کوئی تصور نہیں تھا، بلکہ یہ بے لوث محبت اور فیض رسانی کا ایک ایسا لامتناہی سلسلہ تھا جو نسلوں کو سنوارتا چلا جاتا تھا۔

​اس دور میں معلم کی شفقت کا عالم یہ تھا کہ وہ ہر طالب علم کو اپنے بچے کی طرح سمجھتے تھے۔ ان کی ڈانٹ میں بھی محبت اور سدھارنے کی تڑپ چھپی ہوتی تھی۔ اگر کبھی استاد کسی غلطی پر تنبیہ بھی کرتے، تو والدین بھی استاد کا ساتھ دیتے تھے کیونکہ سب جانتے تھے کہ استاد کی سختی بھی شاگرد کے روشن مستقبل کی ضامن ہے۔ یہی وجہ تھی کہ ماضی کا طالب علم صرف علم سے ہی آراستہ نہیں ہوتا تھا بلکہ وہ تہذیب، ادب اور انسان دوستی کا پیکر بھی بنتا تھا۔ استاد کی ذات ایک ایسے محور کی مانند تھی جس کے گرد طالب علم کی پوری اخلاقی زندگی گھومتی تھی۔

​اس کے برعکس، آج کے دور پر اگر نظر ڈالی جائے تو افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہم نے احترام کو رسمیات اور مادیت میں بدل دیا ہے۔ آج کا طالب علم ۵ اکتوبر کو اپنے استاد کو مہنگے تحائف دے کر شاید یہ سمجھتا ہے کہ اس نے استاد کا حق ادا کر دیا، لیکن اگلے ہی دن وہ ادب اور پاسِ خاطر نظر نہیں آتا جو علم کی اصل روح ہے۔ یہ دکھاوا اور مصنوعی پن اس رشتے کی تقدس کو پامال کر رہا ہے جہاں اب دل کی سچی عقیدت کے بجائے وقتی مفادات اور ظاهری تکلفات نے جگہ لے لی ہے۔

​آج تعلیمی اداروں کا ماحول یکسر بدل چکا ہے؛ علم کو ایک 'تجارتی سودا' اور استاد کو محض ایک 'خدمت فراہم کرنے والا' سمجھ لیا گیا ہے۔ طلباء اب استاد کے وجود سے سیکھنے کے بجائے صرف گریڈز، نمبروں اور ڈگریوں کے حصول کو ترجیح دیتے ہیں۔ سوشل میڈیا اور مغرب زدہ ماحول کے اثرات نے شاگردوں کے دلوں سے اساتذہ کی وہ ہیبت، سنجیدگی اور سچی محبت ختم کر دی ہے جو کبھی ہمارے دور کی اصل پہچان تھی۔ اس مادیت پرستی نے تعلیمی اداروں کو درس گاہوں کے بجائے ڈگریوں کی فیکٹریاں بنا دیا ہے۔

​اس زوال کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ ہم نے رشتوں کی معنویات کو بھلا کر صرف ظاہری دکھاوے کو اپنا لیا ہے۔ ماضی میں اگر استاد راستے سے گزرتا تھا تو شاگرد راستے سے ہٹ کر ادب سے سلام کیا کرتے تھے، جبکہ آج کے دور میں استاد کے سامنے سے بلا جھجھک گزر جانا اور ان کی موجودگی کو نظر انداز کر دینا عام سی بات بن چکی ہے۔ اس رویے نے ہماری نسلوں کو ڈگریاں تو دے دیں لیکن ان سے اخلاقی قدریں، روحانی سکون اور علم کی اصل برکت چھین لی ہے۔

​تاریخ شاہد ہے کہ وہی قومیں عروج پر پہنچیں جنہوں نے اپنے اساتذہ کی عزت کو سر کا تاج بنایا۔ روم، یونان اور اسلام کی زریں تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جب تک اساتذہ کا احترام قائم رہا، علم کی شمعیں روشن رہیں۔ لیکن جب معاشرے نے معمارِ قوم کو نظر انداز کرنا شروع کیا، تو علمی و اخلاقی تنزلی ان کا مقدر بن گئی۔ تاریخ کا یہ اٹل اصول ہے کہ جو قومیں اپنے اساتذہ کا احترام بھول جاتی ہیں، وہ فکری اور اخلاقی طور پر بنجر ہو جاتی ہیں۔

​ہمیں یہ بات اچھی طرح سمجھنی ہوگی کہ مادی تحائف اور پھولوں کے گلدستے کبھی اس سچی عقیدت کا نعم البدل نہیں ہو سکتے جو دل کے نہاں خانوں سے نکلتی ہے۔ استاد کو تحفے سے زیادہ 'احترام' اور 'تربیت پر عمل' کی ضرورت ہوتی ہے۔ جب تک شاگرد کے دل میں استاد کے لیے وہ واقعی اور سچّی محبت بیدار نہیں ہوگی، تب تک ہم کتنی ہی ڈگریاں حاصل کرتے رہیں، لیکن حقیقی دانش، حکمت اور انسانیت کی دولت سے محروم ہی رہیں گے۔

​اگر ہم اپنی آنے والی نسلوں کو ایک بہترین، بااخلاق اور مہذب معاشرہ دینا چاہتے ہیں، تو ہمیں اپنے بچوں کو بچپن ہی سے اساتذہ کی تعظیم سکھانی ہوگی۔ ہمیں انہیں بتانا ہوگا کہ استاد وہ موم بتی ہے جو خود پگھل کر دوسروں کی زندگی میں روشنی پھیلاتی ہے۔ استاد کے ادب اور فرمانبرداری ہی میں علم کی اصل برکت، روحانی سکون اور دنیا و آخرت کی کامیابی کا راز پنہاں ہے۔